Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-12-12 - بوقت: 14:35

معرکہ مکہ مکرمہ - سلطان ابنِ سعود اور علامہ شبیر احمد عثمانی کا مکالمہ

Comments : 1
maerka-makkah
معرکہ مکہ مکرمہ
از : حضرت مولانا قاضی محمد شمس الدین نقشبندی صاحب

سن 1343 ہجری میں سلطان ابنِ سعود نے حجاز مقدس کی سرزمین پر قبضہ کر لیا اور حرمین شریفین کے جنت معلیٰ اور جنت بقیع کے مزاروں کے قبے گرا دیئے جس کی وجہ سے عام طور پر عالم اسلام کے مسلمانوں میں سخت ناراضگی پیدا ہو گئی تو سلطان نے سن 1343ہجری کے موقع حج پر ایک مؤتمر منعقد کی، جس میں ہندوستان کے علماء ہند دہلی، حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علی ؒ اور دیگر علماء بھی شامل ہوئے۔

سلطان ابنِ سعود کی تقریر:
اس موقعہ پر سلطان ابنِ سعود نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
(الف)
"چار اماموں کے فروعی اختلافات میں ہم تشدد نہیں کرتے لیکن اصل توحید اور قرآن و حدیث کی اتّباع سے کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کر سکتی خواہ دنیا راضی ہو یا ناراض ۔"
(ب)
"یہود و نصاریٰ کو ہم کیوں کافر کہتے ہیں؟ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں، لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ مَا نَعْبُدُھُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفیٰ (یعنی ہم ان کی پوجا و عبادت اللہ تعالیٰ کے تقرب و رضا حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں) تو جو لوگ بزرگان دین کی قبروں کی پرستش اور ان کے سامنے سجدے کرتے ہیں، وہ بت پرستی ہی کی طرح کافر و مشرک ہیں۔"
(ج)
"جب حضرت عمرؓ کو پتہ چلا کہ کچھ لوگ وادیٔ حدیبیہ میں شجرۃ الرضوان کے پاس جا کر نمازیں پڑھتے ہیں تو حضرت عمرؓ نے اس درخت کو ہی کٹوا دیا کہ آئندہ خدا نخواستہ لوگ اس درخت کی پوجا نہ شروع کر دیں۔"

سلطان کا مطلب یہ تھا کہ قبے گرانا بھی درختِ رضوان کو کٹوانے کی طرح ہی ہے۔ ہندوستان کے تمام علماء نے یہ طے کیا کہ ہماری طرف سے شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی دیوبندیؒ سلطان ابنِ مسعود کی تقریر کا جواب دیں گے۔

مولانا عثمانیؒ کی ایمان افروز تقریر:
مولانا عثمانیؒ نے پہلے تو اپنی شاندار پذیرائی اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد فرمایا:
(الف)
"ہندوستان کے تمام اہل سنت علماء پوری بصیرت کے ساتھ تصریح کر کے کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے اتباع پر پورا زور صرف کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مکمل اتباع میں ہی ہر کامیابی ہے لیکن کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مواقع استعمال کو سمجھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لئے صائب رائے اور صحیح اجتہاد کی اشد ضرورت ہے۔
1۔ حضورﷺ نے حضرت زینبؓ سے نکاح فرمایا اور اس بات کا بالکل خیال نہ رکھا کہ دنیا کیا کہے گی۔ دوسری طرف خانہ کعبہ کو گرا کر بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرنے سے نئے نئے مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے آپﷺ رُگ گئے تا کہ دنیا والے یہ نہ کہیں کہ محمدﷺ نے خانہ کعبہ ڈھا دیا۔ دونوں موقعوں کا فرق حضورﷺ کے اجتہاد مبارک پر موقوف ہے۔
2۔ اللہ تعالی نے حکم دیا: جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافْقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ (یعنی کفار و منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو) ایک طرف تو اس حکمِ خداوندی کا تقاضا ہے کہ کفار و منافقین کے ساتھ سختی کی جائے اور دوسری طرف آپ نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی نمازِ جنازہ پڑھا دی۔ پھر صحابہؓ نے عرض کیا کہ منافقین کو قتل کر دیا جائے مگر آپﷺ نے بات منظور نہ فرمائی۔ خَشْیَۃً اَنْ یَّقُوْلَ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّداً یَّقْتُلْ اَصْحَابَہٗ (یعنی اس اندیشہ کے پیش نظر کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں باتیں وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ سے بظاہر مطابقت نہیں رکھتیں۔ تو اس فرق کو سمجھنے کے لئے بھی مجتہدانہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے جو ہما و شما کے بس کی بات نہیں اور ایسے مواقع پر فیصلہ کرنے کے بڑے تفقّہ اور مجتہدانہ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے کہ نَص کے تقاضے پر کہاں عمل کیا جائے گا اور کس طرح عمل کیا جائے گا۔ یہ تفقّہ اور اجتہاد کی بات ہے۔

