روپیہ کی قدر میں گراوٹ صدمہ انگیز - منموہن سنگھ کا بیان
روپیہ کی قدر میں تیزی سے گراوٹ پر بالآخر اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج بتایا کہ یہ واقعہ یقینی طور پر صدمہ انگیز ہے جبکہ اصلاحات کی تنسیخ یا سرمایہ کنٹرولس کے بغیر اس کی یکسوئی کی جائے گی۔ انہوں نے معیشت کو درپیش دیگر مسائل اور سرمایہ کاروں میں تشویش جیسے متعدد مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کو مختصر مدتی صدمی انگیز حالات کا سامنا ہوگا تاہم انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ مالیاتی سال کے دوران شرح نمو 5.5 فیصد تک پہنچ جائے گی جبکہ 2012-2013 میں اس کی شرح اس دہے کے دوران اقل ترین یعنی صرف پانچ فیصد تھی۔
معاشی صورتحال پر تنقید کے پس منظر میں پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے اپوزیشن بالخصوص بی جے پی کو نشانہ بنایا اور اس پر سرمایہ کاروں کے جذبات کو مجروح کرنے اور وقتاً فوقتاً ایوان کی کاروائی میں خلل اندازی کے ذریعہ اہم اصلاحات بلز میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
منموہن سنگھ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہمیں چیلنجس کا سامنا ہے اور ہم میں ان کی یکسوئی کی صلاحیت موجود ہے۔ اس سوال پر کہ آیا ہندوستان 1991 کے توازن ادائیگی بحران کے قریب بڑھ رہا ہے؟ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اس سطح پر نہیں ہیں ، ہم اس حد تک آگے نہیں بڑھیں گے۔ ہمارے لیے یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس پہاڑی سے اتر رہے ہیں جس کے افق پر 1991 چھایا ہوا ہے۔
معاشی صورتحال پر تنقید کے پس منظر میں پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے اپوزیشن بالخصوص بی جے پی کو نشانہ بنایا اور اس پر سرمایہ کاروں کے جذبات کو مجروح کرنے اور وقتاً فوقتاً ایوان کی کاروائی میں خلل اندازی کے ذریعہ اہم اصلاحات بلز میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
منموہن سنگھ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہمیں چیلنجس کا سامنا ہے اور ہم میں ان کی یکسوئی کی صلاحیت موجود ہے۔ اس سوال پر کہ آیا ہندوستان 1991 کے توازن ادائیگی بحران کے قریب بڑھ رہا ہے؟ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہم اس سطح پر نہیں ہیں ، ہم اس حد تک آگے نہیں بڑھیں گے۔ ہمارے لیے یہ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس پہاڑی سے اتر رہے ہیں جس کے افق پر 1991 چھایا ہوا ہے۔
Rupee decline a shock but no reversal of economic reforms: PM

گفتگو میں شامل ہوں