Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-11-02 - بوقت: 12:18

قوم کی ترقی حکومت کا بنیادی مقصد - وزیر اعظم مودی

Comments : 0
1/نومبر
رائے پور
یو این آئی
اس دعویٰ کا اعادہ کرتے ہوئے کہ قوم کی ترقی ان کی حکومت کا بنیادی مقصد ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج مسابقتی باہمی تعاون کی وفاقیت پر زور دیا۔ انہوں نے ہمہ ہت ترقی کو یقینی بنانے کے لئے چھوٹی ریاستوں کی تخلیق کے تصور پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی بھرپور ستائش کی۔ مودی نے چھتیس گڑھ ، راج اتسو2016کا یہاں نیا رائے پور میں افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ واپائی نے ہم پر اس میکانز کا انکشاف کیا تھا جہاں تمام حصہ داروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ریاستیں تخلیق کی جانی چاہئے اور انہیں جمہوری سرحدوں میں رکھاجانا چاہئے۔ ہم یقینا خوش قسمت ہیں کہ واجپائی جیسی قد آور شخصیت نے چھتیس گڑھ جیسی ریاست کا تحفہ دیا ۔ اس کی تشکیل کے وقت کسی نے تصور بھی نہیں خیا تھا کہ نکسل متاثرہ ریاست دیگر ترقی یافتہ ریاستوں سے مسابقت کرے گی۔ یہ خیال ظاہر کرتے ہوئے کہ جب ریاستیں تشکیل پاتی ہیں تو عام طور پر تلخیاں اور تصادم کی نوبت آتی ہے۔ مودی نے کہا کہ واجپائی کی دانشمندی کے سبب چھتیس گڑھ، جھار کھنڈ اور اترا کھنڈ کی با آسانی تشکیل عمل میں آئی۔ چھتیس گڑھ میں سیاحت کی اہمیت پر زو ر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ریاست میں سیاحت کی ترق کے وافر وسائل موجود ہیں ۔ یہ ایساشعبہ ہے جس میں کم فنڈس کی سرمایہ کاری کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ روزگار تخلیق کئے جاسکتے ہیں اور اس کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ قیاس آرائی کرتے ہوئے کہ چھتیس گڑھ ترقی کے ایک مرکز کے طور پر ابھرے گا، وزیر اعظم نے کہا کہ نیا رائے پور، جنگل سفاری اور ایکتماپاتھ مستقبل کے سیاحتی مراز ہوں گے۔ نریندر مودی نے کہا کہ ملک سے غریبی ختم کرنا ایک چیلنج ہے جسے انہوں نے قبول کیا ہے اور ان کی حکومت اس سمت میں سنجیدگی سے کام کررہی ہے ۔ مودی نے کہا کہ غریبی مٹانا مشکل کام ہے اور اسے ترقیاتی کاموں کے ذریعے ہی ختم کیاجاسکتا ہے ۔ غربت سے نجات پانے کا واحد علا تمام محاذ پر ترقی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غریب کو با صلاحیت بناکر اور لوگوں کو روزگار فراہم کراکر غریبی ختم کی جاسکتی ہے ۔ وزیر اعظم نے یہاں چھتیس گڑھ کے قیام کی16ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پانچ روزہ ریاستی فیسٹول کی شروعات کرنے کے بعد ا پنے خطاب میں کہا کہ اگر کسی غریب کو تربیت دے کر روزگار کا موقع فراہم کیاجاتا ہے تو وہ پڑوس کے دو خاندانوں کو روزی روٹی دستیاب کرانے کا بھی کام کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں ہنر کی کمی نہیں ہے لیکن لوگوں کو تربیت دینا بہت ضروری ہے ۔ اس کے لئے ان کی حکومت نے الگ وزارت بنا کر بجٹ مختص کیا ہے ۔ مودی نے کسانوں کی ترقی کے لئے ان کی حکومت کی جانب سے کئے جارہے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فصل انشورنس یوجنا سے کسان با اختیار بنیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بہتری کے لئے شروع کی گئی اسکیموں سے زرعی پیداوار بڑھتے گی۔ وہ چاہتے ہیں کہ زراعتی مصنوعات کی اچھی قیمت ملے گی۔ وزیر اعظم نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کے کام کاج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے (مسٹر سنگھ) نے ریاست کی ترقی کے لئے جو خواب دیکھے ہیں وہ شرمندہ تعبیر ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ میں اگلی حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہی بنے گی اور مسٹر سنگھ پھر وزیر اعلیٰ بنیں گے۔

سیمی کارکنوں کے انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ مایاوتی
لکھنو
آئی اے این ایس
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آج بھوپال کے مضافاتی علاقہ میں8سیمی کارکنوں کے مبینہ پولیس انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کامطالبہ کیا۔ سابق چیف منسٹر اتر پردیش نے کہا کہ زیر دریافت قیدیوں کے بھوپال سنٹرل جیل سے فرار اور بعد ازاں پیر کے دن ان کے انکاؤنٹر نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ مدھیہ پردیش سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔ بہوجن سماج پارٹی قائد نے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ مبینہ دہشت گرد غیر مسلح تھے اور بظاہر بات چیت کرنے اور خود سپردگی اختیار کرنے کی کوشش کررہے تھے اس کے باوجود انہیں ہلا کردیا گیا۔ بادی النظر میں یہ معاملہ انتہائی مشتبہ معلوم ہوتا ہے اور عدالتی تحقیقات ہی ان شبہات کاازالہ کرسکتی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپنے سیاسی ایجنڈہ کو آگے بڑھانے پولیس فورس کا اتعما بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں نیا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں مزید ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، جو اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے پولیس کا استعمال کرنے بی جے پی کے نظریہ کی عکاسی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں بشمول عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے ا نام نہاد انکاؤنٹر پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ اسی دوران پٹنہ سے موصولہ اطلاع کے مطابق آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے آج بھوپال میں پولیس کے ساتھ سیمی کارکنوں کے مبینہ انکاؤنٹر کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطابہ کیا۔ لالو پرساد نے کہا کہ صرف اعلیٰ سطحی تحقیقات سے ہی اس تجسس کو دور کیاجاسکے گا۔ کہ یہ حقیقی انکاؤنٹر تھا یا فرضی ۔ کئی اطلاعات کے پیش نظر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں ان ہلاکتوں نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ لالو پرسد نے پاکستان سے متصل سرحد پر صورت حال پر قابو پانے میں ناکامی پر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز ایک فوجی یا عام شہری ہلا ک ہورہا ہے ، لیکن مودی حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ نئی دہلی سے یو این آئی کی اطلاع کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( مارکسسٹ) نے بھوپال انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس سخت سیکوریٹی کی حامل جیل سے ملزمین کے فرار کے بارے میں سنگین سوالات ابھرتے ہیں۔ انکاؤنٹر کے پیش آنے کے بارے میں حکومت مدھیہ پردیش سے مکمل وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی پولٹ بیورو نے یہاں اپنے ایک بیان میں ان ویڈیو کلپس کا حوالہ دیا جو اس واقعہ کے بعد سامنے آئی ہیں اور جن میں ایک پولیس ملاز م کو زمین پر گرے ہوئے ایک مفرور ملز کو گولی مارتے دیکھا جاسکتا ہے ، جب کہ ایک اور ویڈیو میں دیکھاگیا کہ پولیس نے ان ملزمین کو گولی مار دی جو پولیس کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلارہے تھے اور یہ اشارہ کررہے تھے کہ وہ خود سپردگی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ ان ویڈیوز سے پولیس کے دعوؤں کی صداقت اور سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ پولٹ نے برسر خدمت جج کے ذریعہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بائیں بازو کی جماعت نے چیف منسٹر کی جانب سے ا س معاملہ کی این آئی آر تحقیقات کے اعلان کو مسترد کردیا اور کہا کہ ایسی تحقیقات قابل اعتبار یا قابل قبول نہیں ہوں گی۔ سی پی آئی ایم نے مزید کہا کہ مدھیہ پردیش پولیس کا اس دعویٰ کی کہ ملزمین کی جانب سے اس پر حملہ کیے جانے کے بعد انہیں گولی ماری گئی ہے اور یہ کہ وہ مسلح تھے ، ریاستی وزیر داخلہ بھوپیندر سنگھ کے بیان سے تردید ہوتی ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ آٹھوں زیر دریافت قیدیوں نے ہتھیار تو حاصل کرلئے، لیکن فرار ہونے کے لئے گاڑی حاصل کرنے سے قاصر رہے۔بھوپال سے موصولہ پی ٹی آئی کی اطلاع کے مطابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے پولیس انکاؤنٹر میں8سیمی کارکنوں کی ہلاکت پر کی جانے والی گندی سیاست پر تنقید کی اور کہا کہ مہلوکین خطرناک دہشت گرد تھے ، جو زبردست تباہی مچاسکتے تھے ۔ ہیڈ کانسٹبل رام شنکر یادوکو خرا ج پیش کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر دکھ ہورہا ہے کہ بعض سیاسی قائدین دہشت گردوں کی اموات پر چیخ و پکار کررہے ہیں، لیکن شہید پولیس ملازمین کی تشفی کے لئے ایک لفظ نہیں کہہ رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ مبینہ دہشت گرد وں نے جیل سے فرار ہوتے وقت ہیڈ کانسٹبل رام شنکر یادو کو ہلاک کیا تھا۔

بھوپال انکاؤنٹر ۔ رپورٹ پیش کرنے حکومت مدھیہ پردیش کو قومی انسانی حقوق کمیشن کا حکم
نئی دہلی
یو این آئی
ممنوعہ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے8مشتبہ سرگرم کارکنوں کو مدھیہ پردیش میں انکاؤنٹر میں ہلاک کردئیے جانے کے ایک دن بعد قومی انسانی حقوق کمیشن نے آج متعلقہ حکام اور ریاستی حکومت کو نوٹسیں جاری کیں اور ان سے کہا کہ وہ اس معاملہ کے سلسلہ میں اپنی رپورٹس کی چھ ہفتوں کے اندر پیشکشی عمل میں لائیں۔ انکاؤنٹر کو از خود قابل سماعت متصور کرتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن نے چیف سکریٹری ڈائرکٹر جنرل پولیس ڈی جی و آئی جی پریزنس اور حکومت مدھیہ پردیش کو نوٹسیں جاری کیں اور انہیں اس واقعہ کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ کمیشن نے ایک بیان میں کہا، اسے ہمیشہ پولیس اور عدالت کی حراست میں، و نیز پولیس کارروائی میں اموات کے بارے میں تشویش رہی ہے ۔ اس کی جانب سے خصوصی رہنمایانہ خطوط کی اجرائی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ جس سے تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو واقف کرادیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ انکاؤنٹر کے امور میں ان رہنمایانہ اصولوں پر عمل کریں۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ اس نے پولیس کی یہ رپورٹس دیکھی ہیں کہ زیر دریافت قیدی ایک گارڈ کو ہلاک کرنے کے بعد بھوپال کی سنٹرل جیول سے فرارہوگئے تھے ۔ اس نے بتایا ان میں سے تین زیر دریافت قیدیوں نے تین سل قبل کھنڈوا جیل سے راہ فرار اختیار کی تھی اور ان کو جاریہ س اڈیشہ سے ایک بار پھر پکڑ لیا گیا تھا ۔ ان کے خلاف مختلف جرائم کے سلسلہ میں الزامات عائد کئے گئے تھے۔ جن میں قتل،غداری، جیل توڑ کر فرار اور بینک ڈکیتیوں کے الزامات بھی شامل تھے ۔ کمیشن نے کہا: نیوز رپورٹ کے مطابق تمام مفرور قیدیوں کو چند گھنٹوں کے اندر ایک الگ تھلگ جنگلاتی علاقہ میں انکاؤنٹر میں ہلا کردیا گیا ، جو جیل سے پندرہ کلو میٹر دور واقع ہے ۔ اعلیٰ عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے فائرنگ اس وقت شروع کی کیوں کہ ملزین کی جانب سے گولیاں چلائی جارہی تھیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس ٹیم نے پہلے مفرور قیدیوں سے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردینے کے لئے کہا تھا ۔ جیل کے پانچ عہدیداروں کو معطل کردیا گیا جن میں ڈی آئی جی جیل اور جیل سپرنٹنڈنٹ بھی شامل ہیں ۔ اڈیشنل ڈی جی جیل کا مبینہ طور پر تبادلہ کردیا گیا۔
بھوپال
پی ٹی آئی
مبینہ پولیس انکاؤنٹر میں8سیمی کارکنوں کے مارے جانے کے ایک دن بعد ان کے خاندانوں نے سی بی آئی تحقیقات کے لئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں ںے انکاؤنٹر کو سفاکانہ قتل قرار دیا۔ وکیل پرویز عالم نے پی ٹی آئی سے کہا کہ مہلوکین کے ارکان خاندان ان سے ملنے آئے۔ وہ انصاف کے لئے بے قرار ہیں ۔ ہم پورے واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کے لئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے رجوع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام کا یہ دعویٰ حیرت انگیز ہے کہ ملزمین، جیل کی32فیٹ اونچی باؤنڈری وال پھلانگ کر فرار ہوئے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا یہ ممکن ہے ؟ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ممنوعہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملزمین کڑے پہرہ والی جیل سے فرار ہونے کے چند گھنٹے بعد انکاؤنٹر میںمارے گئے ۔ پرویز عام نے مڈ بھیڑ کو فرضی قرار دیا اور کہاکہ ٹی وی فوٹیج میں پولیس اور اے ٹی ایس کو فائرنگ کردے دکھایا گیا ہے ۔ ملزین کے گولی چلانے کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ فرضی انکاؤنٹر اور سفاکانہ قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسپکٹر جنرل یوگیش چودھر ی نے کل رات میڈیا سے کہا تھا کہ ملزین نے لاک اپ کا قفل کھولنے کے لئے ٹوتھ برش کو کنجی بنایا تھا۔ پرویز عام نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی آئی ایس او سرٹیفکٹ والا بھوپال سنٹر جیل کی کنجیاں ٹوتھ برش سے بناسکتا ہے حکام کس قسم کی باتیں کررہے ہیں۔ انہوںنے مزید کہا کہ ملزین کی تدفین کے بعد ہمارا پہلا قدم انصاف کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع ہونا ہوگا۔ سات ملزین کے رشتہ دار نعشیں حاصل کرنے کے لئے بھوپا پہنچ چکے ہیں تاہم سولا پور (مہاراشٹرا) کے محمد خالد کی نعش لینے کوئی نہیں آیا۔ ملزم شیخ مجیب کے ارکان خاندان نعش احمد آباد لے جارہے ہیں جب کہ عبدالمجید کی نعش مدھیہ پردیش کے ضلع اجین کے معید پور لے جائی جائے گی۔ امجد خان، ذاکر حسین، محمد ساک، شیخ محبوب اور عقیل خلجی کی نعشیں جو مدھیہ پردیش کے ضلع کھنڈوہ سے تعلق رکھتے تھے، ان کے آبائی مقام لے جائی جارہی ہیں۔

پاکستانی فوج کی سرحدی مواضعات پر فائرنگ۔ 13افراد ہلاک25زخمی
جموں
یو این آئی
ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد کے پاس اضلاع سامبا، جموں، راجوری و پونچھ میں سرحد پار سے فائرنگ میں 8عام شہری ہلاک اور 25زخمی ہوگئے ۔ مہلوکین میں دو چھوٹے بچے بھی شامل ہیں اور ایک کمسن لڑکی بھی ہلاک ہوئی ہے ۔ ضلعی نظم و نسق نے سارے علاقہ میں سرحدی پٹیوں کے آگے کے علاقوں میں تمام اسکولوں کو بند کردیا ہے ۔ عہدیدار موصوف نے کہا پاکستانی رینجرس کی جانب سے آج صبح علاقہ جموں کے متذکرہ چار اضلاع میں بلا اشتعا ل فائرنگ شروع کی گئی جس میں8شہری ہلا کہوگئے اور پچیس زخمی ہوگئے ۔زخمیوں میں آرمی کے تین جوان بھی شامل ہیں۔ متذکرہ عہدیدار نے بتایا کہ ایک خاتون اور ان کی بہو کی بر سر موقع ہلاکت واقع ہوگئی جب سرحد پار سے فائر کیاجانے والا مارٹر شل ان کے قریب آگرا اور اس وقت یہ دونوں ضلع راجوری کے علاقہ تار کنڈی میں کام کررہے تھے ۔ مہلوکین کی موضوع پریال تارکنڈی راجوری کی رہنے والی خواتین سلطان بیگم اور مقبول بیگم کے طور پر شناخت ہوئی ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا آج سامبا کے رام گڑھ سیکٹر میں موضع چرڈا کی رہنے وایل18سالہ لڑکی راجندر کو راور دو لڑکوںکو پاکستانی رینجرس کی فائرنگ میں زخم آئے ۔ یہ تینوں بعد ازاں زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔ انہوںنے بتایا کہ پاکستانی فوج نے صبح کی اولین ساعتوںمیں بین الاقوامی سرحد کے نزدیک واقع مواضعات میں بلا اشتعال فائرنگ کی ۔ ان کی جانب سے80ایم ایم اور129ایم ایم کے مارٹر شلس بھی برسائے گئے ۔ پاکستانی رینجرس نے خود کار اسلحہ سے فائرنگ کی۔ مہلوک بچوں کی رام گڑھ سیکٹر کے موضع رنگور کے رہنے والے پانچ سالہ ریشپ اور پانچ سالہ ابھی کے طور پر شناخت ہوئی ہے ۔ اسی موضع میں پاکستانی رینجرس کی فائرنگ میں چار افراد زخمی ہوگئے ۔ ڈپٹی کمشنر سامبا شیتل نندہ نے یو این آئی کو بتایا کہ سرحد پار سے فائرنگ میں ایک لڑکی اور دو بچوں کی ہلاکت واقع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ شدید گولہ باری کے پیش نظر سرحد سے کچھ دور واقع مواضعات میں رہنے والے افراد کا تخلیہ کرادیا جارہا ہے جب کہ آگے کے مواضعات میں رہنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔ پاکستانی فوج نے جموں کے ارنیا سیکٹر کے آگے کے مواضعات پر بھی شدید فائرنگ کی جس میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔تاہم پولیس ذرائع کے بموجب سامبا کے رام گڑھ سیکٹر میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ۔ انہوںنے وضاحت کی ہماری افواج فائرنگ کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ اسی دوران پاکستانی فوج نے ساتھ ہی ساتھ راجوری کے نوشیرا سیکٹر میں خط قبضہ پرشدید فائرنگ کی۔ وزارت دفاع نے بتایا پاکستانی رینجرس نے صبح ساڑھے پانچ بجے سے بلااشتعال فائرنگ شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے تا حا ل ہندوستانی فوج کے جانی نقصانات کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ پونچھ کے بالکوٹ سیکٹر میں بھی فائرنگ شروع کی گئی اور پاکستان میں آگے کے مواضعات پر فائرنگ کی۔ انہوں نے کہاکہ اس سیکٹر میں 8 عام شہریوں کو زخم آئے ۔ پاکستانی فوج کی گولہ باری سے مختلف مواضعات میں گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔ رات دیر گئے موصولہ سی این این کی اطلاع کے بموجب پاکستانی فوج کی فائرنگ میں تیرہ عام شہری ہلا ک ہوگئے۔

علی گڑھ میں فرقہ وارانہ ہنگامے۔ دو افراد ہلا، صورتحا ل قابو میں
علی گڑھ
پی ٹی آئی
علی گڑھ میں گزشتہ دو دن کے دوران فرہ وارانہ تشدد کے دو واقعات میں دو افراد ہلاک اور کم از کم8زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد پولیس اور نیم فوجی فورسس کوقدیم شہراور جلع کے چند دیہی علاقوںمیں تعینات کردیا گیا ہے ۔ شہر کے بابری منڈی علاقہ میں کل رات اسوقت تشدد پھوٹ پڑا جب دو برادریوں کے ارکان سڑک کنارے معمولی بحث وتکرار کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ متصادم ہوگئے۔ دونوں گروپس کی ایک دوسرے پر فائرنگ اور خشت باری پر پولیس کو آنسو گیس شل برسانے پڑے اور ربر کی گولیوں سے فائرنگ کی گئی۔ خشت باری میں کم از کم چار افراد بشمول ایک خاتون ششی زخمی ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ کوئی بھی شدید زخمی نہیں ہوا ہے ۔ ضلع مجسٹریٹ راج منی یادو نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ تشدد اس وقت پھوٹ پڑا جب چند افرادسڑک کے کنارے آتشبازی کررہے تھے اور راہ گیروں نے اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے اسبات کی تردید کی کہ پولیس کو ہجوم کو منتشر کرنے فائرنگ کرنی پڑی۔ انہوں نے بتایاکہ متاثرہ علاقوںمیں صورتحال قابو میں ہے اور پولیس شدت کے ساتھ طلایہ گردی کررہی ہے۔ تا حال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ اتوار کے دن ایک اور واقعہ میں60سالہ شخص بندوخان اور ان کے18سالہ لڑکے محبت کو ہلاک کردیا گیا۔ خان اور انکا لڑکا خریداری کے بعد گھر واپس ہورہے تھے۔ ان کی موٹر سائیکل ایک ٹھیلے سے ٹکرا گئی ۔ بحث و تکرار کے بعد تشدد پھوٹ پڑا ۔ اس واقعہ کی اطلاع عام ہوتے ہی دونوں فرقوں کے برہم مظاہرین وہاں جمعہ وگئے، جن میں پڑوسی مواضعات کے لوگ بھی شامل تھے ۔ اتوار کی رات کو ہی صورتحا پر قابو پالیا گیا۔ پولیس اور نیم فوجی فورسس بشمول ریاپیڈ ایکشن فورس کی بھاری جمعیت کو جائے واقعہ پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس واقعہ میں کم از کم چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment