Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-06 - بوقت: 23:57

پارلیمنٹ میں اہم بلوں کی منظوری کے لیے حکومت کی مساعی

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا دوسرا ہفتہ بھی شوروغل کی نذر ہوجانے کے وجہ سے ایوانوں کی کارروائی ٹھپ پڑ گئی ہے اور حکومت کا ایجنڈہ پس و پشت چلا گیا ہے اس لئے حکومت نے7دسمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے تیسرے ہفتہ میں دونوں ایوانوں کی منظوری اور غوروخوض کے لئے قانون سازی سے متعلق بھاری ایجنڈہ کی تجویز رکھی ہے ۔ اس میں لوک سبھا میں مزید چار بلس پیش کرنا شامل ہیں۔ یہ چاروں بلس ان دو بلوں کے علاوہ ہوں گے جن پر ایوان کی کارروائی کے لئے فہرست تیار کی جاچکی ہے ۔ اس ایجنڈہ میں راجیہ سبھا میں زیر التوا7بل بھی شامل ہیں جن میں سے3کی فہرست ایوان کی کارروائی کے لئے تیار کی جاچکی ہے۔4دسمبر کو راجیہ سبھا میں پارلیمانیا مور کے مملکتی وزیر مختار عباس نقوی کے دئے گئے بیان کے مطابق پیر سے شروع ہونے والے اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں سرکاری کام کاج کی فہرست میں جی ایس ٹی بل اور رئیل اسٹیٹ بل شامل ہیں ۔راجیہ سبھا کی بزنس اڈوائزری کمیٹی نے جی ایس ٹی بل کے لئے چار گھنٹے جب کہ رئیل اسٹیٹ بل کے لئے ود گھنٹے بحث کے لئے مختص کئے ہیں۔ ایوان کی منتخبہ کمیٹیوں نے ا ن دو بلوں سے متعلق رپورٹیں پہلے ہی پیش کردی ہیں جو کہ راجیہ سبھا کی منظوری اور مزید غوروخوض کی متقاضی ہیں۔ ان بلوں کے علاوہ کئی اہم بل ایوان کے غوروخوض اور اس کی منظوری کے لئے پیس کئے جاسکتے ہیں ۔ لوک سبھا کے کام کاج میں ہائی کورٹ، سپریم کورٹ ججس ،(تنخواہ اور خدمات کی شرائط) ترمیمی بل2015، ہندوستانی ٹرسٹس( ترمیم) بل2015بونس کی ادائیگی(ترمیم) بل2015، صنعتیں(باقاعدہ بنانا اور ترقی دینا) ترمیمی بل 2015شامل ہیں ۔ حکومت2015-16کے لئے گرانٹس کے ضمنی مطالبات پر رائے دہی اور بحث شروع کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے ۔ لوک سبھا میں سرمائی اجلاس کے تیسرے ہفتہ میں حکومت تمام زیر التوا بلوں کو منظور کرانے کے لئے جدو جہد کرنا چاہتی ہے ۔کانگریس نے آج کہا ہے کہ جی ایس ٹی بل میں10فیصد ٹیکس کی حد کی شمولیت کے اس کے مطالبہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس پر کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی لیکن پارٹی نے اس بل کی منظوری کے لئے کوئی مہلت دینے سے انکار کردیااور کہا کہ ایسے قوانین عجلت میں نہیں بنائے جاسکتے ۔ راجیہ سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی پر کرن تھاپر کو بتایا کہ جو معلومات مجھے حاصل ہیں اس کے مطابق صدر کانگریس نے لفظ ناقابل مفاہمت کا استعمال نہیں کیا ہے ۔ ایک دن پہلے ہی کامرس انڈسٹریز کے سابق وزیر کمل ناتھ نے کہا تھا کہ دستور میں اشیاء اور خدمات پر18فیصد کی حد مقرر کرنا مسئلہ کی یکسوئی میں ایک اہم نکتہ ہے ۔ سابق مرکزی وزیر کامرس شرما نے کہا جی ایس ٹی بل آخر کار کامیاب ہوگا لیکن انہوں نے کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کردیا۔

Winter session: GST, real estate bills in Parliament

0 comments:

Post a Comment