Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-01 - بوقت: 23:25

عدم رواداری پر لوک سبھا میں بحث کی شروعات

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
لوک سبھا نے آج قاعدہ193کے تحت عدم رواداری پر بحث شروع کردی ۔ سی پی آئی ایم رکن نے ملک میں عدم رواداری کے واقعات پر وزیرا عظم نریندر مودی کی خاموشی پر سخت تنقید کی ۔ محمد سلیم نے کہا کہ ہم وزیر اعظم سے جو کسی کی سالگرہ جیسی چھوٹی بات پر بھی ٹوئٹ کرتے ہیں، توقع رکھتے تھے کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف کچھ کہیں گے لیکن انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ مودی سب کا ساتھ اور سب کا وکاس نعرے پر منتخب ہوئے ۔ عوام کو ان سے بڑی توقعات ہیں لیکن ایم ایم کلبرگی ، نریندر دابھولکر ، گووند پنسارے کی ہلاکت اور دادری جیسے واقعات پیش آنے کے بعد بھی مودی نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ سی پی آئی ایم رکن نے وزیر فینانس ارون جیٹلی کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ جس میں انہوں نے ادیبوں، قلمکاروں اور فنکاروں کے احتجاج کو فرضی بغاوت قرار دیاتھا۔ محمد سلیم نے کہا کہ ایسا کہنا ملک کے ان کئی عظیم لوگوں کی بے عزتی ہے جو عدم رواداری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدم رواداری کے واقعات کو کسی اکا دکا واقعات قرار دیا ہے لیکن کرسی صدارتاور ایوان کا اس مسئلہ کا نوٹ لینا معاملہ کی سنگینی ثابت کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اکثریت پرستی نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم، سائنس ، ثقافت، تجارت اور صنعت کے شعبوں میں بھی دھماکو صورتحال پیدا کررہی ہے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ عدم رواداری کی بات کرنے والوں پر ملک کی بے عزتی کا الزام عائد کیاجارہا ہے لیکن یہ ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ صدیوں پرانی روایات اور ثقافت سے انحراف کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور نے ملک کے سفر کی سمت متعین کردی ۔ یہ فاشسٹ ملک نہیں ہے۔ محمد سلیم نے جب آؤٹ لک کی ایک نیوز رپورٹ کے حوالہ سے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے فرقہ وارانہ تعصب سے متعلق بیان کا حوالہ دیا تو سرکاری بنچس نے پر زور اعتراض کیا۔ وزیر داخلہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایسا کوئی بیان دینے سے انکار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے بڑی تکلیف ہوئی ۔ میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ ایسا بیان دینے والے وزیر داخلہ کو اپنے عہدہ پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ محمد سلیم کے الفاظ ریکارڈ کا حصہ نہیں بنیں گے کیونکہ انہیں وزیر کے خلاف الزامات عائد کرنے کے لئے نوٹس دینی پڑتی ہے ۔ مزید برآں رکن کو ٹھوس ثبوت بھی دینا پڑتا ہے کہ وزیر داخلہ نے ایسا کہا ہے جب کہ محمد سلیم نے صرف ایک میگزین کا حوالہ دیا ۔ محمد سلیم نے کہا کہ وزیر داخلہ اگر میگزین کی خبر کی تردید کررہے ہیں تو انہیں رسالہ کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ مملکتی وزیر پارلیمانی امور راجیو پرتاپ ، روڈی نے مداخلت کی اور محمد سلیم سے کہا کہ وہ بات چیت کو اس سطح تک نہ لے جائیں کہ یہ ملک کے لئے خطرناک بن جائے ۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کے خلاف الزام واپس لیں ۔ ایوان کا ماھول انتہائی گرم ہوگیا تھا ۔ اس پر سمتر امہاجن نے کارروائی2بج کر3منٹ تک ملتوی کردی ۔ آئی اے این ایس کے بموجب وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پیر کے دن کہا کہ حکومت، ارکان پارلیمنٹ سے ان کے بقول بڑھتی عدم رواداری کے تعلق سے تجاویز طلب کرے گی۔ انہوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ہم ان ارکان پارلیمنٹ سے جو سوچتے ہیں کہ عدم رواداری بڑھ رہی ہے ، تجاویز طلب کریں گے کہ اسے کیسے روکا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خیال میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بیان اسپیکر سمترا مہاجن کے قاعدہ193کے تحت مبینہ عدم رواداری پر بحث کی اجازت دینے سے قبل دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ ملک میں عدم رواداری نہیں بڑھ رہی ہے ۔ لیکن وہ ایسا سوچنے والے ارکان سے تجاویز طلب کرے گی۔ ایوان میں بعد ازاں مسئلہ پر بحث شروع ہوئی ۔ پی ٹی آئی کے بموجب لوک سبھا میں آج عدم رواداری پر بحث کے دران جھڑپیں ہوئیں اور اجلاس بار بار ملتوی ہوا۔ سی پی آئی ایم رکن کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے حوالہ سے ہندو قائد والے ریمارک پر ہنگامہ برپا ہوا جس کی سنگھ نے تردید کی ۔ محمد سلیم کے ریمارک پر اجلاس 4مرتبہ ملتوی ہوا اور شام میں اسپیکر سمترا مہاجن کی جانب سے ریمارکس حذف کردینے کے بعد مسئلہ کی یکسوئی ہوئی ۔ بعد میں بحث بحال ہوگئی ۔ سی پی آئی ایم اور کانگریس جیسی اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ این ڈی اے حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے عدم رواداری بڑھ گئی ہے ۔ بی جے پی نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا جن واقعات کو اپوزیشن عدم رواداری کی مثال کے طور پر پیش کررہی ہے وہ ملک میں کئی دہوں سے پیش آتے رہے ہیں ۔ بی جے پی رکن میناکشی لیکھی نے وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے حوالہ سے زور دے کر کہا کہ این ڈی اے کے بر سرا قتدار آنے کے بعد سے فرقہ وارانہ تشددکے واقعات گھٹ گئے ہیں ۔

Clashes in Lok Sabha during 'intolerance' debate

0 comments:

Post a Comment