Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-12-23 - بوقت: 12:59

سہارا کی جانب سے دئیے گئے 10 پیکٹس میں کیا تھا - راہول کا استفسار

Comments : 0
22/دسمبر
سہارا کی جانب سے دئیے گئے10پیکٹس میں کیا تھا؟
شخصی کرپشن کے الزام پر مودی کا مضحکہ اڑانے سے غیر متاثر راہول کا استفسار
نئی دہلی
پی ٹی آئی
راہول گاندھی جنہوں نے وزیر اعظم مودی پر شخصی کرپشن کا الزام عائد کیا تھا اور اس الزام کا مودی کی جانب سے مضحکہ اڑائے جانے سے متاثر نہ ہوتے ہوئے راہول آج اپنے موقف پر ڈٹے رہے ۔ انہوں نے مودی پر بدستور بندوق تاکتے ہوئے ان سے استفسار کیا کہ جب وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے اس وقت سہارا گروپ نے جو دس پیکٹس دئیے تھے آخر اس میں کیا تھا اس کے بارے میں مودی کہیں۔ کانگریس کے نائب صدر نے ہندی میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی پہلے آپ ہمیں بتائیے کہ سہارا کے دئیے گئے دس پیکٹس میں کیا تھا؟ انہوں نے ٹوئٹ کے ساتھ ایک دستاویز بھی پوسٹ کیا جو اکتوبر2013تا فروری2014ء انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی9انٹریز سے متعلق ہیں جس میں مودی کو کی گئی نقد ادائیگی کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ ان کا تبصرہ وارانسی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے رد عمل کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ اس جلسہ میں مودی نے راہول گاندھی کے ان ریمارکس کا مذاق اڑایاکہ ان کے خلا ف کرپشن کے الزامات کے ساتھ زلزلہ تخلیق کیاجارہا ہے ۔ مودی نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ کانگریس قائد نے بولنا سیکھ لیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی پارٹی کے دور حکومت کی ناکامی کا دانستہ طور پر اعتراف کرلیا ہے ۔ مودی نے راہول کا نام ل ئے بغیر کہا تھا کہ وہ ایک نوجوان قائد ہیں اور ابھی تقریر کرنا سیکھ رہے ہیں۔ جب سے کہ انہوں نے بولنا سیکھا ہے میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔2009ء میں تو آپ نہیں کہہ سکتے تھے کہ اس پیکٹ کے اندر کیا ہے اور کیا نہیں۔ اب ہم کو پتہ چلا ہے ۔ مودی کے آبائی علاقائی مہسانہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے راہول نے مودی پر الزام عائد کیا کہ جب وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے اس وقت انہوں نے سہارا اور برلا گروپس سے رقم لی تھی ۔ بی جے پی نے کانگریس قائد کے الزامات کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ بے بنیاد، شرمناک اور بد نیتی پر مبنی ہیں۔ یو این آئی کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف اپنے الزامات کو دہراتے ہوئے گجرات میں چیف منسٹر عہدہ پر فائز رہنے کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر رقم وصول کی تھی، کانگریس کے نائب صد راہول گاندھی نے آج وزیر اعظم سے اس بات کی تشریح چاہی کہ 2012-13ء میں حاصل کردہ ان پیکٹس میں کیا تھا۔ گاندھی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر انکم ٹیکس حکام کی جانب سے سہارا گروپ سے ضبط کردہ دستاویز کی ایک نقل بھی پوسٹ کی جس میں مبینہ طور پر مودی کا نام شامل تھا۔ گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مودی جی ہمیں بتائیے کہ2012-13میں حاصل کردہ ان پیکٹس میں کیا تھا؟ گاندھی نے کہا کہ اس کا جواب آنا چاہئے ۔ گاندھی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جو دستاویزات پوسٹ کئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ مودی کی نو رقمی ادائیگیاں کی گئیں۔30اکتوبر2013ء کو2.5کروڑ روپے،12نومبر2013ء کو5.1کروڑ روپے ،27نومبر کو پانچ کروڑ روپے،6نومبر کو5روڑ روپے،13جنوری کو2014ء کو پانچ کروڑ روپے،28جنوری2014ء کو پانچ کروڑ روپے اور 22فروری2014کو پانچ کروڑ روپے ادا کئے گئے۔ کانگریس نے ان الزامات پر مودی کو جواب دینے اور اس معاملہ میں ایک غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطابہ کیا۔
نوٹ بندی پر ہونے والی مخالفت کے خلاف نریند رمودی کے ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے سی پی آئی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نے آج کہا کہ اس قسم کے بیانات سے امیج متاثر ہوتی ہے ۔ جب کوئی وزیر اعظم بن جائے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ مودی کے خلاف راہول گاندھی کے عائد کردہ الزامات کا براہ راست تذکرہ کئے بغیر جس میں کہا گیا کہ انہوں نے سہارا اور برلا گروپس سے رقم اس وقت حاصل کی تھی جب وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے ۔ یچوری نے کہا کہ الزامات مناسب جواب دیاجانا چاہئے ۔ وزیر اعظم بننے کے بعد یہ لب و لہجہ یکا و تنہا کرنے کی بہترین مثال ہے ۔ یچوری نے یہ بات ٹوئٹ کی۔ آج بنارس ہند و یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے مبینہ طور پر نوٹ بندی مسئلہ پر پارلیمنٹ کی کارروائی کو معطل کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بد عنوانوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں جیسا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے ۔ وزیر اعظم کی آبائی ریاست گجرات میں کل ایک ریالی سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی نے کہا تھا کہ یہ الزام عائد کیا تھا کہ انکم ٹیکس کے ریکارڈس سے یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ سہارا کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اکتوبر2013اور فروری2014کے درمیان مودی کو نو مرتبہ ادائیگیاں کی تھیں۔ اسی طرح دستاویزات کے مطابق جو محکمہ انکم ٹیکس کے پاس ہیں برلا گروپ نے بھی بارہ کروڑ روپے مودی کو اس وقت دئیے تھے جب وہ چیف منسٹر تھے۔ گاندھی نے یہ الزام عائد کیا ۔ بی جے پی نے تمام الزامات کو بے بنیاد اور شرمناک اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا۔
What was there in 10 packets given by Sahara, Rahul asks PM Modi

زلزلہ کہاں ہے؟ راہول گاندھی پر مودی کا طنز
سیاسی جماعتوں کا پاکستان سے تقابل۔ بد عنوان افرادکو بچانے کا الزام۔ وارانسی میں خطاب
وارانسی
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ان کے خلاف کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے زلزلہ لانے راہول گاندھی کے بیانات کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ جب سے کانگریس قائد نے بولنا سیکھا ہے تب سے انہیں بے حد خوشی ہورہی ہے کیونکہ انہوں نے انجانے میں اپنی پارٹی کے دورِ حکومت کی ناکامیوں کا اعتراف کرلیا ہے ۔ مودی نے راہول گاندھی کا نام لئے بغیر کہا کہ ان کے پاس ایک نوجوان قائد ہے جو تقریر کرنا سیکھ رہاہے۔ جب سے انہوں نے تقریر کرنا سیکھا ہے میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں۔2009میں یہ بتانا مشکل تھا کہ اس پیاکٹ میں کیا ہے اور کیا نہیں۔ اب ہمیں پتہ چل چکا ہے ۔ وہ دھمکیاں دیتے رہے ہیں کہ جب وہ بولیں گے تو زلزلہ آجائے گا۔ اگر وہ نہیں بولتے تو زلزلہ آسکتا تھا ۔ ایسا زلزلہ آتا کہ لوگوں کو سنبھلنے میں دس سال لگ جاتے لیکن اب زلزلہ آنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ وہ بول چکے ہیں۔ اب ہم مطمئن رہ سکتے ہیں کہ زلزلہ آنے کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔ واضح رہے کہ راہول گاندھی نے کل مودی پر الزام عائد کیا تھاکہ انہوں نے بحیثیت چیف منستر گجرات سہارااور برلا گروپ سے کروڑہا روپے حاصل کئے تھے۔ بی جے پی نے کانگریس قائد کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، شرمناک اور بد نیتی کے ساتھ عائد کئے گئے الزامات قرار دیا تھا۔ راہول گاندھی نے قبل ازیں حکومت پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ انہیں پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے، کہا تھا کہ اگر وہ بولیں گے تو زلزلہ آجائے گا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں مودی کے شخصی کرپشن کی معلومات حاصل ہیں۔ وزیر اعظم نے جو8نومبر کو پانچ سو اور ہزار روپے کے اعلٰی قدر کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے بعدپہلی مرتبہ اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کے دورہ پر آئے ہوئے تھے، یہاں بنارس ہندو یونیورسٹی کیمپس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے راہول گاندھی کے اس بیان پر بھی طنز کیا کہ ملک میں خواندگی کی کم شرح کے سبب بذریعہ کارڈ یا آن لائن منتقلی کے ذریعہ کی جانے والی ادائیگیوں میں دشواری ہوگی۔ مودی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ وہ یہ نہیں کہیں گے کہ میں نے کالا جادو کرتے ہوئے پڑھے لکھوں کو ان پڑھ اور جاہل بنادیا ہے۔ مودی نے کہا کہ وہ بولنے سے پہلے کبھی نہیں سوچے اور نہ انہیں یہ بات سمجھ میں آئی کہ انہوں نے خود اپنی پارٹی کے طویل دورِ حکومت کی ناکامیوں کا اعتراف کرلیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے ناقدین انجانے میں ہی اپنی غلطیوں کو قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوچھ بھارت مہم شروع کردی گئی ہے اور ہر طرف پھیلے ہوئے کچرے سے صفائی کے دوران اٹھنے والی بدبو اب عوام محسوس کرنے لگے ہیں۔ مودی نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کسی کا کالا دھن سامنے آیا ہے تو کئی لوگوں کا کالا من بھی سامنے آگیا ہے ۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غربت تو ان ہی کی وراثت ہے۔ منموہن سنگھ صاف ستھری شبیہ رکھتے ہیں لیکن ان کے دور حکومت میں کئی اسکامس رونما ہوئے ہیں۔ اپ نے پیشروکے پارلیمنٹ میں دئیے گئے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہ کیش لیس معیشت ملک کے لئے موزوں نہیں ہے کیونکہ ملک کے تقریبا پچاس فیصد عوام غریب ہیں، انہوں نے کہا کہ کیا منموہن سنگھ اس مایوس کن صورتحال کااعتراف کرتے ہوئے خود اپنی حکومت کارپوریٹ کارڈ ن ہیں دے رہے تھے؟ وہ نہ صرف دو میعادوں کے لئے وزیر اعظم رہے ہیں بلکہ وزیر فینانس بھی رہ چکے ہیں۔ وہ1970کے دہے سے ہی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ علیحدہ اطلاع کے مطابق وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے مسئلہ پرپارلیمنٹ کی کارروائی روک دینے پر اپوزیشن جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بد عنوانوں کو بچانے کی ویسی ہی کوشش کررہے ہیں جیسے پاکستان دہشت گردوں کو سرحد پار کرانے کے لئے فائرنگ کو ر دیتے ہوئے کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ میں اس بڑے اقدام(نوٹ بندی) کے نتائج کا اندازہ نہیں کرپایا تھا ۔ در حقیقت میں صرف اس بات کا اندازی نہیں کرسکا تھا کہ کئی سیاسی جماعتیں اور قائدین بے ایمانوں کو بچانے کے لئے اتنے شرمناک انداز میں سامنے آجائیں گے لیکن مجھے خوشی ہے کہ کالے دھن کو ختم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی اس مہم نے کئی افراد کے کالے من کو بھی بے نقاب کردیا ہے ۔

لیفٹننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ مستعفی
اچانک استعفیٰ کی وجوہات نامعلوم ۔ مودی، کجریوا ل اور عوام سے اظہار تشکر
نئی دہلی
آئی اے این ایس
دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے آج اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ وہ اپنے پہلے پیار تعلیمی میدان کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ نجیب جنگ نے ایک مختصر بیان میں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال دونوں کا شکریہ ادا کیا جن کے ساتھ ان کی گزشتہ کئی ماہ سے جنگ چل رہی تھی۔ بیان میں کہا گیاکہ وہ بحیثیت لیفٹننٹ گورنر ان کی میعاد کے دوران تمام تر مدد اور تعاون کے لئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ نجیب جنگ9جولائی2013ء کو لیفٹننٹ گورنر بنے تھے جب کانگریس زیر قیادت مخلوط حکومت بر سر اقتدار تھی ۔ مودی حکوم تنے کئی ریاستوں کے گورنرس کی تبدیلی کے باوجود انہیں اس عہدہ پر برقرار رکھاتھا۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ گزشتہ دو سال کی رفاقت کے لئے چیف منسٹر دہلی کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جنگ نے بالخصوص ایک سالہ صدر راج کے دور میں دہلی کے عوام کی مدد اور محبت کے لئے بھی ان سے اظہار تشکر کیا ۔ واضح رہے کہ صدر راج کے اختتام پر اسمبلی انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا تھا جس کے نتیجہ میں فروری2015میں عام آدمی پارٹی کو کامیابی ملی تھی ۔ نجیب جنگ نے جو مدھیہ پردیش کیڈر سے تعلق رکھنے والے سابق آئی اے ایس عہدیدار اور نئی دہلی میں واقع جامع ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر ہیں، مستعفی ہونے کے اچانک فیصلہ کی کوئی وجوہات نہیں بتائیں ان کے دور میں لیفٹننٹ گورنر اور کجریوا کی عام آدمی پارٹی حکومت کے درمیان زبردست جنگ چلتی رہی تھی۔

0 comments:

Post a Comment