Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-29 - بوقت: 15:43

محمد رفیع - تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے

Comments : 0

Mohammed-Rafi
میری آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں ۔
دلہن کا باپ ایک طرف کھڑا پگڑی کے لٹکے ہوئے شملے سے آنکھوں کے گوشے پونچھ رہا تھا۔ ماں کو ایک پڑوسن گلے لگائے تسلی دے رہی تھی۔ لیکن مجھ چودہ پندرہ سال کے لونڈے کو کیا ہورہا تھا۔ نہ تو میں کوئی ایسا رقیق القلب تھا، نہ میری کسی بہن کی رخصتی ہوئی تھی۔ میں تو بلکہ شادی بیاہ کے وقت رونے سے گھبراتا تھا کہ بچپن میں کسی کی شادی میں سب کو روتے دیکھ کر میں نے بھی بسورنا شروع کیا تو ایک چنچل سی محترمہ نے کہا بھئی تو کیوں رو رہا ہے، کیا تجھے شادی کرنی تھی دلہن سے۔ اور میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی شرما دیا۔ اور اب کسی دلہن کو رخصت ہوتے دیکھتا تو وہاں سے ہٹ جاتا کہ کہیں میری چوری نہ پکڑی جائے۔
یا شاید میں دلہن کے چھ فٹے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔ یہ بانکا سجیلا، چھیل چھبیلا نوجوان تو ان راجپوتوں کا مان تھا۔ محرم کے جلوس کے ساتھ چلتے، راستے میں پٹے بازی اور بنوٹ کے مقابلوں میں یہ ایک عجیب سی لہریا چال چلتے ہوئے اپنے مقابل کو زیر کرتا اور تماشائیو ں کی شاواس، شاواس وصول کرتا۔ لیکن لٹھ بازی کا یہ مرد میدان اس وقت اپنی چھوٹی سی بہن کو سینے سے لگائے بچوں کی طرح بلک رہا تھا۔
لیکن نہیں۔ یہ منظر میرے سامنے تھا لیکن کان میں ایک عجیب سی آواز گونج رہی تھی، جیسے کوئی سسکیوں کو سینے میں دبائے ہوئے، گھٹی گھٹی سی آواز میں رو رہا ہے۔ شہنائی کی آواز کے ساتھ بول سنائی دے رہے تھے
نازوں سے تجھے پالا میں نے، پھولوں کی طرح کلیوں کی طرح
بچپن میں جھلایا ہے تجھ کو، با ہوں نے میری جھولوں کی طرح
میرے باغ کی اے نازک ڈالی تجھے ہر پل نئی بہار ملے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے۔۔۔

" ہورے چھورا تنے کی ہو گیا" ۔ میں چونک گیا۔۔۔
یہ اس گوالن کی آواز تھی جس کے ہاں میں دودھ لینے آیا تھا۔ میرے برتن کو دودھ سے بھر کر وہ اپنی پڑوسن کی " چھوری" کی بدائی میں شامل ہونے چلی گئی تھی جہاں بیٹیاں سب کی سانجھ ہوتی ہیں۔
یہ گوالوں کا محلہ تھا۔ یہ نسلا" راجپوت تھے اور نجانے مارواڑی یا میواتی کونسی زبان بولتے تھے۔ میں نے کبھی جاننے کی کوشش بھی نہ کی۔ کسی نے بتایا یہ رانگڑی بولتے ہیں۔
میں نے ہاتھ کی پشت سے اپنی گیلی ہوتی ناک پونچھی اور وہاں سے چل دیا۔ " ریکارڈنگ" ابھی تک چل رہی تھی۔ اور وہیں میرا پڑوسی اور دوست رشید مل گیا۔ یہ مجھ سے دو ڈھائی سال بڑا تھا۔
"اُف کیا گانا ہے؟" ۔۔۔رشید کو گانے کا شوق تھا۔ بعد میں وہ باقاعدہ گانے اور ہارمونیم بھی بجانے لگا تھا۔
" کون گا رہا ہے یہ" میں نے پوچھا۔
" ایسے گانے صرف رفیع گا سکتا ہے" رشید نے گویا سرٹیفیکٹ جاری کردیا۔

