Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-13 - بوقت: 23:54

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی - داعش سے بڑا خطرہ - دہلی پولیس کمشنر

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی کا خیال ہے کہ اسلامی ریاست( آئی ایس) نہیں بلکہ سرحد پار سے دہشت گردی کو شہ دینے والی پاکستان خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ہندوستان کو زیادہ خطرہ ہے ۔ بسی آج یہان ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں دہشت گردی کے مسئلہ پر بحث میں حصہ لے رہے تھے ۔ اس پروگرام میں ممبئی کے پولیس کمشنر احمد جاوید اور بنگلور کے پولیس کمشنر این ایس میگھارکھ بھی موجود تھے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ دنیا بھر میں تیزی سے وسعت اختیار کرنے والی آئی ایس سے ہندوستان کو کتنا خطرہ ہے ؟ بسی نے کہا کہ ہندوستان میں اس تنظیم کی کوئی موجودگی نہیں ہے ۔ ملک کو حقیقی خطرہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی سے ہے۔ ہندوستان میں اب تک دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ، ان میں القاعدہ اور آئی ایس آئی کا ہی ہاتھ ہے ۔ بسی نے کہا کہ آئی ایس آئی کے تئیں نوجوانوں کا رجحان ایک رومانی رجحان ہے ۔ وہ آئی ایس آئی کے بارے میں سن کر کچھ الگ طرح کی دنیا کی تصویر دیکھنے لگتے ہیں جب کہ حقیقت بہت خوفناک ہوتی ہے ۔ ممبئی پولیس کمشنر نے کہا کہ دہشت گردی کے لئے لوگوں کو بھڑکانے میں سوشل میڈیا کا بڑا ہاتھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں ایسے اشتعال انگیز بیانات اور تصاویر اپ لوڈ کی جارہی ہیںکہ جن کو دیکھ کر عام آدمی کا بھی دماغ خراب ہونے لگتا ہے ۔ ایسے میں نوجوانوں کا آسانی سے ان کے چنگل میں آنا بہت حد تک فطری بات ہے۔ بنگلور کے پولیس کمشنر ایس میگھارکھ نے کہا کہ ان کا شہر تو آئی ٹی کا مرکز ہے ۔ ایسے میں یہ بہ آسانی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ یہاں سوشل میڈیا کس پیمانے پر استعمال ہوتا ہوگا۔ ایسی صورتحال میں دہشت گردی کا خطرہ یہاں بھی کم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پولیس فورس کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیاری ہے۔ ملک میں عدم رواداری پر جاری بحث کے تناظر میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پولیس کارروائی میں اس طرح کی بحث یا مذہب کبھی آڑے نہیں آتی ۔ یہ مسئلہ صرف سیاسی اور عام بحث کے لئے ہے۔

Pak-sponsored terror biggest challenge: Delhi police commissioner

0 comments:

Post a Comment