Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-12 - بوقت: 23:05

سپریم کورٹ میں تین طلاق پر تاریخی سماعت کا آغاز

Comments : 0
11/مئی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا تین طلاق کا طریقہ اسلام کی ایک بنیاد ہے جب کہ حکومت نے واضح کیا کہ ایسی طلاق جنسی امتیاز کے خلاف ہے ۔ نیز طلاق ثلاثہ کو چیالنج کرنے والوں نے اصرار کیا کہ یہ بنیادی مذہبی اصولوں میں شامل نہیں ہے۔ مسلمانوں میں تین طلاق اور نکاح حلالہ کے طریقوں کی دستوری حیثیت کو چیالنج کرنے والی درخواستوں پر تاریخی سماعت کا آغاز کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پہلے اس بات کا تعین کرے گی کہ کیا یہ طریقہ کار اسلام کی ایک بنیاد ہے ۔ چیف جسٹس کی قیادت میں پانچ رکنی دستوری بنچ میں کیس کی سماعت کا آغاز ہوچکا ہے ۔ دستوری بنچ کے چار دیگر ججس میں جسٹس کورین جوزف، جسٹس روہگٹن ایف نریمن، جسٹس ادے امیش للت اور جسٹس عبدالنذیر ، بالترتیب سکھ، عیسائی ، پارسی، ہندو اور مسلم برادریوں کے ایک ایک جج کو دستوری بنچ میں شامل کرکے عدالت نے اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ اس معاملہ میں کسی بھی آخری فیصلہ پر مذہب کی بنیاد پر سوال نہ کھڑے کئے جائیں ۔ سائرہ بانو، آٖفرین رحمن، گلشن پروین، عشرت جہاں اور عطیہ صابری نے تین طلاق ، حلالہ اور تعدد ازدواج کی دستوری و قانونی حیثٰت کو چیلنج کیا ہے ۔ سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس معاملہ پر سماعت کرے گا کہ طلاق ثلاثہ اسلام کا اصل حصہ ہے یا نہیں؟ سماعت کے دوران سائرہ کے وکیل نے کہا کہ تین طلاق مذہب کا لازمی حصہ نہیں ہے ۔ انہوں نے دلیل دی کہ کسی مذہب کا لازمی حصہ وہ ہوتا ہے جس کے حذف ہ ونے سے اس مذہب کی شکل ہی تبدیل ہوجائے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پنکی آنند نے دلیل دی کہ حکومت درخواست گزار کی اس دلیل کی حمایت کرتی ہے کہ تین طلاق غیر دستوری ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اسے ختم کرچکے ہیں اور اسے ہندوستان میں بھی ختم کیاجانا چاہئے ۔ جسٹس نریمن نے کہا کہ تین طلاق کے معاملہ کی دستوری و قانونی حیثیت کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا ایک ہی وقت میں تین طلاق کے معاملہ کی سماعت ہوگی لیکن تین ماہ کے وقفہ پر دی گئی طلاق پر غور نہیں کیاجائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے درخواست گزاروں اور مدعا علیہان کے وکلا کو آگاہ کردیا کہ وہ کسی ایک ہی نکتہ کا بار بار اعادہ نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں روک دیاجائے گا۔ عدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی جاننا چاہا کہ مسلم پرسنل لا کیا ہے ؟ یہ شریعت ہے یا کچھ اور؟ قابل ذکر ہے کہ مارچ2016میں اترا کھنڈ کی سائرہ بانو نامی خاتون نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر کے تین طلاق، نکاح حلالہ اور متعدد شادیوں کی شرعی حیثیت کو غیردستوری قرار دئیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سائرہ بانو نے مسلم پرسنل لا اپلی کیشنز قانون1973ء کی دفعہ 2کی دستوری حیثیت کو چیلنج کیاہے۔ اپنی درخواست میں سائرہ بانو نے کہا کہ مسلم خواتین کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان پر طلاق کی تلوار لٹکتی رہتی ہے ۔ وہیں شوہر کے پاس ناقابل تردید طور پر لا محدود اختیارات ہوتے ہیں۔ یہ امتیاز اور عدم مساوات یکطرفہ طور پر تین طلاق کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ جئے پور کی آفرین رحمن نے بھی درخواست دال کی ہے ۔ رشتوں کی ویب سائٹ کے ذریعہ شادی کرنے والی آفرین کو اس کے شوہر نے اسپیڈ پوسٹ سے طلاق کا مکتوب بھیجا تھا۔ انہوں نے بھی تین طلاق کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مغربی بنگال کے ہوڑا کی عشرت جہاں نے بھی تین طلاق کو غیر دستوری اور مسلم خواتین کے باوقار زندگی گزارنے کے حق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عشرت نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس کے شوہر نے دبئی سے ہی فون پر اسے طلاق دے دی اور اس کے چاروں بچوں کو زبردستی چھین لیا۔ اتنا ہی نہیں اس کے شوہر نے دوسری شادی بھی کرلی ہے ۔ دستوری بنچ از خود اپنے طور پر وضع مسلم خواتین کا مساوات کے لئے مطالبہ کے عنوان سکے تحت معاملہ کی سماعت کررہی ہے ۔ عدالت سماعت کے دوران اس سوا ل پر غور کرے گی کہ کیا مسلم خواتین کو طلاق کے معاملہ میں جنسی امتیاز کا سامنا ہے ۔ سابق وزیرقانون اور کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید نے شخصی طور پر طلاق ثلاثہ کے معاملہ پر عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثۃ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اسے اس وقت تک مکمل تصویر نہیں کیاجاسکتا جب کہ کہ میاں بیوی کے درمیان مصالحت کی کوشش نہ ہو اور وہ عدالت بالا کے رو برو اس معاملہ میں شخصی طور پر پیش ہورہے تھے ، نہ کہ عدالت کے معاون کے طور پر سپریم کورٹ نے سلمان خورشید سے یہ جاننا چاہا کہ مسلم پرسنل لا کیا ہے ؟ سلمان خورشید نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک طلاق دیتا ہے اور تین مہینہ میں واپس نہیں لیتا ہے تو اسے مکمل طلاق ہی تصور کیاجائے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر ہم اس نتیجہ پر پہنچیں کہ طلاق ثلاثہ مذہب کا بنیادی حق کا حصہ ہے تو ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے ۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے چھ دن مقرر کئے ہیں۔
Triple talaq: Supreme Court historic hearing

مسلم پرسنل لاء ہندو طریقوں سے بہتر ۔ کم از کم شادی کے وقت لڑکی سے مرضی پوچھی جاتی ہے : اندرا جئے سنگھ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ میں تین طلاق کے طریقہ کار کی مخالفت کرنے والی ایڈوکیٹ اندراجئے سنگھ نے مسلم پرسنل لا کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ہندو طریقوں سے بہتر ہے کیوں کہ اس میں کم از کم شادی سے قبل دلہن کی مرضی پوچھی جاتی ہے ۔ جئے سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کے تمام پرسن لازن بنیادی حقوق سے متصادم ہیں جن کی ضمانت دستور میں دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو شادیوں میں دلہن کی رضا مندی حاصل نہیں کی جاتی۔ اس لحاظ سے مسلم پرسنل لاء کچھ بہتر ہے ۔ انہوں نے اپنی دلائل کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو، مسلم ، پارسی، سکھ تمام پرسنل لاز کو دستور میں دئیے گئے بنیادی حقوق کی بنیادپر رکھنا چاہئے ۔کئی سینئر ایڈوکیٹس نے سپریم کورٹ میں اپنے دلائل دئیے ۔ ان وکلاء نے ادعا کیا کہ تین طلاق کا طریقہ کار اسلام میں بنیادی ستون نہیں ہے اور موجوہ سماجی حالات کے مطابق اسے ترک کیاجاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ دستور کے آرٹیکل14اور15کے تحت مسلم خواتین کو دئیے گئے برابری کے حق کے خلاف بھی ہے ۔ کل ہند مسلم پرسنل لاپرسنل لا بورڈ اور دوسری مسلم تنظیموں کو سماعت کے دوران اپنی دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا ۔ سینئر ایڈوکیٹ یوسف مچالا بعض مسلم تنظیموں کی جانب سے پیش ہوں گے ۔

طلاق کے مسئلہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجارہا ہے
گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ: امیر جماعت اسلامی
نئی دہلی
یو این آئی
جماعت اسلامی ہند کے امیر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا سید جلال الدین عمری نے کہا کہ تین طلاق پر پابندی سے مسلم خواتین پر مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق پر پابندی سے مسلم خواتین کو کوئی فائدہ پہنچے گا ۔ جماعت اسلامی ہند کے ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ تین طلاق کو کالعدم قرار دیاجاتا ہے تو بھی اگر کوئی اپنی بیوی کو پریشان کرنا چاہے تو ان پابندیوں کے باوجود وہ ایسا کرسکتا ہے اور انہیں ازدواجی حقوق سے محروم کرسکتا ہے ۔ ان پابندیوں سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور خواتین کا وقار زد میں آئے گا۔ مولانا عمری نے واضح طور پر اپنے الفاظ دہرائے کہ مسلم معاشرہ میں طلاق کا مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہے جتنا کہ بتایاجارہا ہے ۔ اعداد و شمار سے ثابت ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کا تناسب بہت کم ہے اور شور ایسا کیاجارہا ہے جیسا کہ ہر گھر سے طلاق طلاق طلاق کی آوازیں آرہی ہوں ۔ مولانا نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ پورے ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے گائے کو قومی جانور تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندی ملک گیر ہونی چاہئے اور گائے جس حالت میں بھی ہو اس کے ساتھ بہتر سلوک کیاجائے ۔ انہوں نے جمعیت اعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے اس سلسلہ میں کئے گئے مطالبہ کی پرزور حمایت کی ۔

0 comments:

Post a Comment