Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-11-27 - بوقت: 11:41

دہشت گردی - داخلی سلامتی - انسانی اسمگلنگ اور نوٹ بندی - وزیراعظم کا تبادلہ خیال

Comments : 0
26/نومبر
وزیر اعظم کا پولیس سربراہوں سے دن بھر تبادلہ خیال
دہشت گردی، داخلی سلامتی، انسانی اسمگلنگ اور نوٹ بندی کے موضوع پر بات چیت
حیدرآباد
یواین آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکیڈیمی میں آل انڈیا ڈائرکٹر جنرلس آف پولس کانفرنس میں شرکت کی اور ملک کے اعلیٰ پولیس عہدہ داروں کے ساتھ دن بھر تبادلہ خیا کیا۔ سہ روزہ کانفرنس کے دوسرے دن جس کا آغاز کل وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کیا تھا، پولیس سربراہوں سے تبادلہ خیا کے دوران مودی نے خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور مختلف موضوعات جیسے داخلی سلامتی اور دہشت گردی، ماؤ نوازوں کی سر گرمیاں، نوٹوں کی منسوخی کے بعد پیدا شدہ صورتحا ، انسانی اسمگلنگ ، منشیات کی اسمگلنگ ، پولیس فورس کو عصری بنانا اور محکمہ میں اصلاحات کے لئے اقدامات پر ان کے مشورے حاصل کئے ۔ اس کانفرنس میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ، مملکتی وزراء کرن رجیجو اور ہنس راج گنگا رام آہیر کے علاوہ قومی سلامتی مشیر اجیت دوول بھی شرکت کررہے ہیں۔ تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کے 100ڈی جی پیز اور مرکزی انٹلیجنس ایجنسیوں کے ڈی جیز و آئی جیز اس کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔ جس کااختتام کل عمل میں آئے گا۔ مودی کل شام یہاں پہونچے تھے، ی تیسری مرتبہ ہے کہ پولیس سربراہوں کی کانفرنس دہلی کے باہر منعقد ہورہی ہے ، مودی نے آج صبح پولیس عہدہ داروں کے ساتھ یوگا میں حصہ لیا اور اکیڈیمی کے کیمپس میں شجر کاری کی۔ انہوں نے ملک کے پہلے وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل کے مجسمہ کو پھول چڑھا کر انہیں خرا ج بھی پیش کیا ۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی آج شام شمس آباد ایر پورٹ سے دہلی واپس ہوگئے ۔ ایر پورٹ پر گورنر ای ایس ایل نرسمہن چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ، ریاستی وزراء اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے وزیر اعظم کو وداع کیا ۔ گزشتہ روز نریندر مودی راجندر نگر میں واقع نیشنل پولیس اکیڈیمی میں ڈی جی پیز کی51ویں کانفرنس میں شرکت کے لئے حیدرآباد پہنچے تھے۔
PM interacts with top cops on security issues

کیوبا کے انقلابی لیڈر فیڈرل کاسٹرو کا انتقال
ہوانا
رائٹر
کیوبا کے انقلابی لیڈر فیڈرل کاسٹرو کا کل انتقا ل ہوگیا ۔ وہ90سال کے تھے۔ کاسٹرو نے امریکہ کی پرواہ کئے بغیر اپ نے ملک میں کمیونسٹ مملکت کی بنیاد رکھی تھی اور ان کو معزول کرنے کی امریکہ کی پانچ دہائیوں کی کوششیں ناکام ہوگئی تھیں۔ فیڈرل کاسٹرو کے انتقال کی اطلاع ان کے بھائی اور کیوبا کے صدر راول کاسٹرو نے دی ہے۔20ویں صدی کے اواخر میں دنیا کے چوٹی کے قائدین میں شامل فیڈرل کاسٹرو کی صحت کافی خراب تھی اور پیٹ کے عارضہ نے2006ء میں انہیں تقریباََ نیم مردہ کردیا تھا۔ اس کے دو سال بعد انہوں نے اقتدار کی باگ ڈور باضابطہ طور پر اپنے بھائی کو سونپ دی تھی ۔ فوجی وردی میں ملبوس صدر راول کاسٹرو نے رات دس بج کر انتیس منٹ پر ٹیلی ویژن پر اپ نے بڑے بھائی کے انتقال کا اعلان کیا۔ انہوں نے ان کی موت کی وجہ نہیں بتائی ۔ ان کے الفاظ تھے کہ کیوبان کے انقلاب کے چیف کمانڈر فیڈرل کاسٹرو کا انتقال ہوگیا۔ صدر راول کاسٹرو نے کہا کہ فیڈرل کاسٹرو کی آخری رسومات ان کی خواہش کے مطابق ادا کی جائیں گی ۔4دسمبر کو سانٹیاگوڈی کیوبا میں ان کی تدفیل عمل میں آئے گی۔ 26نومبر سے4دسمبر تک ان کی نعش کو عوام کے دیدار کے لئے رکھا جائے گا۔ ملک بھر میں ان کا جلوس جنازہ چار دن تک نکالا جائے گا۔ فیڈرل کسٹرو1959ء کے انقلاب کے بعد اقتدار میں آئے تھے اور انہوں نے49سال تک اپنے ملک پر حکومت کی۔ وہ کرشماتی شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے مضبوط قوت ارادی ک ثبوت دیا اور سرد جنگ کے وقت میں بھی ان کی مرکزی حیثیت برقرار رہی ۔ امریکہ اور ان کے اتحادی ممالک نے ان کی مذمت کی لی کن پوری دنیا کے بائیں بازو خیالات کے حامل لوگ ان کے پرستار رہے ۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ کے سوشلسٹ انقلاب میں بھی ان کی تعریف ہوئی۔

ممبئی 26/11 حملوں کی8ویں برسی، مہلوکین کو خراج عقیدت
ممبئی
پی ٹی آئی
آٹھ سال قبل شہر میں دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو آج گلہائے عقیدت پیش کئے گئے۔ جنوبی ممبئی میں ممبئی پولیس جم خانہ میں موجود26/11 پولیس یادگار پر خراج عقیدت پیش کرنے والے معززین میں مہاراشٹرا کے چیف منسٹر دیویندر فڈ نویس بھی شامل تھے ۔ پھڈ نویس نے کہا کہ مین بہادر پولیس ملازمین کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے26/11 کو ممبئی کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہمیں ان پر فخر اور ہماری ریاست کے تحفظ اور سلامتی کے لئے ہم سخت کوشش کریں گے۔ ہم اپنی پولیس فورس کو بہتر آلات سے لیس کر کے طاقتور بنائیں گے ۔ یہ ہماری ترجیح ہے ۔ اس موقع پر ریاتی گورنر سی ایچ ودیا ساگر راؤ، شیو سینا کے صدر ادھو ٹھاکرے ، ممبئی کے سابق پولیس کمشنر ان جولیوریبیرو، ایم این سنگھ اور متعدد سابق و موجودہ سینئر عہدیدار موجود تھے ۔ مہاراشٹر کے پولیس چیف ستیش ماتھر اور ممبئی پولیس کمشنر دتہ پڈسالگیکر کسی اور مقام پر سرکاری ڈیوٹی پر ہونے کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہ کرسکے ۔ نومبر2008ء کے حملوں میں اپنی جان دینے والے پولیس ملازمین کے اہل خانہ بھی اس تقریب میں موجود تھے ۔ 26نومبر2008ء کو سمندری راستہ سے داخل ہونے والے دس پاکستانی دہشت گردوں نے عوام پر اندھا دھند فائرنگ کر کے166افراد کو ہلاک کردیا تھا جن میں 18سیکوریٹی عہدیدار بھی شامل تھے ۔ اس حملہ میں متعدد افراد زخمی ہونے کے علاوہ کروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوگئی تھیں۔ حملہ میں شہید ہونے والوں میں اس وقت کے اے ٹی ایس چیف ہیمنت کررکے، فوجی میجر سندیپ انی کرشنن، ممبئی کے ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے اور سینئر پولیس انسپکٹر وجئے سالسکر بھی شامل تھے ۔ یہ حملہ 26نومبر سے شروع ہوا اور29نومبر تک جاری رہا، دہشت گردوں نے چھتر پتی شیواجی ٹرمنس، اوبرائے ٹریڈنٹ اور تاج محل پیالیس اینڈ ٹاور، لیو پارڈ کیفے، کاما ہاسپٹل، نریمان ہاؤس یہودی کمیونٹی سنٹر کو نشانہ بنایا تھا ۔ اجمل قصاب واحد دہشت گرد تھا جسے زندہ پکڑا گیا تھا ۔ اسے چار سال بعد21نومبر2012ء کو پھانسی دے دی گئی ۔ گارڈین وزیر سبھاش دیسائی ، شیو سینا رکن پارلیمنٹ انل دیسائی بی جے پی رکن اسمبلی راج پروہت ، آدتیہ ٹھاکرے اور حملہ میں ہلاک پولیس ملازمین کے اہل خانہ نے بھی خرا ج عقیدت پیش کیا ۔ علاوہ ازیں کل ہند مخالف دہشت گردی محاذ کے قائد منندر جیت سنگھ بٹا، سبکدوش پولیس عہدیداررانی مینڈوکا اور ڈی شیوادنند بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ بٹانے تقریب کے بعد کہا کہ سرحد پر کشیدگی اور ہندو پاک تعلقات کے تعلق سے متعدد منفی تبصرے ملک کے نوجوانوں کو متاثر کررہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف صحیح پیغام ہمارے طلباء تک نہیں پہنچ رہا ہے ۔ بٹانے کہا کہ ممبئی اور ہندوستان کو دہلادینے واے 26/11 حملوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آل انڈیا مخافل دہشت گردی محاذ اور انجمن اسلام نے مشترکہ طور پر کل ممبئی میں ایک پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا تھا جس میں اکولوں ، کالجوں کے طلباء نے امن کے لئے اور دہشت گردی کے خلا ف مقابلہ کا عہد کیا۔

سیکوریٹی کے لئے افرادی قوت کے ساتھ ٹکنالوجی ضروری: پھڈ نویس
ممبئی
پی ٹی آئی
مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ دیویندر پھڈ نویس نے آج سیکوریٹی مقاصد کے لئے ٹکنالوجی قوت کے ساتھ افرادی قوت میں اضافہ کی وکات کی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ26/11ممبئی حملوں نے شہر کو منتشر کرنے کے بجائے متحد کردیا۔ جنوبی ممبئی میں فیس بک اور انسٹا گرام کے اشتراک سے انڈین ایکسپریس کی جانب سے ویڈیو نمائش بعنوان26/11 قوت کی کہانیاں، کی پیشکشی کے دوران پھڈ نویس نے کہا کہ سیکوریٹی مقاصد کے لئے مزید رقومات مختص کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن قابل غور سوال یہ ہے کہ ان رقومات کا کیسے استعمال ہورہا ہے ۔ ہمارے پاس ایک راستہ سیکوریٹی مقاصد کے لئے ہزاروں افراد کی خدمات حاصل کرنا یا افرادی قوت کے ساتھ ٹکنالوجی میں اضافہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ2008ء ممبئی حملہ ہندوستان کی توہین تھے جن میں دس دہشت گردوں نے پورے ملک کو یرغما ل بنالیا تھا۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا مستقبل میں اس طرح کے دہشت گرد حملوں کو روکنے بعد کی حکومتوں نے اطمینان بخش اقدامات کئے تو پھڈ نویس نے کہا کہ کچھ بھی نہیں کیا گیا ، کیوں کہ کوئی نہیں جانتا کہ دہشت گرد کس طرح حملہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ، سیکوریٹی کے لئے ایک حل ہے ۔ میں نے اس تعلق سے وزیر داخلہ (راجناتھ سنگھ ) کو بھی واقف کروایا۔ مثلاََ آج پورا ممبئی شہر سی سی ٹٰ وی نگرانی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی صیانت کے لئے بنیادی مسئلہ مرکزی ، ریاستی ایجنسیوں اور نیم فوجی دستوں کے درمیان ہم آ ہنگی کا ہے ۔ ہم مشترکہ مشقیں کررہے ہیں اور ان فورسس کے درمیان اب بہتر تال میل ہے ۔ ساحلی صیانت کے لئے میں نے تھرمل کیمروں کے استعمال کا بھی مشور ہ دیا ہے ۔ پھڈ نویس نے کہا کہ دہشت گرد حملوں سے مقابلہ کرنے اور ان سے ابھرنے کا جو حوصلہ شہر نے دکھایا ہے اس ر پوری دنیا کو فخر ہونا چاہئے ۔ پھر بھی بعض تنگ نظر مفادات حاصلہ عدم رواداری میں ملوث رہے، مگر بحیثیت مجموعی 26/11 حملہ نے ممبئی کو منتشر کرنے کے بجائے متحد کردیا۔ پھڈ نویس نے کہا کہ حکومت اقلیتی نوجوانوں کو اصل دھارے سے وابستہ کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کررہی ہے لیکن معاشرہ کو آگے آکر ان نوجوانوں کی مدد کرنی ہوگی جو سماجی و معاشی طور پر پسماندہ اور غیر محفوظ ہیں۔
ان دنوں ہر کوئی قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے ہندوستان سے فرار ہورہا ہے
ٹرائل کا سامنا کرنے کے لئے ان کو واپس لائیں۔ مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کا حکم
نئی دہلی
ایجنسیز
اب جب کہ زائد از100مفرور مجرمین ہندوستان میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے چنگل سے بچنے کے لئے بیرونی ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں، سپریم کورٹ نے کل کہا کہ مرکز کو ان کو واپس لانے کے لیے قدم اٹھانا چاہئے تاکہ وہ ٹرائل کا سامنا کرسکیں۔ جے ایس کیہار اور ارون مشرا پر مشتمل بنچ نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے چنگل سے بچنے کی کوشش کرنے والے لوگ آسانی کے ساتھ ملک سے باہر پرواز کرجارہے ہیں اور کہا کہ مرکز کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ انہیں ہندوستان واپس لایاجائے تاکہ انصاف کیاجاسکے ۔ شراب کے بیوپاری وجئے مالیا کا نام لئے بغیر جو لندن فرارہوچکے ہیں اور جن کے خلا ف عدالتوں کی جانب سے قرض واپس نہ کرنے کے کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے گئے ہیں، بنچ نے کہا کہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر کوئی ان دنوں قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے فرار ہوجارہا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ایسے افراد کو واپس لایاجائے تاکہ یہ پیام دیاجاسکے کہ قانون انہیں پکڑ سکتا ہے ۔ عدالت نے کہا ہمیں ایک مثال قائم کرنی چاہئے ۔ عدالت نے مرکز کو حکم دیا کہ وہ تجارت پیشہ خاتون ریتیکا اوستھی کو جو لندن میں سکونت پذیر ہیں اور جنہوں نے فوجداری مقدمہ کے سلسلہ میں ٹرائل کا سامنا کرنے کے لئے واپس آنے سے انکار کردیا ہے ، واپس لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے ۔ سپریم کورٹ نے ریتیکا کو ان کے بیمار شوہر سے ملاقات کے لئے بیرونی ملک جانے کی اجازت دی تھی لیکن وہ واپس نہیں ہوئیں۔ مرکز کے کارروائی کرنے سے قاصر ہونے کا اظہار کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار نے بنچ سے کہا کہ حکومت کے پاس ان کے پاسپورٹ کی تفصیلات نہیں ہیں اور ان کو واپس لانے کے لئے اقدامات اسی وقت کئے جاسکتے ہیں جب کہ اسے تفصیلات فراہمی عمل میں لائی جائے۔ بنچ نے تاہم کہا کہ یہ مرکز تھا جس نے انہیں پاسپورٹ جاری کیا تھا اور یہ ان کے بارے میں معلومات آسانی کے ساتھ حاصل کرسکتا ہے ۔ بنچ نے کہا یہ آپ کا کام ہے کہ آپ انہیں واپس لائیں تاکہ وہ عدالت میں کارروائی کا سامنا کرسکے ۔ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ ان کو کیسے اور کب واپس لایاجائے گا۔ پاسپورٹ اور امیگریشن آپ کے تحت آتے ہیں۔ ہمیں کچھ ایسا احساس ہورہا ہے کہ آپ کو انہیں واپس لانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر یوپی پولیس نے پاسپورٹ ان کے حوالہ کردیا تھا اور مرکز کا اس سے تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے تاہم یقین دلایا کہ ان کی تفصیلات کے حصول کے بعد حکومت چوبیس گھنٹوں کے اندر پاسپورٹ کو منسوخ کرسکتی ہے ۔ عدالت نے مرکز کو15دسمبر تک مہلت دی ہے ۔

نریندر مودی عوام کو بلیک میل کر رہے ہیں: مایاوتی
نئی دہلی
یو این آئی
پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹس پر امتناع عائد کرنے کے فیصلہ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی پر ایک بار پھر حملہ کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ یہ فیصلہ تیاری کے بغیر عجلت پسندی میں کیا گیا جس کی وجہ سے سارے ملک میں مالیاتی ایمر جنسی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ سابق چیف منسٹر اتر پردیش نے جو قومی دارالحکومت دہلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہی تھیں کہا حکومت نے اعلیٰ قدر کے حامل کرنسی نوٹس پر امتناع عائد کردینے کا فیصلہ تیاری کے بغیر جلدی میں کیا۔ یہ قدم حکمراں بی جے پی کے سیاسی فائدہ کے لئے اٹھایا گیا اس سے ملک میں مایلاتی ہنگامی حالات پیدا ہوگئے ۔ کرنسی نوٹ امتناع اقدام کی پرزور مذمت کرتے ہوئے مایاوتی نے مطالبہ کیا کہ مرکز کی جانب سے مناسب قدم اٹھائے جائیں تاکہ پانچ سو اور ہزار روپے کی مالیت کے کرنسی نوٹ اور امتناع کے باعث عوام کو ہونے والی مصیبتوں کو دور کیاجاسکے ۔ مایاوتی نے وزیر اعظم پر الزام عائد کیا کہ وہ اس مسئلہ پر بار بار جذباتی ہوتے ہوئے عوام کو بلیک میل کررہے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment