اکیسویں صدی کے ہندوستانی اردو ناول نگار ۔ وہاٹس ایپ مذاکرہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-06-13

اکیسویں صدی کے ہندوستانی اردو ناول نگار ۔ وہاٹس ایپ مذاکرہ

indian-urdu-novelists-21st-century
اردو پروفیسرز وہاٹس ایپ گروپ کا ایک مکالمہ - بتاریخ : اگست 2016

مکرم نیاز:
امجد طفیل نے اپنے مضمون "پاکستانی اردو ناول اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائی میں" (شائع شدہ "فکر و تحقیق" اپریل تا جون 2016 شمارہ) میں پاکستانی اردو ناول نگاروں کے نام تحریر کیے ہیں ، آپ احباب میں سے کوئی اکیسویں صدی کے ہندوستانی اردو ناول نگاروں کے نام گنوا دیں۔۔۔ کچھ نام میری طرف سے۔۔۔۔ عبدالصمد ، غضنفر، پیغام آفاقی، مشرف عالم ذوقی، صادقہ نواب سحر، رحمان عباس۔

عمیر منظر:
شمس الرحمن فاروقی

مکرم نیاز:
کئی چاند تھے سرآسماں، جیسے تاریخی معرکۃ الآراء ناول کی بنیاد پر فاروقی کو ناول نگار تو شاید کہا نہ جا سکے، وہ معروف نقاد ضرور ہیں

پروفیسر بیگ احساس:
اکیسویں صدی میں 55 سے زیادہ ناول لکھے گئے ہیں۔

عمیر منظر:
1968 میں خان محبوب طرزی کا انتقال ہوا۔ وہ لکھنو کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے دو سو سے زیادہ سیاسی۔ معاشرتی۔ تاریخی۔ سائنسی ناول لکھے۔

وصی بختیاری:
چند نام جو مجھے ابھی یاد آ رہے ہیں؛ شمس الرحمٰن فاروقی، خالد جاوید، مشرف عالم ذوقی، پیغام آفاقی، رحمان عباس، غضنفر، صادقہ نواب سحر، سلمان عبد الصمد، ابرار مجیب، سلیم شہزاد، نور الحسن، سید محمد اشرف، ترنم ریاض، شائستہ فاخری۔۔۔۔۔
سلیم شہزاد مالیگاؤں (مہاراشٹرا) کے اچھے ناول نگار ہیں؛ محمد علیم کا نام بھی یاد آ گیا۔۔۔ جن کے ناول دروازہ ابھی بند ہے اور میرے نالوں کی گمشدہ آواز

پروفیسر بیگ احساس:
اکیسویں صدی میں اردو ناول پر کئی سمینار ہو چکے ہیں، ناولوں اور ناول نگاروں کے نام مہیا کیے جا سکتے ہیں۔

مکرم نیاز:
خالد جاوید بہت اہم نام ہے، مجھ سے چھوٹ گیا۔ پچھلے عرصہ میں ان کا ناول "موت کی کتاب" بہت مکالمے میں رہا۔۔۔۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ میں نے متذکرہ ناول پڑھنے کی کوشش کی۔۔۔ مگر ناکام رہا تو یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہر ناول ہر قاری کے لیے نہیں ہوتا۔

وصی بختیاری:
بالکل یہی حال میرا بھی ہے؛ ڈاکٹر خالد جاوید صاحب کا ناول "موت کی کتاب" میرے فہم و ادراک سے بلند ہے؛ فلسفیانہ عناصر اور کچھ عجیب تکنیک ہے، جس کی وجہ سے ایک دو قراتوں کے بعد بھی میں سمجھنے کا دعوٰی نہیں کر سکتا۔ ویسے ناول نگار کو عالمی افق پر بہت شہرت حاصل ہوئی؛

وصی بختیاری:
سید محمد اشرف صاحب کا کوئی ناول قریب میں منظرِ عام پر آیا تھا، کسی کی نظر سے گزرا؟

مکرم نیاز:
آخری سواریاں؟

عمیر منظر:
یہ ناول بھی بہت پسند کیا جارہا ہے۔ کچھ حصہ میں نے پڑھا ہے۔

وصی بختیاری:
سلمان عبد الصمد، جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر ہیں، ندوۃ العلماء سے فارغ التحصیل ہیں، ان کا ناول 'خاموشی کی آواز' زیرِ مطالعہ ہے؛

