Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-06-03 - بوقت: 02:12

گلبرگ سوسائٹی قتل عام مقدمہ - 24 ملزم قصوروار 36 بری

Comments : 0
احمدآباد
پی ٹی آئی، آئی اے این ایس
گجرات کی ایک خصوصی عدالت نے2002مین ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران دارالحکومت احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں ہوئے قتل عام کے مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے24ملزمین کو خاطی قرار دیا ہے۔ عدالت نے جن افراد کومجرم قرار دیا ہے ان میں سخت گیر ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد کے ایک رہنما اتل ویدیا اور کانگریس کے سابق کونسلر میگھ سنہہ چودھری بھی شامل ہیں ۔ قصور وار قرار دئیے جانے والے چوبیس کے منجملہ گیارہ ملزمین کو تعزیرات ہند کی دفعہ302( قتل عمد) کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے۔ تمام مجرمین کی سزا کاتعین چھ جون کو کیاجائے گا ۔خصوصی عدالت کے جج پی بی دیسائی نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے دیگر36ملزمین کو بری کردیا ہے جن میں گجرات پولیس کے انسپکٹر جی اردا اور بی جے پی کے کارپوریٹر بپن پٹیل بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ تزکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ایک غضبناک ہجوم نے28فروری2002کو احمد آباد کی گلبرگ ہاؤزنگ سوسائٹی میں داخل ہوکر69افراد کو زندہ جلادیا تھا جن میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری بھی شامل تھے ۔ یہ فسادات گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین پر ہونے والے حملہ کے بعد ہوئے تھے جس میں59افراد کو ہلاک کیا گیا تھا ۔ یہ واقعہ جس وقت پیش آیا تھا اس وقت ملک کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی گجرات کے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز تھے ۔ گلبرگ سوسائٹی کیس نے قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا تھا ۔تقریبا چار سو افراد پر مشتمل ہجوم نے احمد کے وسطی علاقہ میں واقع سوسائٹی پر حملہ کرتے ہوئے یہاں رہنے والوں کو ہلاک کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کی تقرر کردہ خصوصی تحقیقات ٹیم( ایس آئی ٹی) نے جن نو کیسس کی تحقیقات کی ہیں یہ کیس بھی ان میں شامل ہے۔، بری کئے جانے والوں میں کانگریس کارپوریٹر میگھ سنہہ چودھری اور پولیس انسپکٹر کے جی اردا بھی شامل ہیں ۔ جن کے علاقہ کے تحت گلبرگ سوسائٹی واقع تھی ۔ سپریم کورٹ نے جو اس کیس کی نگرانی کرتا ہے ، ایس آئی ٹی کو ہدایت دی تھی کہ وہ31مئی تک اپنا فیصلہ سنا دے ۔ ایس آئی ٹی نے اس کیس میں66افراد کو ملازم بنایا تھا۔جن کے منجملہ9سلاخوں کے پیچھے ہیں جب کہ دیگر ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں ۔ اس کیس میں بری کئے جانے والوں میں شامل بپن پٹیل آسروا حلقہ کے بی جے پی کارپوریٹر ہیں ۔ وہ2002میں بھی کارپوریٹر تھے جب قتل عام کا واقعہ پیش آیا تھا اور گزشتہ سال مسلسل چوتھی میعاد کے لئے انہوں نے انتخاب جیتا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران فساد متاثرین کے وکیل نے استدلال کیا تھا کہ یہ قتل عام گلبرگ سوسائٹی کے اقلیتی برادری کے ارکان کو ہلاک کرنے ملزمین کی منصوبہ بند مجرمانہ سازش تھی ۔ وکیل صفائی نے استغاثہ کے سازش کے نظریہ کی تردید کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ احسان جعفری کی جانب سے کئی راؤنڈ فائرنگ کئے جانے کے بعد ہی ہجوم تشدد پر اتر ایاتھا ۔ جج نے تمام ملزمین کے خلاف سازش کے الزام کو بھی مسترد کردیا ہے ۔ 11ملزمین کو قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔66ملزمین کے منجملہ چھ مقدمہ کی کارروائی کے دوران فوت ہوچکے ہیں ۔ آج مجرم قرار دئیے گئے چوبیس کے منجملہ گیارہ کو قتل کا جب کہ دیگر تیرہ کو جن میں وی ایچ پی قائد اتل ویدیا بھی شامل ہیں ، کم تر جرائم کا خاطی قرار دیا گیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اس کیس میں مجرمانہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور تعزیرات ہند کی دفعہ120Bکو خارج کردیا۔

نئی دہلی
پی ٹی آئی
دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر نے آج گلبرگ ہاؤزنگ سوسائٹی مقدمہ میں گجرات کی عدالت کے فیصلہ کو وزیر اعظم نریندر مودی پر داغ قرار دیا ۔ اس وقت وہ گجرات کے چیف منسٹر تھے جب یہ قتل عام ہوا تھا ۔ پیپلز یونین فارسیول لبریٹیز کے سابق صدر نے ایک بیان میں ہندو شر پسندوں کے فرقہ ورانہ طریقہ کار کی بھی مذمت کی جو مکانات کے انہدام کے پیش نظر مسلم خاندانوں کو ایک بستی میں منتقل کرنے کی مزاحمت کررہے ہیں ۔ ایک قومی روزنامہ میں شائع رپورٹ کے بموجب وڈورا کے پڑوسی کپور رائی کے باشندوں کو ان کا مقام تبدیل کرتے ہوئے آباد کیاجانے والا تھا اس علاقہ میں تقریبا تین سو بے گھر خاندان جن میں بیشتر مسلمان ہین، مقیم تھے لیکن ہندو شر پسندوں نے وڈودرا میونسپل کارپوریشن کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے ۔

Gulberg Society verdict: 24 convicted, 36 acquitted

0 comments:

Post a Comment