Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-09 - بوقت: 17:45

این آئی ٹی سری نگر کے واقعات کی مجسٹریٹ تحقیقات کا حکم

Comments : 0
سری نگر
پی ٹی آئی، یو این آئی
عالمی ٹی20کرکٹ کپ سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے بعد مقامی اور غیر مقامی طلباء کے درمیان جھگڑے کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں سرخیوں کی زینت بننے والی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی( این آئی ٹی) سری نگر میں غیر مقامی طلبہ نے آج ایک بار پھر مارچ کی صورت میں مصروف ترین حضرت بل روڈ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم وہاں موجود سیکوریٹی فورس عہدیداروں نے اس کی اجازت نہیں دی جس کے بعد طلبہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنے ہاسٹلوں کو واپس لوٹ گئے ۔ حکومت جموں و کشمیر نے ادارہ میں پیش آئے واقعات کی مجسٹریل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔ این آئی ٹی کیمپس کے اندر اور باہر سی آر پی ای کی دو کمپنیاں بدستور تعینات ہے جس کی وجہ سے یہ ادارہ قلعہ میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے ۔ تاہم ایک اطلاع کے مطابق گزشتہ د و دنوں کے دوران کیمپس کے اندر اورباہر نیم فوجی دستوں کی مزید تین کمپنیاں تعینات کردی گئی ہیں ۔ وزارت فروغ انسانی وسائل کی ایک ٹیم مرکز نے کیمپس کے لئے روانہ کی تھی جس نے احتجاجی طلبا اور ٹیچرس سے ملاقات کی۔ غیر مقامی طلبہ نے پانچ مطالبات سامنے رکھے ہیں جن میں این آئی ٹی کے باب الداخلہ کے قریب مستقل طور پر ترنگا لہرانا، این آئی ٹی کو کشمیر سے باہر منتقل کرنا، کیمپس میں جموں و کشمیر پولیس کی جگہ سی آر پی ایف تعینات کرنا، قوم دشمن سر گرمیوں میں ملوث فیکلٹی ارکان کے خلاف سخت کارروائی اور فیکلٹی کی جانب سے تدریسی ہراسانی کو روکنے کے لئے امتحانات میں شفافیت لانا شامل ہیں۔ این آئی ٹی انتظامیہ نے غیر مقامی طلبہ سے کہا ہے کہ اگر ان کے والدین کی طرف سے سفارش کی گئی کہ ان کے بچوں کو کچھ دنوں کے لئے اپنے اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے ، تو انہیں (انتظامیہ) کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ رخصت پر جانے والے طلبہ کا امتحان بعد میں لیاجائے گا۔ این آئی ٹی سری نگر میں کئی ایک کورسوں کے امتحانات11 اپریل سے شروع ہونے جارہے ہیں اور شبہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ غیر مقامی طلبا کی ایک اچھی خاصی تعداد امتحانات میں بیٹھنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ مقامی کشمیری طلبہ نے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی طرف سے بھیجی گئی تین رکنی ٹیم کو ایک یادداشت پیش کی ہے جس میں غیر مقامی طلبہ کے کیمپس میں سی آر پی ایف کی مستقل تعیناتی کی مخالفت کی گئی ہے ۔ مقامی طلبہ نے یاداشت میں کہا ہے کہ ایسا کرنے سے کیمپس میں خطرہ کا سماں پیداہونے کا اندیشہ ہے ۔ طلبہ نے ٹیم کی توجہ کشمیر میں 2008ء اور2010ء میں ہونے والے بڑے پیمانہ کے عوامی احتجاجوں کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ ان احتجاجوں کے دوران کسی بھی غیر ریاستی طالب علم کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔،یادداشت میں کشمیری عوام کے پیار اور مہمان نوازی کا بھی تزکرہ کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے کل این آئی ٹی سری نگرمیں پیش آنے والے تمام واقعات کی تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سری نگر کو تحقیقاتی عہدیدار مقرر کیا تھا۔ انہیں15دن کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ پولیس نے بھی این آئی ٹی میں یکم ا پریل اور5اپریل کو پیش آنے والے واقعات کی نسبت دو الگ الگ ایف آئی آر درج کرلئے ہیں۔ پہلا معاملہ نامعلوم افراد کے خلاف زیر دفعات148,149,427اور323جب کہ دوسرا معاملہ بھی نامعلوم افراد کے خلاف زیر دفعات353اور188درج کیا گیا ہے ۔ تاہم ان دونوں معاملوں میں نہ کسی طالب علم کا نامزد کیا گیا ہے اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ۔ جموں و کشمیر پولی سنے کل ایک ویڈیو جاری کردی جس میں غیر مقامی طلبہ کو این آئی ٹی املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے اور تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔ این آئی ٹی سری نگر میں 5اپریل کی شام صورتحال نے اس وقت کشیدہ رخ اختیار کرلیا تھا جب اس ادارہ میں زیر تعلیم غیر مقامی طلبہ نے ہلڑ بازی کرکے پولیس کے سینئر عہدیداروں کو حملہ کردیا تھا جس کے بعد پولیس کو مجبوراً لاٹھی چارج کرنا پڑا تھا جس کے نتیجہ میں قریب آدھ درجن طالب علموں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں۔ کیمپس میں کشیدگی31مارچ کو ورلڈ ٹی20 کرکٹ کپ سیمی فائنل میں ہندوستان کی شکست کے بعد پیدا ہوئی تھی ۔ ویسٹ انڈیز اور ہندوستان کے درمیا ن ہونے والے سیمی فائنل مقابلہ کے ایک دن بعد یعنی یکم ا پریل کو این آئی ٹی سری نگر میں غیر مقامی طلبہ نے نہ صرف مقامی طلباء کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا تھا بلکہ ادارے کے املاک کو بھی نقصان پہنچایا تھا جس کے بعد کیمپس میں تدریسی سر گرمیاں4اپریل تک معطل رہی تھیں۔

NIT Srinagar clashes: J-K govt orders enquiry

0 comments:

Post a Comment