سلمان فیصل :
جناب عالی۔۔۔۔۔ سلمان عبد الصمد کا خاموشی کی آواز کے نام سے کوئی ناول نہیں ہے

کامران غنی صبا:
سلمان عبد الصمد کا ناول 'لفظوں کا لہو' ہے

عمیر منظر:
انیس اشفاق کا ناول *دکھیارے* ہے۔ بہت پہلے شائع ہوا ہے۔

مکرم نیاز:
یعقوب یاور صاحب نے ازراہ محبت اپنا ناول "دل مْن" ناچیز کو ارسال کیا تھا۔۔۔۔ یہ سندھی تمدن کے پس منظر کا تاریخی ناول ہے، نصف پڑھا ہے۔۔۔ باقی نصف کے لیے فرصت کا انتظار ہے۔۔۔ کچھ ناول روا روی میں قطعاً نہیں پڑھے جا سکتے، جی ہاں۔۔۔ یعقوب یاور بین الاقوامی شہرت یافتہ ہیں، ویسے ہی جیسے ہمارے ہاں مظہرالزماں خاں ہیں، جن کے افسانے/ناول گو کہ میں نے دسویں جماعت سے پڑھنا شروع کیے۔

عمیر منظر:
پروفیسر انیس اشفاق بھی ناول نگار ہیں۔ موت کی کتاب کے بعد خالد جاوید کا ایک ناول نعمت خانہ آیا یے، نعمت خانہ کو بہت زیادہ شہرت نہیں ملی

وصی بختیاری:
دو الگ الگ نام ہیں؛ عبد الصمد ایک بڑا اور سینیئر نام ہے؛ سلمان عبد الصمد صاحب کا ابھی پہلا ہی ناول آیا ہے؛

مکرم نیاز:
صادقہ نواب سحر، بھی ہندوستانی ناول کا بڑا نام ہے۔۔۔ وہ اس گروپ میں شامل بھی ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے یہیں ایک عرضداشت پیش کی تھی کہ ان کے ناول نگاری فن پر کسی نے کچھ لکھا ہو تو انکی مجوزہ تحقیقی کتاب کے لیے ارسال کیا جائے۔

فضل اللہ مکرم:
بقول پروفیسر گوپی چند نارنگ۔۔۔۔ گیان سنگھ شاطر ایک اہم ناول ہے۔

محمد ظفرالدین:
غالباً جیلانی بانو کا ذکر نہیں آسکا۔ چراغ تلے اندھیرا۔۔۔

وصی بختیاری:
جی ہاں؛ لیکن یہ نام شاید بیسویں صدی کے اواخر میں آتا ہے؛

ابوبکر ابراہیم:
یس فضیلت۔۔ محلوں کے اندھیرے۔

شیخ نوراللہ:
محلوں کے اندھیرے کا پہلا اڈیشن 1984 میں منظر عام پر آیا تھا۔

مکرم نیاز:
ایس فضیلت سے میرا رابطہ رہا ہے۔ محلوں کے اندھیرے کے بعد انہوں نے "اوئی اللہ" اور "جھوٹی کہیں کی" جیسے شاہکار مزاحیہ ناول بھی تحریر کیے۔ آجکل شاید وہ ٹی وی ڈراموں کے میدان سے وابستہ ہیں

فضل اللہ مکرم:
کوئی نوجوان ناول نگار جس کی عمر پینتیس سال سے کم ہو؟

مشتاق احمد نوری:
کوئی نہیں۔

وصی بختیاری:
ڈاکٹر صادقہ نواب سحر صاحبہ کی ناول نگاری اور آپ کے فکر و فن پر ایک کتاب ترتیب دی جا رہی ہے؛ اس میں آپ کی ناولوں 'کہانی کوئی سناؤ متاشا، جس دن سے اور آپ کے افسانوں اور ڈراموں کے مجموعے کے بارے میں مختلف اہلِ فکر و نظر کے مضامین شامل ہوں گے۔ ویسے ایوانِ غزل، بارشِ سنگ، نغمے کا سفر اور نروان کے بعد جیلانی بانو کا کوئی ناول؟

مکرم نیاز:
وکیپیڈیا پر تو یہی پانچ ناول کے نام درج ہیں۔ "نغمے کا سفر" سے قبل "جگنو اور ستارے" کا نام ہے۔

ڈاکٹر ایم سعیدالدین :
ریاست تمل ناڈو کی محترمہ امیرالنساء کاایک ناول "عنبرین" بھی اکیسویں صدی کے ناولوں کی فہرست میں شمار کیا جا سکتا ہے
ریاست تمل ناڈوکے افسانہ نگاروں اورناول نگاروں میں چہ جائیکہ گنے چنے نام ہی لیے جاسکتے ہیں تاہم اس میدان میں خواتین کی اکثریت ہے ، انہی میں ایک معتبر نام امیرالنساء کا بھی ہے جن کے افسانوں کے مجموعے بھی منظرعام پر آچکے ہیں۔ اس کے علاوہ امیر النساء سفرنامہ کے لئے بھی مشہور ہیں۔

حمیرا :
قمر جمالی کا ناول "آتش دان "۔ اسی موضوع (اکیسویں صدی میں خواتین ناول نگار) پر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی طالبہ تحقیق کر رہی ہے

مکرم نیاز:
قمر جمالی حیدرآباد کی اہم افسانہ نگار ہیں، میرے خیال سے "آتش راں" (آتش دان نہیں) ، ان کا پہلا ناول ہے جس کی رسم اجرا غالباً گذشتہ ماہ ادارہ سیاست کے زیراہتمام ہوئی تھی۔

ڈاکٹر محمد داؤد:
کرناٹک کے حوالے سے منظر قدوسی کا نام لیا جاسکتا ہے۔ جن کا ناول زلیخا کافی مشہور ہے۔

سلمان فیصل :
سلمان عبد الصمد ، جن کا پہلا ناول 'لفظوں کا لہو' کچھ دنوں قبل منظر عام پر آیا ہے

فضل اللہ مکرم:
ناول لکھنا یقیناً ایک مشکل کام ہے اور۔۔۔۔ اسے پڑھنا مشکل ترین

مکرم نیاز:
مشکل ترین معاملہ۔۔۔۔ آج کے دور کے حساب سے ہے غالباً ورنہ پچیس تیس سال پہلے تو عدیم الفرصتی کا ایسا معاملہ بالکل نہین تھا

سلمان فیصل :
سحر صاحبہ کے ناول کہانی کوئی سناؤ متاشا پر میرا ایل طویل مضمون ہے جو ان کے پاس ہے اس لیے ذکر نہیں کیا

ڈاکٹر محمد داؤد:
کرناٹک میں نعیم اقبال بھی اہم نام ہے۔ جن کا حج اکبر ناول ہے۔

سلمان فیصل:
پروفیسر کوثر مظہری کا بھی ایک ناول ہے، آنکھ جو سوچتی ہے

سلمان فیصل:
نیلوفر کا ایک ناول "آؤٹرم لین" Outram Lane، جو دہلی کے مکھر جی نگر علاقے کا ایک محلہ ہے جو کہ سول سروسز کی تیاری کا گڑھ مانا جاتا ہے۔

اسرائیل رضا:
حسین الحق، شموئل احمد،افسانہ خاتون(اہلیہ عبدالصمد)، غیاث الدین، شبر امام، احمد صغیر وغیرہ ناول نگاروں کے نام غالبا" چھوٹ رہے ہیں۔
افسانہ خاتون صاحبہ جی ڈی ایس کالج، پٹنہ (بہار) میں صدر شعبۂ اردو ہیں ان کا ناول " دھند میں روشنی" چند سال قبل منظر عام پر آچکا ہے۔

سلمان فیصل:
کچھ اور ناول نگار: علیم مسرور، اقبال مجید، اقبال متین، ذوقی

شبلی :
صدیق عالم کولکاتا کا ناول "چارنک کی کشتی" ہے۔

مکرم نیاز:
ویسے فی الحال اکیسویں صدی کے فعال ہندوستانی ناول نگاروں کے نام اکٹھا کرنے کا ارادہ ہے۔ حیدرآباد کے (مرحوم) اقبال متین اس زمرے میں نہیں آتے. وہ بیسویں صدی کے فعال قلمکار رہے ہیں ، اسی طرح پچھلے کسی مراسلے میں جیلانی بانو کو بھی اس زمرے سے خارج کیا گیا ہے۔ نسترن فتیحی افسانہ نگار کے طور پر معروف ہیں ، انہوں نے ایک ناول "لفٹ" لکھا ہے، یہ بات مجھے معلوم نہیں تھی، نسترن فتیحی کی ابھی دی گئی اطلاع کے مطابق ان کا یہ ناول 2003 میں شائع ہوا۔

شہاب ظفر اعظمی:
دروازہ بند ہے۔۔۔ از احمد صغیر ، میرے نالوں کی گمشدہ آواز ۔۔۔از محمد علیم ، چارنک کی کشتی۔۔منظوم ناول از صدیق عالم کلکتہ ، دھند میں کھوئی ہوئی روشنی۔۔۔۔از افسانہ خاتون ، دھند میں اگا پیڑ۔۔۔۔۔از آشا پربھات ، مجھے میر کہتے ہیں صاحبو۔۔۔۔۔از حبیب حق ، اجالوں کی سیاہی۔۔۔۔بکھرے اوراق۔۔۔۔از عبدالصمد ، ایک بوند اجالا۔۔۔احمد صغیر
لیمینیٹیڈ گرل۔۔۔۔اختر آزاد ، 'مانجھی' اور 'شوراب'۔۔۔۔غضنفر ، لفٹ۔۔۔۔۔نسترن فتیحی ، 'ایوانوں کے خوابیدہ چراغ' اور 'چاند باتیں کرتا ہے'۔۔۔۔۔۔۔۔۔نورالحسنین ، چراغ تہ داماں۔۔۔۔۔۔اقبال متین ، زوال آدم خاکی۔۔۔۔۔غیاث الدین ، اندھیرا پگ۔۔۔۔ثروت خان ، برف آشنا پرندے۔۔۔۔ترنم ریاض ، خدا کے سائے میں آنکھ مچولی ۔۔۔ از: رحمان عباس ، وشوا س گھات۔۔۔۔جتیندر بلو

مکرم نیاز:
ویسے فی الحال اکیسویں صدی کے فعال ہندوستانی ناول نگاروں کے نام اکٹھا کرنے کا ارادہ ہے۔ اور یہ مکالمہ ان ہندوستانی ناول نگاروں کے اسمائے گرامی کو جاننے کے لیے شروع ہوا جو اکیسویں صدی میں ناول نگاری کے حوالے سے فعال ہیں، کس نے کون سا ناول لکھا۔۔۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے، فی الحال یہ جاننا ہے کہ اکیسویں صدی کے کسی فعال ہندوستانی ناول نگار کا نام چھوٹ تو نہیں گیا؟

شہاب ظفر اعظمی:
فہرست میں دیکھ لیں کہ کون سا نام چھوٹ گیا ہے۔مذکورہ ناموں میں ذیادہ تر فعال ہیں ۔

مکرم نیاز:
فہرست کہاں ہے؟

شہاب ظفر اعظمی:
فہرست بنا رہا ہوں ، آپ کو بھیجوں گا

فضل اللہ مکرم:
تمام بیسویں صدی کے ناول نگار ہی ہیں. کسی نے اکیسویں صدی میں ایک دو ناول لکھے ہوں.

مکرم نیاز:
اکیسویں صدی میں کون سے ہندوستانی ناول نگار اپنے تازہ ناولوں کے ساتھ فعال ہیں؟ دراصل یہ جاننا ہے۔۔۔۔ جیسا کہ امجد طفیل نے لکھا کہ اکیسویں صدی کے ابتدائی دس بارہ سالوں میں پاکستان میں کوئی 40 کے قریب ناول لکھے گئے۔۔۔۔۔ تو اس طرح ہندوستان میں اکیسویں صدی کی شروعات کے بعد کس کس اردو ناول نگار نے ناول لکھے ہیں؟

سلمان فیصل :
ہندوستان میں اکیسویں صدی میں تقریبا 60 سے زائد ناول لکھے گئے

اسلم فاروقی:
حیدر آباد میں منصف اور ٹی نیوز کے قیوم انور صاحب کی والدہ خورشید انور نے بھی دو ناول لکھے ان کے نام اور دور کے بارے میں بھی کوئی اطلاع دیں حالیہ عرصے میں ان کا انتقال ہوا اور منصف میں ان کے بارے میں تعزیتی مضمون بھی شائع ہوا تھا