(ب)
سجدۂ عبادت اور سجدۂ تعظیم کا فرق بیان کرتے ہوئے مولانا عثمانیؒ نے فرمایا:
"اگر کوئی شخص کسی قبر کو یا غیر اللہ کو سجدۂ عبادت کرے تو وہ قطعی طور پر کافر ہو جاتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر سجدہ سجدۂ عبادت ہی ہو جو شرکِ حقیقی اور شرکِ جلی ہے، بلکہ وہ سجدہ تحیت بھی ہو سکتا ہے جس کا مقصد دوسرے کی تعظیم کرنا ہوتا ہے اور یہ سجدۂ تعظیمی شرکِ جلی کے حکم میں نہیں ہے۔ ہاں ہماری شریعت میں قطعاً ناجائز ہے اور اس کے مرتکب کو سزا دی جا سکتی ہے، لیکن اس شخص کو مشرک قطعی کہنا اور اس کے قتل اور مال ضبط کرنے کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ خود قرآن پاک میں حضرت آدمؑ کو فرشتوں نے سجدہ کرنے اور حضرت یوسفؑ کو ان کے بھائیوں اور والدین کے سجدہ کرنے کا ذکر موجود ہے اور مفسّرین کی عظیم اکثریت نے اس سجدہ سے معروف سجدہ (زمین پر ماتھا رکھنا) ہی مراد لیا ہے اور پھر اس کو سجدۂ تعظیمی ہی قرار دیا ہے۔ بہرحال اگر کوئی شخص کسی غیر اللہ کو سجدۂ تعظیمی کرے تو وہ ہماری شریعت کے مطابق گناہ گار ہو گا، لیکن اسے مشرک ، کافر اور مباح الدم والمال قرار نہیں دیا جا سکتا اور اس بیان سے میرا مقصد سجدۂ تعظیمی کو جائز سمجھنے والوں کی وکالت کرنا نہیں بلکہ سجدۂ عبادت اور سجدۂ تعظیمی کے فرق کو بیان کرنا ہے۔ رہا مسئلہ قبّوں کے گرانے کا، اگر ان کا بنانا صحیح نہ بھی ہو تو ہم قبّوں کو گرا دینا بھی صحیح نہیں سمجھتے۔ امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک عبشمی (اموی) نے حاکمِ مدینہ حضرت عُمر بن عبد العزیز عبشمیؒ کو حکم بھیجا کہ امہات المؤمنین کے حجراتِ مبارکہ کو گرا کر مسجد نبوی کی توسیع کی جائے، اور حضرت عمر بن عبد العزیز عبشمیؒ نے دوسرے حجرات کو گراتے ہوئے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا حجرہ بھی گرا دیا جس سے حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت فاروق اعظم ؓ کی قبریں ظاہر ہو گئیں تو اس وقت حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ اتنے روئے کہ ایسے روتے کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔ حالانکہ حجرات کو گرانے کا حکم بھی خود ہی دیا تھا ۔ پھر سیدہ عائشہؓ کے حجرے کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور وہ حجرۂ مبارکہ دوبارہ تعمیر ہوا۔
اس بیان سے میرا مقصد قبروں پر گنبد بنانے کی ترغیب دینا نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ قبوراعاظم کے معاملے کو قلوب الناس میں تاثیر اور دخل ہے جو اس وقت حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے بے تحاشا رونے اور اس وقت کے عالمِ اسلام کی آپ سے ناراضگی سے ظاہر ہے۔

(ج)
حضرت عمرؓ نےدرخت کو اس خطرہ سے کٹوا دیا تھا کہ جاہل لوگ آئندہ چل کر اس درخت کی پوجا نہ شروع کر دیں۔ بیعت رضوان 6 ہجری میں ہوئی تھی اور حضور ﷺ کا وصالِ پُر ملال 11 ہجری میں ہوا۔ آپﷺ کے بعد خلیفہ اول کے عہد خلافت کے اڑھائی سال بھی گزر ے لیکن اس درخت کو کٹوانے کا نہ حضور ﷺ کو خیال آیا اور اور نہ صدیق اکبرؓ کو۔ ان کے بعد حضرت عمرؓ کی خلافتِ راشدہ قائم ہوئی۔ لیکن یہ بھی متعین نہیں ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی دس سالہ خلافت کے کون سے سال میں اس درخت کو کٹوانے کا ارادہ کیا۔ گو حضرت عمرؓ کی صوابدید بالکل صحیح تھی لیکن یہ گنبد تو صدیوں سے بنے چلے آ رہے تھے اور اس چودھویں صدی میں بھی کوئی آدمی ان کی پرستش کرتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔

(د)
رہا وہاں نماز پڑھنا، تو حدیث ِ معراج میں آتا ہے کہ جبرائیل ؑ نے حضورﷺ کو چار جگہ بُراق سے اُتر کر نماز پڑھوائی۔ پہلے مدینہ میں اور بتایا گیا کہ یہ جگہ آپﷺ کی ہجرت کی ہے، دوسرے جبلِ طور پر کہ یہاں اللہ تعالی نے حضرت موسیٰؑ سے کلام فرمایا۔ پھر مسکن حضرت شعیب پر اور چوتھے بیت اللحم پر جہاں حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی۔
(نسائی شریف، کتاب الصلوٰۃ، ص80، مطبع نظامی کانپور سن 1296ھ)
1۔ پس اگر جبلِ طور پر حضورﷺ سے نماز پڑھوائی گئی کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کے ساتھ کلام کیا تھا تو جبل نُور پر ہم کو نماز سے کیوں روکا جائے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی پہلی وحی حضورﷺ پر آئی تھی۔
2۔ مسکنِ شعیبؑ پر حضورﷺ سے نماز پڑھوائی گئی تو کیا غضب ہو جائے گا جو ہم مسکنِ خدیجہ الکبریٰؓ پر دو نفل ادا کر لیں جہاں حضورﷺ نے اپنی مبارک زندگی کے اٹھائیس نورانی سال گزارے تھے۔
3۔ جب بیت اللحم (مولد حضرت عیسیٰؑ) پر حضور ﷺ سے دو رکعت پڑھوائی جائیں تو امت محمدیہ کیوں مولدِ نبی کریم ﷺ پر دو رکعت پڑھنے سے روکی جائے جبکہ طبرانی نے مقام مولد النبی ﷺ کو اَنْفَسُ الْبَقَاعِ بَعْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامَ فِیْ مَکَّۃِ مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے بعد مقام مولد نبی کریم ﷺ کو کائناتِ ارضی کا نفیس ترین ٹکڑا قرار دیا ہے۔
4۔ مسکنِ شعیبؑ پر حضرت موسیٰؑ نے پناہ لی تھی، تو اس جگہ آپ سے دو نفل پڑھوائے گئے تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی جو ہم لوگ غارِ ثور جہاں حضورﷺ نے تین دن پناہ لی تھی، دو نفل پڑھ لیں۔

سلطان ابنِ سعود کا جواب:
مولانا عثمانیؒ کے اس مفصّل جواب سے شاہی دربار پر سناٹا چھا گیا۔ آخر سلطان ابنِ سعود نے یہ کہہ کر بات ختم کی کہ:
"میں آپ کا بہت ممنون ہوں اور آپ کے بیان اور خیالات میں بہت رفعت اور علمی بلندی ہے، لہٰذا میں ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتا۔ ان تفاصیل کا بہتر جواب ہمارے علماء ہی دے سکیں گے۔ ان سے ہی یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔"

***
(کمپوزنگ: محمد عبداللہ)

A dialogue between Sultan Ibn Saud and Allama Shabbir Ahmed Usmani

1 comments:

  1. ھل من مزید؟
    بہت علمی مضمون ہے لیکن اس کے مطالعے کے بعد تشنگی کا شدید احساس ہوتا ہے
    یقین ہے کہ تعمیر نیوز پر اس سلسلے میں مزید شائع کیا جائے گا
    وصی بختیاری

    ReplyDelete