Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-10-26 - بوقت: 23:46

عدالتی کارروائیوں میں فارسی و اردو الفاظ کو ہٹانا ممکن نہیں - دہلی پولیس کا حلف نامہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
دہلی ہائی کورٹ میں پولیس کی جانب سے معاملات سے نمٹنے کے لئے فارسی اور اردو الفاظ پر مبنی قدیم اصلاحات کو بدلنے کے لئے مفاد عامہ کی ایک درخواست داخل کرتے ہوئے ان اصطلاحات کو ہندی اور انگریزی سے بدل دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے اس درخواست کے خلاف اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے درخواست کو مسترد کردینے کی اپیل کی ۔ اس درخواست کی چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس جیانت ناتھ پر مشتمل ہائی کورٹ کی بنچ سماعت کررہی ہے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں پولیس اسٹیشنوں میں بیانات درج کرنے کے دوران حلف نامہ داخل کرتے وقت یا عدالتوں میں چالان داخل کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے استعمال زبان کو عام آدمی کے سمجھنے سے قاصر ہے ، کیونکہ پولیس کی کارروائیوں میں فارسی ، اردو کے قدیم و مشکل الفاظ کا استعمال ہنوز جاری ہے ۔ اسے عام فہم بنانے اور ان مشکل الفاظ کو ہندی یا انگریزی کے الفاظ سے تبدیل کرنے پولیس کو ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔ اس درخواست کے جواب میں پولی سکی جانب سے داخل کردہ حلف نامہ میں کہا گیا کہ فارسی، اردو اصلاحات کو ہندی یا انگریزی میں تبدیل کرنے سے تمام کے لئے بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں گی۔ پولیس نے کہا کہ جو الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں نہ تو وہ بہت قدیم ہیں اور نہ ہی مشکل ہیں ۔ دہلی پولیس نے ایڈوکیٹ امیت ساہانی کے ذریعہ داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں کہا کہ درخواست میں ہندی الفاظ کے استعمال کی پیش کردہ تجویز پر اگر عمل کرتے ہوئے اگر ان الفاظ کو بدل دیاجائے تو تنازعات کے لئے اور وکلاء دونوں کے لئے مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔ اس کے علاوہ پولیس کو نئے ہندی یا انگریزی اصلاحات سکھانے کے لئے پولیس ٹریننگ کالج میں اس کا انتظام کرنا پڑے گا ۔ پولیس کی کارروائیوں میں ان اردو، فارسی اصلاحات کے استعمال سے نہ تو پولیس عہدیداروں کو اور نہ ہی وکلاء کو ابھی تک کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آئی ہے ۔

Delhi Police Seeking dismissal of the PIL opposing the "use of Urdu and Persian words in proceedings"

0 comments:

Post a Comment