ملک بھر کی عدالتوں میں صرف ایک دن میں 35 لاکھ مقدمات کی یکسوئی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-11-25

ملک بھر کی عدالتوں میں صرف ایک دن میں 35 لاکھ مقدمات کی یکسوئی

سپریم کورٹ اورملک کی دیگر عدالتوں نے ایک ہی وقت میں منعقدہ قومی لوک عدالت نے کل حادثہ جاتی دعووؤں،ازدواجی تنازعات،ناقابل استعمال چیکس اورٹریفک جرمانوں کے بشمول35لاکھ سے زائد مقامات کی یکسوئی کی ہے۔ایک روزہ طویل عدالت کاافتتاح چیف جسٹس پی ستہ سیوم نے کیا جبکہ اس بڑے پیمانے کی کاروائی کامقصد موٹرحادثاتی دعوؤں۔ازدواجی تنازعات،ناقابل استعمال چیکس،بنک وصولی آبی مقدمات،دیوانی دعوؤں اورٹریفک ٹکٹوں سے متعلق39لاکھ زیرتصفیہ مقدمات سے نمٹناتھا۔ان معالات کی یکسوئی کے لیے ملک گیر سطح پرایک ہی وقت میں پہلی مرتبہ اس کا انعقاد عمل میں آیا۔نیشنل لیگل سرویس اتھارینی(نلسا)اورسپریم کورٹ کے لیگل سرویسیس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ لوک عدالت کاانعقاد سپریم کورٹ،ملک کے تمام24ضلع جاتی وذیلی تمام عدالتوں اورتمام24ہائیکورٹس میں کیاگیا۔8بجے شب تک35,10,390مقدمات کی یکسوئی کی گئی جبکہ مزید کیسیس رجوع کیے جارہے تھے۔سپریم کورٹ کے اعدادوشمار میں یہ بات بتائی گئی۔سپریم کورٹ نے3عدالتوں کے ذریعہ107مقدمات کو دوستانہ طریقہ کارکے ساتھ یکسوئی کے لیے رجوع کاکیاگیاتھاجن میں سے51مقدمات کی یکسوئی کردی گئی۔چیف جسٹس ستہ شیوم نے قومی لوک عدالت کامقصد مقدمات کے فریقین کو عاجلانہ انصاف کی فراہمی اوراس بات کو یقینی بناناہے کہ مزیداپیلیں دائرنہ کی جائیں۔انہوں نے لوک عدالت کے ذریعہ تنازعات کی یکسوئی کو کفایت شعارانہ اورانصاف تک بآسانی رسائی قراردیا۔چیف جسٹس نے صدراتی ججس پرزوردیاکہ وہ فریقین کو مقدمات کی یکسوئی کے دوران ڈرانے،دھمکانے کی روک تھام اور سمجھوتے کے موقع پرمفاہمانہ رویہ اختیارکرنے سے بازرکھنے کویقینی بنائیں۔انہوں نے خبردارکیاکہ عدالتوں سے عوام کو دھوکہ دہی کاشکاربنانے والے بددیانت عناصرکواستفادہ کاموقع نہ دیاجائے۔ملک گیرسطح پر39لاکھ مقدمات کی سماعت عمل میں آئی جبکہ7.94,484مقدمات مدھیہ پردیش،5,66.102مہاراشٹرااورتقریبا4لاکھ مقدمات علی الترتیب اترپردیش اورٹاملناڈو سے تعلق رکھتے تھے۔دہلی کی عدالتوں میں 3لاکھ مقدمات زیرتصفیہ تھے جن میں2لاکھ73ہزارناقابل استعمال چیکس سے متعلق تھے۔نلساکے صدرنشین جوقومی لوک عدالت کے انعقاد کے لیے مساعی کی تھی،بتایا کہ لوک عدالتیں یامصالحت کاری،عاجلانہ انصاف کے طاقتورذرائع ہیں جوستورکی تمہیدسے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔جسٹس سنگھوی جنہوں نے ستمبر میں نلساکے صدرنشین عاملہ کی حیثیت سے عہدے کاجائزہ لیاتھا،انہوں نے لوک عدالتوں یامصالحت کاری جیسے فورمس کے ذریعہ تنازعات کی دوستانہ یکسوئی کے فوائد پرشعوربیداری کوفروغ دینے کی ضرورت پرزوردیا۔انہوں نے امیدظاہرکی کہ ہفتہ کوتقریبا20لاکھ مقدمات کی یکسوئی کی جائے گی۔انصاف کی موثرانداز میں فراہمی کی ضرورت ظاہرکرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ ایک دہے طویل یا اس سے زائدوقفہ تک مقدمے کے بعد اضافی انشورنس معاوضہ یاازدواجی تنازعات کی یکسوئی کوفیصلہ بے معنی ہے۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں بتایاکہ کہ اگر15سال بعد معاوضہ میں اضافہ کیاجائے توروپئے کی قدرکیاہوجاتی ہے؟جسٹس سنگھوی نے دونوں طرح کے ازدواجی تنازعات کی عاجلانہ یکسوئی کی۔سپریم کورٹ لیگل سرویسیس اتھاریٹی کے صدرنشین جسٹس اے کے پٹنائک نے بتایاکہ مقدمے کے فریقین جوطویل اورگراں قدرمقدمے بازی برداشت نہیں کرسکتے ہیں،انہیں لوک عدالتوں میں راحت فراہم ہوسکتی ہے۔محکمہ مصارف اورنلساکے سکریٹری آرایس گجرال نے بتایا کہ ہندوستان کی ایک ملین آبادی پرترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ میں ججس کاتناسب بہت کم ہے اور اسے بہتربنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس بات پرزوردیاکہ مقدمات کی باہمی یکسوئی ان کے زیرالتوا،یازیرتصفیہ ہونے یاکمی کاواحد راستہ ہے۔

Indian courts settle over 35 lakh cases in one day

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں