Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2013-02-07 - بوقت: 23:28

ابن الوقت - ڈپٹی نذیر احمد - قسط:1

Comments : 0
ڈپٹی نذیر احمد کے مشہور و مقبول ناول "ابن الوقت" کا شمار اردو کے کلاسک ناولوں میں ہوتا ہے۔
یہ ناول سی۔بی۔ایس۔ای کے بارہویں جماعت کے اردو لٹریچر میں شامل رہا ہے۔ بعض طلبا کی متواتر فرمائش پر راقم الحروف کے والد محترم جناب رؤف خلش نے آج سے کچھ سال قبل اس ناول کی تلخیص تحریر کی تھی۔ وہی تلخیص افادہ عام کی خاطر پہلی مرتبہ انٹرنیٹ پر قسط وار شکل میں پیش کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اس تلخیص کے طباعتی حقوق "تعمیر ویب ڈیولپمنٹ" کے نام محفوظ ہیں۔ البتہ انٹرنیٹ پر "تعمیر نیوز" کے حوالے سے نقل کرنے کی عام اجازت ہے۔


ابن الوقت کا پہلا ایڈیشن انصاری پریس دہلی سے 1888ء میں شائع ہوا۔
ابن الوقت اردو کا پہلا ناول ہے جس میں اپنے دور کے سیاسی اور سماجی مسائل بھرپور طریقے سے پیش کئے گئے ہیں ۔
"ابن الوقت " جو کردار کا ایک نام ہے ۔ اس ناول کا ہیرو ہے ۔ دوسرا کردار "حجۃ الاسلام" ہے ۔ ابن الوقت جدید تہذیبی قدروں کو پیش کرتا ہے اور حجۃ الاسلام مشرقی تہذیب کی حمایت کرتا ہے ۔
انیسویں صدی کے شمالی ہندوستان کے مسلمان انگریزوں کی حکومت میں تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود تین گروپوں میں تقسیم ہو گئے تھے ۔
(1) پہلے گروہ میں وہ علماء تھے جو مغرب اور انگریزوں کی ہر چیز سے بھڑکتے تھے ۔ یعنی مغربی تعلیم اور انگریزی حاصل کرنے اور مغربی تہذیب اپنانے کو عیسائیت قبول کرنے کے برابر سمجھتے تھے ۔
(2) دوسرا گروہ ان حضرات کا تھا جن کا عقیدہ تھا کہ مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ مغربی علوم حاصل کریں اور مغربی طرز زندگی کا اپنالیں ۔ اس گروہ کے سربراہ سرسید تھے ۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کی۔
(3) تیسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جو مغربی تعلیم کے میں تھے لیکن ان نتائج سے گھبرا کر وہ مغرب و مشرق میں ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔ ان میں ڈپٹی نذیر احمد، مولانا شبلی نعمانی اور اکبر الہ آبادی وغیرہ پیش پیش تھے ۔

دراصل سرسید اور نذیر احمد دونوں ہی مغربی علوم کے دلدادہ تھے لیکن جب مغربی علوم کے نتیجے میں سب سے بڑی چوٹ مذہب پر پڑنے لگی۔ نوجوان مذہب سے بیگانہ ہونے لگے تو نذیر احمد نے لوٹ کر مذہب میں پناہ لی لیکن سرسید احمد خان حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔ نذیر احمد سرسید سے صرف اس حدتک اتفاق کرتے ہیں کہ مسلمان مغربی تعلیم حاصل کریں اور ملازمت کریں باقی باتوں میں وہ سرسید پر کڑی تنقید کرتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ "ابن الوقت" کا کردار سرسید کی مکمل تصویر ہے اور "حجۃ الاسلام " کا کردار خود نذیر احمد کی شخصیت ہے ۔

اب اگلے صفحات میں ناول کے فصل واری موضوعات کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔



Urdu Classic "Ibn-ul-Waqt" by Deputy Nazeer Ahmed - Summary episode-1

0 comments:

Post a Comment