اور یہ نام میرے لئے نیا نہیں تھا نہ ہی یہ آواز۔ بچپن میں اپنے چچا کو سنتا جب وہ صبح نہا دھوکر سر میں ہلکا سا تیل ڈال کر بالوں کو جھٹکتے ہوئے گاتے" سن سن ، ارے بیٹا سن، اس چمپی میں بڑے بڑے گن۔۔۔کاہے گھبرائے، کاہے شرمائیے۔"
یا پھر میرے شیرخوار بھائی کو ہوا میں اچھالتے ہوئے ایک عجیب سا گیت گاتے" الف سے ابن، ابی نبی ہرمن، ابن ابوا رے، بے سے ببن، ببی نبی برمن، ببن ببوا رے۔ الف زبرآ، الف زیر اے، الف پیش او"
اور ایک بار اتوار کو ان کے دوست آئے ہوئے تھے اور وہ باآواز بلند گا رہے تھے
" ایک جھلک جو پاتا ہے، راہی وہیں رک جاتا ہے
دیکھ کے تیرا روپ سلونا چاند بھی سر کو جھکاتا ہے
دیکھانا کرو تم آئینہ، کہیں خود کی نظر نہ لگے، چشم بد دور"

لیکن ان دنوں ان باتوں کا دماغ کہاں کہ کون گا رہا ہے یا کیا گا رہا ہے۔ لیکن اس آواز کو سنتے سنتے بڑے ہوئے اور ایک ہی بات سمجھ آتی تھی کہ ہر اچھا مردانہ گانا، محمد رفیع کا گانا ہوتا ہے۔
جون ایلیا نے میر تقی میر کے لئے کہا تھا کہ پر اچھا شعر ، میر کا شعر ہے۔ جون صاحب کا یہ 'خیال ' تھا۔ رفیع صاحب کے بارے میں، میرا یہ 'یقین ' ہے۔
اور میری کیا اوقات کہ رفیع صاحب کی گائیکی کے بارے میں کچھ کہوں کہ مجھے موسیقی اور سر سنگیت کی الف بے بھی نہیں پتہ۔ لیکن میں اس بات پر دنیا سے لڑ جاؤں گا کہ موسیقی کی الف سے یے تک جتنے بھی کمالات ہیں، جتنے بھی پیمانے ہیں ، جتنے بھی معیار ہیں ان پر اگر کوئی ایک فنکار پورا اترتا ہے تو وہ ہے محمد رفیع۔

مجھے ہر طرح کے گیت سننے کا شوق ہے اور مجھے ہر سریلا گلوکار پسند ہے۔ میری پسند کی فہرست میں، مہدی حسن، طلعت محمود، مکیش، احمد رشدی، مناڈے، کشور، سلیم رضا، منیر حسین، بشیر احمد، ہمنت کمار، پنکج ملک، ایم کلیم، سہگل، حبیب ولی محمد، امانت علی، سے لیکر، عالمگیر، شہکی، جنید جمشید، علی ظفر، سونو نگم ، راحت فتح علی وغیرہ وغیرہ سب شامل ہیں۔ اور میں ہر ایک کی صلاحیتوں کا قائل ہوں۔ لیکن ان سب گلوکاروں کی ایک حد ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ وہ نہیں کرسکتے جو دوسرے کرسکتے ہیں۔ مثلاً مہدی حسن، کشور کمار کی طرح "یوڈلنگ" نہیں کرسکتے۔ یا طلعت محمود، احمد رشدی کی طرح کوکو، کورینا نہیں گا سکتے۔ یا احمد رشدی اپنی تمام تر مردانہ آواز، صاف ستھرے تلفظ اور سریلی پن کے باوجود سہگل کی طرح نہیں گا سکتے۔
لیکن رفیع صاحب ہر طرح کا گانا نہ صرف گا سکتے ہیں بلکہ سب سے اچھا گا سکتے ہیں۔ سر، تال، لے، تان، ، اتار ، چڑھاؤ، روانی، ٹھہراؤ، غرض سنگیت کا کوئی سا بھی مقام ہو، کوئی سا بھی موڑ ہو وہ ایسے گذر جاتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہیں ہے۔ وہ نہ صرف ٹھمری، دادرا، درباری، ترانہ، بلکہ، غزل، بھجن، نعت، قوالی، پاپ گیت اور کیا کچھ نہیں ہے جسے "پانی" کی طرح نہ گا سکیں۔

کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن میرے نزدیک مردانہ آوازوں میں رفیع صاحب سے بڑا کوئی گلوکار نہیں۔ جو مٹھاس، سریلا پن، درد، سوز، گھمبیرتا، مدھرتا، چنچل پن، شوخی، معصومیت، سنجیدگی، توانائی محمد رفیع کی آواز میں ہے کوئی دوسرا گلوکار اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔
دوسرے گلوکار سب اپنی جگہ عظیم ہیں، لیکن کسی نے دس بیس، کسی نے سو دوسو یا کسی نے ہزار دو ہزار مقبول گیت گائے ہونگے۔ لیکن رفیع صاحب کا ہر گیت مقبول ، مقبول گیت تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ انہوں نے پچیس ہزار گانے گاہے، کوئی اس سے بھی زیادہ بتاتا ہےتو کوئی کہتا ہے کہ نہیں صرف سات ہزار چار سو گیت گائے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جو بھی گایا ، کمال گایا۔
دوسرے فنکار اپنے اپنے دور میں عظمت کی بلندیوں کو چھوکر ماضی کے دھندلکوں میں گم ہوتےچلے گئے۔ سہگل کو سب سے بڑا گلوکار مانا جاتا تھا۔ استاد بڑے غلام علی خان اپنے وقتوں میں ایک مقام رکھتے تھے۔ لیکن آج کتنے ہے جو انہیں جانتے ہیں۔ اور کون ہیں جو اس انداز کی گلوکاری کو سراہتے ہوں۔ رفیع صاحب لیکن ہر دور کے پسندیدہ گلوکار رہے۔ ہر فنکار کے فن کا عروج یہ ہے کہ اس کے لئے کہا جائے کہ یہ تو محمد رفیع جیسا گاتا ہے، یا اس کی آواز رفیع سے ملتی ہے۔

رفیع صاحب کے مقبول گیتوں کی فہرست بتانے بیٹھوں تو شاید کتابیں بھی کم پڑجائیں لیکن ہر ہر انداز اور ہر ہر کیفیت کے ایسے ایسے اور اتنے سارے گیت ہیں کہ اپنی سی ساری کوشش کرلوں تو شاید کچھ ہی گانوں کی بات کر سکوں گا۔
ذرا آنکھیں بند کرکے ان رومانی گیتوں کو تصور میں لائیں:
  • تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے۔۔چشم بد دور
  • چودھویں کا چاند ہو، یا آفتاب ہو، جو بھی ہو تم خدا کی قسم ، لاجواب ہو
  • زندگی بھر نہیں بھولے گی ہی برسات کی رات
  • بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے،
  • احسان تیرا ہوگا مجھ پر دل چاہتا ہے وہ کہنے دو، مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے، مجھے پلکوں کی چھاؤں میں رہنے دو۔
  • یہ میرا پریم پتر پڑھ کر، کہیں ناراض نہ ہونا
  • سو سال پہلے، مجھے تم سے پیار تھا
  • یہ وادیاں ، یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں
  • آنے سے اس کے آئے بہار، جانے سے اس کے جائے بہار
  • یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں
  • نہ جھٹکو زلف سے پانی

اور ذرا ان گیتوں میں درد کی کسک محسوس کریں:
  • او دور کے مسافر، ہم کو بھی ساتھ لے لے
  • آج پرانی راہوں سے کوئی مجھے آواز نہ دے
  • کھلونا جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو
  • جب جب بہار آئی اور پھول مسکرائے۔۔۔مجھے تم یاد آئے
  • آجا تجھ کو پکارے میرا پیار
  • بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے

اور ذرا ان نغموں کی چنچلتا کو یاد کریں:
  • نین لڑجئی ہیں تو منوا ما کھٹک ہوئے وے کری
  • بڑے میاں دیوانے ایسے نہ بنو
  • لال چھڑی میدان کھڑی
  • سویرے والی گاڑی سے چلے جائیں گے
  • ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں
  • آؤ گلبدن، پھولوں کی مہک کانٹوں کی چبھن
  • جان پہچان ہو، جینا آسان ہو
  • دل دیکے دیکھو
  • بار بار دیکھو، ہزار بار دیکھو
  • چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے
  • ریشماں جوان ہوگئی
  • بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے

یا بچوں کے گیت:
  • ننھے منے بچے تیری مٹھی میں کیا ہے
  • چن چن کرتی آئی چڑیا
  • ہم بھی اگر بچے ہوتے
  • بار بار دن یہ آئے
  • ہم بھی اگر بچے ہوتے

