Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-19 - بوقت: 23:20

ملکی معیشت کی رفتار کو تیز گام بنانے مرکزی کابینہ میں 27 اہم امور کی منظوری

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی کابینی اجلاس میں چہار شنبہ کے دن ملک کی اقتصادی ترقی کی رفتارتیز کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لئے34زیر التوا اور کئی ریل پروجیکٹوں کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے کول انڈیا میں10فیصد سرمایہ کشی اور ایکسپورٹروں کو سستی پونجی فراہم کرنے جیسے چند کلیدی نوعیت کے حامل امور کے فیصلوں کے بشمول27سے زائد امور کو منظوری دے دی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کوچی شپ یارڈ کو فہرست بند کرکے اس کے شیئر بازار میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ ملک کا پہلا شپ یارڈ ہے جسے فہرست بند کیا گیا ہے ۔ کابینہ کی میٹنگ کے بعد بجلی کے وزیر پیوش گوئل نے بتایا کہ اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے ان میں34سڑکوں کی تعمیر اور زیر التوا ریل پروجیکٹ شامل ہیں ۔ بڑھتی ٹریفک کے پیش نظر مرکز نے7178.40کروڑ روپے کی لاگتی464.06کیلو میٹر کی ریلوے لائنز کو دوگنا کرنے کو بھی منظوری دے دی ۔ جموں ڈیویژن کے پہاڑی علاقوں کے مہاجرین کو بھی کشمیری مہاجرین کے برابر امداد فراہم کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی ہے ، جس میں تقریبا13.45کروڑ روپے سالانہ کا خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ جموں و کشمیر ریاست میں دہشت گردوں کے تشدد ملی ٹینسی ، سے خاص طور پر1990کی دہائی کے شروع میں بہت سے لوگوں کو کشمیر وادی چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہونا پڑا تھا ۔ وادی سے ہجرت کرنے والے کنبوں کے علاوہ بہت سے خاندانوں نے سیکوریٹی وجوہات سے جموں ڈیویژن کے پہاڑی علاقوں سے بھی قریبی قصبوں اور محفوظ مقامات پر ہجرت کی تھی ۔ نیز انتہا پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے بڑھتے خطرات اور دیگر مجرمانہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومت نے ملک بھر میں کاموں پر نگاہ رکھنے اور ان کی سر گرمیوں پر روک لگانے کے لئے دو ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک سسٹم کے قیام کو آج منظوری دے دی ۔ مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور سے متعلق کمیٹی نے آج اس ضمن میں تجویز کو منظوری دے دی ۔ مارچ2017تک یہ سسٹم کام کرنے لگے گا ۔ نیز جہاز رانی کی وزارت نے تجارتی جہاز رانی قانون1958(ترمیم شدہ) کے13ضابطوں کو از کار رفتہ اور غیر ضروری تصور کرتے ہوئے انہیں ختم کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضابطوں کی یہ کانٹ چھانٹ موجودہ حکومت کے اس مقصد کے تحت کی گئی ہے جس میں غیر ضروری پیچیدگی پیدا کرنے والے قدیم ضابطوں کو ختم کرکے طریقہ کار کو سہل بنانے پر زور دیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم نے بھی ایسے پرانے ضابطوں اور طریقہ کار کی نشاندہی کرکے انہیں ختم کرنے پر زور دیا تھا ۔ مودی سرکا رنے چھتیس گڑھ ، اڑیسہ اور آندھرا پردیش کو جوڑنے والی قریب464.06کلو میٹر طویل ریلوے لائن کو دوہراکرنے کے7178.4کروڑ روپے کے پروجیکٹ کو بھی آج منظوری دے دی ۔ لائن کو دوہرا کرنے کا کام7سال میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ نیز مودی حکومت نے بہار کی ترقی کے لئے تقریبا18سال سے زیر التوا مونگیر گنگا پل پروجیکٹ کو اگلے سال کے وسط تک پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے2774کروڑ روپے کی ترمیم شدہ رقم کی منظوری دی ہے ۔ گزشتہ5برسوں کے دوران گھریلو کھپت سے کہیں زیادہ گنے کی پیداوار کے سبب گنے کی قیمتوں کی وجہ سے اس صنعت کی لکویڈیٹی( نقد رقم کی دستیابی) کی صورتحال پر دباؤ پڑا ہے اور گنے کی قیمتوں کے بقایاجات21ہزار کروڑ (3ملین سے زائد) ہوچکے ہیں ۔ مرکزی حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران صورت حال کو بہتر بنانے اور گنا کسانوں کی روزی روٹی کے تحفظ کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ ہندستان، برازیل، اور جنوبی افریقہ پر مشتمل سہ فریقی معاہدے آئی بی ایس اے فنڈ میں غربت اور بھوک مری کے خاتمہ کے لئے فی کس ایک ملین سالانہ کو کابینہ نے منظوری دے دی۔ نیز مرکزی حکومت نے ایشین انفراسٹرکچر سرمایہ کاری بینک( اے آئی آئی بی) کے معاہدہ کے ادخال اور توثیق کو بھی منظورکرلیا ۔ دیگر سماجی سکٹر کے بعض اہم کلیدی فیصلوں میں یوریا اور ایل پی جی فراہم کنندوں کی گھریلو گیس سربراہی کے لئے مارکٹنگ بچت کا بھی تعین کردیاگ یا ۔ ہند۔ جرمنی کے درمیان سیکوریتی تعاون کے2یادداشت مفاہمتی معاہدوں کو بھی اس کابینہ نے قطعیت دے دی ۔ اس مفاہمت نامے سے علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے ہندوستان اور جرمنی کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے۔ اطلاعات ، معلومات اور تکنیکی مہارت کے تبادلے کے توسط سے دہشت گردی ، نشیلی اشیاء کی غیر قانونی تجارت کے خلاف لڑائی اور سرحد پار جرائم کی روک تھام میں یہ ایک موثر وسیلہ ثابت ہوگا ۔ رنتا گری مہاراشٹرا میں ڈائرکٹوریٹ جنرل آف لائٹ ہاؤس اینڈ لائٹ شپ اور جے ایس ڈبلیو جے گڑھ پورٹ لمٹیڈ کے درمیان زمینی تبادلہ کو بھی کابینہ نے منظوری دے دی ۔ جے پی ایل کو اپنے اپنے احاطے کو بہتر سیکوریٹی مہیا کرنے کے علاوہ ترقی کرنے میں مدد ملے گی ۔ نیز حیدرآباد کے جنوم ویلی میں انڈین کونسل فارمیڈیکل ریسرچ( آئی سی ایم آر) کے ذریعہ حیدرآباد کے جنوم ویلی میں نیشنل ریسورس فیسی لیٹی فاربایو میڈیکل ریسرچ( این اے آر ایف) کے قیام کو اپنی منظوری دے دی ہے ۔ واضح رہے کہ صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے صحت تحقیق کے شعبہ نے یہ منصوبہ بھیجا تھا۔338.58کروڑ روپے کی لاگت سے2018-19تک یہ ادارہ تیار ہوگا۔

Cabinet nod to four rail line projects worth Rs 8351 crore

0 comments:

Post a Comment