Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-20 - بوقت: 19:18

این سی پی یو ایل حلفنامہ تنازعہ - اردو حلقوں میں شدید برہمی

Comments : 0
نئی دہلی
شاہنواز احمد صدیقی ، ایس این بی
قلمکار، مصنفوں اور دانشوروں کو مرکزی سرکار کے ادارے این سی پی یو ایل کے ذریعہ ہر سال حلف نامہ داخل کرنے اور اس بات کی یقین دہانی کرانے کی ہدایت دی گئی ہے کہ ان کی نگارشات میں ملک اور سرکار کے خلاف کوئی بات نہیں ہوگی ۔ اس حلف نامہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ہندی کے ممتاز دانشور اور مصنف ڈاکٹر اشوک واجپئی نے کہا ہے کہ اردو زبان میں باغیانہ خیال کے اظہار کی بہت قدیم روایت ہے ۔ اشوک واجپئی کا کہنا ہے کہ اگر این سی پی یو ایل نے ایسا کوئی حلف نامہ جاری کیا ہے تو یہ بہت افسوسناک اور بیہودہ بات ہے ۔ آپ مصنفوں کو کسی بھی طرح اس بات کا پابند نہ بنائیں کہ وہ سرکار کے خلاف یا کسی بھی ادارے کے خلاف اظہار خیال نہ کرے۔ یہ عدم رواداری کا ثبوت ہے ۔ اس رویہ کے خلاف ملک کے دانشور ، مصنفین اور شعراء کو پابند بنایاجارہا ہے کہ ان کو اپنے ضمیر کی آواز کچلنے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے ۔ اور شاعروں اور قلمکاروں نے سرکار، سرکاری اداروں ، مذہبی پیشواؤں ، پنڈتوں ، مولویوں یہاں تک کہ خدا تک کے ساتھ اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن این سی پی یو ایل کا حلف نامہ طلب کرنا اظہار خیال کی آزادی کے خلاف ہے ۔ اردو والوں کو اس کے خلاف رد عمل ظاہر کرنا چاہئے ۔ ارباب اقتدار کے خلاف اردو شاعروں اور مصنفوں کی بہت قدیم روایت ہے ، غیر مصنف اپنے آپ کو پابند سلاسل نہ کریں ۔ اردو کے ممتاز شاعر انور جلال پوری نے کہا ہے کہ مصنفوں کو اتنی پابندی میں نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی تخلیقیت کھو بیٹھیں ۔ علاقہ اقبال جیسے شاعر نے خدا سے شکوہ کیا ، لہذا یہ پابندی غیر مناسب ہے ۔ یہ اکیلے این سی پی ایو ایل کا معاملہ نہیں، تمام اکادمیاں مصنفوں کو اس طرح کے حلف ناموں کا پابند بناتی ہیں ۔ این سی پی یو ایل نے اگرچہ حلف نامہ لازمی قرار دیا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھنی چاہئے ۔ تمام ریاستی اکیڈمیوں کو یہ حلف نامہ واپس لینا چاہئے ۔ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں ہے صرف جرات کی ضرورت ہے ۔ اکیڈمیاں مصنفوں کو پابندی سے آزاد کرسکتی ہے ۔ این سی پی یو ایل کے سابق ڈائرکٹر پروفیسر علی جاوید کا کہنا ہے کہ این سی پی یو ایل کے اس حلفنامہ کی مذمت ہونی چاہئے ۔ سرکار چاہتی ہے کہ اگر کوئی لکھے تو سرکاری ایجنٹ بن کر لکھے، اس میں ارباب اقتدار کے خلاف کوئی بات نہ ہو ۔ سرکار جو کہے وہی لکھا جائے ۔ اردو والوں کی حب الوطنی پر شبہ ظاہر کیاجارہا ہے ۔ حب الوطنی اور فرقہ وارانہ اتحاد ہماری فطرت ہے ، اردو چاپلوسی کی زبان نہیں ہوسکتی ۔ اس پورے تنازع پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے این سی پی یو ایل نے کہا کہ مذکورہ حلف نامہ بہت پرانا ہے ۔ کانگریس کے دور اقتدار میں اس پر آواز نہیں اٹھی ۔ اس انتظامی کارروائی پر طوفان کھڑا کیاجارہا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ موجودہ سرکار کے تحت کام کرنے والا این سی پی یو ایل کا نیا ڈائرکٹر اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے کی کوشش کررہا ہے ، یہ قابل مذمت ہے ۔ سیاست میں مہم جوئی ہے ، جو لوگ اس حلف نامہ پر نکتہ چینی کررہے ہیں ان کو دوسری ریاستوں کی اکادمیوں پر بھی نکتہ چینی کرنی چاہئے کیون کہ تمام اکادمیاں اس طرح کے حلف نامہ جاری کرتی ہیں ۔

Urdu authors told by NCPUL to give harmony note

0 comments:

Post a Comment