Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-12-01 - بوقت: 14:10

تنخواہ کے دن بینکوں میں نقد رقم کی قلت سے افراتفری کا اندیشہ

Comments : 0
30/نومبر
تنخواہ کے دن بینکوں میں نقد رقم کی قلت سے افراتفری کا اندیشہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
جمعہ کو تنخواہوں کا دن ہے ایسے میں بینکس زبردست ہجوم سے نمٹنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ ایسا امکان ہے کہ عوام پورے ملک میں اپنی تنخواہیں نکالنے کے لئے بینکوں کی شاخوں پر امڈ پڑیں گے۔نوٹ بندی کے بعد سے ملک میں نقدی کا بحران پایاجاتا ہے۔ صورتحال اس وجہ سے اور نازک ہے کیوں کہ پانچ سو روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں پر پابندی کے اعلان کے23دن بعد بھی اے ٹی ایمس کی بڑی تعداد کام نہیں کررہی ہے ۔ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے کہا کہ تنخواہوں کے دن کے پیش نظر کرنسی کی زبردست طلب سے نمٹنے کے لئے بینکوں میں اضافی نقدی مہا کی جارہی ہے۔ ریزروبینک سے کہا گیا ہے کہ وہ بینکوں میں پانچ سو روپے کے نئے نوٹو کی مناسب سپلائی کو یقینی بنائے اور کہا گیا کہ نوٹ چھاپنے والے پریس دن رات کام کررہے ہیں۔ بینکوں کر رقم نکالنے کی حد کم بھی کرنی پڑ سکتی ہے کیوں کہ آر بی آئی سے محدود نقدی آرہی ہے ۔ یوکو بینک کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اپنے لاکھوں ملازمین اور وظیفہ یابوں کی تنخواہیں منتقل کریں گے۔ صرف مرکزی سطح پر تقریبا پچاس لاکھ ملازمین اور58لاکھ وظیفہ یاب ہیں۔ بینکرس نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتہ نان گزیٹیڈ اسٹاف کو پیشگی دس ہزار روپے فراہم کرنے کے حکومت کے اقدام سے صرف معمولی راحت ملی ہے۔ کئی بینکوں نے عوام کے ہجوم سے نمٹنے کے لئے دسمبر کے پہلے کچھ دنوں میں اضافی کیش کے لئے ریزروبینک سے ہنگامی درخواستیں کی ہیں۔ بینکوں کو سیکوریٹی کی تعیناتی کے بشمول کئی اضافی اقدامات کررہے ہیں۔ کینا را بینک کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ کئی بنکس ہجوم سے نمٹنے کے لئے رقم نکالنے کے اضافی کاؤنٹرس قائم کرنے پر غور کررہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ڈپٹی مینجنگ ڈائرکٹر منجو اگر وال نے کہا کہ ایس بی آئی میں کرنسی کی سپلائی کافی ہے ۔ بعض جگہوں پر ہی قلت ہے لیکن وہاں بھی فنڈس دستیاب کرائے جارہے ہیں۔70فیصد اے ٹی ایمس کو نئے نوٹون سے ہم آہنگ کئے جانے کے باوجود عوام کو جدوجہد کرنا پڑ رہا ہے ۔ کیوں کہ کئی اے ٹی ایمس سے صرف دو ہزار روپے کے نوٹ نکل رہے ہیں جس سے لوگوں کو چلر کا مسئلہ پیش آرہا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق کرنسی بحران جلد ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں اور پچاس دن میں حالات ٹھیک کرنے کا وزیر اعظم نریندر مودی کا دعویٰ محض ایک فریب نظر آرہا ہے۔ کئی بینکرس، ماہرین معاشیات اور مالیاتی شعبہ کے اکسپرٹس نے کہا ہے کہ نقدی کا بحران کم از کم مارچ تک برقرار رہ سکتا ہے ۔ ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ناسک اور دیواس کے چھاپہ خانوں میں پانچ سو روپے کے نوٹ چھاپنے کا کام تقریباََ رک گیا ہے۔ اس رپورٹ میں آر بی آئی ذرائع کے حوالے سے کہا گیاکہ پانچ سو روپے کے نئے نوٹ میں کئی غلطیاں ہیں اس کے علاوہ ناسک اور دیواس کے چھاپہ خانوں کی کم گنجائش بھی ایک وجہ ہے جس کے سبب آر بی آئی اور حکومت نے پانچ سو روپے کی طباعت روک دی ہے ۔ آر بی آئی کے سابق ڈپٹی گورنر کے سی چکرورتی کے حوالہ سے رپورٹر میں کہا گیا کہ صورتحا ل بہت خراب ہے ۔ حالات معمول پر آنے کے لئے پانچ سے چھ مہینے لگ سکتے ہیں۔ اب تک پانچ سو روپے کے دو علیحدہ نوٹ منظر عام پر آئے ہیں جنہیں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ پ رٹنگ کی بھی صحیح تیاری نہیں کی گئی اور کافی عجلت میں نوٹ چھاپے گئے ۔ نوٹوں پر بعض غلطیاں ہیں جن میں مہاتما گاندھی کی تصویر کا عکس ، قومی علامت کی جگہ، رنگ اور سائز سے متعلق غلطیاں شامل ہیں۔
Demonetisation- Payday woes: Banks fear shortage of cash

