Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-06-19 - بوقت: 17:44

بچوں کے ساتھ رہنے کی فرصت نہ مل سکی

Comments : 0
موسم گرما کی شدت کے پیش نظر حکومت تلنگانہ نے ریاستی تعلیمی اداروں کو ایک ہفتہ قبل ہی تعطیلات دینے کااعلان کردیاورنہ شیڈول کے حساب سے گرما کی یہ تعطیلات ایک ہفتہ بعد ہی شروع ہونی تھی۔
احمد بھائی اپنے بچوں کی چھٹیوں کے لئے بہت کچھ سونچ کر تو رکھا تھا مگر ذرا اطمینان سے تھے کہ ابھی تو آٹھ دس دن کی چھٹیاں باقی تھی مگر جب اچانک پتہ چلا کہ بچوں کی چھٹیاں تو غیر اعلانیہ طورپر 10 دن پہلے ہی شروع ہوگئی ہیں تو خبر سے بھاگ دوڑ کر اُنھوں نے اپنے گھر کا پُرانا کمپیوٹر نکال کر ایک دوسرا کمپیوٹر خریدا اور انٹرنیٹ والے کے پیچھے پڑکر دو دن میں گھر پر انٹرنیٹ کا نیا کنکشن لگوالیا۔ احمد بھائی چاہتے تھے کہ اُن کے بچے گرما کے اس شدید موسم کی سختوں سے بچے رہیں اور گھر سے باہر زیادہ اور غیر ضروری نہ نکلیں اور اپنا زیادہ تر وقت گھر میں ہی گزاریں۔ احمد بھائی کا بڑا لڑکا اب ماشاء اللہ سے آٹھویں جماعت میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اُن کی لڑکی پانچویں جماعت میں کامیاب ہوگئی تھی۔ دوسرے بچے ابھی چھوٹی جماعتوں میں تھے۔
احمد بھائی اپنے بڑے بچوں سے بڑے خوش تھے جس کمپیوٹر کو اُنھوں نے (30)برس کی عمر میں پہلی مرتبہ استعمال کرنا سیکھا اُس کمپیوٹر کو اُن کا لڑکا سات سال کی عمر میں استعمال کررہا تھا۔ بچوں کے اسکول میں دیئے جانے والے Assignmentاور پراجکٹ کے لئے Printout نکالنے اُنھیں باربار محلے کے انٹرنیٹ کیفے کا رُخ کرنا پڑتا تھا۔ اس لئے اُنھوں نے گزشہ برس ہی گھر پر ایک سکینڈ ہینڈ کمپیوٹر خرید رکھا تھا لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے وہ کمپیوٹر بار بار Struck ہورہا تھا تب اُنھوں نے بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ اس مرتبہ Summer کی چھٹیوں میں وہ کمپیوٹر ہی نہیں بلکہ پرنٹر اور اسکیانر بھی خرید کر لادیں گے۔ بہرحال احمد بھائی کو تھوڑا اطمینان ہوگیا تھا کہ شدت کی گرمیوں کے موسم میں ان کے بچے گھر سے باہر دھوپ میں نہیں نکلیں گے۔ قبل از وقت ملنے والی ان آٹھ دنوں کی چھٹیوں کے آٹھ دن بھی نہیں گزرے کہ احمد بھائی کو نئی فکروں نے آگھیرلیا تھا۔
احمد بھائی نے جو تفصیلات بتلائی ہیں اُس کے مطابق اُن کے لڑکے نے اپنی چھٹیوں کے آغاز میں ہی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر سب سے پہلے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھول لیا اور آٹھ دن کے اندر اندر ان کے لڑکے کے سینکڑوں دوست بن چکے تھے۔ اُن کے لڑکے کے حوالے سے احمد بھائی بتلاتے ہیں کہ ایک ایک دن میں اس کو 50-50لوگ دوست بننے کے لئے Request بھیج رہے تھے۔ تشویش کی بات یہ تھی کہ اُن کا لڑکا جن لوگوں کو اپنی فرینڈ لسٹ میں شامل کررہا تھا اُن میں سے وہ کسی کو بھی شخصی طورپر نہیں جانتاتھا۔ اس کے علاوہ جب احمد بھائی نے اُس چیاٹنگ کے میں دریافت کیا جو اُن کے بچے نے اپنے فیس بک کے دوستوں کے ساتھ کی ہے تو پتہ چلا کہ کوئی اُس کو اپنے گھر کے فوٹوز بھیجنے کی فرمائش کررہا ہے تو کوئی اُس کو اپنے بھائی بہنوں کی گروپ فوٹو بھیج کر انعامی مقابلے میں حصہ لینے کی ترغیب دلارہا ہے۔ کوئی دوست احمد بھائی کے بچے کو اپنی لاکھوں ڈالر کا بینک بیالینس بھیجنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ایک موذی مرض میں مبتلا ہے اور آخری سانس گن رہا ہے۔ اسی تحفے میں ملنے والے لاکھوں ڈالر کو حاصل کرنے کے لئے احمد بھائی کے بیٹے نے گھر کے فریج پر رکھے ہوئے ان کے ATM کارڈ اور بینک کی تفصیلات اپنے دوست کو بھیج بھی دیں جس پر دوست نے بتلایا کہ اس ATMکارڈ کی Validity ختم ہوچکی ہے۔ وہ دوسرے Valid کارڈ کا نمبر و تفصیلات بھیجئے جب احمد بھائی کا لڑکا اُن سے اُن کے نئے ATM کارڈ کی تفصیلات پوچھنے لگا تب ہی کہیں جاکر احمد بھائی کا ماتھا ٹھنکا کہ اُن کا لڑکا اُن کے نئے ATM کی تفصیلات کیوں پوچھ رہا ہے۔ یہ تو وہ قصہ ہے جس میں احمد بھائی اپنے بچے کی انٹرنیٹ کی مصروفیات کے سبب دھوکہ کھانے کے قریب تھے۔ یہ خوش قسمتی سے بال بال بچ گئے۔ دوسری خوش قسمتی یہ تھی کہ احمد بھائی کا لڑکا اپنے گھر والوں کی فوٹوز بھی اپنے ایک نائیجریا کے دوست کو بھیج نہیں سکا۔ دراصل احمد بھائی کا لڑکا گھر کے موبائیل فون سے گھر کے ہر فرد کی فوٹو تو کھینچ لیا تھا لیکن فون کو کمپیوٹر سے جوڑنے والا کیبل وائر خراب ہوجانے سے احمد بھائی کا لڑکا اُن فوٹوز کو کمپیوٹر پر منتقل نہیں کرسکا۔
تعطیلات کے 8 تا 10 دن میں ہی اتنا سب کچھ ہوگیا کہ احمد بھائی کو سمجھ میں آگیا کہ تعطیلات کے دوران وہ بچوں کو کمپیوٹر دلاکر اطمینان سے نہیں رہ سکتے ہیں‘ بغیر نگرانی کے بچوں کو آن لائین کمپیوٹر پر بیٹھنے دینے کی اجازت کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ احمد بھائی کے بچے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف ایک مثال ہے۔ معلوم نہیں ایسی ذرا سی غفلت نہ صرف بچوں کو بلکہ گھر کے ہر فرد کو خطرات میں مبتلا کرسکتی ہے۔ صرف کمپیوٹر دلا دینا کافی نہیں اور بچوں کو چھٹیوں کے دوران صحت مند سرگرمیوں کو کیسے مشغول کیا جائے یہ ایک امتحا ن سے کم نہیں اور کتنے والدین اور سرپرست اس طرح کے سالانہ (چھٹیوں) امتحانات میں کامیاب ہوتے ہیں اس کا تجزیہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا جو والدین اور سرپرست اس طرح کے مغالطے میں ہوتے ہیں کہ ہم تو اپنے بچوں کو چھٹیوں کے دوران دھوپ سے بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اوراب ہمارے بچے کمپیوٹر پر ہی بیٹھ رہے ہیں۔ کمپیوٹر کرنا کمپیوٹر پر بیٹھنا کس طرح بھی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے جو والدین ایسا سمجھ رہے ہیں اُن کو دوبارہ احتساب کرنا ہوگا۔ اسکول وکالجس میں تو بچوں کو صرف سر ٹیفکیٹ اور ڈگریاں دی جاتی ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’ڈگریاں تو محض تعلیمی اخراجات کی رسید ہوتی ہیں‘ علم تو انسان کی گفتگو اور عمل سے ظاہر ہوتا ہے‘‘۔
اس مقولہ کی روشنی میں ذرا اپنے بچوں سے بات کرکے دیکھ لیجئے گا آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ ہمارے بچوں کو کتنا علم ہے۔ ان کی مصروفیات کو دیکھ لیجئے گا۔ آپ جان جائیں گے ہمارے بچوں میں کس قدر انسانیت ہے۔
2؍ستمبر 2015 کو کنگ کوٹھی میں واقع ایک اسکول میں دسویں جماعت کے دو طلباء کے درمیان اسکول کے احاطہ میں لڑائی کاایک واقعہ سب کے سامنے ہے جہاں پر دسویں جماعت کے متعلم محمد عامر صدیقی کی اپنے ساتھی طالب علم کے مارنے سے موت واقعہ ہوگئی تھا۔
گذشتہ برس ہی میر چوک پولیس اسٹیشن کے حدود کا واقعہ ہم لوگ بھولے نہیں ہے جس میں 13مئی 2015 کو صبح کے وقت کالج کے طلباء کے درمیان ہوئی۔ ایک اسٹریٹ فائیٹ نے 17 سال کے انٹرمیڈیم کے طالب علم محمد نبیل کی جان لے لی تھی۔ اس واقعہ کے بعد نبیل کے ساتھیوں نے بجائے اعتراف جرم کے اس واقعہ کو ایک حادثہ کا رنگ دیا۔ یہاں تک کہ نبیل کی تدفین بھی ہوگئی۔ بعد میں اسٹریٹ فائیٹ کا ویڈیو پھیلنے سے اس سنگین واقعہ کی پول کھل گئی ۔ اس سارے واقعہ میں کوئی جرائم پیشہ افراد ملوث نہیں تھے بلکہ سبھی کسی نہ کسی کالج اور اسکول کو جانے والے نوجوان تھے۔ ان سارے واقعات سے اس بات کا تو پتہ چل جاتا ہے کہ اسکول اور کالج میں بچوں کو تعلیمی اسنادات حاصل کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے اور ان نوجوانوں اور بچوں میں اخلاق و کردار کی تعلیم و تربیت سے سنگین لاپرواہی برتی جارہی ہے۔
ایسے پس منظر میں ہر سال موسم گرما میں‘ ملنے والی تعطیلات ایک نعمت سے کم نہیں۔ اگر والدین اپنے بچوں کی شخصی ترقی میں دلچسپی رکھتے ہیں تو وہ ان 40‘50دنوں کیلئے باضابطہ پروگرام بناکر اپنے بچوں کا بھلا کرسکتے ہیں۔
تعطیلات کے اسی موسم میں 18؍اپریل کی رات ہی ساوتھ زون پولیس نے (192) بچوں کو رات دیر گئے آوارہ گردی کرتے ہوئے پکڑ لیا۔ ان میں سے (24) بچوں کی عمر تو نابالغ بتلائی گئی‘ گزشتہ ایک سال سے ساوتھ زون کے ڈی سی پی وی ستیہ نارائنا چبوترہ مہم چلا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ایک ہی رات میں تقریباً (200) بچوں کا رات دیر گئے گھر سے باہر پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین آج بھی اپنے بچوں کی تربیت کے لئے فکر مند نہیں ہے اور پولیس کی مہم والدین کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیوریو (NCRB)ملک بھر میں جرائم کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کرکے مرتب کرتا ہے۔ اس کی سالانہ رپوٹوں کا بغور مطالعہ کریں پتہ چلے گا کہ ہر گزرتے برس کے ساتھ ہمارے نابالغ بچوں کا جرائم میں ملوث ہونے کا گراف بڑھتا ہی جارہا ہے۔ معمولی چوری کے جرم سے لے کر اغوا اور عصمت ریزی کے جیسے سنگین جرائم میں بھی نا بالغ بچے ملوث ہورہے ہیں۔ سال 2014 کی سالانہ (NCRB) کی رپورٹ کے مطابق اُس برس (33,526) نا بالغان ملزمین کے خلاف آی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے اور اس کے ساتھ میں اُن نا بالغان ملزمان کو شامل کرلیں جنہیں مختلف ریاستوں کے خصوصی قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے تو جملہ نابالغ ملزمان کی تعداد (48,230) تک جاپہنچتی ہے۔
ہم بچوں کو چھٹیوں کے دوران کمپیوٹر اور موبائیل فون تھما کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کو مصروف کردیا ہے اور چھٹیوں میں ان کو تفریح کرنے کا بھی موقع فراہم کیا ہے تو ہمیں جان لینا چاہئے کہ ہم نے بچوں کی تربیت کو فراموش کردیا ہے۔ فون کی ہی بات نکلی تو ہے۔ شاہ عنایت گنج کے رہنے والے 15سالہ ابھے مودانی کے اغوا اور قتل کا واقعہ قابل غور ہے۔ ابھئے کو اغوا کرنے والوں نے اُس کا اغوا یہی سونچ کر کیا کہ ابھئے کے ہاں نیا اور بھاری فون ہے۔ یقیناًابھئے کے والد کے ہاں بہت سارا پیسہ ہے تبھی تو اُنھوں نے اپنے بچے کو اتنا قیمتی فون دلایا ہے اور ہم اگر ابھئے کا اغوا کرکے تاوان طلب کرتے ہیں تب ہمیں بہت ساری رقم مل سکتی ہے۔ ابھئے کے اغوا کا واقعہ منہ پر ٹیپ غلط طریقے سے باندھنے سے قتل میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اغوا کرنے والے بھی جلد ہی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں لیکن اس سارے واقعہ میں ایک معصوم کی جان چلی جاتی ہے۔
جو والدین تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلواکر اطمینان کی نیند سولیتے ہیں اُن کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ عابڈزپر واقع ایک ڈگری کالج کی نوجوان طالبہ کی کالج کے ہی دو طالب علموں کی جانب سے عصمت ریزی کا واقعہ بھی ہمیں جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔
22؍مارچ 2016 کو میڈیا کے مختلف گوشوں نے اس واقعہ پر تفصیلی رپوٹیں شائع کی۔ اس واقعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے۔ ہم اسکول وکالجس میں بچوں کو داخلہ دلواکر اطمینان کی سانس لیتے ہیں لیکن اسکول وکالجس میں انتظامیہ کی ترجیحات کچھ اور ہوتی ہیں۔ ایسے میں ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے خود ہی فکر کرنی ہوگی۔ اسکول وکالجس کے زمانے میں ہوم ورک اور ٹیوشن کے سبب بچوں کی تربیت کے لئے وقت نہیں ملتا اور اب اسکول وکالجس کی چھٹیاں مل گئی تو ہم بچوں کو کرکٹ کے کیمپ‘ کمپیوٹراور موبائیل فون کے حوالے چھوڑ کر یہ توقع کریں کہ ہمارے بچے ان چیزوں سے اچھی عادتیں سیکھ لیں گے تو یہ خام خیالی ہی ہوگی۔
ہم کب تلک پیسہ کمانے بھاگتے رہیں گے۔ پیسے سے سب کچھ حاصل تو نہیں کیا جاسکتا ہے او رپیسہ بہت کچھ ہونے کے باوجود سب کچھ نہیں بن سکا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؂
دولت کی بھوک تھی تو کمانے نکل گئے
دولت ملی تو ہاتھ سے رشتے نکل گئے
بچوں کے ساتھ رہنے کی فرصت نہ مل سکی
فرصت ملی تو ہاتھ سے بچے نکل گئے

***
پروفیسر مصطفیٰ علی سروری
اسوسی ایٹ پروفیسر ، ڈپارٹمنٹ آف ماس کمیونکیشن اور جرنلزم ، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد۔
sarwari829[@]yahoo.com
موبائل : 9848023752
مصطفیٰ علی سروری

Spending time with children. Article: Prof. Mustafa Ali Sarwari

0 comments:

Post a Comment