حیدرآباد فرخندہ آباد کی سیر - مشفق خواجہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-03-14

حیدرآباد فرخندہ آباد کی سیر - مشفق خواجہ

sun-to-sahi-mushfiq-khwaja
شخصی خاکہ نگاری ایک مشکل فن ہے ۔ یہ غزل جیسی صنف ادب نہیں کہ ردیف و قافیہ کے گلدان میں پامال مضامین کو کاغذی پھولوں کی طرح سجادیاجائے ۔ یہ نثری نظم بھی نہیں کہ لفظوں کو ان کے معنوں سے جدا کر کے چھوٹی بڑی سطروں میں دفن کردیاجائے ۔ یہ علامتی افسانہ بھی نہیں کہ نثری نظم والوں کے دفن کردہ الفاظ کو جھاڑ پونچھ کر دوبارہ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیاجائے ۔ یہ جدید سفرنامہ بھی نہیں کہ سفر نامہ نگار خود تو ایئر ہوسٹسوں کے نرغے میں پرواز کرتا رہے اور بیچارہ قاری حیرت و استعجاب کی وادیٔ پر خار میں پیدل چل چل کر اپنے تلوے لہولہان کرلے۔
شخصی خاکہ نگاری کے لئے چار چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو ایسی آنکھ چاہئے جو کسی شخص کے ظاہر و باطن کا مشاہدہ کرسکے ۔ پھر وہ بصیرت چاہئے جو ان عوامل کا تعین کر سکے جو کسی شخصیت کی تعمیرمیں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ تیسری چیز حقیقت بیانی ہے ۔ یعنی موضوع کو اسی طرح پیش کیاجائے جیسا وہ ہے نہ کہ لکھنے والا اپنی منشاء کے مطابق اس کے خدو خال سنوارے یا بگاڑے۔ چوتھی اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ خاکہ نگار کو لکھنے کا فن آتا ہو ۔ وہ کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ معانی پیش کرنے کے ہنر سے واقف ہو۔
ہمارے بہت کم خاکہ نگاران چار شرائط کو پورا کرتے ہیں ۔ اگر کسی کے پاس مشاہدہ ہے تو اس پہ معلوم نہیں کہ اسے کس طرح پیش کیاجائے ۔ یا پھر اکثر خاکہ نگاروںنے یہ فارمولہ بنارکھا ہے کہ موضوع کی خوبیوں کے ساتھ دو چار خامیاں بھی بیان کردی جائیں تاکہ توازن برقرار رکھا جاسکے۔ بعض توازن کے قائل نہیں ، وہ موضوع کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور بعض خاکہ نگار اپنی ذات کواس حد تک نمایاں کرتے ہیں جیسے وہ کسی اور کا خاکہ نہیں لکھ رہے ، بلکہ اس سے اپنا خاکہ لکھوا رہے ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اردو میں اچھے خاکے نہیں لکھے گئے ، لکھے گئے ہیں اور خاصی تعداد میں ۔ مثلاً پچھلے ڈیڑھ سال میں کم از کم دو مجموعے ضرور ایسے شائع ہوئے ہیں جن میں اچھے خاکے ، خراب خاکوں کی نسبت زیادہ ہیں ۔ ان میں سے ایک مجموعہ پاکستان میں شائع ہوا ہے اور دوسرا ہندوستان میں۔ پاکستانی مجموعہ بزرگ افسانہ نگار ممتاز مفتی کا ہے ’’اوکے لوگ‘‘(اوکھے، پنجابین لفظ ہے جس کا مطلب ہے’’مشکل‘‘) ہندوستانی مجموعے کا نام’’خاکے‘‘ ہے اور اس کے مصنف ہیں عوض سعید۔
ممکن ہے عوض سعید کا نام ہمارے بعض پڑھنے والوں کے لئے نیا ہو۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بعض پڑھنے والوں کے لئے غالب کا نام بھی نیا ہوتا ہے ۔ غالب کا تعارف نامہ تو ہم پھر کبھی پیش کریں گے، فی الحال عوض سعید کے بارے میں عرض ہے کہ وہ خاصے پرانے اور اہم افسانہ نگار ہیں۔ پاکستانی رسالوں خصوصاً میرزا ادیب کے زمانے کے’’ادب لطیف‘‘ میں ان کی کئی کہانیاں شائع ہوچکی ہیں ۔ اب تک ان کے افسانوں کے چار مجموعے منظر عا م پر آچکے ہیں، جنہیں ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔ ان چاروں مجموعوں کو ہندوستان کی مختلف اردو اکیڈیمیوں کے انعامات بھی مل چکے ہیں ۔ یہ بات ہم نے قیاساً لکھی ہے ۔ ہمارا قیاس اس لئے غلط نہیں ہوسکتا کہ ہندوستان میں اردو کتابوں پر کثرت سے انعامات دئیے جاتے ہیں ۔ یہ انعام اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ کتابیں کم پڑ جاتی ہیں ۔ تب مسودوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ آخر میں ان کتابوں کی باری آتی ہے جو ابھی بطن مصنف میں ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد بھی گنجائش رہ جائے تو کتابوں کی بجائے افراد کو تختۂ مشق بنایاجاتا ہے ۔ جیسے حال ہی میں مجوزہ عالمی اردو کانفرنس کی طرف سے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور بعض دوسرے ادیبوں کے لئے انعامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس انعام کی خوبی یہ ہے کہ انعام لینے والے ہی نہیں ، دینے والے بھی ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ہیں، اس لئے وہ دوہری مبارکباد کے مستحق ہیں۔
آئیے اب اصل موضوع کی طرف لوٹیں ۔ اگر ادھر اُدھر کی باتوں کا سلسلہ کچھ دیر اور چلتا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں عوض سعید کی کتاب’’خاکے‘‘ پر بھی کسی انعام کا اعلان نہ ہوجائے ۔ لہٰذا انعام ملنے سے پہلے اس کتاب پر اظہار کرلیاجائے تو بہتر ہے، ورنہ بعد میں کسی کو اس کتاب میں کوئی خوبی نظر نہیں آئے گی۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شخصیات کے حوالے سے حیدرآباد دکن کی ثقافتی فضا اور ادبی ماحول کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ہم نے تو حیدرآباد دکن کو مرزا ظفر الحسن مرحوم یا پھر خواجہ حمید الدین شاہد کے حوالے سے دیکھا ہے ، مرزا صاحب نے حیدرآباد کی تہذیبی زندگی پر بہت سی یادگار تحریریں چھوڑی ہیں ۔ خواجہ حمید الدین شاہد کو خدا سلامت رکھے کہ حیدرآبادی تہذیب کا چلتا پھرتا نمونہ ہیں۔ اس شہر بے مثال کے بارے میں اب عوض سعید نے ہماری معلومات میں اضافہ کیا ہے ۔ ان کی کتاب پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ قاری اپنے کلبہ افزاں سے دور، حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی گلیوں، کوچوں اور ادبی محفلوں کی سیر کررہا ہے ۔ کہیں کسی ہوٹل میں ادیب جمع ہیں اور کہیں کسی قیام گاہ پر محفل گرم ہے ۔ غرض ہر طرف گہما گہمی دکھائی دیتی ہے اور زبان بھی وہی سنائی دیتی ہے جو حیدرآباد میں بولی جاتی ہے ۔
عوض سعید نے جن لوگوں کے خاکے لکھے ہیں ان میں بیشتر معروف ادبی شخصیات ہیں ۔ مثلاً مخدوم محی الدین، ابراہیم جلیس، عالم خوند میری ، سلیمان ادیب قاضی سلیم، اقبال متین مغنی تبسم، جیلانی بانو، عزیز قیسی، وحید اختر وغیرہ۔ ہم نے ان ادیبوں کے صرف نام سنے تھے، اب عوض سعید کی مہربانی سے انہیں ذرا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو جی خوش ہوا۔ بعض بالکل نئی اور دلچسپ باتیں بھی معلوم ہوئیں۔ مثلاً:

مخدوم محی الدین:
طبعاً بڑے سادہ مزاج تھے ۔ چنانچہ جب کبھی ان کی چیزیں رسائل کی زینت بنتی تھیں تو وہ بلا جھک بک اسٹال پر جاکر سارے پرچے خرید لیتے ۔ ایسے وقت وہ بڑے معصوم لگتے، یہ معصومیت ہی دراصل ان کی شخصیت کی سب سے بڑی پہچان تھی ۔ مخدوم عرب نژاد تھے ۔ ان کا خاندانی نام’’ ابو سعید محمد مخدوم محی الدین حذری‘‘ تھا۔ عربوں کی بے پناہ خوبیوں کے ساتھ ان کی ذات میں چند کمزوریاں بھی در آئی تھیں۔۔۔۔ان کے جذباتی ہونے کا عکس جا بجا ان کی پرجوش تقریروں میں کہیں نہ کہیں عیاں ہوجاتا تھا ۔ تنقید سننے یا سہنے کا حوصلہ ان کی ذات میں ذرا کم ہی پایاجاتا تھا ۔ وہ(کمیونسٹ) پارٹی سے کچھ اتنے جڑے ہوئے تھے کہ ذرا بھی کسی نے چبھتا ہو جملہ کسا ، وہ آپے سے باہر ہوگئے ۔ پھر انہیں لاکھ سمجھائیں وہ اکھڑسے جاتے تھے۔ مجھے اورینٹ کی وہ سلگتی شام آج بھی یاد ہے جب انہوں نے غصے کے عالم میں اپنے ہی ایک ساتھی کے گال پر طمانچہ جڑ دیا تھا۔

قاضی سلیم:
جس زمانے مٰں وہ اورنگ آباد میں وکالت کیا کرتے تھے ، انہی دنوں اتفاق سے انور معظم سے ان کی مڈ بھیڑ ہوگئی ۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد جب انور نے ان سے پوچھا کہ وکالت کیسی چل رہی ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، خوب چل رہی ہے ۔ آج ہی ایک آدمی کو چار سال کی قید کروادی ہے ۔ پھر انور نے پوچھا وکیل کون تھا؟ تو انہوں نے کہا، میں تھا۔ انور نے حیرت سے پوچھا ، چار سال کی سزا کیسے ہوگئی؟ انہوں نے جواب دیا، چار سال سے زائد ہوہی نہیں سکتی تھی۔

مغنی تبسم:
انہوں نے اپنے لئے ایک شیڈول بنالیا ہے جو ہر سال تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔ کبھی شاذ کو فیض پر فوقیت دے دی تو کبھی دبلے پتلے مصحف اقبال کو اچانک پہلوانوں کے اکھاڑے میں کھڑا کردیا ۔ کبھی ایک کا ہاتھ تھاما تو کبھی دوسرے کا گریبان چاک کیا۔ کبھی کھائی میں گرے ہوئے کسی ادھ موئے شاعر کو آواز دی تو دوسری طرف خاصے بھلے شاعر کو کنویں میں دھکیل دیا۔

وحید اختر:
اپنے آگے دوسروں کو ہیچ اور حقیر سمجھنے کا جذبہ وحید کے خمیر میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ اس کے ثبوت کے لئے کبھی آپ اس سے مل کو دیکھئے ۔ وہ مصافحہ کے دو منٹ بعد ہی فقرہ بازی پر اتر آئے گا۔ پہلے آپ کو خاص انداز سے دیکھے گا، پھر مسکرائے گا ۔(اگر آپ شاعر ہیں، اسے اپنا مجموعہ پیش کریں گے تو و ہ کہے گا) ہم نے آپ کا مجموعہ بادل نخواستہ پڑھا ہے ۔ ہمارا خیال ہے بعض کتابوں کی عدم اشاعت ہی میں ادب کی خدمت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ۔ آپ کی کتاب بھی اسی زمرے میں آتی ہے ۔ آپ نے اپنی اوقات سے کہیں زیادہ پیسہ فضول اس مجموعے میں لگا دیا۔ بہتر ہوتا کہ آپ اپنے لئے کچھ نئے کپڑے سلوالیتے ۔
اگر کوئی اس سے کہے کہ وحید اختر ہم نے آپ کا شعری مجموعہ خریدا ہے اور آج کل وہی زیر مطالعہ ہے ۔ اس پر وہ خوش نہیں ہوگا کہ ایک کتاب فروخت ہوگئی اور نہ اسے بھلے مانس سے وہ اپنی نظموں اور غزلوں کے متعلق پوچھے گا ۔ اس کا جواب تو یہی ہوگا کہ آپ نے خواہ مخواہ ہمارا مجموعہ خریدنے کی حماقت کی ۔ ہماری شاعری آپ کے پلے پڑنے سے تو رہی۔

ماخوذ: سن تو سہی (مشفق خواجہ کی منتخب تحریریں)
مرتبین: ڈاکٹر انور سدید اور خواجہ عبدالرحمن طارق

A visit to Hyderabad FarkhundaAbad. Article: Mushfiq Khwaja.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں