Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2013-09-14 - بوقت: 23:21

دہلی عصمت ریزی کے 4 خاطیوں کو سزائے موت

Comments : 0
Delhi gang-rape Four accused
دہلی میں گزشتہ 16 دسمبر کو پیش آئے اجتماعی عصمت ریزی کے وحشیانہ جرم کے تمام چاروں مرتکبین کو آج دہلی کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی ہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج ہوگیش کھنہ کیس کو "شاذ ونادر نوعیت کا بد ترین کیس قرار دیا"وحشیانہ عصمت ریزی کے بعد مظلوم لڑکی ، گزشتہ 29 دسمبر کو سنگا پور ماؤنٹ ایلزبتھ ہاسپٹل میں جانبر نہ ہوسکی ۔ عدالت نے چاروں ملزمین مکیش 26 سالہ ، پون گپتا 19 سالہ ، ونئے شرما 20 سالہ اور اکشے ٹھاکر 28 سالہ کو گزشتہ منگل کو خاطی قرار دیا تھا ۔ اس وحشیانہ واقعہ نے سارے ملک کو دہلا کر رکھ دیا تھا اور اس واقعہ کی خبر عالمی اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کی تھیں ۔ جج نے کہا کہ اس کیس نے "وقم کی اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دی ا۔ سماج کے لیے ایسا کرم ناقابل براداشت ہے اور عدالت ، ایسے وحشیانہ جرم سے چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتی "۔ مظلوم و مقتول 23 سالہ لڑکی ایک فزیو تھراپسٹ تھی ۔ عدالت نے گزشتہ منگل ، کو چاروں خاطیوں کو قتل ، اجتماعی عصمت ریزی ، ڈکیتی اور دیگر جرائم کا مرتکب پایا تھا ۔ جیسے ہی جج نے آج عدالت میں فیصلہ پڑھ کر سنایا ، خاطی ونئے شرما ، زمین پر گر گیا اور جج سے مخاطب ہو کر روتے ہوئے کہا "سر جی ، سر جی" لیکن جلد ہی پولیس ، تما م ملزمین کو وہاں سے لے کر چلی گئی ۔ میڈیا ارکان نے جب اس فیصلہ پر ایڈیشنل پبلک پراسیکوٹر دیان کرشنن کا رد عمل جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ "میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اپنا فریضہ نبھایا ہے ۔ میں نے کبھی بھی ایسا وحشیانہ (جرم کا) واقعہ نہیں دیکھا " ۔ انھوں نے کہا کہ اب یہ فیصلہ ، بغرض توثیق دہلی ہائی کورٹ میں جائے گا اور اس توثیق کے حصول کے لیے اعظم ترین مدت 30 یوم ہے ۔ دوسری جانب خاطی مکیش کے وکیل وی کے آنند نے کہا کہ " ہم ، ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے ۔یہ کیس سزائے موت کے قابل نہیں ہے ۔ فیصلہ کا اعلان ہونے کے بعد ضلع عدالت کے باہر زبردست تالیوں کا شور سنائی دیا ۔ دوپہر ہی سے عدالت کے باہر سینکڑوں افراد جمع تھے ۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ گزشتہ 16 دسمبرکو دہلی میں ایک چلتی بس میں 16 افراد بشمول ایک کم عمر لڑکے نے 23 سالہ فزیو تھراپسٹ کی وحشیانہ اجتماعی عصمت ریزی کی تھی اور خاطیوں نے اس لڑکی اور اس کے بوائے فرینڈ کو بس سے باہر ، برہنہ حالت میں پھینک دیا تھا ۔ ملزمین میں سے ایک نے دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی لے کر خود کشی تھی جبکہ کم عمر خاطی جو ینائل جسٹس بورڈ نے گزشتہ 31 اگست کو ایک اصلاح گھر میں 3 سال گزارنے کی سزا سنائی ۔ ممبئی سے پی ٹی آئی کے بموجب مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے دہلی عصمت ریزی کیس کے چاروں خاطیوں کو عبرتناک سزائے موت سنائے جانے کی ستائش کی اور کہا ہے کہ مظلوم و مقتول لڑکی اور اس کے خاندان کو انصاف ملا ہے ۔ انصاف کے دیوتا نے ایسے اشرار مجرموں کے لیے ایک نئی مثال قائم کی ہے کہ اگر وہ ایسا گھناؤنا جرم کریں و انہیں سخت سزاملے گی ۔ دریں اثنا عصمت ریزی کی شکار مقتول کی والدہ نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلہ سے مطمئن ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ " اب میں مطمئن ہوں اور بالاآخر ہمیں سکون ملا ہے ۔"

Delhi gang-rape case: Death sentence for all four convicts

0 comments:

Post a Comment