Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-07-16 - بوقت: 01:04

ناول جانگلوس از شوکت صدیقی - ایک تنقیدی مطالعہ

Comments : 1
Janglos-by-Shaukat-Siddiqui
"جانگلوس" اردو کے ضخیم ترین ناولوں میں سے ہے کہ میرے پاس اس کا جو نسخہ ہے، وہ تین حصوں میں تقریبا دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ شوکت صدیقی اچھے قلمکار ہیں اور ان کے دونوں شاہکار ناولوں، خدا کی بستی اور جانگلوس، میں مجرمانہ معاشرے کی عکاسی کی گئی ہے۔ جانگلوس کی کہانی دراصل دو قیدیوں، لالی اور رحیم داد، کی کہانی ہے کہ جو جیل سے فرار ہوتے ہیں اور پولیس سے چھپنے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے مختلف جرائم پیشہ افراد سے ان کو سابقہ پڑتا ہے۔
شوکت صدیقی واقعتاً ایک تخلیق کار ہیں کہ کہانی کو اس انداز میں مرتب کیا ہے کہ قاری اس میں کھو جاتا ہے۔ ان کی کہانی میں ہر درجے کے ذہن کے لیے طمانیت کا سامان موجود ہے، ان کے لیے بھی کہ جو کہانی کو ایک کہانی کے طور پڑھتے ہیں اور ان کے لیے بھی جو کہانی کو ایک فلسفہ سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ پہلے حصے میں کہانی کا پلاٹ بہت جاندار ہے کہ قاری کا دل کہانی چھوڑنے کو آمادہ نہیں ہوتا لیکن جیسے ہی لالی کے کردار سے کہانی کا رخ رحیم داد کے کردار کی طرف مڑتا ہے اور ناول کے دوسرے حصے کا آغاز ہوتا ہے تو قاری کو احساس ہوتا ہے کہ اب ناول کی ضخامت بڑھانے کی خواہ مخواہ کی کوشش جاری ہے۔۔۔
جہاں تک ناول کی زبان کا تعلق ہے تو شوکت صدیقی صاحب نے ناول میں دیہاتی لب ولہجے کو اسی زبان میں نقل کیا ہے جیسا کہ "قتل" کو "کتل" اور "موقع" کو "موکع" لکھا ہے۔ یہ ایک طرف کہانی کا حسن بھی ہے اور دوسری طرف خامی بھی ہے۔ حسن اس اعتبار سے کہ ناول نگار نے حقیقت کا اس حد تک بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے کہ الفاظ کے حقیقی رسم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور خامی اس پہلو سے کہ زبانیں اسی طرح بگڑتی ہیں۔ اگر کوئی دو چار الفاظ کا معاملہ ہوتا تو ہم یہ بات بیان نہ کرتے لیکن ناول کے ہر صفحہ پر آپ کو دس بارہ الفاظ ایسے مل جائیں گے کہ جو اپنے اصل رسم میں نہیں لکھے گئے ہیں بلکہ دیہاتی لب ولہجے کے اعتبار سے انہیں نیا رسم دیا گیا ہے۔ اور تنقید کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ آپ کسی شاہ پارے کی خوبی اور خامی دونوں نقل کر دیں۔
جہاں تک ناول نگار کی سوچ کا تعلق ہے تو کسی ناول کے تنقیدی مطالعے میں اس کا جاننا بہت ضروری ہے اگرچہ اس میں مبالغے سے بچنا چاہیے۔ کچھ نقاد تو اس قدر مبالغہ کرتے ہیں کہ وہ ناول کے ہر دوسرے جملے میں مصنف کا ذہن پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ضروری نہیں ہے کہ ناول نگار کا ہر جملہ اس کے ذہن ہی کی عکاسی کرتا ہو، بعض اوقات وہ معاشرے کے مسائل بھی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ناول نگار اپنی تصنیف میں بس معاشرے کے حقائق ہی کو نقل کرتا ہے، اس کی اپنی سوچ اس میں نہیں ہوتی۔
ناول نگار نے ناول کے پہلے صفحہ پر کارل مارکس کا اقتباس نہ بھی دیا ہوتا تو بھی ناول سے یہ معلوم کرنا بہت آسان ہے کہ مصنف پر اشتراکیت کے فلسفے کا گہرا اثرموجود ہے اور ان کے ناول میں جو مقصدیت پائی جاتی ہے، وہ اشتراکی ہے نہ کہ مذہبی۔ اگرچہ ناول نگار کی سوچ کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ اشتراکی فلسفہ سے متاثر ہونے کے باوجود معاشرے کو مذہب سے اس طرح بدظن کرنے کی کوشش نہیں کرتے جیسا کہ اشتراکیوں کی عادت ہے کہ اہل مذہب کی برائیاں بیان کر کر کے مذہب کو بدنام کیا جائے اور اسے ایک افیون ثابت کیا جائے۔
ناول میں کہیں کہیں مذہب کے نام پر معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کا ذکر موجود ہے لیکن میرے رائے میں وہ مناسب انداز میں موجود ہے کہ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کیا گیا ہے۔ جانگلوس میں اہل مذہب ہر تنقید کا انداز یہ بتلاتا ہے کہ مصنف مذہب سے تعصب نہیں رکھتا ہے لیکن یہی مصنف جب خدا کی بستی میں اہل مذہب ہر نقد کرتا ہے تو اسلوب یہ بتلاتا ہے کہ وہ مذہب پر زیادہ تنقید اس لیے نہیں کرنا چاہتا کہ معاشرہ اس کے خلاف ہو جائے گا، اسے اس کی حکمت کہیں یا مصلحت، بہر حال مناسب طرز عمل ہے۔
عام لوگ تو ناول کو کہانی کی طرح پڑھتے ہیں کہ بس تفریح ہے، وقت گزارنے کا ایک بہانہ ہے لیکن ایک نقاد اس طرح سے کہانی کا مطالعہ نہیں کرتا بلکہ وہ تو یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس ناول یا کہانی کے انسانی لاشعور پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ناول نگار نے ناول میں جس طرح سے جرم کو پیش کیا ہے، اس میں صاف طور مبالغہ موجود ہے۔ چلیں، مبالغے کے بغیر تو کہانی بنتی ہی نہیں ہے، یہ ہمیں بھی معلوم ہے لیکن اتنا مبالغہ کہ ہر شخص ہی مجرم نظر آئے تو یہ مناسب نہیں ہے۔ معاشرے میں شر کے علاوہ خیر بھی ہر دور میں موجود رہا ہے کہ جس طرح دکھ کے ساتھ سکھ انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ البتہ اس اعتراض کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ناول معاشرے کے ایک خاص طبقے کے احوال بیان کرتا ہے نہ کہ بحثیت مجموعی پورے معاشرے کی تصویر کشی ہے۔
اب تک جو باتیں ہم نے کی ہیں تو ان میں خوبی اور خامی دونوں پہلو موجود ہیں لیکن ناول نگار کی دو باتیں ایسی ہیں کہ جن میں خامی ہی کا پہلو غالب ہے۔ ایک یہ کہ ناول نگار جب بھی کسی جرم کو بیان کرتا ہے تو اس کے بیان کا جو اسلوب ہے، وہ معتدل نہیں ہے۔ جرم تو اپنی تفصیل میں بیان ہو گیا لیکن اس جرم کی برائی اور شناعت اتنی تفصیل سے نہ نقل ہو سکی۔ اس کا قاری پر اثر یہ ہو گا کہ جب قاری نے یہ پڑھا کہ معاشرے میں تو ہر طرف جرم ہی جرم ہے کہ ہر دوسرا شخص جرم میں مبتلا ہے تو اب اگر وہ خود کسی جرم میں مبتلا ہے تو بڑی آسانی سے اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کر لے گا کہ ہر یہاں ہر دوسرا شخص بھی تو مجرم ہی ہے ناں۔
اس کا حل یہی تھا کہ ناول نگار ہر جرم کے بیان کے ساتھ اس کی برائی اور برے اثرات کو اس قدر مبالغے سے بیان کرتے کہ قاری کو اس جرم سے طبعا نفرت پیدا ہو جاتی تا کہ اگر وہ کسی جرم میں مبتلا بھی ہے یا ہونے جا رہا ہے تو کم از کم اپنے لیے یہ کہہ کر اطمینان کا سامان نہ پیدا کر لے کہ ہر دوسرا شخص بھی تو مجرم ہی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ناول نگار جرم کے بیان میں جس قدر فصیح ہے، قاری کے دل میں جرم سے نفرت پیدا کرنے میں اس قدر کامیاب نہیں ہے۔ اور ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جرم سے نفرت پیدا کرنے کے لیے آپ ناول میں وعظ شروع کر دیں، آپ جب اسے جرم کہہ رہے ہیں تو وہ لازما عقل اور طبعیت کے بھی خلاف ہی ہو گا، تو اس سے عقل ومنطق، انسانی جذبات واحساست کے تعلق کی نسبت سے نفرت پیدا کریں۔
اس ناول کی دوسری خامی جو کہ نسبتا گہری ہے اورعام افراد کی سمجھ سسے بہت بالا ہے، کو ایک مثال سے سمجھیں۔ ناول نگار نے اپنے ناول میں ایلیٹ کلاس کے ایک لائف اسٹائل کو بیان کیا ہے کہ جسے وہ سسپس نائٹ کہتا ہے۔ سسپنس نائٹ یہ ہے کہ آٹھ بیورو کریٹس ہیں کہ جن میں ایک ڈپٹی کمشنر، ایک ایس ایس پی، ایک کامیاب بزنس مین، ایک سیکرٹری وغیرہ ہیں۔ وہ آٹھوں ہر مہینے ایک رات اپنی بیویوں سمیت ایک بنگلے میں جمع ہوتے ہیں اورایک کھیل کھیلتے ہیں کہ جس کا ایک ایمپائر ہوتا ہے۔ اتفاق سے لالی جو کہ جیل سے مفرور ہے، اس کا واسطہ ڈپٹی کمشنر سے پڑتا ہے کہ جس کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو چکا ہے اور اسے دھکا لگانے کے لیے کسی فرد کی ضرورت ہے۔ لالی یہ ضرورت پوری کرتا ہے اور ڈپٹی کمشنر اسے اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے۔
جب سسپنس نائٹ آتی ہے تو اتفاق سے ایمپائر بیمار ہو جاتا ہے لہذا لالی کو ایمپائر بنا لیا جاتا ہے۔ ایک رات ایک بیورو کریٹ کے بنگلے میں آٹھوں بیوروکریٹس اپنی بیویوں سمیت جمع ہوتے ہیں جو کہ فل تیار ہو کر آئی ہوتی ہیں۔ ایک طرف صوفے پر آٹھ بیویاں بیٹھتی ہیں، دوسری طرف آٹھ مرد۔ اوپر والی منزل میں دس کمرے ہیں۔ قرعہ اندازی ہوتی ہے اور پہلے ہر بیوی کے نام سے ایک کمرے کا نمبر نکلتا ہے تو اس بیوی کو وہاں اسی کمرے میں لالی چھوڑ آتا ہے اور باہر سے دروازہ لاک کر دیتا ہے۔ اس طرح آٹھ بیویوں کے آٹھ کمروں میں چلے جانے کے بعد مردوں کی قرعہ اندازی ہوتی ہے اور ہر مرد کے نام سے ایک کمرے کا نمبر نکلتا ہے اور اسے اسی کمرے میں لالی چھوڑ آتا ہے۔ اگر اتفاق سے کسی مرد کا نام ایسے کمرے کا نمبر نکلے کہ جس میں اسی کی بیوی موجود ہو تو اس کی قرعہ اندازی دوبارہ کی جاتی ہے۔ اس طرح یہ آٹھوں بیوروکریٹس ایک دوسرے کی بیویوں کے ساتھ قرعہ اندازی کر کے رات گزارتے ہیں۔
مجھے اس پر اس وقت کوِئی مذہبی نقد نہیں کرنی کہ اس کا مذہبی اسٹیسٹس سب کو معلوم ہے اور ویسے بھی ادیبوں کو وعظ سے نفرت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک واعظ کا ذہن سطحی ہوتا ہے۔ یہاں دراصل لالی کا ڈپٹی کمشنر اور اس کی بیگم سے ایک مکالمہ ہوتا ہے جبکہ وہ ان دونوں کے ان کے کمرے میں چھوڑنے جا رہا ہوتا ہے، وہ مکالمہ بہت اہم ہے۔ لالی، ڈپٹی کمشنر سے پوچھتا ہے کہ اس کا دل کیسے اس پر راضی ہو جاتا ہے کہ اس کی بیوی دوسرے کے ساتھ رات گزارے جبکہ یہ تو سیدھی سادھی بے غیرتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اپنے اس فعل کو لاجیسائز کرتا ہے یعنی اس کو لاجیکل بنا کر پیش کرتا ہے۔ مثلا ڈپٹی کمشنر کا کہنا یہ ہے کہ انسانی طبیعت کی یہ فطرت ہے کہ وہ ایک ہی چیز سے اکتا جاتی ہے لہذا ہم دراصل اپنی اکتاہٹ کا علاج کرتے ہیں اور یہ اکتاہٹ میاں اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے سے ہو جاتی ہے۔ بہر حال دوسری شادی اور ہیرا منڈی کے چکر لگانے کے جو جھنجھٹ ہیں، وہ اس میں نہیں ہیں۔
چلیں، آپ کسی درجے میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو ایک سطحی لاجک ہوئی لیکن اس لاجک پر ایک اور لاجک بیوی کی طرف سے یہ دی گئی کہ اس طرح کرنے سے بیویوں کو یہ فائدہ ہوا کہ اب وہ بننا سنورنا شروع ہو گئی ہیں یعنی پہلے وہ شوہروں سے اکتاہٹ کے نتیجے میں موٹی اور بھدی ہو گئی تھیں لیکن جب سے سسپنس نائٹ کا دور شروع ہوا ہے تو انہوں نے دوسرے مردوں کی خواہش میں تیار ہونا شروع کر دیا ہے اور اب جسمانی طور پر فٹ ہیں کہ جس کا فائدہ ظاہری بات ہے کہ ان کے شوہروں کو بھی ہوتا ہے۔
چلیں، یہ بھی ایک اور سطحی لاجک کہہ لیں، لیکن خطرناک ترین بات وہ تھی جو ڈپٹی کمشنر نے یہ کہہ کر لالی سے کہی کہ اس طرح کی نائٹ گزارنے سے میاں بیوی کی محبت بڑھ جاتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب اس کی بیوی دوسرے کے شوہر کے ساتھ رات گزارتی ہے اور اگر وہ شوہر اس سے زیادہ ہینڈ سم اور مضبوط ہو تو وہ اس کی طرف ایٹریکٹ ہوتی ہے اور شوہر اس ایٹریکشن سے خار کھاتا ہے لہذا بیوی کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے اور دوسرے مرد کو اپنا رقیب سمجھتا ہے، اس طرح وہ اپنی بیوی کا زیادہ خیال رکھنا شروع ہو جاتا ہے اور ان کی ازدواجی زندگی بہتر ہو جاتی ہے۔
جس طرح سے شوکت صدیقی صاحب نے اس سسپنس نائٹ کو فلوسوفائز کیا ہے، اس سے ایلیٹ کلاس میں اس کی طرف رغبت تو بڑھ سکتی ہے، اس سے نفرت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ لاجکس تو اس کے خلاف بھی بہت موجود ہیں۔ ہمیں اکتاہٹ کے مسئلہ ہونے سے انکار نہیں ہے لیکن ہم آپ کو یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ میاں بیوی کی اکتاہٹ کا جو علاج سسپنس نائٹ میں تجویز کیا گیا ہے، اس سے اکتاہٹ دور نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔ مغرب کو بیوی سے اکتاہٹ ہوئی تو عورت کی طرف متوجہ ہوا، اس سے اکتاہٹ ہونے لگی تو ہم جنس پرستی پر آ گئے کہ مرد، مرد سے اور عورت، عورت سے شہوت حاصل کرے۔ اس سے اکتائے تو جانوروں کی طرف متوجہ ہو گئے، وہاں سے بھی اکتا گئے تو اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں، سب کچھ تو کر لیا ہے۔۔۔
بات یہ ہے کہ سیکس دو قسم کا ہے، ایک وہ جو انسان کی بائیولاجیکل ضرورت ہے، اور اس کے لیے بیوی کافی ہے بشرطیکہ وہ شوہر سے اس مسئلے میں مکمل تعاون کرتی ہو جبکہ عورت کی طبعا زیادہ ضرورت رومانس ہے نہ کہ سیکس۔ اور دوسرا سیکس وہ ہے جو انسان کی ذہنی ضرورت ہے تو اس کے لیے کچھ بھی کافی نہیں ہے۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ جب سیکس انسان کے دماغ میں گھس جائے تو وہ ہمیشہ سیکس کے مسئلے میں پریشان رہے گا۔ ہمارے معاشروں بلکہ فلسفیوں، ادیبوں اور آرٹسٹوں کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ سیکس جو کہ بائیولاجیکل ضرورت تھی، اسے ذہنی ضرورت بنا دیا گیا ہے۔ مصنف نے لالی کی زبانی اسے بے غیرتی کہہ کر اس پر جو نقد کی ہے، اسے جذبات سے جوڑ کر ہلکا بنا دیا ہے اور خود اس عمل کو لاجک کی بنیاد فراہم کر کے اعلی سوچ بنا دیا ہے۔
اس لیے جب سے وہ ذہنی ضرورت بنا ہے، ہر ناول نگار نے اسے معاشرے کا بنیادی ترین مسئلہ دکھایا ہے۔ بھائی، سامنے کی بات ہے کہ ایک بھوک وہ ہے جو تمہارے پیٹ کی ہے اور یہی اصل بھوک ہے اور ایک وہ ہے جو تمہارے ذہن میں ہے، تو جو تمہارے ذہن میں ہے، وہ دھوکا ہے۔ پس حل یہ نہیں ہے کہ ذہنی بھوک کو مٹانے چل پڑو بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ ذہن کی اصلاح کرو۔ بھئی، دو لفظوں میں خلاصہ یہ ہے کہ اکتاہٹ تمہارے دل میں نہیں، ذہن میں ہے اور ذہن کی اکتاہٹ، ایبنارمیلٹی ہے، اس کا علاج کرو۔

***
اسسٹنٹ پروفیسر، کامساٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور
mzubair[@]ciitlahore.edu.pk
فیس بک : Hm Zubair
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

A critical study of an urdu novel Janglos by Shaukat Siddiqui. Article: Dr. Hafiz Md. Zubair

1 comments: