مودی امریکی ویزا - اراکین پارلیمنٹ کی دستخطی دستاویز کا تنازع
چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کو امریکی ویزا جاری نہ کرنے بعض ارکان پارلیمنٹ کے صدر بارک اوباما کو موسومہ مکتوب پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے جبکہ چند ارکان پارلیمنٹ نے اس مکتوب پر دستخط کرنے کی تردید کی۔ سی پی آئی ایم لیڈر سیتارام یچوری، ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کے پی راما لنگم اور سی پی آئی ایم پی اچھوتا نندن کی اس مکتوب پر دستخط کی تردید کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی نے لوک سبھا اسپیکر میرا کمار کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے دستخط کی مبینہ جلعسازی کی تحقیقات کرائی جائے۔ پارٹی نے اسے کانگریس کے "گندی ترکیبوں کے شعبہ" کی پس پردہ کارستانی ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ جھارکھنڈ کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ سدرشن بھگت نے اسپیکر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہاکہ بعض ارکان پارلیمنٹ نے اوباما کو بھیجے گئے خط پر دستخط کرنے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنگین الزامات ہیں اور جعلسازی کے مترادف ہیں۔ انہوں نے اس کی تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی ترجمان پرکاش جاودیکر نے کہاکہ بعض ارکان پارلیمنٹ کی تردید صاف ظاہر کرتی ہے کہ کانگریس کی گندی سیاست کے شعبہ نے یہ سازش رچی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ بعض ارکان پارلیمنٹ نے جعلی دستخط کا الزام عائد کیا۔ چنانچہ اس معاملہ کی تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہےئے۔ سی پی آئی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے کہا ایسا لگتا ہے کہ ان کے دستخط کہیں سے حاصل کرکے مکتوب پر پیسٹ کردئیے گئے۔ بی جے پی ترجمان نرملا سیتا رامن نے ٹوئٹر پر لکھا کہ نریندر مودی سے نمٹنے کیلئے بیرونی مدد؟ ایسے نام نہاد سماجی کارکن ہندوستانی عدالتوں پر یقین نہیں رکھتے اور وہ بیرونی مدد حاصل کرنے کی لا حاصل سعی کررہے ہیں۔ انہوں نے اسے ہندوستانی سیاسی مقابلہ کیلئے امریکہ کی شکل میں "تھرڈ امپائر" سے تعبیر کیا۔ واضح رہے کہ 40لوک سبھا اور 25راجیہ سبھا ارکان نے مبینہ طورپر یہ مکتوب روانہ کیا ہے۔ اسی دوران کانگریس نے بی جے پی کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ مودی کو ویزانہ دینے اس کے ارکان پارلیمنٹ نے مکتوب لکھا ہے۔
Modi visa denial becomes murkier, MPs say their signature was forged

گفتگو میں شامل ہوں