پروفیسر بیگ احساس:
میرے پاس فہرست اور اکثر ناول ہیں لیکن فہرست ٹائپ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔

سلمان عبدالصمد:
پیغام آفاقی مرحوم کا ایک ناول "دوست" آنے والا تھا۔ پروفیسر قمر جہان کا بھی کوئی ناول آرہا ہے۔

مکرم نیاز:
پروفیسر قمر جہاں؟ کچھ تعارف پلیز

صفدر امام قادری:
پروفیسر قمر جہاں بھاگلپور یونیورسٹی کی فکشن رائٹر ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ادبی حیثیت سے فعال ہیں۔ اختر شیرانی کی رومانی اور جنسی شاعری پر ان کی تحقیقی کتاب ہے جو 25 برس قابل شائع ہو چکی ہے۔ ان کے شریک حیات غالباً انجینئر تھے۔ بنارس یونیورسٹی کی قمر جہاں نے تو ایک آدھ تحقیقی تحریر لکھی ہے بس۔

اسرائیل رضا:
پروفیسر قمر جہاں کے متعلق محترم پروفیسر صفدرامام قادری صاحب کی اطلاع صد فیصد درست ہے۔ وہ فی الوقت حکومت بہار کی اردو مشاورتی کمیٹی میں معزز رکن بھی ہیں۔

ڈاکٹر بصیرہ عنبریں:
ہندوستان میں لکھے گئے ناولوں پر اچھی گفتگو ہوئی. معلومات میں اضافہ ہوا۔

***
متعلقہ موضوع پر کولکاتا کے وہاٹس ایپ گروپ قرطاس و قلم، ایڈمن: احمد کمال حشمی) کا مکالمہ۔۔۔۔

مکرم نیاز:
ذرا کولکاتا کے موجودہ فعال ناول نگاروں کے نام بتائیے گا؟؟

خورشید اقبال:
نثری ادب میں مغربی بنگال بہت پیچھے ہے. ۔۔۔خاص طور سے ناول میں۔

مقصود حسن:
2000 سے 2016 تک مغربی بنگال میں زیادہ تر مرتب ہی پیدا ہوئے ہیں۔کچھ promising لوگ آئے بھی تو بہت جلد "باجی" یا "آپا" کے زیر سایہ بیٹھ کر اب اپنی تھکان دور کر رہیہیں۔ ایک صاحب ہیں کہ ایک ہی جست میں کائنات پھلانگ گئے اور اپنے نام کے ساتھ کلکتہ لکھنا گوارا بھی نہیں کرتے۔باقی کا اللہ ہی محافظ ہے۔ میری نظر میں کوئی فعال ناول نگار نہیں ہے۔

تسلیم عارف:
کلکتہ کی واحد خاتون ناول نگار کا نام کبری بیگم ہے جن کے ناول کا نام جہاں آرا ہے۔۔۔۔ کبری بیگم نواب واجد علی شاہ کی پرپوتی ہیں اور مٹیا برج میں مقیم ہیں

جاوید نہال حشمی:
سعید پریمی مرحوم ایک سینئر افسانہ نگار نے اپنے سے جونیئر افسانہ نگار مشتاق انجم کے ناول "بیگھری" سے تحریک پا کر ایک ناول "میری بستی میرے لوگ" لکھا (اب ٹھیک سے یاد نہیں یہ ناول کا نام ہے یا ان کے افسانوی مجموعے کا). سعید پریمی رحلت فرما گئے اور مشتاق انجم شاعری کو پیارے ہو گئے. نثری ادب خصوصاً ناول نگاری کے لئے بنگال بنجر زمین ہے۔

خورشید اقبال:
بے گھری ناول نہیں افسانوی مجموعہ ہے. مشتاق انجم کا ناول 'رانگ نمبر' ہے۔

احمد کمال حشمی:
بنگال کے ناول نگاروں میں صدیق عالم کا نام بھی نہایت اہم ہے۔

Indian urdu novelists of 21st century, A whatsapp group debate. Compiled by: Mukarram Niyaz.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں