Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-25 - بوقت: 21:46

اردو دنیا کا ایک بین الاقوامی بہروپیا

Comments : 4

tasleem-ilahi-zulfi
***
مندرجہ ذیل مکالمہ ممتاز ادبی شخصیت جناب عقیل عباس جعفری کی فیس بک ٹائم لائن سے ان کی اجازت کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ چونکہ فیس بک پر مواد مناسب سرچنگ کے دائرے میں نہیں آتا لہذا انٹرنیٹ محققین کی آسانی کے لیے اور شعر و ادب کے میدان میں بہروپیوں کی شخصیت کو آشکار کرنے کی خاطر یہ مکالمہ پیش خدمت ہے۔
حوالہ

- مکرم نیاز

***
Aqeel Abbas Jafri
انیس سو اسی (1980ء) میں جوش صاحب اسلام آباد میں مقیم تھے اور زلفی صاحب ان کے ساتھ کراچی میں عید منا رہے تھے۔
بحوالہ:
حضرت جوش ملیح آبادی کے ساتھ ایک عید - تسلیم الٰہی زلفی (کینیڈا)

Syed Muzaffar Haq
شاید اسے کہتے ہیں
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میں

Mansoor Ahmed Khan Mani
یہ تسلیم زلفی یا سُلفی کیا چیز ہیں؟؟ کیا بیچتے ہیں ؟ ان کی تحریر تو کسی نہم جماعت کے لونڈے سے بھی زیادہ اغلاط سے بھرپور ہے بزرگوں کا فیض اُٹھانے والے الگ ہی نظر آتے ہیں۔۔۔ان جیسے چپڑ قناتی نہیں ہوتے!!

Mahjabeen Asif
اس یادگار ملاقات کی تصاویر بوجوہ پوسٹ نہ ہو سکیں...... افسوس

Abdul Mukhtar
آپ نے جملہ غور نہیں کیا.. " محشر بدایونی "برآمد" ہوئے... کہا ..اچھا ہوا... "آپ لوگ " آگئے!! .... ایک ہی مضمون میں راغب مراد آبادی, محشر بدایونی, میٹرو پول کا گفٹ... سب شامل کر دیا!!! بہت بڑی " فلم " ہے تسلیم الٰہی زلفی!!

Safdar Hamadani
باقی سب جانے دو جی قلم کی اور فتانت کی داد دو کہ یہ کام وکی لیک بھی نہ کر سکا

Abdul Mukhtar
داد اور بے حد داد.. اس " فنکار " کو...! "خواتین " کے "حوالے" سے تو ابھی اس کے کارنامے زیر بحث آئے ہی نہیں...! یہ " ادب " میں... " اقوام متحدہ " تک پہنچے ہوئے ہیں!! ہماری آپکی کیا بساط!!

Syed Muzaffar Haq
اور سب ہی مرحوم ہو چکے ہیں اس لئے تصدیق بھی نہیں ہو سکتی

Mahjabeen Asif
تصور کریں کہ ایسے اشخاص کس شدت سے نامور حضرات کے مرحوم ہونے کی دعائیں مانگتے ہوں گے...
چلے بھی جاؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے.....

Khurram Shafique
ہمارے لڑکپن کے زمانے میں کشور کے ایک گانے کا "شعر" تھا:
تم ہو یہاں بھی، وہاں بھی
یہ کیسی جادوگری؟

Shakoor Pathan
تسلیم سیلفی صاحب.. یعنی یہ سیلف میڈ هیں

Safdar Hamadani
جلد غالب سے ملاقات کی تفصیل بھی شائع ہونے والی ہے

Abdus Salam
جھوٹے کو گھر تک پہنچانا؟

Safdar Hamadani
برادر عزیز کوئی گھر ہو تو پہنچا بھی آئیں

Amjed Saleem Alvi
"تیرا کیا ہو گا زلفیا؟؟؟" بیچارے بری طرح پھنس گئے۔

Abdul Mukhtar
اسکا... کچھ نہیں ہوتا!! یہ ڈھیٹ ہے... " ذلیل " ہو کر مزید... خوش ہوتا ہے کہ... بڑے بڑے لوگ... مجھ پر توجہ دے رہے ہیں!!

Shahana Jawaid
کیا اعلی طریقے سے بےعزتی خراب کی جا رھی ہے. پڑھ کے مزا آ گیا. کیا ایسے لوگوں کے لیے کوئی قانون نہیں بنا ہے.

Safdar Hamadani
یہ تو خود قانون ساز ہیں۔ جناب دو بار انکی ڈنمارک میں تاج پوشی ہو چکی ہے اور کئی ممالک میں محسن اردو کے خطاب سے بھی سرفراز ہوئے ہیں

Syed Arif Mustafa
اس ذلیل اور مکار شخص کو کہ جسکا نام تسلیم الہٰی زلفی ہے، "فیض احمد فیض بیروت میں" نامی جعلی کتاب لکھنے پہ اس کھلے فراڈ اور دھوکہ دہی پہ جوتے لگا کر پولیس کے حوالے کرنا چاہیئے ۔۔۔ اور اس فریب کاری کو بے نقاب کرنے پہ اہل ادب کو پہلے اصغر ندیم سید اور پھر عقیل عباس جعفری کا ازحد ممنون ہونا چاہیئے

Aqeel Abbas Jafri
شکریہ تو آپ اشفاق حسین کا ادا کیجیے، نہ وہ کتاب لکھتے نہ حقائق آشکار ہوتے

Athar Jaffri
قد بڑھانے کے واسطے ظالم.
کیسے کیسے کمال کرتے ہیں.

Amjed Saleem Alvi
ایک اور کمال ملاحظہ فرمائیے۔ زلفی صاحب تو خیر "معصوم" ہیں، ان کو تو خبر نہ ہو گی، لیکن جوش صاحب کو بھی پتا نہ چلا کہ ان کے اس انٹرویو کو جو ٹی وی نہیں ریڈیو کے لیے تھا اور جس کا وعدہ تھا کہ زندگی میں نشر نہ ہو گا، اس کو 1978 میں جماعتِ اسلامی کے وزیرِ اطلاعات نے نہ صرف اخبارات کو پہنچایا بلکہ جوش صاحب کی اچھی خاصی شامت لائی گئی، غالباً ان سے سرکاری مراعات بھی واپس لی گئیں۔ حیرت ہے 1980 میں بھی جوش صاحب اس "راز" کی حفاظت کر رہے تھے اور زلفی جیسے "باخبر" بھی اس قدر بے خبر تھے۔

Safdar Hamadani
جی علوی صاحب درست ہے میں اسوقت لاہور ریڈیو سے وابستہ تھا اور یہ انٹریوز کا ایک سلسلہ تھا جو سنٹرل پروڈکشن پر ریکارڈ ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی کے وزیر نے جن پروڈیوسر کے ذریعے یہ سب کام کروایا وہ ابھی حیات ہیں۔جوش مرحوم کا یہ انٹرویو شاہ حسن عطا نے کیا تھا اور اسکی ریکارڈنگ راولپنڈی میں سنٹرل پروڈکش کے دفتر میں ہوئی تھی

Tariq Rais Froughe
وزیر صاحب کا نام بھی لکھ دیجیے عنایت ہوگی

Safdar Hamadani
محمود اعظم فاروقی

Safdar Nawaid Zaidi
ان کا ایک اور واقعہ: یہ حضرت کسی طرح ڈنمارک میں کسی مشاعرے میں شریک ہونے کیلئے آ گئے۔ وہاں سے واپس آکر جناب نے کینیڈا کے کسی اردو اخبار میں لکھا کہ ڈچ حکومت نے انکو کوپن ہیگن شہر کی چابیاں پیش کیں۔ شاید اس وقت ڈنمارک پر ولندیزیوں کا قبضہ ہوگا!
ویسے کوپن ہیگن سے جلد ایک ادبی اسکینڈل آنے کو ہے جس میں سندھ کا ڈیپارٹمنٹ کلچر اور ایک خاتون وزیر برابر کی شریک ہیں

Zilley Hasnain Syed
جب ہمارے ایک نام نہاد سیاستدان حضرت امام ابو حنیفیؒ کے انتقال کے سینکڑوں سال بعد ان سے تصوف کی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں اور میڈیا و عوام میں ان کی یہ بات قبولیت کا درجہ پا لیتی ہو تو زلفی صاحب نے ہمارا کیا بگاڑا ہے ، ایسے ماحول میں نہ معلوم مزید کتنے زلفی صاحب ابھی منظر عام پر آنے والے ہوں گے ۔ ہمیں تو شکر گزار ہونا چاہیئے کہ اصغر ندیم سید ، اشفاق حسین اور عقیل عباس جعفری جیسے لوگ ہمارے درمیاں بفضل خدا موجود ہیں جن کی وجہ سے کم از کم ادبی سطح پر کسی جعلساز کو قبولیت عام نہیں مل پاتی ۔

Aqeel Abbas Jafri
وہ سیاست دان بھی کینیڈا سے تشریف لائے تھے

Diya Rahman
ہم پہلے ہی گزارش کر چکے ہیں کہ موصوف کو اچھے معالج کی ضرورت ہے شیزوفینیا میں مبتلا ہیں بچارے ۔
اب ایک زہنی بیمار شخص سے کیا توقع کل کو کہہ سکتے ہیں غالب کے ہاں آموں کی سپلاٸ ان کے ہاں سے ہوتی تھی اور علامہ اقبال اپنا کلام اِن کو نوک پلک سنوارنے کو بھجواتے تھے اور افتخار عارف نے ان کا کلام چوری کر کے اپنے نام سے چھپوا دیا ۔
حیف صد حیف

Munir Pervaiz
عقیل عباس جعفری صاحب۔ آپ نے یہ مضمون اور یہ رباعی کسی خاص وجہہ سے تلاش کی؟

Aqeel Abbas Jafri
رباعی تو خیر مضمون کا حصہ ہے، موضوع گفتگو تسلیم الٰہی زلفی کی غلط بیانیاں ہیں ۔

Amin Tirmizi
پاکستان سے ذکیہ غزل صاحبہ یہاں آئی تھیں میں اپنے ریڈیو کے لئے انٹر ویو میں ان سے کہا میں آپ سے وہ سوال نہیں کرونگا جو تسلیم الہٰی زلفی {سُلفی} نے کیا تھا کہ آپ کے شوہر بنک میں اعلیٰ عہدے پر ہیں وہ تو آپ کی خاصی "پشت پناہی" کرتے ہوں گے۔ سخت غصے میں بولیں ان کی تو آپ بات ہی نہ کریں۔ { یہ جملہ انکے انٹر ویو میں یو ٹیوب پر موجود ہے} اس قسم کے اردو الفاظ کے استعمال پر آپ ان کی علمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

Munir Pervaiz
Aqeel Abbas Jafri صاحبو ہم تو ٹُک ٹُک دیدم ، دم نہ کشیدم کی حالت میں ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ کینڈا میں حالات میں کیا تبدیلی آئے گی، اور حلقہ احباب ِ غالب و یگانہ میں کیا فرق پڑے گا۔ ہم نے تو کراچی کی ایک محفل میں ایک ّبڑے شاعر کو مرحوم رضی اختر شوق کا گریبان پکڑتے دیکھا تھا، اور جون صاحب کو بیچ بچائو کرتے ، اس کے بعد سے عبرت ہی عبرت ہے۔
سالہا سال سے ادب میں عبرت کی ارزانی ہے، اور ہم میں سے کچھ سر پر خاک ڈالتے ہیں۔
رضی اختر شوق کے اس شعر کے ساتھ اجازت:
بے چہرہ لوگ چہرہ دکھانے کے شوق میں
آئینے مانگ لایئں ہیں، حیرت کہاں سے لایئں۔
اور ایک مصرعہ کہ ّقد و قامت کہاں سے لایئں، بھی یاد اآیا ، اس کا دوسرا مصرعہ عقیل صاحب یاد دلا سکتے ہیں۔ والسلام

Nasim Syed
بھی اہل ٹورنٹو بہت کچھ دیکھ رہے ہیں بھگت رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مگر کیا کریں بڑے بڑے اس جعل سا زی میں ملو ث ہیں ۔۔۔۔۔ ہم نے تو ایک شعر کہہ کے دل پشا وری کرلیا اپنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ در بدر کا سہ بکف شہرت گزیدو ں کا یہ غول / ان سے عبرت لیجیو، یہ ہا ئو ہو مت کیجیو۔۔۔۔۔۔۔ زلفی کے سا تھ پا کستا ن کے اکیڈمی آف لیٹرز کی بھی بات کریں جس نے بلا تحقیق کے کتا ب چھا پی ۔۔ کسی کتاب کو چھا پنے والے کسی کتاب کا پیش لفظ لکھنے والے کھڑا کرنا ہے تو سب کوایک سا تھ کٹہرے مین کھڑا کریں ورنہ جو صبر ایک مدت سے کر تے آرے ہیں آپ اور ہم وہی کریں

Sharafat Naqvi
عقیل بھائی سلامت رہو۔ بہروپیوں کو بےنقاب کرتے رہو۔

Mirza Yasin Baig
ہر بڑی ادبی شخصیت کی برسی پر ان سے اپنی نیک ملاقاتوں پر مبنی تعزیتی کالم لکھنا ان کے ان پیج کا اعزاز ہے ۔اپنے تابناک مستقبل پر اتنا گھمنڈ رکھتے ہیں کہ تابناک میں سے اپنی ناک خود کاٹ لی ۔

Nasim Syed
بھئی تابناک میں ناک کو پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ بڑا پر لطف لگا
ویسے مضمون کے اوپر بسم اللہ الرحمنٰٰ الرحیم لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اللہ بیچا رے کو بھی گواہ بنا لیا ۔۔۔۔۔۔۔ جزاک اللہ

Munir Pervaiz
اس سارے معاملہ میں رضی اختر شوق کی یہ غزل یاد آئی جو اکثر یاد آتی ہے۔ احباب بھی پڑھیں، شاید کچھ دل سنبھلے:
دن کا ملال شام کی وحشت کہاں سے لائیں
زر زادگان شہر محبت کہاں سے لائیں
Rekhta.org

Syed Kashif Raza
میں نے ایک مرتبہ ریگل کے پرانی کتابوں کے بازار میں ضیاء الحق پر ایک ادبی پرچے کا نمبر دیکھا تھا۔ اس کے حصہ ء نظم میں ایک نام تسلیم الٰہی زلفی صاحب کا بھی تھا۔ ایسے معاملات میں میری یادداشت مجھے دھوکا نہیں دیتی۔ افسوس میں نے وہ نمبر خریدا نہیں ورنہ ریکارڈ کے طور پر سامنے لاتا۔ ایک اور کتاب میں مولوی عبدالحق کا ایوب خان کے لیے محبت نامہ بھی دیکھا تھا۔ میں تحقیق کا آدمی نہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اب سے میں ایسی چیزیں خرید لیا کروں گا۔

Siraj Anwar Khan
زلفی صاحب، جوش صاحب کبھی پاپوش نگر میں نہیں رہے۔ دوسری بات یہ راغب مرادآبادی کبھی بھی جوش صاحب سے مخلص نہیں تھے، انہوں نے "خطوطِ جوش" کو شائع کروا کر جوش دشمنی کا کھلا ثبوت پیش کیا۔ جو خطوط ایک دوست اپنے دوست کو بڑے کھلے اور کسی احتیاط کے بغیر لکھتا ہے ان کو عام کرنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔ تیسری بات کہ جوش صاحب کی ہر گفتگو اور ان کی زبانی سوانح عمری جو ٹیپ کی جاتی رہیں لاکھوں روپے میں راغب مرادآبادی نے بیچ دی تھیں۔

Saqlain Imam
Mr Tasleem Elahi Zulfi should be given "Pride of Performance" Award!

Tasnim Abidi
اف یہ ادب کا اکھاڑا لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو اتنی ساری دیدہ دلیریوں سے یہ لگ رہا ہے کہ کچھ نفسیاتی معاملہ ہے

Saleem Farooqi
خواتین و حضرات ڈھونڈیے، عالم آرائے گوگل پر کہیں نا کہیں تسلیم الہٰی زلفی صاحب کی ادب نوبل انعام وصول کرتے ہوئے بھی تصویر مل ہی جائے گی، اگر نہ ملے تو ملالہ کا چہرہ بدل کر بھی کام چلایا جاسکتا ہے۔
اس وقت بے چارہ شعیب شیخ یاد آرہا ہے کچھ دن پہلے کہا ہوتا تو وہ ڈگری کے ساتھ نوبل انعام بھی دلوا دیتا، وہ بھی سوئیڈن کے وزیرِ خارجہ کی تصدیق کے ساتھ۔

Noman Ali Khan
یہ تو ہمارے قلمکاروں کے دو گروہوں کی بہت کھلی کھلی لڑائی محسوس ہورہی ہے۔ لگتا ہے ہمارے ادب کی ساری سیاسی دائیاں اپنے اپنے چھپائے ہوئے پیٹ کھولنے پر تل گئی ہپیں۔ اپنی تمام بظاہر حماقتوں کے باوجود لگتا ہے کہ تسلیم زلفی صاحب کا پیر کہیں نہ کہیں کسی غلط دم پر آگیا ہے۔
دنیا کے ہر بڑے شہر میں کچھ پاکستان نژاد ’’سوشل ورکرز‘‘ ضرور موجود ہوتے ہیں، جن کا سب سے بڑا پیشن ہی یہ ہوتا ہے کہ پاکستان سے آنے والے سیاستدانوں، وزیروں، شاعروں اور ادیبوں کی مہمانداری کیلیئے آپس میں مقابلہ اور جنگیں کریں؛ ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں اور رسائل اور جرائد میں شائع کرواکر خود کو عالمی پیمانے کی سیاسی، صحافی اور انٹیلکچول شخصیت ثابت کریں۔
یہ لوگ پاکستان ایمبیسی میں اتنی زیادہ آمدورفت رکھتے ہیں کہ ناواقف پاکستانی انہیں ایمبیسی ہی کے با اثر سٹاف میں شامل سمجھتے رہتے ہیں جبکہ حقیقتاً یہ ایمبیسیز کے کمیونٹی ویلفئیر کے سٹاف کو دعوتوں اور فوٹو سیشنز میں الجھائے رکھ کر، ان کی اصل ڈیوٹی سے دور رکھنے کا سبب بنتے ہیں۔۔ یہ لوگ اپنی ذات کو ہر سوشل اور کلچرل ایکٹیویٹی کی ضرورت بنا کے رکھتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے، خود شاعر اور ادیب بھی بن جاتے ہیں لیکن زیادہ تر انٹیلیجنسیا کی تقریباً تمام ہی فیلڈز کے ماسٹر بن کر ایک ھمہ گیر شخصیت کا روپ دھارے رہتے ہیں۔ چند کالم شائع کرواکر یہ کرنٹ افئیرز کے ایکسپرٹ کہلواتے ہیں۔ ایک آدھ دوستوں میں فری تقسیم کرنے کیلیئے مجلہ پبلش کرواکر جرنلسٹ اور ایڈیٹر بھی ہوجاتے ہیں۔ پاکستان سے آنے والے خصوصاً شعرا و ادیب خود بھی ایسے لوگوں کے متلاشی رہتے ہیں تاکہ ان کے ذریعئیے ان کی بیرون ملک ڈیمانڈ سے ان کے قدوقامت میں اضافہ ہو۔
جس طرح کے اورجنل کام سے قلمکار کے قدوقامت میں سچا اضافہ ہوتا ہے ایسا کام تو اردو دان نہ اندرون ملک کررہے ہیں نہ بیرونِ ملک ۔ لے دے کر جوکام کرنے کی ان میں فطری صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے وہ جھوٹی شان اور اس جھوٹی شان کیلیئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا۔
جس انداز میں ان صاحب کے بارے میں غیر ادیبانہ گفتگو اوپر ایسے ایسے معتبر لوگ کررہے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب بیمار ہیں۔ زلفی صاحب کے بارے میں تبصرے کئیے گئے ہیں کہ وہ سکیزوفرینک ہیں۔ سکیزوفرینیا اور دوسرے نفسیاتی مسائل تو خیر تاریخ کے بڑی باکمال شخصیات کی بیماریاں رہی ہیں جیسے ھیمنگوے، ایذرا پانڈ، ورجینیا وولف، فرانز کافکا، جان نیش، لیو ٹالسٹائی، مائیکل اینجلو اور وان گاف وغیرہ ۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم بیمار تو ہیں لیکن ہمیں ان عظیم شخصیات والی بیماریاں نہیں۔

بشکریہ: دنیا پاکستان
ادب میں جعل سازیاں اور اہل ادب کی بے ادبیاں - آصف جاوید
گزشتہ دنوں اصغر ندیم سید صاحب جو کہ ممتاز ڈرامہ نگار اور ادیب ہیں کا ایک مضمون ”فیض کے نام پر ایک مذموم ادبی جعل سازی“نظر سے گزرا۔ اصغر ندیم صاحب کا اپنے مضمون میں کہنا تھا کہ تسلیم الٰہی زلفی نے ایک فرضی اور خیالی کتاب ”فیض احمد فیض بیروت میں“لکھ کر اکادمی ادیبات پاکستان کو ماموں بنا دیا اور فیض کے نقادوں اور فیض فیملی سب کو ٹوپی پہنا دی ہے، اور 2011 ءسے 2015 ءتک کسی کو پتہ ہی نہ چلا کہ یہ ایک جعل سازی ہے اور مکمل طور پر مہارت کے ساتھ پوری دنیا کو بیوقوف بنا دیا گیا ہے۔ مضمون پڑھنے کے بعد میرا دل اور دماغ ایک صدمے اور ہیجان میں مبتلا ہوگیا ، سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ میں زلفی صاحب کو بھی ذاتی طور پر جانتا ہوں اور اشفاق حسین صاحب کو بھی، دونوں ہی سے میری نیاز مندی کا سلسلہ قائم ہے۔ دونوں ہی میرے ساتھ شفقت اور محبت کا برتاﺅ رکھتے ہیں۔
جناب اصغر ندیم سید صاحب نے اکیڈمی آف لیٹرز اسلام آباد کی جانب سے جناب تسلیم الٰہی زلفی صاحب کی کتاب ”فیض احمد فیض بیروت میں (جلاوطنی کا دوسرا پڑاﺅ)“ جو کہ سال 2011 ءمیں فیض صدی کے تقریبی پروگرام میں شائع کی گئی تھی ، پر ممتاز شاعر و ادیب جناب اشفاق حسین صاحب کی کتاب " فیض بیروت میں : حقیقت یا افسانہ" کے حوالے سے اپنے احساسات اور رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ممتاز شاعر اور ادیب ، جناب اشفاق حسین صاحب کی یہ کتاب ابھی تازہ تازہ منظر عام پر آئی ہے، جو کہ در اصل زلفی صاحب کی کتاب پر ایک تحقیقاتی، تجزیاتی اور معلوماتی تبصرہ ہے، اشفاق حسین صاحب نے زلفی صاحب کی کتاب پر علمی اور تحقیقی دائرے میں کچھ ثبوتوں کے ساتھ اعتراض اور سوال اٹھائے ہیں۔ جو اپنی جگہ بہت اہمیت کے حامل ہیں، اشفاق حسین صاحب کے تجزیاتی تبصرے میں اٹھائے گئے سوالات کے جوابات اگر تشنہ طلب رہ جائیں گے تو یہ فیض کے ساتھ بہت بڑی تاریخی بددیانتی ہوگی۔ جناب تسلیم الٰہی زلفی صاحب اور جناب اشفاق حسین صاحب ، دونوں سے ہی میری نیازمندی ہے۔ دونوں شخصیات یہیں ٹورونٹو میں مقیم ہیں، ادب کے ایک ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے ٹورونٹو میں ہونے والی ادبی تقاریب میں دونوں شخصیات سے ملاقات ہوتی رہتی ہے، میں ان دونوں شخصیات سے انسیت اور محبت رکھتا ہوں۔ ٹورونٹو کے ادبی افق اور بین الاقوامی سطح پر دونوں ہی مقبول شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ میں اپنے بارے میں وضاحت کردوں کہ میں خود نہ شاعر ہوں ، نہ ہی ادیب، نہ ہی میں فکشن لکھتا ہوں، لہٰذا میرا ان دونوں کے دبستان ادب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر میں ان دونوں کو برادرِ بزرگ کا درجہ دیتا ہوں ، دونوں ہی کی عزت اور احترام کرتا ہوں۔ لہٰذا اس موقع پر میں چاہوں گا کہ بغیر کسی کی طرف داری کئے خود بھی حقیقت تک پہنچنے کی جستجو کروں اور قارئین سے بھی درخواست کروں گا ، اس اہم موضوع پر ہر ایک فریق کی جانب سے کافی وضاحت کے بغیر رائے قائم کرنے اور تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ جناب اشفاق حسین صاحب کی جانب سے زلفی صاحب پر سے لگائے جانے والے الزامات کی نوعیت اتنی معمولی نہیںکہ انہیں خواہ مخواہ نظر انداز کردیا جائے، اور سارے معاملے پر مٹی ڈال دی جائے۔ فیض کسی معمولی شخصیت کا نام نہیں، اقبال کے بعد فیض ہی اس صدی کے بڑے اور مقبول شاعر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ فیض پر آج جو کچھ بھی لکھا جائیگا، وہ کل تاریخ کا حصہ بن جائے گا اور فیض کے بارے میں حقائق کو اگر سامنے نہیں لایا جائے گا ہم سب تاریخ کو مسخ کرنے والے مجرمین میں شامل ہوں گے۔
پاکستان کے ایک اہم قومی ادارے اکادمی ادبیات پاکستان نے یہ کتاب چھاپی ہے۔ اکادمی ادبیات کی یہ اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرے جو پورے معاملے کا غیر جانبداری کے ساتھ جائزہ لے۔ اور اشفاق صاحب کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر تسلیم الٰہی زلفی صاحب سے جواب طلب کرے ، بالخصوص سال 1978ءمیں فیض صاحب کی بیروت میں موجودگی یا عدم موجودگی کی حقیقت کی بھی تحقیق ہونی چاہئے اور کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں کتاب کی پشت پر چھاپی گئی تصویر جس کے بارے میں جناب اشفاق حسین صاحب کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر فوٹو شاپ ہے ، اس تصویر کا بھی جائزہ لیا جائے ، معاملے کی شفافیت اور تہہ تک پہنچا جائے، ہم اس موقع پر جناب تسلیم الٰہی زلفی صاحب سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ آگے آکر اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا سامنا کریں، اگر یہ الزام جھوٹے ہیں تو ان کو غلط ثابت کریں اپنی بھرپور صفائی دیں اور اپنی کردار کشی کرنے والوں کو کٹہرہ عدالت میں لا کر ان پر ہتک عزت کا مقدمہ چلائیں۔اور اپنے تمام مخالفین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں ، بصورت دیگر جناب اشفاق حسین صاحب کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرکے اپنی شائع شدہ کتاب کے جعلی ہونے کا اعتراف کرکے، کتاب کو مارکیٹ اور لائبریریوں سے واپس لیں۔ اہل ادب کو اس مخمصہ سے باہرنکالیں اور اہل ادب اور فیض کے دیوانوں سے معافی مانگیں۔ اکادمی ادبیات اور تسلیم الٰہی زلفی دونوں کو ہی اپنی ساکھ بچانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ادبی جعل سازی ثابت ہوجائے تو اتنی بڑی جعل سازی کے ذمہ داروں کا تعین ہونے کے بعد ان کو قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی کوشش نہ کرے، اور اگر یہ جناب تسلیم الٰہی زلفی صاحب کی ساکھ کسی ادبی رقابت کی بنا پر خراب کرنے کی گھٹیا اور مذموم حرکت ہے ، تو ایسی حرکت کرنے والوں کو بھی قرار واقعی سزا ملنی چاہئے اور ادبی اداروں اور ادیبوں کو ایسے لوگوں سے خبردار رہنا چاہیے۔
مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں ادب کی دنیا میں کھینچا تانی اور شخصیات کی کردار کشی ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں ادب میں بے ادبیاں دیکھتا ہوں۔ کبھی کسی ادبی شخصیت کو ذاتی عناد کی بنا پر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کبھی کسی ادبی شخصیت کے خلاف محاذ بنائے جاتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ ادبی لوگ اصلاح معاشرہ کے لئے فعال کر دار ادا کرتے ہیں اگر انہی کے درمیان اس قسم کی قلمی لڑائیاں شروع ہوجائیں تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔ خیال رہے کہ دودھ کا دھلا تو یہاں کوئی بھی نہیں۔ اس لئے میرے خیال میں ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اس معاملے میں بڑھ چڑھ کر یک طرفہ تبصرہ کرنے والوں سے بھی درخواست کرونگا کہ ہر شخص معصوم ہے جب تک وہ مجرم نہ ثابت ہوجائے۔

تسلیم الٰہی زلفی کی کتاب (فیض احمد فیض بیروت میں) کی نقاب کشائی کرنے والی کتاب ۔۔۔ پی۔ڈی۔ایف میں ملاحظہ فرمائیں :

فیض بیروت میں : حقیقت یا فسانہ
مصنف: اشفاق حسین
اشاعت : اکتوبر 2015
صفحات : 208
پی۔ڈی۔ایف فائل حجم : 5 ایم۔بی

ڈاؤن لوڈ:

An impostor in urdu literary world

4 comments:

  1. اس طرح کے بہروپیوں کے بارے میں تو حیدر قریشی صاحب بہت پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں۔ اب اگر ہم آپ سب جان کر انجان بنے ہوئے تھے تو اس میں ہمارا ہی قصور زیادہ ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. اور حیدر قریشی محترم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ;)
      http://jadeedadab-asliyyat.blogspot.com/

      Delete
  2. SAHEBO ABHI TAU MOSOOF K JAPAN MEIN HONEY WALEU KARNAMEY BAQI HEIN.....WO AAP SUNEN GEY TAU HAIRAAN HOJAYENGEY.....NASIR NAKAGAWA

    ReplyDelete
    Replies
    1. جاپان والے کارناموں کا بھی لنک دے دیجیے جناب
      :)

      Delete