Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-02-24 - بوقت: 16:30

شیخ الحدیث مولانا محمد نعمان اعظمی رحمہ اللہ

Comments : 0
Biography-of-Maulana-Mohammad-Noman-Azmi
خاندانی حالت:
مولانانعمان بن حاجی عبدالرحمن شہید ڈومن پورہ مؤ ناتھ بھنجن میں 1293ھ میں پیداہوئے۔ آپ کے والد حاجی عبد الرحمن شہید کپڑوں کے تاجرتھے ،مسلمانوں اورہندوؤں میں معززاور مشہور ومعروف تھے ،انتہائی متدین اور علم دوست تھے۔ اللہ تعالی نے ان کو چارفرزندعطا کیے اور چاروں ماشا ء اللہ اچھے عالم ہوئے سب سے بڑے فرزند مولانا محمد حامد،ان سے چھوٹے مولانا نعمان ،ان سے چھوٹے مولانا محمدابراہیم اورسب سے چھوٹے مولانا محمد علی ابوالقاسم تھے۔ یہ چاروں بھائی اپنے علم واخلاق کی وجہ سے لوگوں میںہردلعزیزتھے۔ ان چاروں کا ذکرمولاناعبدالرحمن آزاد نے ایک شعر میں کہا ہے کہ جس سے ان کی مقبولیت کا ثبوت ملتاہے۔
علی ،حامد،نعمان،ابراہیم اخوان فاللھم اکرمھم جمیعاًأینما کانوا
ان چاروں بھائیوں میں مولاناحامداورمولانامحمدنعمان کوشیخ الکل فی الکل مولانا سید نذیرحسین محدث دہلوی سے شرف تلمذ حاصل ہے۔

تعلیم:
مولانا محمد نعمان کی بیشترتعلیم مؤمیں ہوئی، مدرسہ عالیہ میں ملاحسام الدین سے شرح جامی اورشرح وقایہ پڑھی، ایام تدریس میں ملا صاحب فالج کی وجہ سے معذورہوئے توعارضی طورپرکچھ دنوں تک مولانامحمد اسعداللہ صاحب ان کی جگہ پڑھاتے رہے۔ اس کے بعد مولانااسحاق کوپاگنجی مستقل مدرس ہوئے۔ آپ نے ان سے حسب ذیل کتابیں پڑھیں:
(1) رسائل مجموعہ منطق
(2) قال اقول
(3) شرح تہذیب
(4) قطبی
(5) نفحۃ الیمن
(6) تاریخ الخلفاء
(7) مختصرالمعانی
(8) نورالانوار
(9) شرح وقایہ اولین
(10) ہدایۃ الاخرین
(11) ملاحسن میبذی
(12) ھدیہ سعیدیہ۔
مؤ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعدوطن سے باہرجاکر تعلیم حاصل کرنے کاشوق ہوا۔ چنانچہ آپ اپنے بڑے بھائی مولاناحامد صاحب کے ہمراہ مؤ سے نکل کر آرہ پہونچے اورمحدث کبیرحافظ عبداللہ صاحب غازی پوری کے مدرسہ میں داخلہ لیا اوران سے ترمذی ،مسلم ،بخاری کے دس اجزاء اورسبعہ معلقہ پڑھی اور مولاناعبدالنور دربھنگوی سے میرزاہد ملاجلال اورملا حسن پڑھی۔ پھرمیاں نذیر حسین محدث دہلوی سے تفسیر جلالین ، ابوداؤد،بخاری کا درس لیا اورصحاح ستہ کی اول وآخر حدیثیں سناکرسندحاصل کی۔ شمس العلماء ڈپٹی نذیراحمد دہلوی سے دیوان متنبی اورمقامات حریری پڑھی۔ ڈپٹی مرحوم کوعربی ادب میں بڑاکمال حاصل تھا۔ جب امیرحبیب اللہ خان والی افغانستان دورہ ہند پرتشریف لائے تھے اس وقت ڈپٹی صاحب نے یہ شعر کہا تھا جو زبان زد خاص وعام ہوگیا تھا۔
عید وعید وعیدصرن مجتمعۃ وجہ الحبیب ویوم العیدوالجمعۃ
مولانا موصوف انتہائی ذہین اور قوی الحافظہ تھے جو بات ایک دفعہ سن لیتے کبھی بھولتے نہ تھے ۔ ڈپٹی صاحب مولانا کو بہت چاہتے تھے ۔ جب تک مولانا درس میں نہ پہونچتے وہ درس شروع نہ کرتے اورجب مولانا آجاتے تو پھرکسی کا انتظار کیے بغیر درس شروع کردیتے ۔ مولاناکوپہونچنے میں دیراس وجہ سے لگتی تھی کہ آپ کاقیام جامع مسجد کے پاس تھااورڈپٹی صاحب کا مکان وہاں سے کافی دورتھا۔
حُصول علم کے بعد تجارت اورسیاسی سرگرمیاں : معاش کے لیے تجارت اختیارکیا، سیاست سے حددرجہ لگاؤتھااورتحریک آزادی سے خاص دلچسپی تھی لیکن آپ کے چچیرے بھائی مولاناحکیم ثناء اللہ جومدرسہ عالیہ کے جملہ انتظامات میں آپ کے شریک کارتھے ،سیاسی تحریکات کے مخالف تھے اس لیے دونوں میں اختلاف رائے کی وجہ سے ناچاقی پیداہوگئی ۔ اور1920ء میں آپ مدرسہ کی نظامت سے سبکدوش ہوگئے۔ 1919ء میں جب تحریک خلافت اٹھی اورمؤ میں خلافت کمیٹی قائم ہوئی توآپ کو اس کا نائب سکریٹری مقررکیاگیا۔اس طرح خلافت کمیٹی نے جب قومی عدالت قائم کی توفیصلے کے لیے نوبنچ مقررکیے گئے، جن میں سے آپ بھی ایک تھے۔ ہفتہ میں دودن باقاعدہ عدالت کی جاتی تھی۔آپ بڑی پابندی سے اس میں شریک ہوتے آپ کی اصابت رائے کے سب قائل تھے۔مؤ کی کانگریس کمیٹی نے بھی آپ کورکن نام زد کرلیا۔ ان تمام ذمہ داریوں کی وجہ سے تجارت پربہت برااثراپڑا۔ جب مستقل نقصان ہونے لگا تومجبوراً1924ء میں دکان بند کرنی پڑی۔ پھرکسی علمی ادارے سے وابستگی کاخیال آیا۔ بے کاری سے اس قدر دل برداشتہ ہوگئے تھے کہ جلدسے جلد گھرسے نکل جاناچاہتے تھے۔ چنانچہ بغیر کسی سروسامان کے توکل علی اللہ گھرسے نکل گئے۔ گھر سے نکلتے وقت دعاکی کہ "یااللہ مجھے مجبوری سے اورلوگوں کے سامنے دستِ سوال درازکرنے سے بچا،مجھے اس سفرمیں خواہ کتنی ہی تکلیف برداشت کرنی پڑے لیکن کسی کے آگے دست سوال درازنہ کروں۔ یااللہ ! میرے دل میں قناعت اورصبرکامادہ پیداکردے۔

احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں تدریس:
آخرکار ڈیڑھ ماہ تک مختلف مقامات کادورہ کرتے ہوئے کلکتہ پہونچے ، وہاں مولانااسحاق صاحب آروی سے ملاقات ہوئی،جومدرسہ آرہ میں آپ کے ہم سبق رہ چکے تھے ۔ان کواپنے پاس رکھ لیااورجب معلوم ہواکہ آپ تلاش معاش کے سلسلہ میں گھر سے نکلے ہیںتو آپ نے مختلف اداروں سے اس سلسلہ میں خط وکتابت کی۔ اتفاق سے انہیں دنوں دربھنگہ سے ان کے پاس ڈاکٹرسید فریدمہتمم مدرسہ احمدیہ سلفیہ کاخط آیا کہ وہاں ایک مدرس کی فوری ضرورت ہے تومولانانے آپ کودربھنگہ جانے کے لیے آمادہ کرلیا۔ تنخواہ کے سلسلے میں دونوں میں بحث ہونے لگی ۔ آپ 20/روپیے پرکام کرنے کے لیے تیارتھے اورمولانا40/روپیے ماہانہ پرآپ کوبھیجناچاہتے تھے،آپ کایہ عذرتھاکہ میں جب سے فارغ ہوا اب تک کتاب اٹھاکرنہ دیکھی اس لیے خوف ہے کہ میں ٹھیک سے کام کرسکوں گایانہیں۔لہٰذا کم تنخواہ پرجانافی الحال اچھا ہے بعد میں ترقی ہوسکتی ہے ،مولانااسحاق کہنے لگے کہ آپ کی علمی قابلیت سے میں واقف ہوں،ا ن شاء اللہ آپ کوکوئی دقت نہیں ہوگی۔ دونوں میں کچھ دیرردوکد ہوتی رہی، پھرمولانااسحاق نے ناراضگی کے لہجے میں کہاکہ اگرآپ 25/روپیے پر جاناچاہیں توآپ کو بھیجوںگاورنہ کسی اورکوبھیج دوںگا۔ آخر کارآپ یکم ذی الحجہ 1924ء کو مدرسہ احمدیہ السلفیہ دربھنگہ پہنچ گئے ،طلبہ آپ کے درس سے اتنا مطمئن اورڈاکٹرفریدصاحب اتنا خوش ہوئے کہ اختتام ماہ پرآپ کو بجائے پچیس کے تیس روپیے تنخواہ دی۔ششماہی کے بعد آپ کی تنخواہ میں ڈاکٹر صاحب کومزیداضافہ کرنے کاخیال تھا اس لیے ابتدائی کتابوں کے عوض آپ کواونچے درجہ کی کتابیں دی گئیں، لیکن سوء اتفاق کہ دوسری ششماہی کے بعدآپ بیمار ہوگئے اورشدیددردشکم میں مبتلا ہوگئے،آخر کارڈاکٹر صاحب کی تجویز پرگھر والوں کوآپ کی علالت کی خبردی گئی،توآپ کے بڑے صاحبزادے مولاناعبدالمنان آپ کولینے کے لیے آگئے۔ ڈاکٹرصاحب اپنی کارمیں آپ کو اسٹیشن لے گئے اورمدرسہ کے تمام اساتذہ اورطلباء الوداع کہنے کے لیے اسٹیشن آئے اورڈاکٹر صاحب نے آپ کواس ماہ کی پوری تنخواہ عنایت کی باوجودیہ کہ مولانانے صرف دوتین دن ہی کام کیاتھا۔

عمرآباد کا سفر:
دربھنگہ کی آب وہواراس نہ آنے کی وجہ سے آپ کودوبارہ وہاں جانے کاخیال نہ تھا،اسی سوچ بچارمیں تھے کہ آئندہ کہاں جائیں اس دوران بذریعہ خط کئی اداروں نے آپ کی تدریسی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی اورابھی آپ نے کچھ فیصلہ بھی نہیں کیاتھاکہ جامعہ دارالسلام کے پہلے ناظم فضل اللہ صاحب مدراسی اوربانی جامعہ کے مجھلے فرزندکاکامحمدابراہیم صاحب مدرس کی تلاش میں مؤ پہونچے اوروہاں مولانانے ان کی درخواست پرعمرآباد میں بحیثیت مدرس جانے کافیصلہ کرلیا۔

صبر آزما مراحل:
آپ 15/دسمبرکی شب عمرآبادپہونچے اس وقت وہاں کی آبادی بالکل مختصرتھی جس میں ہندواور مسلمان دونوں شامل تھے ،یہاں کے رہنے سہنے کے طورطریقے آپ کے لیے بالکل اجنبی تھے ،لباس پوشاک،بول چال، کھاناپینا ، تہذیب وتمدن ، ہرایک میں نامانوسیت ،مگر آپ انتہائی مستقل مزاج تھے، اس لیے ان دشواریوں سے گھبرانے کے بجائے ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش میں لگے رہے اوربالآخر کامیاب ہوئے۔ یوپی کی عام غذا روٹی ہے جب کہ یہاں کی عام غذا چاول ہے، یوپی میں عام طورپر کھاناکچے چاول سے پکتاہے اوریہاں عموماًابلے چاول سے پکتاہے ،یوپی میں سالن میں ترشی ڈالنے کا رواج بالکل نہیں ہے جب کہ یہاں بغیر ترشی کے کوئی سالن نہیں پکتا۔ اس لیے آپ بڑی مشکل سے چند لقمے کھاکر بعدمیں ایک دوکیلے کھالیاکرتے تھے ،پھر اس دشواری پرقابوپانے کے لیے آپ نے اپنے ہاتھ سے کھاناپکاناشروع کردیا،چاول کھاتے کھاتے جب طبیعت گھبراگئی توبڑی دشواری کے بعد بنگلور سے آپ کوآٹا ملاچنانچہ آپ وہاں سے آٹامنگواتے۔ چونکہ آپ کی پہلی اہلیہ بہت پہلے ہی وفات کرچکی تھیں لہٰذا احباب کے اصرار پریہاں پہنچنے کے کچھ عرصہ بعدجب آپ نے دوسری شادی کرلی توکھاناپکانے کی زحمت سے بچ گئے۔آپ نے حسب ذیل کتابیں بڑی خوبی سے پڑھائیں، کتاب الصرف، کتاب النحو،ابن عقیل،نحومیر، شرح مائۃ عامل، ہدایۃ النحو،بلوغ المرام ،مشکوٰۃ،نورالانوار،سنن ترمذی،صحیح مسلم ،صحیح بخاری وغیرہ۔

حدیث سے شغف:
البتہ آپ کااصل موضوع علم حدیث تھااس لیے آپ نے بالخصوص حدیث کی کتابیں ایسی عمدگی کے ساتھ پڑھائیں کہ کسی بھی عبارت یابحث کوتشنہ نہ چھوڑا ۔ گھر میں”خیرکم خیر لاھلہ "کی تصویر ہوتے اورطلبہ کے درمیان” انمابعثت معلما” کے اسوہ پرعمل پیرارہے۔ آپ نے کبھی کسی طالب علم کوافادہ سے محروم نہیں کیااورنہ ہی کسی سوال سے کبیدہ خاطر ہوئے۔ سنت کے سخت پابندتھے ۔ آپ پکے اہل حدیث تھے حقیقی معنوں میں متبع سلف، اگر کسی کوسنت کے خلاف کوئی کام کرتے دیکھتے توفوراًہی ٹوک دیتے اوراظہار حق سے کبھی دریغ نہیں کرتے ،ہمیشہ لوگوںکی اصلاح کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ آپ جب عمرآباد آئے تو اس وقت عام لوگوں کوقربانی کااحساس نہیں تھا۔ کاکاخاندان کے علاوہ کسی گھرمیں قربانی نہیں ہوتی تھی، چنانچہ آپ کے ترغیب دینے سے چند سال کے اندرہی لوگوںنے قربانی کرناشروع کردیا۔
اسی طرح عمرآباد میں عیدین کی نمازدیرسے پڑھی جاتی تھی اورعیدین میں گاؤں کے لوگ کاکااسماعیل صاحب کے گھر دوپہر کے کھانے پرمدعو ہوتے تھے ۔ عیدالفطر میں تولوگ بارہ ایک بجے کھانے کے لیے آجاتے لیکن بقرعید کے دن دشواری ہوتی۔ نماز کے بعدقربانی کی جائے تو کھاناتیارکرنے میں کتنی عجلت کی جائے مگر دوڈھائی بج جاتے ، اس لیے کاکاصاحب نمازعید سے پہلے دو تین بکرے ذبح کروادیاکرتے تھے تاکہ ظہر تک کھاناتیارہوجائے۔ چنانچہ آپ نے کاکاصاحب کوسمجھایاکہ اگر یہ بکرے نماز کے بعدذبح کیے جائیں توآپ کوقربانی کاثواب ملے گا اوراگر لوگوں کوسویرے نمازکے لیے آنے کی ترغیب دیں توجلد قربانی اورجلدہی کھاناتیارہوجائے گا۔ کاکاصاحب اتباع سنت کابڑاخیال رکھتے تھے اس لیے انہوں نے اس پرعمل کیا۔
علم الاسناد ،اصول حدیث، توفیق بین الحدیثین اوراختلافی مسائل پربحث وتمحیص میں آپ ماہرتھے ۔ افکار وآراء میں جمہورمحدثین کے ترجمان، بڑے اصول پسند اوروقت کے انتہائی پابند، طریقہ تدریس توایساتھاگویاگھول کرپلادیتے تھے۔ راست معاملہ اور مہمان نوازتھے، رقیق القلبی اتنی کہ دوران درس رسول اللہ ﷺ اورصحابہ وصحابیات کی قربانیوںکاتذکرہ آتا تو رقت طاری ہوجاتی۔
مولاناابوالبیان حمادصاحب رقمطراز ہیں کہ میںجس وقت پانچویں جماعت کاسالانہ امتحان دے چکااورجامعہ کو دوماہ کی تعطیل ہوگئی تومیرے دل میں ایک خلش پیداہوگئی کہ جماعت چہارم وپنجم میں مسلسل دوسال پڑھنے کے باوجود مشکوٰۃ ختم نہ ہوسکی اوردونوں سال مشکوٰۃ کے مدرس مولانانعمان صاحب اعظمی ہی تھے۔ جب سارے طلبہ چھٹی میں اپنے گھر چلے گئے تومیں تنہا جامعہ میںٹھہر گیا،چھٹی کاآغازہوتے ہی میں نے استاد محترم سے ذکرکیاکہ میں اس چھٹی میں گھرنہ جاکرآپ سے مشکوٰۃ ختم کرانا چاہتا ہوں یہ سن کر مولانابہت خو ش ہوئے اورفرمایاکہ ضرورٹھہرجاؤ۔ چنانچہ اس چھٹی میں مولانانے بڑی شفقت کے ساتھ مشکوٰۃ ختم کراکے میری علمی تشنگی بجھادی ۔
جب کبھی بنگلور جاتے تومسجد اہل حدیث چارمینار میںجمعہ کاخطبہ آپ ہی کاہوتاتھا۔ خطبہ بڑاہی دل نشین، عام فہم اورمقتضائے حال کے مطابق ہوتاتھا۔ مذکورہ مسجد کے علاوہ دیگرمساجد میں بھی درس قرآن اوردرس حدیث کااہتمام فرماتے۔

شعر و ادب سے دلچسپی:
مولاناکو دیوان متنبی اورسبع معلقات کے بے شمار اشعار ازبر تھے ،گلستان وبوستاں کے اشعار تقریباًیاد تھے ۔اثنائے تدریس عربی وفارسی اشعار کوبرمحل استعمال فرماتے ،آپ نے شاعری بھی کی ہے۔ اس سلسلے میں آپ کاادبی ذوق بڑاہی اعلی صاف ستھرا نکھرا ہواتھاتخلص ناصحؔ تھا۔کبھی کبھار جامعہ کے مشاعروں میں اپناکلام پیش کرتے،کلام میں بامقصد طنزومزاح کاعنصر غالب رہتا،بہت صحیح اورفصیح زبان بولتے تھے۔

بچوں کی تربیت:
اپنے بچوں کی تربیت میں کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیااوراکثر کوقابل رشک عالم بنایا، ہمیشہ دعاؤں کااہتمام کراتے۔ حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری( فرزند مولاناموصوف) فرماتے ہیں کہ "والد صاحب مہربان بھی بہت تھے اورسخت گیر بھی، جہاں آپ کے مزاج کے خلاف یادینی مذہبی تعلیم کے دائرہ سے ہٹ کر کوئی حرکت سرزد ہوجاتی اورلکھائی پڑھائی میں غفلت ہوتی توسارے لاڈ وپیار منہ دیکھتے رہ جاتے، ہلکی خلاف ورزی ہوتو آپ کی زبان اورہمارے کان اور اگربات بڑی ہوتی توآپ کے ہاتھ اور ہماری پیٹھ” مزیدفرماتے ہیں کہ 1950ء تک (9/سال کی عمرمیں)میں نے چندپارے حفظ کر لیے تھے توجانے کیا سوچ کر مجھے بنگلور بھیج دیاجہاں میرے بھانجے حافظ اکبرعلی کئی سال تک بنگلور کی مرکزی مسجدچارمینار میں تراویح میں قرآن سنانے کے لیے مؤ سے آتے تھے۔ ہمارا قیام محمدیحی قریشی صاحب کے مکان میں تھا۔ گھربھرا ہواتھاخواتین کی خواہش ہوئی کہ تراویح میں میں ان کی امامت کروں، مجھے ہمت نہیں ہوئی معذرت کردی۔ اکبرعلی صاحب نے والد صاحب کے پاس شکایت لکھ بھیجی ،گھرسے جوجواب آیا مجھے اطمینان تھاکہ لکھا ہوگا کہ بچہ ہے ڈرجائے گا،ایک دوسال بعداس لائق ہوجائے گا۔ لیکن وہ جواب نہیں عتاب تھا ایسے سخت الفاظ اوریہ دھمکی کہ اسے وہاں سے نکال بھیجواورمیں بھی یہاں گھرمیں رہنے نہیں دوں گا۔ اس خط کے بعد آٹھ نو سال کابچہ جائے توکہاں جائے، گھر بھی جائے امان نہ رہا،چڑھ گیاسولی۔ اوریہی جرأت کام آئی آئندہ بڑی مساجد میں امامت تراویح کے لیے سن 1964ء میں مسجد نبوی کے ایک گوشے میں تراویح کی امامت کی ، عرب شیوخ گزرتے ہوئے کھڑے ہوکر کچھ دیر سماعت فرماتے تھے اورمیرے پایہ ثبات میں یقین مانئے ہلکی سی جنبش تک نہ ہوئی ، ملیشیا میں بھی ایک سال باقاعدہ پگڑی باندھ کر تراویح کی امامت کرچکاہوں یہ سب بلاشبہ اسی تربیت اورہمت افزائی کے عقاب وحساب ہی میں تو جائے گا۔

مشہور تلامذہ:
مولاناکے ہزاروںشاگردملک وبیرون ملک علمی ودعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں ان میں سے اکثر کاعلمی مقام قابل رشک رہاہے بنظر اختصار چند کاذکر حسب ذیل ہے۔
کاکاسعیداحمدعمری (سیکریٹری جامعہ دارالسلام عمرآباد)، مولاناابوالبیان حمادؔ عمری، مولانامفتی عبدالعزیز عمری ، مولانا شعیب عمری، مولاناعبدالباری عمری( 1954ء میں شاہ سعود کی بنگلورآمد پرآپ نے عربی زبان میں سپاس نامہ پیش کیاتھا) ، مولانا اقبال عَلمی مؤ عمری، مولانا عبدالحکیم عمری، مولانا عبدالسبحان اعظمی عمری، مولاناعبدالرشیدعمری،مولاناعبدالغنی سیفی عمری، مولانا سید جلال الدین عمری( امیر جماعت اسلامی ہند)، مولاناسید امین عمری وغیرہم۔

ذاتی اوصاف:
آپ متبحر عالم ،زاہداور شب زندہ دارتھے، اخلاص ،ہمدردی،شفقت، محبت ، مروت، ایثار،قناعت، بردباری، صبر وشکر، تسلیم ورضا،توکل وانابت ، عجز وانکساری، ایمان ویقین ، تقویٰ شعاری،خداترسی، راست بازی، دیانت داری، صاف دلی، راست گوئی، حق پسندی ، حقیقت بینی، اظہارئ حق، عدل وانصاف، رواداری ووسعت قلبی، وسعت نظری وظرفی،چشم پوشی، مہمان نوازی، دریادلی ، بے نیازی خود داری، شجاعت وبسالت، جذبہ خدمت خلق، معاملہ فہمی، دوراندیشی ،نکتہ رسی، خوش طبعی، خندہ روئی ، بذلہ سنجی، زندہ دلی، اصول پسندی ، وقت کی قدر شناسی ،بوریہ نشینی ، علم دوستی ، اتباع سنت کا التزام مطالعہ سیرت طیبہ کا اہتمام ، سلف صالحین سے عقیدت تمام وغیرہ ایسے اوصاف حمیدہ ہیں جوآپ کی زندگی کے لازمی اجزاء تھے۔
حلیہ شکل وصورت: پیرانہ سالی کے باوجود حسین وجمیل شخصیت کے مالک تھے ،چھریرابدن اور میانہ قد تھے۔ صاف ستھرا، سفید کرتاپائجامہ اوردوپلی سفید ٹوپی استعمال فرماتے تھے، سرپر چھوٹے اورمختصر بال ہوتے ،داڑھی طویل اورمسنون تھی۔
آخری ایام: 1928ء سے 1951ء تک آپ نے عمرآباد میں فریضہ تدریسی اداکیا ،عمر کے آخری ایام میں آپ کے جسمانی قویٰ مضمحل ہونے لگے تھے ، خاص کربینائی کمزور ہوتے ہوتے قریب قریب ختم ہوگئی تھے۔ جس کی وجہ سے آپ کے مطالعہ کتب سے معذور ہوگئے تھے، لیکن قوت حافظہ اور دیگر ذہنی ودماغی صلاحیتوں میں کوئی فرق نہیں آیا، بینائی کے موجودگی میں آپ کا جو انداز درس تھاوہی تادم آخر باقی رہا۔ بصارت سے معذوری کے باوجود مجال نہیں تھی کہ طلبہ کسی کتاب کی کوئی عبارت یا کوئی لفظ غلط پڑھ جائیں اسی حالت میں صحیح بخاری کے درس کاسلسلہ بھی اطمینان بخش انداز میں جاری رہا، کبھی کسی نے کچھ تشنگی محسوس نہیں کی۔

مرض و وفات:
1951ء کے اوائل کی بات ہے،آپ صحیح مسلم کا درس دے رہے تھے، کہ یکایک زبان رکنے لگی، یہ فالج کا پیش خیمہ تھا آخر فالج کا حملہ ہوہی گیا، زبان اورہاتھ پاؤں پر اثر ہواتھا، تقریباًگیارہ ماہ صاحب فراش رہ کر 28/ دسمبر 1951ء مطابق 29/ربیع الاول 1371ء جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی درمیانی شب میں ٹھیک بارہ بجے داعی اجل کو لبیک کہا۔ دوسرے دن بعد نماز ظہر عمر آباد کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ، افق شمال سے ابھرنے والایہ نیرتاباں ارض دکن میں غروب ہوکر اس خاک کی قسمت کو ہمیشہ کے لیے روشن و تابناک کرگیا۔
کہاں کی خاک کہاں آسودہ خاک ہے

اہل وعیال:
مولاناکی پہلی شادی ان کے وطن مؤ میں ہوئی تھی آپ کی یہ اہلیہ بڑی نیک فرماں بردار، اطاعت گزار، متدین اور وفاشعار خاتون تھیں۔ تلاش معاش کے لیے باہرجانے سے کئی سال قبل ہی ان کاا نتقال ہوگیاتھا۔ ان سے پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہوئیں۔ لڑکوں کونام حسب ذیل ہیں:(1) مولاناعبدالمنان اعظمی (2) مولاناعبدالسبحان اعظمی عمری (3)محمدعرفان (4) مولانافضل الرحمن اعظمی عمری (5) عبدالحنان
اورلڑکیوں کے نام یہ ہیں:
(1) آمنہ (2) عائشہ (3) خدیجہ (4) صفیہ (5) بلقیس (والد ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری) یہ سب کے سب اپنے رب کے پاس پہونچ گئے ہیں غفراللہ لھم ولھن۔
عمرآباد آنے کے بعد مولانا نے محترم کاکامحمداسماعیل مرحوم اورحاجی عبدالمجید مرحوم کے مسلسل اصرار پر شہر پر نامبٹ (تمل ناڈو) میں دوسری شادی کرلی تھی، ان سے چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہوئیں۔
لڑکوں کے نام یہ ہیں:
(1)مولاناحبیب الرحمن اعظمی عمری (2)ڈاکٹر عزیزالرحمن (3) مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی (4) عتیق الرحمن بی ایس سی۔
لڑکیوں کے نام :
(1) میمونہ (بچپن ہی میں ڈیڑھ سال کی عمر میں انتقال ہوگئیں تھیں) (2) فریدہ اقبال( اصل نام فاطمہ تھا جو بعد میںکسی کے تصرف سے فریدہ بن گیا)

مولانا کی دوسری اہلیہ بھی بڑی دین دار تہجد گزار وفاشعار، تعلیم یافتہ اورنہایت سلیقہ مند خاتون تھیں، بچوں کی تعلیم وتربیت سے انہیں خصوصی دلچسپی تھی۔ مولانا کی وفات کے وقت چونکہ ان کے چاروں بچے تقریباًکمسن تھے توبعض دردمند مشفقین نے ان کی بھوک ،پیاس اورافلاس دیکھ کران کوکام پر بھیجنے کے لیے کہا توفاقہ زدہ ماں نے شکریہ کے بعد عرض کیا "ٹھیک ہے روزی روٹی کا مسئلہ کسی حدتک حل ہوجائے گا، لیکن میں کیاکروں کہ یہ چاروں بچے میری آغوش میں ایک عالم کی امانت ہیں، ان کے باپ کاخواب ان کے سروں پر علم کاسہرا باندھنا تھا اسے شرمندہ تعبیر کرنے کی خاطر جتنے بھی دکھ درد کاسامنا ہوبرداشت کرلوں گی ، ذرا سے سکھ کی خاطر انہیں کسی بنئے کے حوالے کروں تو روزمحشر شوہرکوکیا منہ دکھاؤںگی”۔
مولانا کے انتقال کے تقریباً 22/سال بعد1973ء رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں آپ کی یہ دوسری اہلیہ بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔
آخر میں عرض ہے کہ مولانا کے لائق فرزند حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری نے 1973ء میں اپنے والد کی طرف سے حج بدل کیا تھا۔

محمد کاشف بن شکیل احمد، جامعہ سلفیہ (بنارس)، جامعہ عالیہ (مئو)، جامعہ دارالسلام (عمرآباد، تمل ناڈو)، اترپردیش مدرسہ بورڈ کے فارغ التحصیل اور جامعۃ التوحید بھیونڈی میں بحیثیت استاذ فائز ہیں۔ آپ کا تعلق سانتھا، سنت کبیر نگر، اترپردیش سے ہے۔

***
Jamiatut Tawheed, Bhiwandi
ای-میل: kashifshakeelsalafi[@]gmail.com
موبائل: 07408150761
فیس بک : Kashif Shakeel
کاشف شکیل

Biography of Maulana Mohammad Noman Azmi. Article: Kashif Shakeel

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں