Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-04 - بوقت: 23:57

سعودی عرب میں الاخوان کی کتابوں پر تنقید میں اضافہ - تدریسی عملہ بھی ہٹانے کا مطالبہ

Comments : 0
ریاض
اردو نیوز (سعودی عرب)
سعودی دانشوروں اور ماہرین تعلیم و تربیت نیز مصنفین نے الاخوان کی کتابوں پر شدید نکتہ چینی کا آغاز کردیا۔ اسکالرز اور اسلامیات کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح الاخوان کی کتابوں پر پابندی عائد کر کے انہیں اسکولوں سے ہٹوایا گیا ہے اسی طرح تدریسی عملے میں شامل الاخوان کو بھی ہٹا دیاجائے ۔ الحیاۃ اور عکاظ اخبارات نے ا س حوالے سے تفصیلی تجزیے اور رپورٹیں شامل کی ہیں ۔ ان میں واضح کیا گیا ہے کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، حسن البنائ، سعد قطب اور مالک بن نبی وغیرہ کی کتابوں سے سعودی اسکولوں کی لائبریایاں خالی ہوگئی ہیں ۔ یہ وہ مصنفین ہیں جن کی بابت مشہور ہے کہ یہ انتہا پسندانہ افکار کے عالمبردار ہیں یا انتہا پسندی اور تکفیر کے موضوع پر ایسے مضامین شامل ہیں جو امت مسلمہ کے صحیح الفکر علماء کی فکر سے مطابقت نہیں رکھتے۔ سعودی مصنفین کا کہنا ہے کہ ان کتابوں کے مصنفین فکری انتشار کا شکار رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک کتاب جسے ضبط کیا گیا ہے اس کا نام ہے ’’الشقیقان‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کے نبی یوسف علیہ السلام کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے صرف وزارت خزانہ کا منصب ہی نہیں طلب کیا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے آمریت کا بھی مطالبہ کیا تھا ۔ امام محمد بن سعود الاسلامی یونیورسٹی میں تدریسی عملے کے رکن ڈاکٹر محمد الفیفی نے مطالبہ کیا کہ اخوانی فکر رکھنے والوں کو تدریسی عملے سے ہی نہیں بلکہ ربط و ضبط کے ہر وسیلے سے ہٹادیاجائے تاکہ انہیں فکری زہر پھیلانے سے روکا جاسکے ۔ امیر نایف چیئر برائے مطالعات امر بالمعروف کے پروفیسر ڈاکٹر غازی المطیری نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ کتابوں سے استفادہ کرنے والوں کی اصلاح کا بھی اہتمام کیاجائے ۔

Saudi Arabia criticizing muslim brotherhood books

0 comments:

Post a Comment