ملائم سنگھ پر بی۔جے۔پی کے ساتھ ساز باز کا الزام - بینی پرساد ورما - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-07-07

ملائم سنگھ پر بی۔جے۔پی کے ساتھ ساز باز کا الزام - بینی پرساد ورما

مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما نے کانگریس کی جانب سے ان کی سرزنش کے باوجود، قائد سماج وادی پارٹی (ایس پی) ملائم سنگھ یادو پر اپنی تنقید میں آج شدت پیدا کردی اور الزام لگایا کہ یادو نے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کیلئے بی جے پی کے ساتھ ساز باز کرلیا ہے۔ انہوں نے یادو کو، بابری مسجد مسئلہ پر عام مباحثہ کا چیلنج دیا۔ (ورما جو کبھی یادو کے دوست تھے، اب شدید مخالف بن گئے ہیں)۔ ورما نے الزام لگایا کہ بی جے پی، رام مندر مسئلہ پر کشیدگی پیدا کرتے ہوئے یوپی میں فضا خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے جس سے زعفرانی بریگیڈ اور ایس پی کو فائدہ ہوگا۔ پولیس تحویل میں مشتبہ دہشت گرد خالد مجاہد کی موت کی تحقیقات، نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی) کے ذریعہ کرانے کی سفارش نہ کئے جانے پر ورما نے یوپی کی ایس پی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ (خالد مجاہد کو نومبر 2007ء میں لکھنو اور فیض آباد عدالتوں میں سلسلہ وار بم دھماکوں کا ایک ملزم بتایا جاتا ہے)۔ ورما نے کہاکہ 2007ء میں حملہ کے پس پردہ دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ ورما نے یہاں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "بابری مسجد مسئلہ پر میرا سامنا کرنے کیلئے ملائم ایک پلیٹ فام پر آئیں، میں ان کے سوالات کا جواب دوں گا اور وہ میرے سوالات کا جواب دیں"۔ مرکزی وزیر نے کہاکہ ملائم سنگھ نے کہا تھا کہ بابری مسجد مسئلہ پر ان کے خلاف (ورما کے خلاف) الزامات کی تحقیقات سی بی آئی کے ذریعہ کرائی جائیں گی لیکن اگر سماج وادی پارٹی سنجیدہ ہے تو یوپی میں اس کی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر مرکز سے سفارش کرے۔ ورما نے کہاکہ "سی بی آئی یا این آئی اے ، عدالتی احکام یا ریاستی حکومت کی سفارشات پر ہی تحقیقات کرتی ہیں۔ ریاستی حکومت ایسی تحقیقات کی سفارش کرے اور میں ایسی تحقیقات کروانے کی تمام تر کوششیں کروں گا۔ انہوں نے پوچھا کہ ایودھیا میں ہندوؤں کی ہلاکتوں کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم کیوں نہیں دیا گیا"۔ ورما نے الزام لگایا کہ "ایس پی اور بی جے پی سازباز کررہے ہیں۔ گودھرا واقعہ کے بعد ایس پی نے گجرات انتخابات میں حصہ لیا۔ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران سشما سوراج نے ملائم کی طرفداری کی"۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہاکہ بی جے پی کو یقین ہے کہ اگر اس ریاست (یوپی) میں فرقہ وارانہ جذبات بھڑک اٹھیں تو زعفرانی بریگیڈ اور ایس پی کو فائدہ ہوگا۔ یہ ان کی (دونوں پارٹیوں کی) حکمت عملی کا حصہ ہے"۔ ورما نے دعویٰ کیا کہ 1990 سے ہورہے واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایس پی اور بی جے پی "آپسی ساز باز" کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ "ایک وقت جبکہ ایس پی ارکان اسمبلی کی تعداد صرف 135تھی، یہ پارٹی، حکومت کیسے قائم کرسکتی تھی۔ اس وقت کے اسمبلی کیسری ناتھ ترپاٹھی، انحراف کی اجازت کیسے دے سکتے تھے اور ایس پی ارکان کو حلف لینے کی اجازت کیسے دی گئی۔ اُس وقت مرکز میں بی جے پی اور ریاست میں ایس پی برسراقتدار تھی۔ مرکزی فورسس کو کیوں ہٹالیا گیا تھا اور اشوک سنگھل، ایودھیا کیسے پہنچے تھے۔ اُس وقت فائرنگ نہ کرنے کے احکامات دئیے گئے تھے"۔ بینی پرساد ورما نے خالد مجاہد کی موت کی، این آئی اے تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا او کہاکہ "2007ء میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کے سلسلہ میں جب خالد مجاہد اور طارق قاسمی کو گرفتار کیا گیا تھا، سینئر ایس پی لیڈر محمد اعظم خان نے خود کہا تھا کہ یہ فرضی معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ میں نے بھی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ نمیش کمیشن کی رپورٹ، اگست2012ء میں سامنے آئی۔ "ایس پی نے اپنے انتخابی منشور میں کہا تھا کہ دہشت پسندانہ سرگرمیوں کے نام پر گرفتار کردہ تمام بے قصور نوجوانوں کو رہا کردیا جائے گا۔ رپورٹ سامنے آجانے کے بعد ان نوجوانوں کو کیوں رہا نہیں کیا گیا؟"انہوں نے الزام لگایاکہ "یہ شبہ پایا جاتا ہے کہ 2007ء کے دھماکوں میں وہ تنظیمیں ملوث تھیں جو مالیگاؤں اور سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین دھماکوں میں ملوث تھیں۔ یہ دھماکے، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کیلئے کئے گئے تھے۔ صرف این آئی اے تحقیقات کے ذریعہ ہی صورتحال واضح ہوسکتی ہے اور اگر ایسی تحقیقات کی سفارش نہیں کی جاتی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ "کچھ گڑ بڑ ہے"۔ چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بینی پرساد ورما نے کہاکہ ایک طرف تو مودی، ملک کو کانگریس سے نجات دلانے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف سردار پٹیل کے مجسمے نصب کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ "سردار پٹیل تو زندگی بھر کانگریسی رہے ۔ سردار پٹیل کی تو شخصیت وہ تھی جنہوں نے مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر امتناع عائد کردیاتھا۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری و انچاج پارٹی امور یوپی، امیت شاہ کے دورہ ایودھیا پر ورما نے برجستہ کہا کہ وہ (امیت شاہ)، فوجداری مقدمات میں اپنی برأت کی پرارتھنا کرنے کیلئے گئے تھے۔

Beni Prasad Verma steps up attack on Mulayam Singh Yadav, alleges collusion with BJP

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں