Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-08 - بوقت: 16:24

راکھین تشدد - میانمار کے خلاف قرارداد سے ہندوستان کا انکار

Comments : 0
موسادوا،انڈونیشیا
پی ٹی آئی
ہندوستان نے آج ایک بین الاقوامی کانفرنس میں منظورہ اعلامیہ کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے جس میں میانمار کی راکھین ریاست میں تشدد کا حوالہ دیا گیا تھا جہاں سے کم از کم ایک لاکھ پچیس ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش فرار ہونے کے لئے مجبور ہوئے ۔ لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کی زیر قیادت ہندوستان کے پارلیمانی وفد نے انڈونیشیا کے اس مقام پر متواتر ترقی سے متعلق عالمی پارلیمانی فورم میں منظورہ بالی اعلامیہ سے دوری اختیار کی ۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ایک صحافتی اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس فورم میں منظورہ اعلامیہ متواتر ترقی سے متعلق متفقہ عالمی اصولوں کے مطابق نہیں تھا ۔ ہندوستان نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اس پارلیمانی فورم کو طلب کرنے کا مقصد متواتر ترقی کے اہداف پر عمل آوری کے لئے اتفاق رائے پر پہونچنا تھا۔ اس لئے راکھین میں تشدد کے حوالے کو نا مناسب اور اتفاق رائے کے مغائر سمجھا گیا ۔ ہندوستان نے اعلامیے کے اس حصے پر اعتراض کیا جس میں کہا گیا کہ فورم میانمار کی راکھین ریاست میں جاریہ تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔ اس اعلامیہ میں تمام فریقوں سے کہا گیا تھا کہ وہ راکھین ریاست میں مذہب اور نسل سے قطع نظر تمام افراد کے انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنائے اور پر تشدد طریقوں کے استعمال سے حتی الامکان گریز اور سلامتی و استحکام کی بحالی کے لئے کام کریں۔ ہندوستانی وفد نے یہ موقف ایک ایسے وقت اختیار کیا جب ایک دن قبل ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے میانمار کے دورے کو ختم کیا جہاں انہوں نے راکھین ریاست میں انتہا پسند تشدد کے خلاف حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ ان کا حوالہ میانمار کی سیکوریٹی فورسس پر روہنگیا انتہا پسندوں کے مبینہ حملوں کی طرف تھا۔ مودی نے کل تمام فریقوں سے کہا تھا کہ وہ ایک ایسے حل کی تلاش کریں جس میں ملک کے اتحاد کا احترام ہو ۔ صحافتی اعلامیہ میں کہا گیا کہ لمحہ آخر میں منتخب ممالک نے اعلامیہ میں ترمیم کرتے ہوئے وہ حصہ شامل کیا جس میں میانمار کی راکھین ریاست میں تشدد کا حوالہ دیا گیا ۔ ہندوستان نے ادعا کیا کہ ایک مخصوص ملک کی نشاندہی کرنا غیر منصفانہ ہے کیوں کہ یہ فورم متواتر ترقی کے اہداف اور تمام ممالک کی جامع ترقی پر مبنی ہے جس کا تعلق دنیا کے لئے2030ء کے ایجنڈہ کی تکمیل کے لئے تعاون و اشتراک کا رویہ ہے ۔ ہندوستان نے کہا کہ اس اعلامیہ میں کبھی بھی کسی مخصوص ملک کے مسائل کو شامل نہیں کیا گیا کیونکہ اس سے ایسے فورمس کے مقاصد متاثر ہوتے ہیں جن کے لئے اتحاد اور تمام ممالک کی کوششوں کی ضرورت ہے اس طرح ہندوستان نے میانمار سے یکجہتی کا اظہار کیا جس پر دنیا بھر میں مختلف گوشوں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد روکنے کے لئے کافی دباؤ ہے ۔

India refuses to join declaration of international meet against Myanmar

0 comments:

Post a Comment