Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-25 - بوقت: 23:41

ورنگل ضمنی الیکشن - ٹی آر ایس امیدوار کی ریکارڈ کامیابی

Comments : 0
ورنگل
اعتماد نیوز
حلقہ لوک سبھا ورنگل کے ضمنی انتخاب میں حکمراں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے امید وار پی دیاکر نے نئی ریاست تلنگانہ کے انتخابات میں محصلہ ووٹوں کا ریکارڈ توڑ دیا ۔ ٹی آر ایس امید وار نے اس حلقہ سے چار لاکھ59ہزار229ووٹوں کی اکثریت حاصل کی ۔ ٹی آر ایس نے اس حلقہ سے توقع کے مطابق اپنا قبضہ برقرار رکھا لیکن دوسری تمام جماعتوں کے امید واروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں جن میں کانگریس، بی جے پی، تلگو دیشم اتحاد اور وائی ایس آر کانگریس امید وار بھی شامل ہیں۔ ٹی آر ایس کے امید وار پی دیاکر راؤ نے6لاکھ15ہزار544ووٹ حاصل کئے،اس حلقہ سے کانگریس کو دوسرا مقام حاصل ہوا جب کہ بی جے پی امید وار نے تیسرا مقام حاصل کیا جنہیں تلگو دیشم کی تائید حاصل تھی ۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس امید وار سروے ستیہ نارائنا کو ایک لاکھ56ہزار315ووٹ حاصل ہوئے جب کہ بی جے پی ۔ تلگو دیشم کے اتحادی امید وار ڈاکٹر پی دیویا نے ایک لاکھ29ہزار868ووٹ حاصل کئے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ حلقہ لوک سبھا ورنگل میں رائے دہندوں کی جملہ تعداد1509671ہے۔1044541رائے دہندوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا جہاں69.19فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے امید وار نے2014ء کے عام انتخابات کے مقابلہ میں اس مرتبہ بہتر مظاہرہ کیا ۔ سابق میں اس محفوظ حلقہ سے ٹی آر ایس امید وار کڈیم سری ہری نے تقریبا3.92لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ کڈیم سری ہری کے استعفیٰ کی وجہ سے ہی اس حلقہ کا ضمنی انتخاب ناگزیر ہوگیا تھا جنہیں بعد ازاں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ڈپٹی چیف منسٹر مقرر کیا ۔ حلقہ ورنگل کے ٹی آر ایس امید وار نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا ریکارڈ بھی تور دیا جنہوں نے گزشتہ عام انتخابات میں حلقہ لوک سبھا میدک سے3,97,029ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ رائے شماری کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی آر ایس کے امید وار اس لوک سبھا حلقہ کی تمام7اسمبلی حلقوں میں دوسرے امید واروں سے آگے رہے ۔ نئی ریاست تلنگانہ میں حکمراں جماعت ٹی آر ایس نے اس حلقہ کے ضمنی انتخاب کو حکومت کی کارکردگی پر ریفرنڈم قرار دیا تھا ، دوسری جانب اپوزیشن کانگریس کے علاوہ بی جے پی ۔ تلگو دیشم نے بھی ٹی آر ایس سے یہ نشست چھیننے کے اقدامات میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔
حیدرآباد سے اعتماد نیوز کی علیحدہ اطلاع کے بموجب وزیر پنچایت راج و آئی ٹی تارک راما راؤ نے کہا ہے کہ ورنگل پارلیمنٹ کے انتخاب میں ٹی آر ایس پارٹی نے سونامی برپا کی ہے ۔ اس سونامی میں قومی جماعتیں بہہ گئی ہیں ۔ ضمنی انتخاب کے نتیجہ میں تبصرہ کرتے ہوئے وزیر پنچایت راج نے کہا کہ بھاری اکثریت سے عوام نے ٹی آر ایس امید وار دیاکر راؤ کو کامیابی دلائی ہے ، اس کے بعد حکومت پر مزید ذمہ داری بڑھ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ16ماہ کی حکومت کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہیں ۔ نتیجہ عوام کے مطمئن ہونے کو ظاہر کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل کے عوام نے دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے ۔ عنقریب منعقد ہونے والے نارائن کھیڑا اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں بھی ٹی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل کے ضمنی انتخاب کو بر سر اقتدار پارٹی ٹی آر ایس نے ایک ریفرنڈم کے طور پر قبول کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عوام ٹی آر ایس کے ساتھ رہیں گے ہمار ا کوئی بھی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کو بہار کے اسمبلی انتخابات میں ہزیمت آمیز شکست ہوئی تھی اور اب ورنگل کے ضمنی انتخاب میں بھی بی جے پی امید وار کو تیسر امقام حاصل ہوا ہے ۔ دونوں نتائج کا اگر تقابل کیاجائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مرکز میں بی جے پی حکومت بہتر حکمرانی کررہی ہے یا پھر تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی حکمرانی بہتر ہے ۔ تارک راما نے کہا کہ نتیجہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ چندر شیکھر راؤ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں عوام کیا رائے رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ تعمیری رول ادا کریں بصورت دیگر ضمنی انتخاب کی طرح آنے والے تمام انتخابات میں عوام انہیں یکسر مسترد کردیں گے ۔ وزیر موصوف نے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کو بدنام نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا ۔ اس موقع پر تارک راما راؤ نے کہا کہ میڈیا کا ایک گوشہ بھی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ نتیجہ نے میڈیا کے اس گوشہ کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔

Telangana Rashtra Samiti wins Warangal LS bypoll with 4.6 lakh votes

0 comments:

Post a Comment