Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-11-14 - بوقت: 11:07

عام آدمی کو مصیبتوں میں مبتلا کر دیا گیا - پی چدمبرم

Comments : 0
13/نومبر
عام آدمی کو مصیبتوں میں مبتلا کر دیا گیا - پی چدمبرم
نئی دہلی
یو این آئی
500اور1000روپے کی مایلت کے کرنسی نوٹس پر امتناع عائد کردینے سے متعلق نریندر مودی حکومت کے فیصلہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے سینئر کانگریس قائد و سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج کہا کہ ایسا مناسب منصوبہ بندی اور تیاری کے بغیر کیا گیا ہے اور اس طرح عام آدمی کو مصیبتوں میں مبتلا کردیا گیا ہے ۔پی چدمبرم نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا کہ اس ادھورے منصوبے سے صرف دلالوں اور درمیانی آدمیوں کو فائدہ پہنچا ہے انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت کی جانب سے2012سی بی ڈی ٹی ر پورٹ کی اشاعت عمل میں لائی جائے جس میں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ کرنسی پر امتناع عائد نہیں کیاجانا چاہئے۔ پی چدمبرم نے ٹوئٹ کیا یہ اسکیم کرنسی پر امتناع کی نہیں ہے، یہ پرانے نوٹس کو نئے نوٹس سے تبدیل کرانے کی اسکیم ہے ۔ حکومت نے جو پہلے سے تیار نہیں تھی عام آدمی کو مصیبتوں اور تکالیف میں مبتلا رکدیا ہے۔ اس ادھوے منصوبہ سے صرف ایجنٹس اور درمیانی آدمیوں کو فائدہ پہونچا ہے ۔ حکومت کو2012ء سی بی ڈی ٹی رپورٹ کی اشاعت عمل میں لانی چاہئے جس میں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ کرنسی نوٹس کو گشت سے باہر نہیں کردیاجانا چاہئے اور ان پر امتناع عائد نہیں کیاجانا چاہئے ۔ پی چدمبرم کی جانب سے یہ بیان اس لئے جاری کیا گیا ہے کیونکہ پرانی کرنسی پر امتناع عائد کردینے کے فیصلہ کے بعد بینکوں اور اے ٹی ایمس پر لمبی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔
Demonetisation would only affect common man: P Chidambaram

کالے دھن کے خلا ف مزید کارروائی، وزیر اعظم کی وارننگ
کوبے(جاپان)
آئی اے این ایس
وزیرا عظم نریندر مودی نے بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے اعلان کے بعد اپنے پہلے تبصرہ میں ہفتہ کے دن مانا کہ ہندوستان میں عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر کالا دھن کی روک تھام کے لئے مزید اقدامات کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کالا دھن کے مسئلہ پر ضرورت پڑے تو حکومت آزادی کے بعد سے تمام نجی ریکارڈس کی جانچ کرے گی۔ کسی بھی خاطی کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے یہاں ہندوستانی برادری سے خطاب میں کہا کہ ہم آزادی کے بعد سے تمام ریکارڈس کی جانچ کریں گے ۔ حساب کتاب کے بغیر کوئی رقم پائی گئی تو پھر کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سسٹم میں کوئی ناجائز رقم آئی تو پھر اس کی جانچ شروع سے ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ حساب کتاب کے بغیر کوئی رقم آئی تو پھر کھاتوں کی جانچ آزادی کے بعد سے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کام کے لئے زیادہ سے زیادہ آدمی لگائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں پتہ ہے کہ ہندوستان میں لوگ بڑے نوٹ ہٹائے جانے کے باعث کتنے پریشان نہیں لیکن یہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ضرور ی تھا۔

بڑے کرنسی نوٹس کے امتناع کے بہانہ بہت بڑا اسکام: اروند کجریوال
نئی دہلی
پی ٹی آئی
بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کو بہت بڑا اسکام قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے اپنے تمام دوستوں کو وزیراعظم کے اعلان سے کافی پہلے اس تعلق سے بتا دیا تھا ۔ انہوں نے یہ فیصلہ فوری واپس لی نے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ ہٹانے کے مرکز کے فیصلہ کو عام آدمی کی چھوٹی بچتوں پر سرجیکل حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائک بلیک مارکیٹرس پر نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کہا کہ پنجاب میں بی جے پی لیگل سیل کے صدر سنجیو کمبوج وزیر اعظم کے اعلان سے چند دن قبل2000کے نئے کرنسی نوٹس کے ساتھ سوشیل میڈیا پر د کھائی دئیے۔ جولائی تا ستمبر بینکوں کی ڈپازٹس کافی بڑھی ہیں جو واضح اشارہ ہیں کہ بی جے پی نے اپنے تمام دوستوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وزیراعظم بڑے کرنسی نوٹ ہٹانے والے ہیں۔ کجریوال نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ بہت بڑا اسکام ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالا دھن بڑے کرنسی نوٹ ہٹانے سے سسٹم میں نہیں آئے گا۔ چیف منسٹر نے ایک نیوز چیانل کی رپورٹ بھی دکھائی جس میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں بینکوں کی ڈپازٹس کافی بڑھی ہیں۔ کجریوال نے کہا کہ کالا دھن کے نام پر ملک میں ایک بہت بڑا اسکام چل رہا ہے ۔ لوگ پریشان ہیں کیونکہ اے ٹی ایمس میں پیسہ نہیں ہے ۔ صبح سے لوگوں کو بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر طویل قطاروں میں ٹھہرنا پڑ رہا ہے۔ بڑے کرنسی نوٹ ہٹانے سے کالا دھن سسٹم میں آنے والا نہیں ۔ کجریوال نے وزیر اعظم اور بی جے پی صدر امیت شاہ سے تین سوا ل کئے۔ وزیر اعظم کے نزدیک کالا دھن کی تشریح کیا ہے؟ ہندوستان کے اعلیٰ صنعت کاروں امبانی، اڈانی، شرد پوار ، سبھاش چندر اور بادل نے کالا دھن اکٹھا کیا یا کسان، رکشا راں، دکانداراور مزدور جیسے عام آدمی نے؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو ا پنے ان تمام دوستوں کی فہرست جاری کرنا چاہئے جنہیں اس نے مرکزی حکومت کے فیصلہ کی جانکاری وزیر اعظم کے اعلان سے قبل دے دی تھی۔ کجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو ان دلالوں کی بھی فہرست جاری کرنی چاہئے جو نئے نوٹ دینے عام آدمی سے کمیشن لے رہے ہیں۔ انہوں نے سوا کیا کہ یہ کمیشن کہاں جارہا ہے؟ کجریوا نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بڑے کرنسی ہٹانے کا اقدام ہندوستانی معیشت کے لئے بہت بڑا دھکا ثابت ہوگا۔ اس سے نوکریاں جائیں گی۔ لوگوں میں مایوسی ہے۔ سسٹم پر سے لوگوں کا وشواس اٹھ جانا اچھانہیں ہوگا۔ کجریوا ل نے دعویٰ کیا کہ اے ٹی ایمس میں پیسہ نہیں ہے ۔ لوگ پریشان ہیں ۔ موجودہ اے ٹی ایمس نئے نوٹوں کے لائق نہیں ہیں۔ مرکز اتنے بڑے پیمانے پر انہیں کیسے بدلے گا۔ کیا اسے پہلے سے اس کا علم نہیں تھا۔ اسے یقینا اس کا علم تھا اور اس نے جان بوجھ کر آج یہ بحران پیدا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کالا دھن رکھنے والے اب120روپے میں امریکی ڈالر خرید رہے ہیں۔ وہ ساٹھ ہزار روپے فی تولہ سونا خرید رہے ہیں ۔ ایسے لوگ جائیداد یں بھی خرید رہے ہیں۔ پراپرٹی ڈیلرس، دلالوں کے ذریعہ نئے نوٹ حاصل کررہے ہیں۔ ملک میں بہت بڑا اسکام چل رہا ہے ۔

نوٹوں کی منسوخی’’سیاہ سیادی فیصلہ‘‘ واپس لیاجائے: ممتا بنرجی
کولکتہ
پی ٹی آئی
چیف منسٹر مغربی بنگا ل ممتا بنرجی نے ایک ہزار اور پانچ سوروپے کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی پرمودی حکومت کودوبارہ نشانہ تنقیدبناتے ہوئے آج اس سیاہ سیاسی فیصلہ کو واپس لی نے کامطالبہ کیا اور کہا کہ یہ عام آدمی کے خلاف ہے ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ اس سیاہ سیاسی فیصلہ کو واپس لیاجائے، جوعام آدمی کے خلاف ہے ۔ ملک بھرمیں بازار تباہ ہوچکے ہیں ، قوت خرید ختم ہوگئی ہے اور عوام تکلیف میں مبتلا ہیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ انہوں نے پہلے بھی یہ بات کہی تھی، ممتا بنرجی نے کہا کہ جس انداز میںبڑے ،بوڑھوں اور دیگر تمام کوتکلیف ہورہی ہے، میں ایک بار پھرمرکز ی حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے۔ انہوںنے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا سیاہ اسکینڈل بن گیا ہے ۔ عام شہریوں کو مصیبت کا سامنا ہے ، جب کہ غیر قانونی لین دین کرنے والوںکو پورا فائدہ حاصل ہورہا ہے ۔ترنمول کانگریس سربراہ نے جمعرات کے روز تمام اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ مرکزکی غریب دشمن حکومت کے خلاف متحدہوکر کام کریں۔ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ ہمیں اس سیاسی اور مایلاتی افراتفری کا مل کر مقابلہ کرناہوگا، ہم سب آپ کا ساتھ دیں گے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی کامضحکہ اڑاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی عوام کو غریب بنانے کے بعد مودی جاپان چلے گئے ۔ واضح رہے کہ ترنمول کانگریس نے نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر16نومبر کو راجیہ سبھا میں مباحث کے لئے پہلے ہی نوٹس دے دی ہے ۔16نومبر ہی پارلیمنٹ میں سرمائی اجلاس کا پہلا دن ہوگا۔ لوک سبھا میں ٹی ایم سی کے لیڈر سندیپ بندوپادھیائے نے کہا ہے کہ پارٹی اسی دن ایوان میں تحریک التوا بھی پیش کرے گی۔ ممتا نے کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر ایک نظم بھی تحریر کی ہے ۔

2.5 لاکھ روپے سے زیادہ رقم جمع کرانے والے افراد انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے راڈار پر
نئی دہلی
یو این آئی
انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے ان افراد کی تفصیلات طلب کی ہیں جو ان کے پرانے کرنسی نوٹس کو سونے اور بیرونی زرمبادلہ میں تبدیل کروارہے ہیں۔ ڈپارٹمنٹ نے ان افراد کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی ہیں جو ان کے اکاؤنٹس میں2.5لاکھ سے زیادہ رقم جمع کروارہے ہیں۔ اس خصوص میں وزارت داخلہ کی جانب سے بھی تمام بینکوں کو صلاح دی گئی ہے کہ وہ ان تمام افراد کی تفصیلات کا ادخا ل عمل میں لائیں جو مصرحہ رقم سے زیادہ رقم ڈپازٹ کرارہے ہیں اسی دوران وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج پانچ سواور ہزار روپے کے کرنسی نوٹسکو گشت سے باہر کردینے کے فیصلہ کے بعد ملک میں صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس خصوص میں انہوںنے مختلف بینکوں کے سربراہوں اور ریزروبینک آف انڈیا کے گورنر ارجیت پٹیل سے بات کی اور انہیں ہدایات جاری کی کہ وہ تمام بینکوں کو فوری طور پر معقول تعداد میں نئے کرنسی نوٹس کی فراہمی عمل میں لائیں تاکہ عوام کو سہولت ہوسکے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اعلٰی قدر کے حامل کرنسی نوٹس پر امتناع کے بعد مختلف عناصر جن کے پاس غیر محسوب دولت ہے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کررہے ہیں تاکہ صرافہ بازار اور متعلقہ بینکوں کے ذریعہ ا پنے کالے دھن کو سونے اور نئی کرنسی میں تبدیل کرایاجاسکے ۔ دہلی میں چاندنی چوک اور قرول باغ کے صرافہ بازار ڈیلرس نے کاے دھن کے ساتھ ٹریڈنگ کو روک دیا ہے اور کئی ڈیلرس کسی بھی طرح کی تحقیقات سے بچنے کے لئے ان کے دفاتر نہیں آرہے ہیں۔ چاندنی چوک کے جوہری اشونی نہاتا نے بتایا کئی صرافہ ٹریڈرس نے صورتحال کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے اپنی معاملتیں روک دی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی سونے کا کاروبار پرسکون انداز میں جاری ہے لیکن صرف صحیح وواجبی کاروبار کیاجارہا ہے اور ٹریڈرس خریداروں سے جو اجازت یافتہ مقدار سے زیادہ سونا خریدنا چاہتے ہیں ، پیان کارڈس اور آئی ڈی پروفکس لے رہے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment