نئے برہم پتر پل سے گوہاٹی سفر محض آٹھ منٹ
آسام کے دارالحکومت گوہاٹی اور نارتھ گوہاٹی کے درمیان برسوں سے سفر کرنے والے شہری ٹریفک جام، لمبے راستوں اور تاخیر کے عادی ہو چکے تھے۔ خاص طور پر دفتری اوقات میں یہ سفر پینتالیس منٹ سے بڑھ کر ایک گھنٹے تک جا پہنچتا تھا۔ اب برہم پتر دریا پر تعمیر ہونے والے نئے کمار بھاسکر ورما پل نے اس مشکل کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز اس چھ لین والے پل کا افتتاح کیا، جو گوہاٹی کو براہ راست نارتھ گوہاٹی سے جوڑتا ہے۔ تقریباً 3300 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ دراصل 8.4 کلومیٹر طویل کنیکٹیویٹی کاریڈور کا حصہ ہے، جس کا مقصد آسام کے شہری ٹرانسپورٹ نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
حکام کے مطابق اب یہ فاصلہ صرف سات سے دس منٹ میں طے کیا جا سکے گا۔ اس تبدیلی کا مطلب صرف وقت کی بچت نہیں بلکہ ایندھن کے خرچ میں کمی، ٹریفک کے دباؤ میں واضح کمی اور روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے نسبتاً پرسکون اور ہموار آمدورفت بھی ہے۔ طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور مال بردار گاڑیوں کے لیے یہ پل ایک بڑی سہولت ثابت ہوگا۔
یہ 1.24 کلومیٹر طویل پل جدید "ایکسٹرا ڈوزڈ" ڈیزائن پر تعمیر کیا گیا ہے، جو گرڈر اور کیبل سپورٹڈ پلوں کی خصوصیات کو یکجا کرتا ہے۔ شمال مشرقی ہندوستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا پل ہے۔
اس ڈیزائن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
• زیادہ وزن برداشت کرنے کی صلاحیت
• بہتر استحکام
• طویل مدتی پائیداری
• نسبتاً تیز اور مؤثر تعمیراتی عمل
برہم پتر دریا اپنی تیز لہروں، گہرے بہاؤ اور بدلتی سطحِ آب کے باعث انجینئروں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ منصوبہ بندی کے دوران ان تمام عوامل کو مدنظر رکھا گیا تاکہ پل مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مضبوط ڈھانچے کے طور پر سامنے آئے۔ توقع ہے کہ یہ پل موجودہ گزرگاہوں پر دباؤ کم کرے گا اور بھاری ٹریفک، بشمول مال بردار اور طویل فاصلے کی گاڑیوں، کو باآسانی سنبھال سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بہتر رابطے سے نارتھ گوہاٹی کو ایک جڑواں شہر کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے کو بھی تقویت ملے گی۔ تعلیمی اداروں، ثقافتی مقامات اور نئے رہائشی و تجارتی علاقوں تک رسائی آسان ہوگی، جس سے طویل مدت میں آسام کے دارالحکومت کے توسیعی منصوبوں کو رفتار ملنے کی توقع ہے۔
اسی موقع پر وزیراعظم نے ڈبروگڑھ ضلع میں شمال مشرق کے پہلے ایمرجنسی لینڈنگ فیسلٹی پر سی-130 جے طیارے کے ذریعے تاریخی لینڈنگ بھی کی۔ تقریباً 100 کروڑ روپے کی لاگت سے موران بائی پاس پر تعمیر کردہ 4.2 کلومیٹر طویل مضبوط فضائی پٹی بھارتی فضائیہ کے لڑاکا اور ٹرانسپورٹ طیاروں کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ اس سہولت سے خطے میں دفاعی تیاری، لاجسٹک سپورٹ اور قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں کو مزید تقویت ملے گی۔
وزیراعظم کا استقبال آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما، مرکزی وزیر سربانند سونووال، ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ اور دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔ یہ افتتاحی تقریب نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی علامت بنی بلکہ شمال مشرقی ہندوستان میں تیز رفتار ترقی کے عزم کا اظہار بھی تھی۔
Kumar Bhaskar Varma Bridge Reduces Guwahati–North Guwahati Commute to 8 Minutes





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں