Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-06 - بوقت: 22:47

جنس کے تعین کے معائنہ پر پابندی ہٹانے منیکا گاندھی کی تجویز کی مخالفت

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
متعدد خاتون تنظیموں نے آج مرکزی وزیر منیکا گاندھی کی اس تجویز کی پرزور مخالفت کی کہ ماقبل ولادت جنس کے تعین کو لازمی بنادیاجائے تاکہ مادر رحم میں نسوانی جنین کشی کی روک تھام کی جاسکے ۔ ان تنظیموں نے حکام سے کہا کہ وہ پی سی پی این ڈی ٹی ایکٹ(ماقبل ولادت جنس کے تعین سے متعلق قانون) کو ختم نہ کریں ۔ آل انڈیا ڈیمو کریٹک ویمنس اسوسی ایشن( ایڈوا) کے عہدیدار کیرتی سنگھ نے کہا کہ یہ امر انتہائی بدبختانہ ہے کہ ایک وزیر جنہیں خواتین اور بالخصوص لڑکیوں کے مفادات کے تحفظ اور فروغ کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے، یہ سمجھنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہیں کہ ملک بھر میں جنس کے انتخاب کا سلسلہ بلا روک ٹوک زوروشور کے ساتھ جاری ہے۔ خواتین کارکنوں نے کہا کہ پی سی این این ڈی ٹی ایکٹ1994اس لئے وضع کیا گیاتھا تاکہ بے ایمان ہیلتھ پروفیشنلس اور کارپوریٹ منافع خوروں کی جانب سے ٹکنالوجی کے بیجا استعمال اور جنس کے انتخاب کو ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل کئے جانے کی روک تھام کی جاسکے ۔ ایک سماجی کارکن سابو جارج نے کہا ہم وزیر موصوف اور حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پی سی پی این دی تی ایکٹ کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ مودی حکومت کو لڑکیوں کی قیمت پر کمر شیل وینچرس کے مفادات کی تکمیل نہیں کرنی چاہئے ۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ مرکزی وزیر برائے بہبودی خواتین و اطفال مینکا گاندھی نے یہ کہتے ہوئے ایک تنازعہ پیدا کردیا ہے کہ نسوانی جنین کشی کی روک تھام کے لئے جنس کے تعین کے ٹسٹ کو لازمی بنایاجائے اور حاملہ خواتین پر لازمی طور پر نظر رکھی جائے ۔ انہوں نے راجستھان میں منعقدہ ایک تقریب میں یہ بات کہی تھی ۔ منیکا گاندھی نے کہا تھا میرا یہ شخصی خیال ہے کہ خاتون کو یہ بتادیاجائے کہ وہ لڑکے کو جنم دینے والی ہے یا لڑکی کو ۔ میں صرف ایک نظریہ پیش کررہی ہوں اس پر تبادلہ خیال کیاجارہا ہے اور ابھی ہم کسی فیصلہ پر نہیں پہنچے ہیں ۔ کارکنوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کی یہ تجویز خواتین کے نجی زندگی کے حقوق پر ایک حملہ ہے اور حمل ساقط کرانے ان کے حق کی خلاف ورزی بھی ہوگی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیاجارہا ہے جب محفوظ اور قانونی اسقاط حمل خدمات تک خواتین کی رسائی کو کم کیاجارہا ہے اور غیر محفوظ اسقاط حمل کے سبب کئی خواتین اپنی جان سے جارہی ہیں ۔ نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن( این ایف آئی ڈبلیو) سے وابستہ اوشا سریواستو نے کہا کہ یہ فرض کرلینا مناسب ہوگا کہ ایک ایسی حکومت جو پی سی این ڈی ٹی ایکٹ کی مناسب نگرانی اور نفاذ میں ناکام رہی ہے ، تقریبا2.5کروڑ حملوں کی نگرانی کرے گی کیونکہ ملک میں ہر سال اوسطا اتنے ہی بچے پیدا ہوتے ہیں ۔

Maneka Gandhi's suggestion on mandatory sex tests

0 comments:

Post a Comment