Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-03-20 - بوقت: 14:14

ابن الوقت - ڈپٹی نذیر احمد - قسط:19

Comments : 0

خلاصہ فصل - 17
نوبل صاحب کا دفعتاً ولایت جانا ہوا اور ابن الوقت کو بنگلہ چھوڑنا پڑا

نوبل صاحب کے ولایت روانہ ہونے سے آٹھ دس روز پہلے ڈاکٹر نے کسی کے ساتھ ملاقات سے منع کردیا تھا۔لہذا اس دوران ابن الوقت کے ساتھ بھی نوبل صاحب کی کوئی تفصیلی ملاقات نہ ہو پائی۔صاحب روانہ ہوئے تو ابن الوقت ہکا بکا رہ گیا۔نہ اپنی کہی نہ ان کی سنی۔اس کو صاحب کے جانے کا سب سے زیادہ ملال تھا۔مگر یہ بات اس کے ذہن میں نہیںآئی کہ صاحب کے جانے سے اس کی وضع کی تبدیلی کے برے نتیجے اس قدر تنگ کریں گے۔
نوبل صاحب کے جاتے جاتے برسات کی آمد اور گرمی کی شدت کے آثار پیدا ہو چلے تھے۔شہر میں تو بیماری کا زور تھا۔چھاؤنی میں بھی کہیں کہیں شکایت سنی جاتی تھی۔نوبل صاحب کو روانہ ہوئے چوتھا یا پانچواں دن تھا کہ کمانڈنگ آفیسر نے حکم جاری کیا کہ انگریزوں کے شاگرد پیشہ(نوکر،چاکر،خدمت گذار)کے سوائے کوئی بھی چھاؤنی کی حدود میں نہ رہے،اور شہر کا کوئی آدمی چھاؤنی میں نہ آنے پائے۔پچھلے سال بھی ایسا ہی اتفاق پیش آیا تھا تو نوبل نے سمجھا دیا تھاکہ مسٹر ابن الوقت ’’نے ٹیو‘‘(Native)یعنی مقامی ضرور ہیں مگر ان کا رہن سہن بالکل انگریزوں جیسا ہے۔ویسے نئے کمانڈنگ افسر نے ابن الوقت پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
عام حکم دیکھ کر ابن الوقت کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ اس نے سینکڑوں روپے خرچ کرکے بنگلے کے احاطے کو مدتوں کی محنت سے درست کرایا تھا۔خانہ باغ کی بھی درستگی ہوئی تھی۔سمجھنے والے کے لئے ابن الوقت کی یہ حالت قابل رحم تھی۔وہ یوں کہ ساری عمر انسان دنیا کے جھمیلوں میں پڑا رہتا ہے دفعتاً اس کو دنیا چھوڑنی پڑے تو دل پر کیا گذرتی ہوگی۔کیونکہ وہ دنیا کے ساز و سامان میں سے کوئی چیز ساتھ نہیں لے جا سکتا۔وہ ساتھ لے جا سکتا ہے تو صرف اپنا عمل اور وہ بھی عمل بھی ایسا نہیں ہوتا کہ عاقبت میں آسائش کی جگہ پاسکے۔
ابن الوقت اگر چاہتا تو منّت سے خوشامد سے اپنا مطلب نکال لیتا مگر وہ تھا مغرور کسی سے کچھ نہیں پوچھا۔ایک چٹھی کمانڈنگ افسر کو بھجوائی کہ ہم بالکل انگریزی طور پر رہتے ہیں اور اس وجہ سے پچھلے سال بھی ہماری رہائش پر پر اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔اس سال بھی ہمارے ساتھ یہی برتاؤ ہونا چاہئیے۔کمانڈنگ افسر نے فوراً اس کے جواب میں لکھ بھیجا کہ سپاہیوں کی تندرستی کے لئے بھیڑ کا کم کرنا ضروری ہے۔
یہ پہلا انتظام ہے کہ جو لوگ فوج سے تعلق نہیں رکھتے،وہ چھاؤنی کے اندر نہ رہیں۔اس جواب کے بعد تدبیر کے سب راستے بند ہوگئے اور چار وناچار بنگلہ خالی کردینا پڑا۔ایک ذرا سی بات میں بے چارہ ابن الوقت بیٹھے بٹھائے،ہزار بارہ سو کے پھیر میں آگیا۔وقت پر موقع کا بنگلہ نہ ملا اور ملا بھی تو غرض کو دگنا کرایہ دینا پڑا۔نقل و حرکت میں اسباب خراب ہوا اور زیر باری کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں۔


Urdu Classic "Ibn-ul-Waqt" by Deputy Nazeer Ahmed - Summary episode-19

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں