Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-24 - بوقت: 23:30

گورنر آسام کو برطرف کرنے کے مطالبات میں شدت

Comments : 0
لکھنو، گوہاٹی
پی ٹی آئی
آسام کے گورنر بی پی اچاریہ کے متنازعہ ریمارکس پر مذمتی بیانات میں آج شدت پیدا ہوگئی ہے اور بی ایس پی اور ناگا لینڈ کی کانگریس یونٹ نے بھی چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے گورنر کی برطرفی کا مطالبہ کیا ۔ اچاریہ کی بر طرفی کے مطالبہ کو دہراتے ہوئے گوگوئی نے کہا کہ گورنر نہیں جانتے کہ دستوری سربراہ کی حیثیت سے وقار کا تحفظ کس طرح کیا جائے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اچاریہ کی مدافعت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ادعا کیا کہ انہوںنے ایسا کوئی بیان نہیں دیا جس سے دلآزاری ہو ۔ تریپورہ کے گورنر تدگا تارائے نے بھی اچاریہ کی مدافعت کی ۔ بی ایس پی چیف مایا وتی نے مطالبہ کیا کہ اچاریہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہوتا، کارروائی ضروری ہے ۔ اس دوران سماج وادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان نے آج آسام کے گورنر بی پی اچاریہ کے تبصرہ پر تنازعہ میں شامل ہوتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان پاکستان کے بجائے قبرستان جانے کو ترجیح دیں گے ۔ اچاریہ کو ملک میں اقلیتی فرقہ کے ساتھ رہنے میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ نیپال جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم پاکستان جانے کے بجائے قبرستان جانے کو ترجیح دیں گے ۔ ہمارے لئے قبرستان کا انتظام کردو ہم پاکستان نہیں جائیں گے ۔ اگر گورنر کو ہمارے ساتھ رہنے میں تکلیف ہے توہ نیپال جاسکتے ہیں ۔ ان کے لئے نیپال کے دروازے بند نہیں ہوسکتے ۔ اچاریہ نے یہ کہتے ہوئے کل ایک تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ ہندوستانی مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش کے بشمول کہیں بھی جانے کے لئے آزاد ہیں ۔ چیف منسٹر نے اچاریہ پر یہ کہتے ہوئے بھی حملہ کیا کہ جس انداز میں وہ کام کررہے ہیں وہ مودی کے ٹیم انڈیا جذبہ اور وفاقیت کے دعویٰ کے مغائر ہے۔ طویل عرصہ سے ریاست کے لئے کوئی مستقل گورنر کا تقرر نہیں کیا گیا ہے ۔ وہ آر ایس ایس پرچارک کی طرح کا طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہے ۔ گگوئی نے کہا کہ اچاریہ کو آسام جیسی کسی اہم ریاست کا گورنر مقرر نہیں کیاجانا چاہئے ۔ انہیں فی الفور برطرف کیاجائے ۔ گگوئی نے کہا آپ(مرکز) کسی بھی ایسے شخص کا تقرر کیجئے جو عہدہ کے وقار کو ملحوظ رکھ سکتا ہو ۔ گگوئی نے کل مرکزسے مطالبہ کیا تھا کہ اچاریہ کو ہٹا کر ریاست کے لئے مستقل گورنر کا تقرر کیاجائے ۔ اچاریہ ناگا لینڈ کے گورنر ہیں اور انہیں آسام کی زائد ذمہ داری دی گئی ہے ۔بہار انتخابات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے گگوئی نے کہا کہ بی جے پی کو آسام میں بھی شکست ہوگی، میں انہیں ہرا دوں گا ، وہ ہر کسی کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس، اے جے پی، انتہا پسندوں ، خود سپرد کرنے والے عسکریت پسندوں اور دیگر کئی گروپوں سے لوگوں کو لیا ہے ، وہ خوفزدہ ہیں اس لئے ایسی حرکتیں کررہے ہیں۔ مایاوتی نے کہا کہ گورنر نے فرقہ وارانہ ریمارک کیا جس سے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ، صدر کو چاہئے کہ انہیں فورا برطرف کریں ۔ بی ایس پی لیڈر نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے چونکہ دستوری عہدوں پر آر ایس ایس نظریات کے قائدین کو مقرر کیا ہے جس کی وجہ سے صورتحال خطرناک ہوگئی ، ایسے لوگ اپنی استطاعت بھر اصولوں کی خلاف ورزی کی کوشش کررہے ہیں ۔

Tarun Gogoi demands Assam Governor's removal

0 comments:

Post a Comment