Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-10-24 - بوقت: 23:04

مسئلہ کشمیر کے لئے ثالثی کی ضرورت - پاکستانی وزیراعظم نواز شریف

Comments : 0
واشنگٹن
پی ٹی آئی
کشمیر کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ اس مسئلہ کی یکسوئی اور ہندوستان و پاکستان کے درمیان مذاکراتی تعطل کو ختم کرنے کے لئے تیسرے فریق کی ثالثی کی ضرورت ہے ۔ شریف نے امریکی صدر بارک اوباما سے کل ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ فی الحال ہندو پاک کے درمیان مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کے لئے کوئی باہمی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں ۔ اس منظر نامہ میں اس مسئلہ پر تیسرے فریق کی ثالثی ضروری ہے ۔ اگر ہندوستان تیسرے فریق کے کردار کو قبول نہیں کرتا اور کوئی باہمی مذاکرات نہیں ہوتے تو پھر تعطل کی صورت حال برقرار رہے گی۔ اس تعطل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اردو میں بات کرتے ہوئے شریف نے کہا کہ انہوں نے اوباما سمیت امریکی قیادت کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتوں کے دوران مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ میں بھی کشمیر کا ذکر ہے ۔ شریف نے کہا کہ سبھی نے تسلیم کیا کہ کشمیر ایک تنازعہ ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ شریف نے کہا کہ انہوں نے اوباما کو اپنی کشمیر امن پہل سے واقف کرایا ۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان کو اس کی امن پہل پر ہندوستان کی طرف سے مناسب رد عمل نہیں ملا ۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران اوباما نے تسلیم کیا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان نے کشمیر مسئلہ پر کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کردیا ہے اور اس موقف پر قائم ہے ۔ کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تمام دیرینہ مسائل باہمی طور پر حل کئے جانے چاہئے ۔ ہندو پاک تعلقات پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں اپنے دہلی دورہ کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے مودی کو وہیں سے امن بحالی کے آغاز کی پیشکش کی جہاں پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اسے1999میں لاہور نے چھوڑا تھا۔ شریف نے کہا کہ انہوں نے مودی سے خواہش کی کہ دونوں رہنماؤں کو دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کی یکسوئی کے لئے بات چیت کرنی چاہئے ۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ بات چیت کے لئے رضا مند ہوگئے ہیں ۔ اور پھر اچانک یکطرفہ طور پر معتمدین خارجہ سطح کے مذاکرات منسوخ کردئے ۔ اگر انہوں نے (مودی) مجھ سے بات کی ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے ۔ لیکن انہوں نے وہ فیصلہ مجھ سے رجوع کئے بغیر لیا۔ شریف نے کہا کہ پاکستان میں مبینہ ہندوستانی سرگرمیون سے متعلق ثبوت کل وزیر خارجہ جان کیری کے حوالے کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قائدین کے ساتھ اپنی ملاقات میں لائن آف کنٹرول پر فائرنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ نہ صرف ایل او سی پر بلکہ حقیقی سرحد پر بھی جنگ بندی کی سفاکانہ خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ وزیر اعظم نے ایسا مکانزم قائم کرنے کی وکالت کی جو اس بات کا تعین کرے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پہلے کس نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ جو جنگ بندی کی خلاف ورز ی کرتے ہیں ، انہیں ذمہ دار قرار دیا جانا چاہئے ۔ شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں شریف نے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی پابند ہے ۔

Kashmir a 'flashpoint', need third party to resolve issue, says Nawaz Sharif

0 comments:

Post a Comment