حکومت 50 فیصد کالا دھن واپس کر رہی ہے - راہول گاندھی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کے ذریعہ کالا دھن رکھنے والوں کی مدد کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب اس غیر محسوب نقد رقم کا نصف حصہ انہیں واپس کردیاجائے گا ۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر کہا کہ حکومت نے کالے دھن کو پچاس فیصد حصہ دوبارہ کالا دھن رکھنے والوں کو لوٹا دیا ہے۔ لوک سبھا نے کل ٹیکس قوانین بل کو منظوری دی تھی تاکہ نوٹ بندی کے بعد غیر محسوب رقم پر ٹیکس ادا کرتے ہوئے اسے قانونی بنانے کے لیے ایک موقع فراہم کیاجائے ۔ اس بل کے مطابق جو افراد بینکوں پر کالے دھن کا انکشاف کرتے ہیں، انہیں پچاس فیصد ٹیکس بشمول سرچارج و جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ لوک سبھا سے ارکان پارلیمنٹ کے واک آوٹ سے متعلق سوال پر راہول نے کہا کہ یہ روایت ہے کہ جب کوئی فوت ہوجاتا ہے تو ہم انہیں خرا ج پیش کرتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ (نگروٹا حملہ میں) مہلوک فوجیوں کو خراج پیش نہیں کیا گیا ، لہذا اپوزیشن نے واک آوٹ کردیا۔ راہول کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات وینکیا نائیڈو نے کہا یہ امر انتہائی بد بختانہ ہے کہ کانگریس، ملک کے دفاع سے متعلق مسائل پر سیاست کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے انہیں مطلع کیا کہ نگروٹا میں تلاشی مہم جاری ہے، جس کے اختتام پر ایوان میں فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیاجائے گا۔ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ ملک کے عوام ایسی حقیر سیاست سے نفرت کرتے ہیں۔ کانگریس نے وقفہ سوالات کے دوران واک آؤٹ کیا اور پھر واپس آئی۔ کانگریس نہ تو مباحث چاہتی ہے اور نہ ایوان کو کام کرنے دینا چاہتی ہے ، کیوکہ وہ بے نقاب ہونے سے ڈرتی ہے ۔
نئی دہلی
آئی اے این ایس
اپوزیشن جماعتوں نے نوٹ بندی پر لوک سبھا حکومت کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی ۔ احتجا ج اور نعرہ بازی نے اسپیکر سمترا مہاجن کو اجلاس دن بھر کے لئے ملتوی کرنے پر مجبور کردیا۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن نے قاعدہ56کے تحت بحث کا اپنا مطالبہ جاری رکھا۔ صبح اجلاس کی کارورائی جیسے ہی شروع ہوئی ، کانگریس اور ترنمول کانگریس نے مطالبہ کیا کہ نگروٹا فوجی اڈہ پر حملہ میں ہلاک فوجیوں کو ایوان خرا ج عقیدت پیش کرے ۔ اسپیکر نے کہا کہ تلاشی مہم ہنوز جاری ہے اور حکومت واقعہ کی تفصیلات اکٹھا کررہی ہے ۔ کانگریس، ٹی ایم سی، بایاں بازو اور آر جے ڈی نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔ چند منٹ بعد اپوزیشن ارکان کی واپسی ہوئی اور وہ نوٹ بندی مسئلہ پر بحث کے اپنے مطالبہ پر زور دینے اسپیکر کے پوڈیم کے قریب اکٹھا ہوگئے ۔ شوروغل کے درمیان ستمرا مہاجن نے وقفہ سوالات جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن انہیں بارہ بجے تک اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ کارروائی پھر شروع ہونے پر کانگریس کے قائد ملکار جن کھرگے نے کہا کہ ان کی پارٹی نوٹ بندی مسئلہ پر بحث چاہتی ہے کیونکہ لوگوں کو دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ انہوں نے اسیپکر سے کہا کہ کسی بھی ایسے قاعدے کے تحت بحث ہونی چاہئے جس کی روک سے ووٹنگ لازمی ہوتی ہو۔ ٹی ایم سی قائد سدیپ بندھو پادھیائے نے بھی یہی بات کہی۔ ناگروٹا میں دہشت گردانہ حملہ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراج پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کی ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔

کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے معاشی اعتماد پر ضرب: امرتیہ سین
نئی دہلی
پی ٹی آئی
معاشیات کا نوبل انعام حاصل کرنے والے ماہر معاشیات امرتیہ سین نے آج کہا کہ مودی حکومت کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی جابرانہ وغیرہ جمہوری کارروائی نے معیشت پر عوام کے اعتماد کی جڑوں پر ضرب لگائی ہے ۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے امرتیہ سین نے کہا کہ کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے کرنسی نوٹوں کی وقعت، بینک اکاؤنٹ کی اہمیت اور ساری معیشت پر اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ یہی منظر غیر جمہوری ہے ۔ امرتیہ سین نے مزید کہا کہ کرنسی نوٹوں کی منسوخی پر ان کا نقطہ نظر معاشی پہلو پر مبنی ہے ۔ بھارت رتن سے سرفراز ماہر معاشیات نے کہا کہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران ملک نے بہت تیز رفتار سے ترقی کی ہے لیکن یہ تمام ایک دوسرے کے قول کو قبول کرنے پر مبنی رہا۔ یہ غیر جمہوری اقدام کرتے ہوئے کہنا کہ ہم نے وعدہ کیا تھالیکن ہم نے اپنے وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس طرح آپ معیشت کی جڑوں پر ضرب پڑی ہے ۔ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ داری کی کئی طرح سے کامیابی ہوئی ہے جو تجارت پر بھروسہ سے حاصل ہوتی ہے ۔ اگر حکومت نے کرنسی نوٹوں پر اقرار کے ذریعہ وعدہ کرتی اور چند وعدوں کو توڑ ڈالے تب یہ ایک غیر جمہوری اقدام ہوگا۔ دوسری طرف سرمایہ داری کی کئی کامیابیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام غیر جمہوری اس انداز میں ہے کہ اگر حکومت نوٹ پر یہ اقرار کرتی ہے کہ جب اسے واپس کیاجائے تو ہم اس کی رقم کے مساوی معاوضہ دیں گے اور پھر اس اقرار کو توڑ دیتے ہیں۔ یہی بات غیر جمہوری ہے ۔ امرتیہ سین جو فی الحال ہارورڈ یونیورسٹی کے تھامس ڈبلیو لامونٹ میں پروفیسر ہیں، نے کہا کہ میں سرمایہ داری کا طرفدار نہیں رہا ہوں دوسری طرف سرمایہ داری کئی طرح سے کامیا ب ہے ۔

سنیما گھروں میں قومی ترانے کا لزوم
حب الوطنی اور قوم پرستی پیدا کرنے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے اب ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے ملک بھر کے سنیما گھروں میں فلم شروع ہونے سے قبل قومی ترانہ بجانا لازی قرار دے دیا جس کے دوران تمام ناظرین کو کھڑا رہنا ہوگا ۔ جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی ڈیویژن بنچ نے تمام سنیما ھروں کو اس بات کو بھی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے کہ قومی ترانہ بجاتے وقت پردے پر قومی پرچم دکھایاجائے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ قومی ترانہ ک دوران ایسے مناظر نہ دکھائے جائیں جس سے اس کا وقار مجروح ہو ۔ سنیما گھروں میں قومی گیت بجنے کے وقت اس کے احترام میں تمام ناظرین کو کھڑا ہونا ہوگا ۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کہ شہری یہ محسوس کریں کہ وہ ایک قوم کا حصہ ہیں اور قومی ترانہ کا احترام کرنے کے پابند ہیں جو دستوری حب الوطنی کی علامت ہے اور ورثہ میں ملا قومی معیار ہے ۔ بنچ نے جس میں جسٹس امیتو رائے بھی تھے، س سلسلہ میں کئی ہدایات جاری کئے اور کہا کہ دستور میں جو بنیادی فرائض کی نشاندہی کی گئی ہے، اس کے مطابق انفرادی خیالات کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ ہدایات مادر وطن سے محبت اور احترام کے اظہار کے لئے جاری کئے جارہے ہیں۔ قومی ترانہ اور ساتھ ہی ساتھ قومی پرچم کے احترام سے ایک شہری کے اندر حب الوطنی اور قوم پرستی کا جذبہ بیدار ہوگا ۔ بنچ نے قومی ترانہ بجانے کے لئے کئی ہدایات دیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ قومی ترانہ بجانے سے قبل سنیما گھروں کے داخلے اور اخراج کے دروازے بند کردئیے جانے چاہئیں۔ قومی ترانہ کے تجارتی استحصال کی اجازت نہیں ہوگی۔ کوئی بھی شخص راست یا بالواسطہ طور پر اس سے تجارتی یا کوئی اور فائدہ نہیں اٹھائے گا۔

ہندوستانی معیشت میں 7.3 فیصد ترقی 79.3 فیصد خسارہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی، یو این آئی
جاریہ مال سال کے ماہ ستمبر کے دوران دوسرے ربع میں ہندوستانی معیشت7.3فیصد تر قی کی ہے جب کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران7.1فیصد تھی۔ مرکزی محکمہ شماریات( سی ایس او) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ ترقی پیداواری ، شعبہ خدمات کا شعبہ اور تجارتی شعبہ کی کارکردگی میں بہتری سے ظاہر ہوئی ہے ۔ گزشتہ مالی سال کے دوسرے ربع میں مجموعی گھریلو پیداوار( جی ڈی پی) یا قومی آمدنی7.6فیصد تھی۔ سی ایس او کے مطابق مجموعی اضافی قدر( جی وی اے ) جس کی بنیادی قیمت پر تخمینہ کیا گیاہے ظاہر ہوتاہے کہ مالی سال2016-17کے دوسرے ربع میں شرح نمو7.1فیصد رہی جب کہ ایک سال قبل اسی مدت میں7.3فیصد رہی تھی۔ جی ڈی پی کا تخمینہ منڈیوں کی قیمتوں پر مبنی نئے طریقہ کار کے تحت کیا گیا ہے ۔ جب کہ جی وی اے کو ابتدائی قیمت کے عنصر پر کیا گیا ہے۔ اعد اد و شمار کے مطابق ماہ جولائی تا ستمبر جن شعبوں نے ترقی کی ہے ان میں پبلک اڈمنسٹریشن، دفاع و دیگر خدمات فینانشیل ، بیمہ، رئیل اسٹیٹ، تجارت، ہوٹل، حمل و نقل اور مواصلات و خدمات سے متعلق نشریات شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق زرعی، شعبہ، جنگلات اور سمکیات، کانکنی اور تعمیرات میں1.8فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ یو این آئی کے مطابق مرکزی وزارت کامرس اینڈ انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی صنعتی دھڑکن سمجھنے جانے والی 8صنعتوں کی شرح نمو موجودہ سال کے اکتوبر میں6.6فیصد رہی ہے جب کہ اس سے پہلے یہ پانچ فیص ریکارڈ کی گئی تھی۔ اعداد و شمار میں بتایا کہ کور صنعتوں کی پیداوار میں یہ اضافہ ریفائنری ، اسٹیل اور سیمنٹ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ کور صنعتوں میں کوئلہ ، خام تیل، قدرتی گیس، ریفائنری ، کھاد ،اسٹیل، سیمنٹ اور بجلی کے شعبے شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے اپریل سے اکتوبر تک کی مدت میں بنیادی پیداوار کی شرح نمو4.9فیصد رہی ہے ۔ اس سے قبل گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ب نیادی پیداوار شرح نمو2.8فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اکتوبر2015میں بنیادی پیداوار کی شرح نمو3.8فیصد رہی تھی ۔ پی ٹی آئی کے بموجب سال2016-17ء کے پہلے سات ماہ کے دوران مالی خسارہ 4.3لاکھ کروڑ ہوگیا جو سال بھر کے بجٹ تخمینہ( بی ای) کا تقریباََ79.3فیصد ہوتا ہے ۔ ماہ اپریل تا اکتوبر کے مالی صورتحال گزشتہ سال سے بھی زیادہ خراب ہوگئی ہے، گزشتہ سال بی ای کا خسارہ74فیصد تھا ۔ کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ مالی خسارہ اخراجات اور آمدنی کے درمیان مجموعی مالی فرق کے باعث پیداہوا ہے جو سال2015-16کے درمیان5.53لاکھ کروڑ روپے روہے گا یا مجموعی گھریلو پیداوار کا3.5فیصد رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق جو اس مدت میں5.30لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی ہوئے جو مکمل سال کی آمدنی کا بی جی10,54,101کا50.3فیصد قرار پاتا ہے ۔ حکومت کو گزشتہ سات ماہ کے دوران مالیہ اور بغیر قرض کے سرمایہ کا حصول 7.27لاکھ کروڑ روپے حاصل ہوا ۔ اسی مدت میں حکومت کے منصوبہ جاتی اخراجات3.41لاکھ کروڑ روپے رہے جو مکمل سال کے بی ای کا62فیصد بنتا ہے ۔ گزشتہ سال سات ماہ کی اسی مدت کے دوران حکومت نے58.2فیصد منصوبہ جاتی اخراجات کا تخمینہ حاصل کیا تھا۔ سال2016-17کے ماہ اپریل تا اکتوبر کے دوران حکومت کو8.08لاکھ کروڑ روپے یا 56.7فیصد غیر منصوبہ جاتی اخراجات آئے۔

0 comments:

Post a Comment