Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-06-23 - بوقت: 21:41

صدارتی انتخاب - میرا کمار حزب مخالف کی متفقہ امیدوار

Comments : 0
22/جون
آئی اے این ایس
سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار صدارتی انتخاب میں بی جے پی کے رام ناتھ کوند کے خلاف اپوزیشن کی امید وار ہوں گی ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے دیگر اپوزیشن قائدین بشمول این سی پی صدر شرد پوار ، سی پی آئی ایم قائد سیتا رام یچوری اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ساتھ یہ اعلان کیا۔ سی پی آئی ایم قائد سیتا رام یچوری نے کہا کہ یہ متفقہ فیصلہ ہے ۔ قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ بائیں بازو جماعتیں پرکاش امبیڈکر گوپال کرشنا گاندھی کو امید وار بنانے کی حامی ہیں۔ پی ٹی آئی کے بموجب اپوزیشن نے آج ایک دلت و سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار کو این ڈی اے کے رام ناتھ کووند کے خلاف اپنا امید وار منتخب کیا ہے۔ میرا کمار سابق سفارت کار اور عظیم آنجہانی دلت قائد جگجیون رام کی دختر ہیں۔ وہ17اپوزیشن جماعتوں کی متفقہ پسند ہیں جنہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی ۔ چونکہ کووند بھی دلت ہیں اسی لئے صدارتی انتخاب اب دلت بمقابلہ دلت بن گیا ہے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے کہا کہ ہم نے صدارتی انتخاب کے لئے میرا کمار کا نام پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کے پارٹی رفیق و سینئر کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دیگر جماعتیں بھی اس کی حمایت کریں گی اور میرا کمار کا انتخاب متفقہ فیصلہ ہے ۔ این سی پی قائد شرد پوار نے تین نام تجویز کئے تھے جن میں میرا کمار، سابق مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور رکن راجیہ سبھا بال چندر منگیکر شامل ہیں جو دونوں مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے دلت ہیں۔ سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے مہاتما گاندھی کے پوتے گوپال کرشنا گاندھی اور بی آر امبیڈ کر کے پوتے پرکاش امبیڈ کا نام تجویز کیا تھا ۔ آئی اے این ایس کے بموجب آج کے اس اجلاس میں سترہ سیاسی جماعتوں بشمول بایاں بازو، ترنمول کانگریس ، سماج وادی پارٹی ، بی ایس پی ڈی ایم کے اورنیشنل کانفرنس کے قائدین نے شرکت کی ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ صدر کے عہدہ کے لئے میرا کمار سے بہتر امید وار نہیں ہوسکتا ۔ واضح رہے کہ میرا کمار بہار سے تعلق رکھنے والی دلت خاتون اور سابق نائب وزیر اعظم جگجیون رام کی دختر ہیں۔ پیشہ سے وکیل و سابق سفارت کار رہ چکی میرا کمار، لوک سبھا کی پہلی خاتون سپیکر بھی رہی ہیں۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے جو خود دلت سیاست داں ہیں میر کمار کی امید واری کی حمایت کی ہے۔ جنہوں نے2009ء اور2014ء کے دوران ہندوستان کی پہلی خاتون اسپیکر لوک سبھا کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ جیسا کے توقع تھی صدارتی انتخاب دلت بمقابلہ دلت بن گیا ہے اور این ڈی اے اور اپوزیشن دونوں کے امید وار دلت ہیں۔ لالو پرساد نے اپنے پارٹنر اور چیف منسٹر بہار نتیش کمار سے اپیل کی ہے کہ وہ بی جے پی امید وار کی تائید سے متعلق اپنا ذہن بدل دیں اور اپوزیشن امید وار میرا کمار کا ساتھ دینے کا فیصلہ کریں۔ تاہم نتیش کمار کے جنتادل یونائیٹیڈ کے قائد پون ورما نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے اس کا ذہن بدلنے کا کوئیس وال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ہم نے ہمارا ذہن بنالیا ہے اور ہم کووند کا ساتھ دیں گے ۔ اپوزیشن اب محض علامتی لڑائی لڑ رہی ہے ۔ یو این آئی کے بموجب سابق اسپیکر لوک سبھا میرا کمار نے آج سترہ اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کو صدارتی انتخاب کے لئے اپنے امید وار کے طور پر منتخب کیا۔ انہوں نے دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی ان کا ساتھ دیں اور ان کی حمایت کریں ۔ میرا کمار نے ملک کے جلیل القدر عہدہ کے لئے اپوزیشن کی جانب سے ان کی نامزدگی کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اپوزیشن اتحاد اس بات کا مظہر ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مضبوط نظریاتی بنیاد کے ساتھ یکجا ہوگئی ہیں اور ان کو اپوزیشن جماعتوں کے نمائندہ کے طور پر انتخاب لڑنے کا موقع فراہم ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا آنے والے دنوں میں کالجیم سے اپیل کروں گی کہ وہ اب اعلی اقدار، اصلوں اور نظریات کی بنیاد پر ملک کے بہتر مفاد میں ان کے فیصلے کریں ۔ میرا کمار نے کہا کہ اپوزیشن نے جو اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اسے دیکھ کر انہیں بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی ساتھ ان کا نام پیش کرنے پر صدر کانگریس وسونیا گاندھی کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ میرا کمار صدارتی انتخاب میں جو17جولائی کو منعقد ہوگا بی جے پی کے امید وار رام ناتھ کووند کے خلاف ا پوزیشن کی امید وار ہوں گی ۔ میرا کمار پہلی مرتبہ1985ء کے دوران اتر پردیش میں بجنور سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئی تھیں اور انہوں نے دلت قائد ین مایاوتی اور رام ولاس پاسوان کو ہرادیا تھا۔ وہ دوسری مرتبہ1996ء کے دران رکن پارلیمنٹ بنی تھیں اور ایک بار پھر1998میں دہلی کے قرول باغ حلقہ سے انہیں ایم پی منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا ۔ لیکن وہ1999ء کے دوران اپنی نشست سے محروم ہوگئی تھیں، جب کہ این ڈی اے اقتدار پر واپس ہوگیا تھا۔ میرا کمار کو2004ء کے دوران بہار کے سسرام سے بھاری اکثریت سے دوبارہ منتخب کیا گیا تھا ۔ سسرام ان کے والد بابو جگجیون رام کا حلقہ تھا۔ وہ2009میں پانچویں مرتبہ رکن پارلیمنٹ بنی تھیں۔ میر اکمار بہار کے ضلع اراہ میں سابق نائب وزیر اعظم بابو جگجیون رام اور مجاہد آزادی اندرانی دیوی کے گھر پیدا ہوئی تھیں اور ان کی بیٹی ہونے کا اعزاز پایا تھا ۔ میرا کمار نے ویلہام گرلز اسکول دہرا دون اور مہارانی گائیتری دیوی گرلز پبلک اسکول جئے پو سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے کچھ عرصہ کے لئے بناستھالی ویدیا پیٹھ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے ایم اے اور ایل ایل بی کی تکمیل اندراپرستھا کالج اور میرا نڈا ہاؤز دہلی یونیورسٹی سے کی تھی۔ ان کو2010ء مین بانستھالی ویدیا پیٹھ سے اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی گئی تھی ۔1970ء کے دوران انہوں نے انڈیا فارن سرویس سے وابستگی کی اختیارکی تھی اور کئی ممالک میں اپنی زندگی گزاری تھی۔ میرا کمار نے1985ء میں انتخابی سیاست میں قدم رکھا تھا اور اتر پردیش کے حلقہ بجنور سے پہلی مرتبہ ایم پی منتخب ہوئی تھیں۔
Presidential election 2017: Meira Kumar is Opposition candidate

جنوبی کشمیر میں 3 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد کشیدگی
سری نگر
یو این آئی
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک مسلح تصادم کے دوران تین دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد پر تشدد احتجاج مظاہروں میں آج ایک عام شہری ہلاک جب کہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے۔ جنوبی کشمیر میں تازہ کشیدگی پیدا ہونے کے بعد وادی میں ریل خدمات کو معطل کردیا گیا ہے ۔ ضلع پلوامہ میں مقامی انتظامیہ کے احکامات پر آج جہاں تمام تعلیمی ادارے بند رہے ، وہیں انٹر نیٹ خدمات کل شب کو ہی معطل کردی گئی تھی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع پلوامہ کے کاکہہ پورہ میں رات بھر جاری رہنے والے مسلح تصادم میں لشکر طیبہ کے تین عسکیریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جب کہ تصادم میں ایک فوجی عہدیدار زخمی ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مہلوک عسکریت پسندوں کی شناخت شارق و ماجد ساکن کاکہ پور اور فیاض احمد ساکن پدگام پورہ اونتی پورہ کے طور پر کی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کاکہ پورہ میں گزشتہ رات عسکریت پسندوں اور سیکوریٹی فورسس کے مابین انکاؤنٹر شروع ہونے کے ساتھ ہی مقامی افراد نے عسکریت پسند مخالف مہم مین خلل ڈالنے کے لئے سیکوریٹی فورسس پر سنگباری شروع کی ۔ انہوں نے بتایاکہ انکاؤنٹر کے مقام سے آج صبح تین لوگوں کی لاشوں کو برآمدگی کے ساتھ ہی علاقہ میں پر تشدد احٹجاجی مظاہرہ میں شدت آئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کاکہ پورہ مین جھڑپوں کے دوران ایک نوجوان اس وقت ہلاک ہوگیا جب کہ سیکوریٹی فورسس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے شدید آنسو گیس کی شیلگ اور پلیٹ فائرنگ کی ۔ جھڑپوں میں درجنوں افراد بشمول سیکوریٹی جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ مقامی میڈیا کے ایک رپورٹ کے مطابق جھڑپوں کے دوران 65عام شہری زخمی ہوئے ہیں جن میں سے16زخمیوں کو سری نگر کے اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے ۔ کم از کم دو درجن افراد پلیٹ لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ مہلوک نوجوان کی شناخٹ توصیف احمد وانی ساکن ٹینگ پونہ پلوامہ کے بطور کی گئی ہے۔ پچیس سالہ توصیف بدن کے مختلف اعضاء پر پیلٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کاکا پورہ میں تین عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے ساتھ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے دفعہ144کے تحت عائد پابندیاں توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے بتیا کہ مظاہرین جو آزادی حامی نعرے لگارہے تھے ، علاقہ میں تعینات سیکوریٹی فورسس کے ساتھ متصادم ہوگئے ۔ دفعہ144کے تحت پابندیوں کے باوجود کاکہ پورہ اور پدگام پورہ اور اونتی پورہ میں مہلوک عسکریت پسندوں کے جنازوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ اطلاعات کے مطابق عوام کی بھاری تعداد کی وجہ سے مہلوک عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ متعدد مرتبہ پڑھائی گئی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایاکہ سیکوریٹی فورسس کو بعد ازاں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے چھرے والی بندوقوں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ توصیف احمد وانی جوان استپال میں پہنچائے جانے سے قبل ہی دم توڑ گیا ۔ دریں اثناء ضلع پلوامہ میں تین عسکریت پسندوں اور ایک شہری کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں ریل خدمات کو ایک بار پھر معطل کردیا گیا ۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سری نگر اور بانہال کے درمیان براہ پلوامہ ، اننت ناگ اور قاضی چلنے والی تمام ٹرینوں کو آج معطل کردیا گیا ہے ، اس دوران علیحدگی پسند قیادت نے سیکوریٹی فورسس کی پیلٹ گن فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک کے بعد وادی میں عام ہڑتال کی اپیل کی ہے ۔

0 comments:

Post a Comment