مجتبیٰ حسین کے خاکوں میں افسانہ طرازی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-06-15

مجتبیٰ حسین کے خاکوں میں افسانہ طرازی

مجتبیٰ حسین اور غضنفر اقبال
مجتبیٰ حسین، اردو ادب کے ماہِ تمام ہیں۔ ان کا سحر نگار قلم تاثر انگیز ہے ۔ جو ان کی چو مکھی قلمی خدمات کا ایک حسنِ بیان ہے۔ مجتبیٰ حسین شیریں کلام، خوش گفتار، بذلہ سنج اور جادو نگار ادیب ہیں ۔ ان کا قلم اور زندگی برگد کی چھاؤں جیسی ہے ۔ ان کے سایے میں ایک سکون ہے ایک سکھ ہے ایک قرار ہے ۔ وہ ارضِ دکن کی آبر ہیں ، رونق بزم جہاں ہیں ۔ صاحب نظر ، صاحب طرز اور صاحب فراست شخصیت کا نام مجتبیٰ حسین ہے۔
بہ قول میرؔ
برسوں لگی ہوئی ہیں جب مہرو مہ کی آنکھیں
تب کوئی ہم سا صاحب، صاحب ِ نظر بنے ہے
مجتبیٰ حسین نے لا تعدا د خاکے تحریر و تخلیق کیے ہیں۔ان کے خاکوں میں افسانوی رنگ بین السطور میں دیکھاجاسکتا ہے ۔ خاکہ نگاری، افسانہ اور کہانی سے قریب تر ہوتی ہے ۔ کیوں کہ کردار، واقعات منظر کشی اور وحدت تاثر افسانہ یا کہانی میں مرکزیت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ مجتبیٰ حسین نے ابنائے زمانہ کے"چہرہ در چہرہ" سے آدمی نامہ، کی تشکیل کی ۔ ’ہوئے ہم دوست جس کے‘ کی پاسداری کرتے کرتے مجتبیٰ حسین، آپ کی تعریف میں، دریا بہادیے۔ کیوں کہ وہ، سوہے وہ بھی آدمی ، ہیں فرشتہ نہیں ۔ راقم التحریر نے مجتبیٰ حسین کو ان کے خاکے، اپنا آدمی: ابراہیم جلیس ، سے دریافت کیا تھا۔ ان کی کتاب ’آدمی نامہ‘ خاکسار کے بی اے کے نصاب میں شامل تھی۔ ابراہیم جلیس ، مجتبیٰ حسین کے بردارِ کلاں تھے ۔ یہ خاکہ جذباتی اور محبتوں سے لبریز ہے ۔ زیر بحث خاکے میں افسانوں کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں ۔ خاکے سے یہ اقتباس دیکھئے :
"کہانیاں یوں ہی زمانہ اور تاریخ میں بکھر جاتی ہیں ۔ مجھے جلیس صاحب کی بھوتوں والی کہانیاں بہت یاد آئیں جن میں وہ ہمیشہ مظلوم کے ہاتھوں ظالم کا خاتمہ کرواتے تھے ۔ جب تک کہانیاں ان کے قبضۂ قدرت میں رہیں۔ کبھی بھوتوں کو یہ موقع نہ مل سکا کہ وہ مظلوم کا خاتمہ کرسکیں ۔ مگر جلیس صاحب کی مجبوری یہ تھی کہ وہ خود اپنی زندگی کی کہانی کے خالق نہیں بن سکتے تھے ۔ جبھی تو ان کی کہانی کا انجام ویسا نہیں ہوا جیسا کہ ان کی لکھی ہوئی کہانیوں کا ہوتا تھا۔ اس دنیا میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک کہانی کار اپنی مرضی سے اپنی زندگی کی کہانی کے انجام کا فیصلہ کرے ۔"
مجتبیٰ حسین نے ترقی پسند کے سرخیل اور انگارے جیسی لا زوال کتاب کے فکشن رائٹر سجاد ظہیر پر لکھے گئے خاکے میں صاحب موضوع کی مسکراہٹوں کے ذریعے خاکے میں افسانے انداز اپنایا ہے ۔ اس خاکے سے دو چار جملے دیکھئے:
"قدیم وحشی انسان کے غیر مہذب اور بے ہنگم قہقہے سے لے کر بنے بھائی کی مسکراہٹ تک انسانی تہذیب نے جو نشیب و فراز دیکھے ہیں اور جو آگہی حاصل کی ہے ۔ وہی آگہی اصل میں بنے بھائی کی مسکراہٹ ہے ۔ پھر مجھے بنے بھائی کی مسکراہٹ سمندر کی ایک لہر کی طرح دکھائی دی جو ہر دم آگے ہی بڑھتی جاتی ہے ۔وہ مسکراہٹ جو کینوس یا ہونٹوں میں قید ہونا نہیں جانتی بلکہ ہر دم زندگی کی خوشگواری ، جدو جہد اور عمل کا حصہ بننا چاہتی ہے ۔"
ایک چار میلی سی، کے خالق سردار راجندر سنگھ بیدی پر لکھے ہوئے خاکے میں مجتبیٰ حسین نے ایک افسانی نگار کو افسانوی طرز میں خراج پیش کیا ہے ۔ خاکے میں خاکہ نگار نے کس قدر ندرت آمیز منظر کشی کی ہے ملاحظہ کیجئے:
"برسات کے موسم میں آپ نے کبھی منظر دیکھا ہوگا کہ ایک طرف تو ہلکی سی پھوار پڑ رہی ہے اور دوسری طرف آسمان پر دھلا دھلایا سورج چھما چھم چمک رہا ہے ۔ اس منظر کو اپنے ذہن میں تازہ کرلیجئے تو سمجھئے کہ آپ اس منظر میں نہیں، بیدی صاحب کی شخصیت میں دور تک چلے گئے ہیں ۔ ان کی ذات میں ہر دم سورج اس طرح چمکتا ہے اور اسی طرح ہلکی سی پھوار پڑرہی ہوتی ہے۔ ایسا منظر شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے اور سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ بیدی صاحب جیسی شخصیتیں بھی اس دنیا میں شاذونادر دکھائی دیتی ہیں۔"
کرشن چندر پر مجتبیٰ حسین نے اپنے خاکے کا اختتام ان لفظوں میں کیا ہے کہ افسانے کے کلائمکس کا گمان ہونے لگتا ہے :
"کرشن جی نہ صرف آنے والے برسوں میں بلکہ آنے والی صدیوں میں بھی زندہ رہین گے ، وہ اب ہمارے ادب کے افق پر ایک قوسِ قزح کی طرح تن گئے ہیں اور قوسِ قزح کے نیچے سے ادب کے کارواں گزرتے رہیں گے۔"
جوگندر پال ، اپنی ذات میں فکشن تھے۔ مجتبیٰ حسین کا آں جہانی پر لکھا ہوا خاکہ یادگار ہے ۔ خاکہ کی ابتدائی سطور سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک کہانی کار کا افسانہ بیان ہونے والا ہے ۔ جس میں افسانہ سارنگ و آہنگ نظر آتا ہے ۔ چند سطروں سے افسانے کے کردار کی عکاسی ہوتی ہے :
"کسی آدمی کے بہت زیادہ شریف اور مہذب ہونے کے یوں تو ان گنت فائدے ہیں لیکن ایک نقصان یہ ہے کہ شریف آدمی کا بھرپور خاکہ نہیں لکھاجاسکتا ۔ جو گندر پال کے بارے میں اب کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو میں اسی طرح کے احساس سے گزر رہا ہوں ۔ جی چاہ رہا ہے کہ ایسی نیک، معصوم اور شریف النفس شخصیت کا خاکہ لکھنے کے بجائے اس کی تصویر فریم میں سجاکر لگادوں اور صبح و شام بڑی پابندی کے ساتھ اس تصویر کے آگے بتیاںجلاتا چلا جاؤں ایسی شخصیتیں پوجنے کے لئے ہوتی ہیں کھوجنے کے لئے نہیں۔"
اقبال متین کے چراغِ تہہ داماں کے چراغ فکشن میں جل رہے ہیں ۔ مجتبیٰ حسین نے اقبال متین پر خاکہ لکھا ۔ خاکہ کے مندرجہ ذیل جملے سے افسانوی تخلیق کا احساس ہوتا ہے :
"اقبال متین سے ہمارے پچاس ، پچپن برس کے مراسم ہیں ۔ محبوب اور مہربان چہروں کر ایک ہجوم بیکراں ہے جو بگولے کی طرح ذہن میں ایک خواب کی طرح رواں دواں ہے حالانکہ گزرے ہوئے کل میں یہی خواب ایک حقیقت تھا۔"
قدیر زماں روشن خیال اور با ضمیر ادیب تھے۔ رواں سال کے20جنوری2018ء کو داغِ مفارقت دے گئے ۔ مجتبیٰ حسین اپنے رفیق دیرینہ قدیر زماں مرحوم کے خاکے کو اس طرح سے افسانوی جہت عطا کرتے ہیں:
"کسی پتھر پر پانی کے قطروں کے گرنے کا عمل لگاتار جاری رہے تو پتھر بھی گھسنے لگ جاتا ہے اس مثال میں ہماری حیثیت پتھر کی سی اور قدیر زماں کی حیثیت پانی کے قطروں کی سی ہے ۔"
خاطر نشان رہے کہ راقم التحریر نے مجتبیٰ حسین کے خاکوں میں افسانہ طرازی کی جھلک کے لئے فکشن رائٹر پر لکھے گئے خاکوں کا انتخاب کیا ہ۔ مجتبیٰ حسین کے منتخب خاکوں سے احساس جاگتا ہے کہ ان کے خاکوں میں زندگی اور تازگی ہے۔ ان کے خاکوں پر مشرقیت کی چھاپ گہری ہے ۔ مجتبیٰ حسین کے خاکوں کی زبان صاف ستھری اور دل فریب ہے ۔ عصری زبان سے خاکہ نگار نے تخلیقی شعریت کی پرورش کی ہے ۔ جس سے ان کے خاکوں میں تخلیقی روتیز ہوگئی ہے ۔ مجتبیٰ حسین کی خاکہ نگاری"اقران نامہ" ہے۔ خاکہ نگار نے خاکوں میں اس بات کا خیال رکھا ہے کہ آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی ہے ۔ ان کے اصحابِ خاکہ یہ صورت گر افسانوں کے ہیں مجتبیٰ حسین نے صاحبِ موضوع کی پل بھر زندگی کو ایسا مصور کیا ہے کہ اس میں "جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی" کا خیال ہونے لگتا ہے۔ مجتبیٰ حسین کے چند خاکوں کے مطالعے کے بعد راقم التحریر کا ذاتی خیال ہے کہ مجتبیٰ حسین نے خاکوں میں افسانے اور کہانی کی فضا بندی صاحب خاکہ کی چہرہ نمائی کے لئے خوب سے خوب تر کی ہے ۔ کنہیا لال کپور کے دعائیہ کلمات پر اپنے بکھرے ہوئے خیالات کو تمام کرتا ہوں:
"خاکہ نگاری میں واقعی آپ کو کمال حاصل ہے ۔ خدا کرے آپ کا تخیل ہمیشہ جواں رہے۔"

"SAIBAN", Zubair Colony, Hagarga Cross, Ring Road, Gulbarga - 585104.
Email: ghazanfaronnet[@]yahoo.com
Mob. : 09945015964

ڈاکٹر غضنفر اقبال

The stages of story telling in Mujtaba Hussain's Biographical sketches. Article: Dr. Ghazanfar Iqbal

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں