چودھری برکت علی - مجلہ ادب لطیف کے بانی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-03-18

چودھری برکت علی - مجلہ ادب لطیف کے بانی

adab-e-latif-75yrs
ادب کی دنیا میں ترقی پسند تحریک کے آغاز سے ہی مارچ 1935ء میں جاری ہونے والا ماہانہ ادبی جریدہ " ادبِ لطیف" اپنے منفرد معیار اور مدت اشاعت کے ساتھ اب ایک ادبی لیجنڈ بن چکا ہے ۔ بہت سے رسائل و جرائد اسی شہر زندہ دلاں، شہر ادب و ثقافت، شہر علم و فن سے مختلف ادوار میں جاری ہوئے اور معدوم ہوگئے، مگر "ادب لطیف" واحد ادبی جریدہ ہے ، جو ہنوز جاری ہے ۔ یہ پون صدی یعنی 75 سال اپنی مسلسل اشاعت کے پورے کر چکا ہے اور لگتا ہے صدی بلکہ صدیاں پوری کرے گا۔۔۔۔۔۔۔!
ا س جریدے کے بانی ایک نیک نیت انسان چودھری برکت علی مرحوم تھے ۔ وہ لاہور کی ایک معزز ارائیں فیمیلی سے تعلق رکھتے تھے ، ابھی"پالنے" ہی میں تھے کہ ماں جیسی عظیم ہستی کی شفقت سے محروم ہو گئے، تاہم والد گرامی چودھری محمد بخش نے شجر سایہ دار بن کر پرورش و پرداخت میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
چودھری برکت علی نے پرائمری تک ابتدائی تعلیم کارپوریشن کے ٹاٹ سکول میں حاصل کی ۔ میٹرک کا امتحان اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ سے اچھے نمبروں سے پاس کیا اور پھر ایف۔سی کالج لاہور میں داخل ہو گئے۔ ایف۔اے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں چلے گئے ۔ زمانہ طالب علمی میں وہ ایک ذہین طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ فٹ بال اور ہاکی کے بہت نمایاں کھلاڑی بھی رہے ۔ گریجویشن کے بعد ہسٹری میں ایم۔اے کی تیاری کر رہے تھے کہ انگریز سامراج کے خلاف عدم تعاون کی تحریک اور 'تحریک ترک موالات' شروع ہوئی ۔ رفتہ رفتہ ان تحریکوں نے خوب زور پکڑا اوریہ پورے ملک میں پھیل گئیں۔ چودھری برکت علی کے نہاں خانہ دل میں موجود جذبہ حریت نے ان تحریکوں کا ساتھ دینے پر انہیں اکسایا تو وہ وقت کی پکار پر لبیک کہنے کے لئے خوشی خوشی آمادہ ہو گئے ۔ انہوں نے ایم اے (ہسٹری) کا امتحان دئیے بغیر کالج چھوڑ دیا۔ یوں وہ ایم اے( ہسٹری) تو نہ کرسکے مگر تاریخ کا دھارا بدلنے میں ممدومعاون ضرور بنے۔۔۔۔۔!

چودھری برکت علی کی چشم بصیرت افروز نے دیکھا اور طبع حساس نے محسوس کیا کہ ہر طرح کے کاروبار پر ہندو سامراج کا غلبہ ہے اور مسلمان من حیث القوم قعرِ مذلت میں گرے ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے انہوں نے پبلشنگ کے شعبے کو چنا کہ کاغذ، قلم حرف و لفظ ہی زندہ رہنے والی چیزیں ہیں اور چھپے ہوئے زندہ لفظوں سے قوموں کی تقدیریں بدلتی رہی ہیں اور بدل سکتی ہیں۔ چنانچہ 1929ء میں انہوں نے مشہور زمانہ پنجاب بک ڈپو قائم کیا اور اس بک ڈپو سے درسی کتب کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا۔ یوں وہ ہندو اور انگریز پبلشروں کے درمیان اس دور میں ایک بڑے مسلمان پبلشر کی حیثیت سے نمایاں ہوتے چلے گئے ۔ ان کے حسن کارکردگی نے لکھنے، پڑھنے والے اساتذہ اور اہل علم کا ہالہ ان کے گردا گرد بنا ڈالا، اور وہ اچھی ، معیاری، نصابی کتابیں چھاپنے لگے ۔ انہوں نے اپنے کاروبار کو پورے بر صغیر میں روشناس کرایا۔ کئی سال تک دل جمعی سے "پنجاب بک ڈپو" کو پھولنے پھلنے کا موقع دینے ، مقام بلند تک پہنچانے کے بعد ان کی طبع رسا نے 'کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لیے' کے مصداق اپنی بات ، اپنے خیالات اور ترقی پسندانہ نظریات کو عام کرنے کے لئے ایک ادبی جریدے کے اجراء کا منصوبہ بنایا ۔
حکیم احمد شجاع نے ان کے منصوبے کو عملی طور پر مہمیز لگائی کہ جریدے کا نام "ادب لطیف" تجویز کر دیا اور پہلے مدیر کے طور پر اپنے بچوں کے اتالیق ، ایک سکول ٹیچر، شاعر و ادیب طالب انصاری بدایونی کا تقرر کروا دیا ۔
یوں مارچ 1935ء میں طالب انصاری بدایونی کی ادارت میں ادب لطیف کا پہلا شمارہ 64 صفحات پر مشتمل منظر عام پر آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مارچ ، اپریل، مئی 1935ء کے تین شمارے ہی طالب انصاری کی ادارت میں چھپ سکے کیونکہ جون 1935ء میں میرزا ادیب (بی اے آنرز) اس جریدے کے مدیر مقرر ہو گئے۔ طالب انصاری ان دنوں فلموں کے لئے گیت بھی لکھتے تھے ، سکول میں ٹیچر بھی تھے اور پرائیویٹ طور پر ٹیوشن بھی پڑھاتے تھے ۔ اتنی بہت مصروفیات میں وہ ادیب لطیف کے لئے بھرپور انداز میں وقت نہ دے سکتے تھے ، جب کہ میرزا ادیب کل وقتی مدیر کے طور پر دستیاب ہو گئے تھے۔ یوں ادب لطیف کے بانی مدیر ہونے کا اعزاز پنجاب کے دل لاہور میں فانی بدایونی کے شہر بدایوں کے ایک صاحب فن شاعر طالب انصاری کو حاصل ہے ۔
میزا طالب کا نمبر دوسرا ہے ، جو لوگ انہیں اولیت دیتے ہوئے ادب لطیف کا پہلا مدیر قرار دیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ۔ دراصل پہلا مدیر ہی 'ٹرینڈ سیٹر [trend setter]' ہوتا ہے ، چنانچہ ابتدائی شماروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے شمارے سے جو معیار، بانئ ادارہ، چودھری برکت علی کی رہنمائی میں مدیر اول نے قائم کیا اسی طرز پر میرزا ادیب اور ان کے بعد میں آنے والے مدیروں نے بھی معیار نہ صرف برقرار رکھا بلکہ آگے بڑھایا ۔
اس ادبی لیجنڈ، عہد ساز جریدے کے نامور مدیران میں طالب انصاری بدایونی کے علاوہ فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، فکر تونسوی ، قتیل شفائی، عارف عبدالمتین، دو بار میرزا ادیب ، انتظار حسین اور یہ خاکسار، راقم الحروف ناصر زیدی شامل ہیں۔۔۔۔۔۔
میرا دور ادارت 1966 تا 1980ء تک طویل ترین دور ہے جب کہ میرزا ادیب تو دو قسطوں مٰں کل دس بارہ سال مدیرر ہے ۔۔ اور میرے بعد تو مدیران کی ایک لمبی لائن لگی رہی ۔ ایک ہی شمارے میں اللہ جھوٹ نہ بلوائے بطور مدیران آدھی آدھی درجن نام بھی دیکھنے کو ملے ۔
صدیقہ بیگم، کشور ناہید اور ان کا چار کاٹولہ۔ پھر صدیقہ بیگم کے ساتھ مسعود اشعر اور پھر ان کے ساتھ اظہر جاوید۔ اب چودھری برکت علی کی صاحبزادی صدیقہ بیگم مدیر ہیں اور بڑے عزم و استقلال کے ساتھ مختلف ادوار کے معروف سائز سے ہٹ کر چھوٹے کتابی سائز پر رسالے کو باقاعدگی سے شائع کر رہی ہیں۔
75 سالہ نمبر ان کی مدیرانہ کاوش کا یقیناً نقطہ عروج ہوگا۔۔!

"ادب لطیف" کا موجودہ کتابی سائز دراصل انتظار حسین کے فوری بعد آنے والے ایک مدیر قاسم محمود نے رائج کیا تھا ۔ وہ کل چھ ماہ مدیر رہے اور اس عرصے میں ادب لطیف کا اصل قدیم اور معیاری حلیہ بگاڑ کے اسے صرف اور صرف افسانوں کے لئے مخصوص کر دیا کہ وہ خود بھی افسانہ نگار تھے ۔ شاعری، ادب لطیف کے اس ششماہی تاریک دور میں ممنوع رہی۔ چودھری برکت علی کے بڑے صاحبزادے افتخار علی چودھری کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ وہ 'پنجاب بک ڈپو' کے مالک اور ادب لطیف کے مینجنگ ایڈیٹر تھے ۔ انہوں نے کبھی ایڈیٹر کے کام میں مداخلت نہیں کی ، یہی وجہ ہے کہ مجھے ان کے ساتھ خوشگوارا نداز میں بطور ایڈیٹر مسلسل پندرہ سال گزارنے کا موقع ملا۔ وہ بہت خلیق ، متواضع، ہنس مکھ اور 'پیر پرست' انسان ہیں ۔ میرے سید ہونے کے ناتے بھی وہ میری تکریم حد سے کچھ زیادہ ہی کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کا دسترخوان ہمیشہ سے بہت وسیع تھا ۔ ہم روزانہ ان کے دسترخوان کے ریزہ چیں رہے۔ ان کی ایرانی بیگم ہر بدھ کو گامے شاہ اور داتا دربار پر حاضری کے بعد پنجاب بک ڈپو اور دفتر ادب لطیف تشریف لاتیں تو کھیر کا ایک دیگچہ بھی ملازم ضرور ساتھ لاتا ۔ یوں ہم نے مدتوں بہت کھیر کھائی جو کسی طرح بھی ٹیڑھی نہ تھی۔ اس کھیر کی مٹھاس کا اثر اب تک ہماری شخصیت میں حلول کئے ہوئے ہے ، جو "حاسدین تیرہ باطن" کے سوا ہرایک مقرب خاص محسوس کر سکتا ہے ۔

آج خصوصیت سے ذکر مقصود ہے، پنجاب بک ڈپو اور ادب لطیف کے بانی چودھری برکت علی کا لیکن بقول غالب:
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
چنانچہ بر سبیل تذکرہ بہت سی دیگر متعلقہ باتیں بھی آ گئیں ۔
پھر آتا ہوں اپنے اصل موضوع کی طرف۔۔۔۔۔ چودھری برکت علی نے ہندوؤں کی اشاعتی اجارہ داری توڑںے کے ساتھ ساتھ بہت سے فلاحی، تعلیمی ، اصلاحی اور رفاہی کام بھی کئے ۔
انہوں نے مسلم ماڈل ہائی اسکول کی بنیاد 1945ء میں ڈالی ۔ یہ سکول نواں کوٹ لاہور میں قائم کیا گیا ۔ 1947ء میں یہ ہنگاموں کی نذر ہو گیا تو قیام پاکستان کے بعد موجودہ بلڈنگ میں کچہری روڈ اور اردو بازار کے سنگم پر یہ سکول قائم کیا گیا۔ چودھری برکت علی تادم آخر (8,9اگست 1952ء) بحیثیت جنرل منیجر اس اسکول میں فرائض انجام دیتے رہے ۔ اس اسکول کے علاوہ انہوں نے مزید سکول لاہور ہی میں قائم کئے ۔ اسلامیہ ہائی اسکول موہنی روڈ اور اسلامیہ ہائی اسکول مصری شاہ۔ مسلم ماڈل ہائی اسکول کے بنیادی صدر نورالٰہی تھے جب کہ جنرل سیکریٹری شیخ محمد اشرف اور فنانس سکریٹری شیخ نیاز احمد تھے اور جنرل منیجر چودھری برکت علی۔
اس تعلیمی مجلس کے اراکین نے سکول کو ایسے عمدہ شفاف اور معیاری اصولوں پر چلایاکہ یہ اسکول پاکستان کے بہترین اسکولوں میں شمار ہوتا ہے ۔
چودھری برکت علی کے تیسرے نمبر کے چھوٹے صاحبزادے خالد چودھری نے "چودھری اکیڈیمی" بنا کر پنجاب بک ڈیو کو بھی اس میں ضم کر لیا ہے ۔ چودھری برکت علی کی صاحبزادی محترمہ صدیقہ بیگم جو ادب سے خصوصی لگاؤ رکھتی ہیں، ادب لطیف کو بڑی محنت لگن اور جانفشانی سے زندہ بلکہ تابندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ حسب معمول چودھری برکت علی کے بڑے صاحبزادے چودھری افتخار علی مینجنگ ایڈیٹر ہیں اور دوسرے صاحبزادے ظفر علی چودھری بھی تعاون کر رہے ہیں ۔ یوں چودھری برکت علی کا لگایا ہوا پودا تناور درخت بن کر پھول پھل رہا ہے ۔
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
میں نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا

ماخوذ از مجلہ: ماہنامہ ادبِ لطیف ، 75 سالہ نمبر (حصہ اول)
شمارہ 11-12 ، نومبر-دسمبر-2010

Chaudhry Barkat Ali, the founder of Urdu Monthly 'Adab-e-Lateef'. Article: Nasir Zaidi.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں