تعمیر پبلی کیشنز کی دو تصانیف کی رسم اجرا تقریب - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2026-02-18

تعمیر پبلی کیشنز کی دو تصانیف کی رسم اجرا تقریب

taemeer-publications-two-new-urdu-books-launch
دائیں سے بائیں: سہیل عظیم، ثنااللہ وصفی، مکرم نیاز، پروفیسر مسعود احمد، ڈاکٹر فاروق شکیل، محمود سلیم، ڈاکٹر ناظم علی، مجتبیٰ فہیم، محسن خان اور جہانگیر قیاس 

تصانیف 'دکن کے شعراء: احوال و آثار' و 'خبر لیجے زباں بگڑی' کی رسم اجراء و مشاعرہ

کتاب تحریر کرنا آزمائشی، مصنفین کو عصری ٹیکنالوجی کے ذریعے قارئین تک پہنچنے پر زور، ڈاکٹر فاروق شکیل کا خطاب

تعمیر پبلی کیشنز کے زیر اہتمام ڈاکٹر فاروق شکیل کی تصنیف "دکن کے شعراء: احوال و آثار" کی رسم اجراء پروفیسر مسعود احمد نے اور اطہر علی ہاشمی کی تصنیف "خبر لیجے زباں بگڑی" کی رسم اجراء کو محمود سلیم خوشنویس نے میکش ہال ، عیدی بازار میں انجام دیا۔ دونوں کتابوں کو معروف افسانہ نگار مکرم نیاز نے مرتب کیا ہے۔


جلسہ کا آغاز سہیل عظیم کی قرآت کلام پاک سے ہوا۔ سید جنید حسینی جنید نے نعت شریف پیش کی۔ ڈاکٹر فاروق تشکیل نے 'دکن کے شعراء: احوال و اثار' کتاب مرتب کرنے پر تعمیر پبلی کیشنز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 'زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے' کے عنوان سے تقریباً 80 شعراء پر مضامین اخبار میں تحریر کیے تھے، جن میں سے چند کو منتخب کرتے ہوئے عصری قاری کے مزاج کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے موجودہ دور میں طویل مطالعے کے رجحان میں کمی کی جانب بھی اشارہ کیا۔
صاحبزادہ مجتبی فہیم نے 'دکن کے شعراء: احوال و آثار' پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق شکیل کے ممتاز شعراء پر اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کو یکجا کر کے کتاب شائع کی گئی ہے جو تحقیقی و حوالہ جاتی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے تعمیر پبلی کیشنز سے اپیل کی کہ وہ دیگر اہم معلوماتی مضامین کو بھی ترتیب دے کر کتابی شکل میں شائع کریں تا کہ نوجوان نسل اور اسکالرس کو اردو کی اہم ادبی شخصیات کے بارے میں معلومات حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ فاروق شکیل کی کتاب میں دکن کے نامور اور ممتاز شعراء پر مبنی مضامین شامل ہیں، جو آئندہ تحقیق کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
پروفیسر مسعود احمد نے کتابوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں رہیں گے مگر ہماری کتابیں باقی رہیں گی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مولانا روم کی تحریریں آج بھی یورپ میں پڑھی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی اہلِ قلم کو تنقید سے بے پروا ہو کر لکھنے کا مشورہ دیا۔ مصنف کیلئے اس کی کتابیں ہی سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہیں۔
محمود سلیم نے مکرم نیاز کی ادبی شخصیت اور ان کے مرتب کردہ علمی کام پر مضمون پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکرم نیاز کو بچپن سے ہی ادبی ذوق رہا۔ وہ کم عمری میں افسانہ نگار بنے۔ انہوں نے اردو کے تلفظ اور املا کے موضوع پر گفتگو کے دوران اس بات کی نشاندہی کی کہ مشہور شاعر رحمٰن جامی اردو میں دستخط کیا کرتے تھے، جو لسانی شعور کی ایک
مثال ہے۔ انہوں نے اردو داں سے طبقہ سے اپیل کی کہ وہ اردو زبان کو عام کریں۔ اپنے گھر اور دکانات کے باہر نام کی تختی اردو زبان میں لگائیں۔ نوجوان نسل کو اردو اپنے طور پر گھر میں سکھائیں۔
سہیل عظیم نے مضمون بعنوان 'میرے چھوٹے بھائی مکرم نیاز' پیش کرتے ہوئے مکرم نیاز کی ادبی خدمات، تحقیقی مزاج اور تعمیر پبلی کیشنز کے تحت انجام دی گئی علمی کاوشوں پر مفصل روشنی ڈالی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر محمد ناظم علی نے اسلم فاروقی کی جانب سے اطہر علی ہاشمی کی تصنیف "خبر لیجے زباں بگڑی" پر لکھے گئے تبصرہ کو پڑھ کر سنایا۔ تبصرہ میں کتاب کے فکری و لسانی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔
مکرم نیاز نے بطور مرتب شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مواصلاتی ترقی اور ڈیجیٹل دور میں ہم کتابیں دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ہے، جس سے کتاب کو نئی جہتیں مل سکتی ہیں۔


بعد ازاں ڈاکٹر فاروق شکیل کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا۔ صاحبزادہ مجتبی فہیم ، سید سمیع اللہ حسینی، پروفیسر محمد مسعود احمد، محمد ثناء اللہ انصاری وصفی، محمد عبدالباری اور محمد عطا اللہ انصاری مہمان اللہ خصوصی تھے۔ سید جنید حسینی جنید ، میر مقبول علی مقبول، سہیل عظیم، سید مصطفی علی سید، جہانگیر قیاس، سید اسماعیل ذبیح اور سید شکور شاداب نے کلام پیش کیا۔ ادبی اجلاس و مشاعرہ کی نظامت کے فرائض سہیل عظیم نے انجام دیئے۔ کنونیر محسن خان کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عمر بن حسن کے علاوہ محبان اردو کی کثیر تعداد موجود تھی۔



Launching ceremony of two books by Taemeer Publications.
Deccan Ke Sho'araa: Ahwaal o Aasaar (Literary Portraits and Poetic Heritage of Deccan Urdu Poets), Author: Dr. Farooq Shakeel.
Khabar lijiye Zabaan bigdi (When Language Falters, Urdu Linguistics Columns), Author: Athar Ali Hashmi.

1 تبصرہ:

  1. ما شا اللہ دونوں کتابوں کی اشاعت پر فاضل مرتب اور کتاب کے مصنف کو دلی مبارکباد۔ تعمیر نیوز پر رپورٹ بھی انٹرنیٹ پر محفوظ ہوجائے گی۔

    جواب دیںحذف کریں