Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-08 - بوقت: 14:05

اروند کجریوال نے جین سے 2 کروڑ کی رشوت لی - کپل مشرا

Comments : 0
7/مئی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
Kapil-Mishra-Arvind-Kejriwal-2-crore-from-Satyendra-Jain
وزارت سے ہٹائے جانے کے ایک دن بعد عام آدمی پارٹی رکن کپل مشرا نے آج چیف منسٹر اروند کجریوال اور وزیر صحت ستیندر جین کے خلاف کرپشن کا چونکا دینے والا الزام عائد کیا ۔ مشرا نے راج گھاٹ پر اخباری نمائندوں سے کہا کہ انہوںنے جین کو دو کروڑ روپے سے زائد کی رقم کجریوال کو ان کی سرکاری قیام گاہ پر سونپتے دیکھا۔ انہوں نے جب کجریوال سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو کجریوال نے جواب دیا کہ سیاست میں چند چیزوں کی وضاحت نہیں کی جاسکتی ۔ آئی اے این ایس کے بموجب دہلی کے برطرف وزیر آب کپل مشرا نے اتوار کے دن دعویٰ کیا کہ انہوں نے چیف منسٹر اروند کجریوال کو وزیر صھت ستیندر جین سے دو کروڑ روپے نقد لیتے دیکھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سسودیا نے بے بنیاد کہہ کر الزام کو مسترد کردیا ۔ مشرا کے الزام پر بی جے پی اور کانگریس نے کجریوال سے استعفیٰ کی مانگ کی۔ مشرا نے ہفتہ کو بر طرفی کے ایک دن بعد میڈیا سے کہا کہ میں نے پرسوں(جمعہ) جین کو دو کروڑ سے زائد روپے کجریوال کو ان کی قیامگاہ پر حوالے کرتے دیکھا ۔ جب میں رقم کے بارے میں پوچھا تو کجریوال نے جواب نہیں دیا۔ مشرا نے کہا کہ وہ لیفٹننٹ گورنر دہلی انیل بائجل کو اس کی جانکاری دے چکے ہیں اور وہ تحقیقاتی ایجنسیوں کو تفصیلات فراہم کریں گے۔ سسودیہ نے الزام کو مسترد کردیا اور کہا کہ کوئی بھی اس پر یقین نہیں کرے گا ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ الزام مشرا کو وزارت سے ہٹانے کے بعد ہوا ہے۔ مشرا نے جین پر کجریوال کے ایک رشتہ دار کے لئے پچاس کروڑ کی اراضی معاملت کرانے کا بھی الزام عائد کیا۔ مشراکیالزام کے بعد عام آدمی پارٹی مزیدبحران میں گھر گئی ہے ۔ اس نے حال ہی میں بلدیاتی انتخابات میں شکست کا سامنا کیا ہے ۔ مشرا عام آدمی پارٹی قائد کمار وشواس کے قریبی ہیں جن کے ساتھ کجریوال نے بمشکل صلح صفائی کی ہے ۔ مشرا نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے خلاف سابق مین کئی مسائل بشمول پنجاب الیکشن فنڈنگ میں بے قاعدگیاں، اٹھائے گئے تاہم ہم نے ہمیشہ یہ ہی سوچا کہ کجریوال جی کو اس کا پتہ نہیں ہوگا۔ ہمیں ان پر بھروسہ تھا اور ہم نے ہمیشہ خیال کیا کہ وہ سب کچھ ٹھیک کردیں گے تاہم وج میں نے دیکھا اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ مشرا نے کجریوال سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کریں کہ رقم کہاں سے آئی اور اگر ان سے غلطی ہوئی ہے تو وہ عوام سے معافی مانگیں ۔ عام آدمی پارٹی قائدنے زور دے کر کہا کہ وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ مشرا نے کہا کہ نہ تو میں پارٹی چھوڑوں گا اور نہ کوئی مجھ سے پارٹی چھوڑنے کو کہہ سکتا ہے ۔ دہلی اسمبلی میں اپوزیشن جماعت بی جے پی اور کانگریس نے کجریوال کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ دہلی میں بی جے پی کے صدرمنوج تیواری نے کہا کہ کجریوال کو چیف منسٹر کے عہدہ پربرقرار رہنے کا کوئیا خلاقی حق نہیں۔ انہیں فوری مستعفیٰ ہوجانا چاہئے ۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ کجریوال، کرپشن میں راست ملوثہیں ۔ مشرا کے الزام سے یہ ثابتہوچکا ہے ۔ صدر دہلی کانگریس اجئے ماکن نے کہا کہ مشرا کا دعویٰ الزام نہیں ہے بلکہ ایک چشم دید گواہی ہے۔ کج ریوال کے خلاف فوجداری کا رروائی شروع ہونی چاہئے ۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ مرکز اینٹی کرپشن بیورو اور سی بی آئی کو فوری کارروائی کرنی چاہئے اور ایف آئی آر درج کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس منگل سے دہلی میں دستخطی مہمش روع کرے گی اور دس لاکھ دستخط عام آدمی پارٹی کے خلاف ریفرنڈم کے طور پر کجریوال کو پیش کرے گی۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سینئر عام آدمی پارٹی قائد کمار وشواس نے آج یہ کہتے ہوئے اروند کجریوال کی تائید کی کہ وہ انہیں بارہ سال سے جانتے ہیں اور ان کے دشمن تک بھی کجریوال کے رشوت لینے کا تصور نہیں کرسکتے ۔ کمار وشواس نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ہمارا ایک دوسرے سے عدم اتفاق ہوسکتا ہے، ہم آپس میں لڑ سکتے ہیں یاناراض ہوسکتے ہیں تاہم میں اروند کو بارہ سال سے جانتا ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اروند کے رشوت لینے کا کرپٹ ہونے کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ اروند کے دشمن تک یہ تصور نہیں کرسکتے ۔ کمار وشواس نے کہا کہ اروند سو بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اگر کرپٹ ہیں تو انہیں ہٹا دیاجائے ۔ میں نے ستیندر جین سے بات کی ہے اور ان سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپنا موقف واضح کرنے کو کہا ہے ۔ ہم تحقیقات کے لئے تیار ہیں چاہے وہ ای ڈی کی ہوں یا سی بی آئی کی۔ واضح رہے کہ قبل ازیں کمار وشواس اروند کجریوال سے ناراض ہوگئے تھے اور کجریوال نے ان کے گھر جاکر انہیں منالیا تھا۔

Kapil Mishra alleges Arvind Kejriwal took Rs 2 crore from Satyendra Jain

0 comments:

Post a Comment