غزل، بھجن، کسانوں کے گیت، فوجیوں کے گیت، فقیروں کے گیت ، شرابیوں، مسخروں غرض ہر کیفیت اور ہر کردار کے لئے رفیع کی آواز میں گیت موجود ہے۔ سنا ہے ساڑھے چار سو کے قریب کرداروں کے لئے رفیع صاحب کی آواز استعمال کی گئی۔
اور یہ کمال بھی رفیع صاحب ہی کا تھا کہ جس کے لئے گاتے وہ اسی کی آواز محسوس ہوتی۔ "سر جو تیرا چکرائے، یا دل ڈوبا جائے" فلم میں لگتا ہے کہ جانی واکر خود گا رہے ہیں۔ راجندر کمار جیسے معمولی صلاحیت کے فنکار کو رفیع صاحب کی ملکوتی آواز نے ہندوستان کا پہلا سپر اسٹار بنا دیا۔ اور شمی کپور کی اداکاری سے رفیع صاحب کے گانے نکال دیں تو کیا بچے گا۔ رفیع صاحب کے انتقال پر شمی کپور نے کہا کہ آج میری آواز خاموش ہوگئی ہے۔

موسیقی اور فلموں سے ہٹ کر رفیع صاحب کی ذاتی باتیں کرنے بیٹھوں تو رات بیت جائے۔ ایسا شریف النفس، فقیر منش، درویش صفت فنکار شاید ہی کوئی گذرا ہو۔ رفیع صاحب نے معاوضے کی کبھی پروا نہیں کی۔ نہ کبھی کوئی گانا پیسوں کے لئے چھوڑا۔ اکثر تو یہ ہوا کہ انہوں نے معاوضہ صرف ایک روپیہ وصول کیا۔ یہی وجہ تھی کی فلم سنگیت کے دو بہت بڑے نام لتا منگیشکر اور کشور کمار ان سے ناراض رہے۔ لتاجی نے چھ سال رفیع صاحب سے بات نہیں کی نہ ان کے ساتھ گایا۔ بعد میں ان دونوں کی صلح ہوگئی۔ کشور اور رفیع کی دوستی بھی بڑی گہری تھی۔ کشور کمار گھنٹوں رفیع صاحب کی میت کے قریب بیٹھے رہے۔ رفیع صاحب نے سب سے زیادہ دوگانے آشا بھوسلے کے ساتھ گائے اور مرد گلوکاروں میں سب سے زیادہ مناڈے کے ساتھ گایا۔
رفیع صاحب ہمیشہ نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اپنے ساتھی عظیم فنکاروں کے برعکس انہوں نے کبھی یہ شرط نہیں لگائی کہ فلاں کے ہی ساتھ گاؤں گا یا فلاں کے ساتھ نہیں گاؤں گا۔
رفیع صاحب کے چہرے پر ہمیشہ ایک معصوم سی مسکراہٹ رہتی۔ ان کی شاید ہی کوئی تصویر ملے جو مسکراہٹ کے بغیر ہو۔ سنا ہے ایک بار ایچ ایم وی والوں نے ان کے غمگین نغموں کی البم جاری کی جس کے لئے انہیں رفیع صاحب کی کوئی ایسی تصویر درکار تھی جس میں وہ مسکرا نہ رہے ہوں۔ اور سننے میں آیا کہ انہیں ناکامی ہوئی اور دکھ بھرے نغموں کی البم پر بھی ان کی مسکراتی تصویر ہی لگانے پڑی۔

رفیع صاحب ایک گوشہ نشین، خاندانی اور مذہبی انسان تھے۔ ان کے بیوی بچے فلمی تقریبات سے دور رہتے۔ رمضان میں ان کے گھر کے لان میں تراویح کا اہتمام ہوتا جہاں دلیپ صاحب، مقری ، محمود، جانی واکر، اجیت اور دوسرے مسلمان فنکار بھی شامل ہوتے۔
اور جب ملکوتی آواز کا مالک، سروں کا شہنشاہ اور لاکھوں نہیں کروڑوں دلوں کا محبوب جب اپنے آخری سفر پر جارہا تھا تو آسمان نے اپنے دروازے ان پر کھول رکھے تھے۔ رم جھم برستے ساون میں ان کی میت میں شامل لوگوں کی آنکھوں میں اس برسات سے کہیں زیادہ آنسو تھے۔

اور رفیع صاحب کو بھلانا کوئی ایسا آسان بھی نہیں۔ وہ خود کیا خوب کہہ گئے
تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے
جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے۔

رفیع صاحب۔۔۔ اللہ آپ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے کہ آپ نے لاکھوں دلوں کو سکون بخشا اور خوشیاں دیں۔

نوٹ:
شکور پٹھان کی اس فیس بک تحریر پر قارئین کے کچھ دلچسپ، مفید اور معلوماتی تبصرے بھی ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔۔۔

