عمران خان کے لیے عالمی کپتانوں کا طبی انصاف مطالبہ
پاکستان کے سابق وزیراعظم اور 1992 ورلڈ کپ فاتح کپتان عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک اطلاعات کے بعد عالمی کرکٹ حلقوں میں ایک غیرمعمولی ردعمل سامنے آیا ہے۔ بھارت کے سنیل گواسکر اور کپل دیو سمیت دنیا بھر کے چودہ سابق بین الاقوامی کپتانوں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عمران خان کو اپنی پسند کے مستند ماہر ڈاکٹروں سے مسلسل اور معیاری علاج کی سہولت دی جائے۔ ان کپتانوں کا کہنا ہے کہ حالیہ رپورٹس میں جیل میں رہتے ہوئے ان کی بینائی متاثر ہونے کی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں، جنہیں سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور گزشتہ برس کے اواخر میں انہیں اور ان کی اہلیہ کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دونوں ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ ان کے وکیل نے گزشتہ ہفتے جیل میں ملاقات کے بعد چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس میں صحت سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے فوری طبی امداد کی درخواست کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے منصفانہ اور شفاف قانونی عمل تک رسائی ملنی چاہیے۔ اس مہم کی قیادت آسٹریلیا کے سابق کپتان اور عمران خان کے ہم عصر گریگ چیپل کر رہے ہیں۔
بیان پر دستخط کرنے والے دیگر نمایاں سابق کپتانوں میں شامل ہیں:
• سنیل گواسکر اور کپل دیو (ہندوستان)
• مائیکل ایتھرٹن، مائیکل بریرلی، ناصر حسین اور ڈیوڈ گوور (انگلینڈ)
• ایلن بارڈر، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، اسٹیو وا اور کم ہیوز (آسٹریلیا)
• کلائیو لائیڈ (ویسٹ انڈیز)
• جان رائٹ (نیوزی لینڈ)
سپریم کورٹ پہلے ہی 2023 سے زیر التوا ایک مقدمے کے سلسلے میں اڈیالہ جیل میں عمران خان کے حالاتِ قید پر رپورٹ طلب کر چکی ہے۔ حکام نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ جنوری میں اسلام آباد کے سرکاری اسپتال میں ان کا تقریباً بیس منٹ کا ایک طبی عمل انجام دیا گیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران قید کی صورتحال اور حالیہ طبی رپورٹس، خصوصاً دائیں آنکھ کی بینائی میں سنگین کمی کی اطلاعات، شدید تشویش کا باعث بنی ہیں۔ کپتانوں نے حکومت سے "انصاف اور انسانی ہمدردی" کا تقاضا کیا ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ انہیں سیاسی بحران اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی کے دوران عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا۔ اس کے بعد سے ان کے خلاف بدعنوانی اور دیگر الزامات پر متعدد مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے اور سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے دفتر نے تاحال اس مشترکہ بیان کے موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم عالمی کرکٹ شخصیات کی اس اجتماعی اپیل نے ایک بار پھر عمران خان کی قید اور صحت کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
Gavaskar, Kapil Dev and Global Cricket Captains Urge Pakistan to Ensure Medical Care for Jailed Imran Khan





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں