Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-08 - بوقت: 20:45

سیاسی پارٹیوں کو اختلافات الگ رکھ کر وزیراعظم کی تائید کا مشورہ - کجریوال

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج راہول گاندھی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرجیکل حملوں کے تعلق سے ان کے دلالی ریمارکس انتہائی قابل اعتراض ہیں ۔ چیف منسٹر دہلی نے کہا کہ اس وقت جب کہ سرحد کی صورتحال کشیدہ ہے ، تمام سیاسی پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت کریں ۔ چیف منسٹر دہلی نے کہا ہے کہ سرجیکل حملوں کے تعلق سے کانگریس کے نائب صدر کے ریمارکس انتہائی قابل اعتراض ہیں ، جب کہ ہندوستانی مسلح افواج نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خط قبضہ کو عبور کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں، اس لئے ہندوستانی فوج کی ستائش کی جانی چاہئے ۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے موقف کی بھی پر زور حمایت کی جانی چاہئے اور اس مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں بناتے ہوئے ملک کے تحفظ کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں بھی انہوں نے اس سلسلہ میں فوج کو مبارکباد دی ہے اور پھر اب ایک مرتبہ فوج کو مبارکباد دیتے ہیں۔ کانگریس کے سینئر قائد پر خون کی دلالی جیسے ریمارکس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب جب کہ ہندوستانی فوج بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کررہی ہے ، اس مقع پر اس طرح کے ریمارکس انتہائی قابل اعتراض ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے الفاظ جو کہ راہول گاندھی نے استعمال کئے ہیں ، اس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بھی انہوں نے اپنے ان تاثرات اور احساسات کا اظہار کیا ہے اور ویڈیو میسیج میں بھی اپنے خیالات ظاہر کئے ہیں۔ سرحد کی صورتحال کشیدہ ہے ۔ اس موقع پر تمام ملک کی سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ فوج کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وزیر اعظم اور نریندر مودی کے موقف کی تائید کریں۔ اس موقع پر تمام ملک کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ فوج کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے موقف کی تائید کریں ۔ کجریوال کے اس بیان پر انہیں تنقیدوں کا سامنا بھی کرنا پڑ اتھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ سرجیکل حملوں کے تعلق سے پاکستان کے پروپیگنڈہ کو بے نقاب کریں۔ بی جے پی نے کہا تھاکہ عام آدمی پارٹی کے صدر کے اس طرح کے تبصروں سے فوج کی اہانت ہوتی ہے ۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
بھارتیہ جنتا پارٹی نے آج کانگریس کے سینئر قائد راہول گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جو ریمارکس کئے ہیں وہ انتہائی قابل اعتراض ہیں ، جس سے ہندوستانی فوج کی اہانت ہوتی ہے ۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے کہا ہے کہ راہول گاندھی نے سرجیکل حملوں کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خون کی دلالی ہورہی ہے، جس پر بی جے پی نے شدید اعتراض کیا اور کہا ہے کہ کانگریس کے قائد نے اس طرح کے ریمارکس کرتے ہوئے اپنے حدود کو پار کرگئے ہیں ۔ انہوں نے سیاسی قائدین پر زور دیا ہے کہ وہ سرجیکل حملوں کے مسئلہ کو سیاسی رنگ نہ دیں ۔ امیت شاہ نے چیف منسٹر اروند کجریوال پر بھی تنقید کی ، جنہوں نے فوجی کارروائی پر شک و شبہ کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کئے ہیں۔ کانگریس کے قائد کی جانب سے سپاہیوں کے لئے دلالی کا لفظ استعمال کئے جانے کو انتہائی بدبختانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس سے کانگریس کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے قائدین کئی کروڑ روپے کے اسکامس میں ملوث رہے ہیں۔ امیت شاہ نے اس احساس کا اظہار کیا ہے کہ راہول گاندھی کی جانب سے جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اس سے مسلح افواج کی اہانت ہوتی ہے ۔
پٹنہ
پی ٹی آئی
صدر آر جے ڈی لالوپرسا د نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کے دلالی کے ریمارک کو نا پسند کیا اور کہا کہ وہ اپنے خیالات مناسب طور پر ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ لالو پرساد آج پٹنہ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ اخباری نمائندوں نے جب ان سے پاک مقبوضہ کشمیر میں سرجیکل حملوں پر نزاع کے پیش نظر وزیر اعظم کے خلاف کانگریس کے لیڈر کے دلالی کے ریمارک پر تبصڑہ کی خوہش کی تو انہوں نے کہا: راہول گاندھی کو ا پنی بات ٹھیک سے رکھنی نہیں آئی ۔ لالو نے کہا کہ پاکستان کو سخت سے سخت سزا دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایا میں ملک کی آرمی کے ساتھ ہوں اور اس بات کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو اور بھی طاقتور انجکشن دیاجائے ۔
لکھنو
پی ٹی آئی
بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے آج یہاں الزام عائد کیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارتی کی جانب سے سرجیکل اسٹرائکس کے تعلق سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کی جانب سے جو کارروائی کی گئی اس کے لئے فوج کو ہی تہنیت پیش کی جانی چاہئے، نہ کی وزیر دفاع یا وزیر اعظم کو ، کیوں کہ یہ کارروائی فوج کی جانب سے کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے یپ اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات کے پیش نظر مذکورہ فوجی کارروائی سے سیاسہ فائدہ اٹھایاجاسکے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں فوج کو ہی تہنیت پیش کی جانی چاہئے ، نہ کہ کسی دوسرے قائد کو ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قیادت کی جانب سے وزراء اور قائدین کو یہ ہدایات دی جارہی ہیں کہ وہ سرجیکل اسٹرائکس کے مسئلہ پر بیانات نہ دیں ۔ لیکن اس کے باوجود بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے، جس سے پارٹی کے موقف کا اظہار ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ کہ پارٹی قیادت نے ہدایت دی ہے کہ سرجیکل اسٹرائکس کے مسئلہ پر لب کشائی سے احتراز کیاجائے ، لیکن اس طرح کی ہدایت کے باوجود ہورڈنگس ، پوسٹرس لگائے جارہے ہیں ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فون کی اس کارروائی سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ سرحد کی صورتحال کشیدہ ہے اور دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ، اس موقع پر اس طرح کے بیانات کسی صورت مناسب نہیں ہوتے۔ مرکزی حکومت اور بی جے پی کو چاہئے کہ وہ سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے اس طرح کا پروپیگندہ نہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ عوا م کو خدشہ ہے کہ بی جے پی حکومت فرقہ وارانہ رجحانات کو ہوا دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ نریندر مودی کی زیر قیادت مرکز ی حکومت عوام کے مختلف فرقوں میں نفرت کے جذبات کو فروغ بھی دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال ملک کے لئے کسی صورت میں مناسب نہیں ہے ، جب کہ بی جے پی اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ہندوستان پاکستان تنازعہ کو برقرار رکھاجاسکے ۔

Kejriwal criticises Rahuls remarks, opposes politicking

0 comments:

Post a Comment