Amin Bhayani
بہت عمدہ مضمون۔
محمد رفیع میرے والدِ مرحرم کے پسندیدہ تیرن گلوکار تھے اور میں نے ہوش سنبھالتے ہیں اپنے گھر میں محمد رفیع کو گاتے میرا مطلب ہیں کہ گیت بجتے سُنے۔
محمد رفیع کا تعلق لاہور، اندرونِ بھاٹی گیٹ سے تھا جہاں اُن کے خاندان کی حجامت بنانے کی دکان تھی۔ مگر اُن کا دل اُس کام میں نہیں لگتا تھا اور وہ ہر وقت ہارمونیم بجا کر اپنی مدھر آواز کا جادو جاگتے رہتے۔
مجھے ذاتی تو رفیع صاحب کے بے شمار گیت پسند ہیں۔ مگر میرے وہ پسندیدہ ترین پہلے تین گیت جن کو آپ نے اپنی فہرست میں شامل نہیں کیا وہ یہ ہیں:
ہوئی شام اُن کا خیال آ گیا // وہی زندگی کا سوال آ گیا
تیرے میرے سپنے اب ایک رنگ ہیں / / جہاں بھی لے جائے راہیں ہم سنگ ہیں۔
تو اِس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے // جہاں بھی جاوں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے۔

Mehboob Khan
رفی صاحب کی گائکی کی خوبی تھی کہ وھ جس
اداکار کے لیۓ گاتے تھے ،اپنی آواز کا زیر و بم اسکی اسٹائل میں دھا ل لیتے تھے، ایک طرف دلیپ کا انداز تو دوسری طرف بالکل مختلف انداز میں شمی کپور کا انداز
۔ شکور صاحب بہت اچھے انداز میں آپ نے رفی صاحب کو پیش کیا۔۔
علی سردار جعفری صاحب کی خوب صورت غزل " جس رات کے خواب آے " فلم حبہ خان کے لیۓ نوشاد کے ساتھ آخری بار ریکارد کرائ تھی۔ رفی صاحب اتنے جزباتی ھوۓ کہ ریکاردنگ کے پیسے لینے سے منع کر دیا۔ فلم بن نہ سکی مگر غزل یو ٹیوب پر پاپولر ھوگئ۔
اس خوب صورت غزل کو یو ٹیوب پر کسی صاحب نے وحید مراد کے کسی فلمی گیت پر دب کر پیش کی ہۓ
دلیپ کمار۔نوشاد۔کی آخری فلم 1968 میں " آدمی" آئ تھی۔ جسمیں رفی کے گانے تھے۔ اسکے بعد "داستان" اور "بیراگ" میں رفی کی آواز دلیپ کے لیۓ استعمال کی گئ۔ پھر دلیپ کمار کیریکٹر اداکار کے روپ میں آۓ جن میں گانوں کی گنجائش کم ھوگئ۔
اسٹیریو سسٹم کے آنے کی وجہ سے نۓ نۓ ساز اور آرکسٹرا میں رفی کی کلاسیکی آواز کچھ دن تک ساتھ چلی پھر فلم اندسٹری کی گروپ بندی کا شکار ھو گئ۔
دلیپ کمار نے کوئ خودنوشت نہیں لکھی ہۓ۔ دراصل سایرھ بانو نے اپنی ایک صحافی دوست سے یادداشت کی بنا پر so-called autobiography تیار کرائ ہۓ جسے دلیپ کے چاہنے والوں نے ریجیکٹ کر دیا۔
میں سمجھتا دلیپ کمار جیسا شخص رفی کے لیۓ اس طرح کے الفاظ نہیں نکال سکتا۔

Saood Saleem
عمدہ تحریر. رفیع کی عظمت کا کون قائل نہیں. افسوس اپنی صحت کو اہمیت نہیں دی. دل کی تکلیف کی شدت کو شاید سمجھ ہی نہ سکے اور لاپرواہی سے علاج کے لئے گئے. قدرت کو یہی منظور تھا. گائیکی تو تھی ہی غضب کی انسان بہت بڑے تھے.

Muhammad Sabir
آہ... نہ جانے کیوں میرے آنکھیں بھیگ گئی... لتا اور محمد رفیع نے جو " دل تیرا دیوانہ " کیلئے " مجھے کتنا پیار ہے تم سے اپنے ہی دل سے پوچھو تم " کو جس انداز اور خوبصورتی سے گایا ہے... اسی گانے سے محمد رفیع صاحب کا ایک بہت بڑا فین ہو گیا.... آپ نے بہت عمدہ لکھا ہے اُن پر... سدا خوش رہو... وہ کسی نے کہا ہے
Without music life would be a mistake..
لیکن میں کہتا ہوں
Without listen Muhammad rafee life would be a mistake

Ahmad Safi
نین لڑ جہئیں تو منوا ما کھٹک ہوئبے کری،،،
کیا دور یاد دلا دیا۰۰۰ مگر یاد دلانا کیا رفیع صاحب کا دور تو ختم ہی نہیں ہؤا نہ ہوگا۰۰۰ ہمارے والد کے انتقال کے فوراً بعد رفیع صاحب کی خبر آگئی تھی اور ایسا ہی محسوس ہؤا تھا کہ دہرا نقصان ہو گیا۰۰۰ اللہ ہر دو مرحومین کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے، آمین
بابل کی دعائیں لیتی جا (رفیع) اور چل ری دلہنیا ساجن کے دوارے لینے کو آئے کہار (حبیب ولی محمد) یہ دو گیت ایسے تھے جن پر میں نے اپنے والد کی آنکھوں میں آنسو دیکھے ہیں۔ جس نے بیٹی رخصت کی ہو وہ انہیں سن کر نمدیدہ ہؤے بغیر نہیں رہ سکتا۔ شائد یہی ڈوب کر گانا اور اشعار کو زندگی بخشنا کہلاتا ہے

Kamil Ali
سر بہت پیاری تحریر میں تو اتنا ھی کہوں گا کہ جسے اپنے فن سے عشق ھوتا ھے وہ نا معاوضوں کی پروای کرتا ھے نا کسی کو ناراض کرتا ھے ایسے لوگوں کی مجبوری بن جاتی اپنے فن کا اظہار چاھے مفت ھی کیوں نا کرنا پڑے سچا اور کھرا انسان ویسے بھی کاروباری چالاکیوں سے دور ھوتا کسی بھی ماھر فن کی زندگی کو دیکھ لیں یھی بات مشترک نظر آئے گی کہ دوسروں نے جی بھر کہ فائدہ اٹھایا .یہی سچے اور کھرے لوگوں کی پہچان ھوتی ھے

Kazi Nayyar Ali Khan
بمبئ مین سب سے پہلے ہارٹ ٹریمینٹ کی مشین کسی فلاحی دواخانے کو بطور عطیہ دینے والے محمد رفیع صاحب ہی تھے ۔رفیع صاحب بھلائ جانے والی شخصیت نہین ہئے ۔آج ہبدوستان کے کئ شہرون مین چوراہے اور راستے رفیع صاحب کے نام سے سرکاری طور منسوب کئے جا چکے ہین ۔۔جہاں ہر سال رفیع صاحب کے یوم ولادت پر کارپوریشن کی طرف سے پروگرام لیا جاتا ہئے ۔۔
موسیقار لکشمی کانت پیارے لال ۔ ۔پہلے پہل نوشاد صاحب کے سازندے ہوا کرتے تھے ۔۔جب انہوں نے بطور آزادانہ موسیقار فلموں مین کام شروع کیا تو انکو پہلی فلم تھی ۔ ۔ پارس منی ۔۔ انکا دل ہوا کہ انکی پہلی فلم مین رفیع صاحب سے گانے گوا ئے جائین ۔ رفیع صاحب کے ریٹ اسوقت سب سے ہائ تھے ۔۔پھر بھی دونون رفیع صاحب کے گھر گئے ۔ انکو نوشاد صاحب کے دورانِ ماتحت کی اپنی خدمات بتائن ۔اور اپنی آفر کے ساتھ ریٹ مین رعایت مانگی ۔ رفیع صاحب نے انکے تیار کردہ دھنوں کو سنا ۔ ۔ اور فلم مین بناء کسی معاوضے کے گیت گانا منظور کر لیا ۔ صرف اکاوؑ نٹ کی خانہ پری کے لئے ایک روپیہ پوری فلم کا لیا تھا ۔۔ اس فلم کی گیت بہت مشہور ہوئے ۔ اور آج بھی سنائ دیتے ہین ۔۔ جیسے ۔۔ روشن تم ہی سے دنیا رونق تم ہی جہاں کی ۔۔۔سلامت رہو ۔۔۔ اس کے بعد لکشمی کانت پیارے لال نے اپنی دوسری فلم دوستی کا پورا کسنٹریکٹ رفیع صاحب ہی کو دیا تھا ۔۔
رفیع صاحب کی آواز ۔ ۔ محبت کرنے والوں کے دلوں کی آواز تھی ۔ ۔ اور ہئے ور رہیگی ۔۔۔

Wasia Irfana
کچھ لوگ ہمیشہ کے لئے تاریخ کا حصہ ہی نہیں بنتے، ذہن میں جذب بھی ہو جاتے ہیں۔ رفیع صاحب ایسے ہی لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ ان کے بہترین نغموں کا انتخاب مشکل ہے۔ ان کا ہر گانا اپنے اپ میں بے مثال ہے۔شکور صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے رفیع صاحب کا ذکر چھیڑ کر دھڑکنوں کا ساز چھیڑ دیا ہے۔

Humaira Musheer
ایک پیار بھری تحریر ہم سب کے جزبات کو آپ نے الفاظ میں ڈھالا ۔رفیع صاحب کا نعمل البدل ہی نہیں ملا اب تک وہ صرف اچھے گلوکار ہی نہیں ایک بہترین انسان بھی تھے
اللہ رب العزت انکے درجات بلند فر مائے

Mohammed Zubair Makba
رفیع صاحب کے بے شمار گانے شہرت کی بلندیوں کو چھو گیے، بہت سے گلوکاروں کے بہت سے گانے مشہور ہوئے ہیں. کسی بھی گانے کی شہرت میں جتنا ہاتھ گلوکار کا ہوتا ہے اتنا ہی ہاتھ موسیقار کا بھی ہوتا ہے لیکن زیادہ شہرت گلوکار ہی کے حصے میں آتی ہے لیکن چند گانے ایسے ہوتے ہیں جن میں گلوکار کی کاوش موسیقار کی کاوش پر غالب ہوتی ہے. "او دنیا کے رکھوالے" ایسا ہے ایک گانا ہے جس میں گلوکار کی گلوکاری موسیقار کی موسیقاری پر غالب نظر آرتی ہے. موسقیت کے لحاظ سے اس گانے کی کمپوزیشن کوئی بہت غیر معمولی نہیں تھی لیکن گائکی کی اعتبار سے اس گانے میں رفیع صاحب کے گلے نے گانے کا جو اختتامی سر لگایا ہے وہ اتنی ہائی پچ کا ہے کہ اس کے بعد ہارمونیم میں سر کی آخری key ہی باقی بچ جاتی ہے. یہ بات میں بہت ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کیونکہ اس کومینٹ کو لکھنے سے پہلے میں نے یہ گانا سنا اور اپنے میلوڈین اور کی بورڈ پر اس گانے کے آخری سر کو چیک کیا. گلے کو اتنے ہائی پچ پر لیجانا کی مہارت صرف پکے ہوئے گلوگار ہی کی ہوسکتی ہے.

رہی بات یہ کے کیا رفیع صاحب برصغیر کے ایک نمبر گلوگار تھے یا نہیں تو یہاں میری رائے یہ ہے کہ فنکاری میں نمبر نہیں دیے جاسکتے. فنکار اچھا ہوتا ہے، بہت اچھا ہوتا ہے یا پھر عظیم ہوتا ہے. بُرا فنکار کوئی چیز نہیں ہوتی کیونکہ جو بُرا ہوتا ہے اسکی سرے سے فنکار کی فہرست میں جگہ ہی نہیں بنتی. رفیع صاحب کو میں فلمی گائیکی کی فہرست میں عظیم فنکاروں میں شمار کرتا ہوں. ہندوستان کی فلم انڈسٹری کو جو کاندھا اکیلے رفیع صاحب نے دیا وہ ان کے سارے ہمعصر مل کر بھی نہیں دے سکے. اگر رفیع صاحب نہیں ہوتے تو اُسوقت کی بہت سی ہندوستانی فلمیں فلاپ ہوگی ہوتیں. کئی فلمیں صرف رفیع صاحب کے گانوں کی وجہ سے شہرت پاگئیں. بدقسمتی سے رفیع صاحب کچھ عرصے کیلے تعصب کا شکار ہوگیے اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کو کشور کمار جیسا گلوکار بھی میسر آگیا. کشور کمار کی آواز اور گائیکی پر کوئی کلام نہی لیکن موسیقی سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں ہیں کے کشور کمار کو انڈسٹری میں فٹ رکھنے کیلے ہندوستان کی فلمی موسیقی میں تبدیلی لائی گئی. آر ڈی برمن کی موسیقی اور آشاء بھوسلے کی آواز کشور کمار کیلے ایک اچھا سہارا ثابت ہوئے، رفیع صاحب معدوم ہوتے گیے بلکہ کچھ عرصے تقریبا غائب ہی یوگیے لیکن ایسے میں فلم امر اکبر انتہونی بنی جس میں لکشمی کانت پیارے لال جو کہ نوشاد صاحب کے سازندوں میں سے تھے، جن کی موسیقی کے رموز کی تربیت نوشاد صاحب جیسے عظیم فنکار کی دست شفقت میں ہوئی تھی، انہوں نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی. رفیع صاحب کو اس فلم میں گوایا گیا اور پھر طوفان آگیا. جو یہ سمجھتے تھے کے رفیع کا دور ختم ہوگیا انہیں اندازہ ہوگیا کے رفیع مر نہیں سکتا. رفیع واقعی میں آج بھی نہیں مرا. میں اب بھی اپنے گھر میں مہینے میں ایک آدھ بار اپنے دوست کی بیٹی کے ساتھ جو کے میرے لیے میرے بچوں جیسی ہے اور بہت مدھر آواز کی مالک ہے گٹار پر سنگت کرتا ہوں. چند گانے اور غزلیں ایسی ہیں جن کے بغیر ہماری سنگت مکمل نہیں ہوتی جس میں رفیع صاحب کا گانا " سہانی رات ڈھل چکی"
لتا اور ہیمنت کمار کا "یاد کیا دل نے کہاں ہو تم"
جگجیت کا "شعلہ ہوں بھڑکنے کی گزارش نہیں کرتا" اور اقبال بانو کا "دشت تنہائی" شامل ہیں.
بھائی رسی جل گئی ہے پر بل نہیں گیا.
بھائی یہ موسیقی بچپن ہی میں مجھ سے چیونٹے کیطرح چمٹ گئی تھی. میں نے لوگوں کی باتوں میں آکر اسے طلاق بھی دی لیکن دوران عدت وہ ٹیڑھی نظروں اور معنی خیز مسکراہٹ کیساتھ مجھے کن انکھیوں سے اس طرح دیکھتی تھی جیسے شکوہ کر رہی ہو کہ "آگیے نادانوں کی باتوں میں. سچ سچ بتائیں مجھے اپنا کر کیا آپ واقعی میں بگڑ گیے؟ کیا مجھ سے تعلق کے بعد آپ زندگی میں زیادہ شائستہ نہیں ہوگیے. کیا آپ کے رویہ میں زیادہ لحاظ و رواداری نہیں آگئی. آپ اپنے سے بہتر فنکار کی عزت کرتے ہیں، ان کے آگے بچھ بچھ جاتے ہیں اپنے سے چھوٹے فنکار کی شفقت سے تربیت کرتے ہیں. انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں. ذرا ان کیطرف بھی نظر کیجیے جو کہتے ہیں کے میں آپ کیلے حرام ہوں. یہ تو اپنے ہی ہم پیشہ بھائیوں کی جان کے دشمن بنے پھرتے ہیں کُجا کے عام انسان. مجھے تو ڈر ہے کے مجھ سے تعلق توڑنے کے بعد اگر آپ نے ان کے چکروں میں پڑ گیے تو عاقبت کیساتھ ساتھ اپنی دنیا بھی نا خراب کر لیں.
بات مجھے معقول لگی. میں نے رجوع کرلیا.

Rafat Alavi
شکور بھائی، رفیع پر جتنا بھی لکھا جا ئے کم ھے. آپ نے مقدور بھر کوشش کی ھے اور اسں میں کامیاب بھی رھے ھیں.
نوشاد رفیع اور حسرت جے پوری کی ٹیم نے برصغیر کے لاکھوں دلوں کو سالوں سال اپنے سحر میں جکڑے رکھا ھے. آج بھی جب رفیع کے گانے بجتے ھیں تو اس پر پیر اور کمر نہیں تھرکتے بلکہ سر ھلتے ھیں.

Shahana Jawaid
رفیع کے اوپر اتنی مکمل پوسٹ آپ کے سوا کوئی نہیں لکھ سکتا. بہترین رفیع کے گانوں کا تو نعم البدل بھی نہیں.
میرا پسندیدہ بہارو پھول برساؤ... انڈین سینما کا نمبر ون گاناہے.

Riffat Murtaza
رفیع صاحب کی آواز چاہنے والوں کے دِ لوں پر حکو مت کرتی تھی ۔ اماں جان جو ہماری - اونچی آواز میں گانے سننے پر ناراض ہوا کرتی تھیں ، رفیع صاحب کی آواز سنتے ہی کہتیں " ذرا آواز تو بڑھانا" کیا آواز تھی !

بشکریہ: فیس بک تحریر از- شکور پٹھان
***
شکور پٹھان
شارجہ، متحدہ عرب امارات
شکور پٹھان

Mohammed Rafi the legend, a Memoir by Shakoor Pathan.

0 comments:

Post a Comment