Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2013-05-07 - بوقت: 22:46

اردو وراثت کاروان - آندھرا پردیش اردو اکیڈمی کے متنازعہ امور کی وضاحت مطلوب

Comments : 4
سکریٹری / ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی، آندھرا پردیش کے نام ایک کھلا خط
اردو اکیڈیمی آندھراپردیش سے سوال

نوٹ: اردو وراثت کاروان کے سلسلے میں سکریٹری / ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی سے بعض امور کی وضاحت کی خواہش میں نے 8/اپریل کو کی تھی۔ جواب نہ ملنے پر 18/اپریل کو یاد دلایا گیا ، جس پر سکریٹری / ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی نے 23/اپریل کے خط میں چار دن بعد اپنا جواب دینے کا وعدہ کیا تھا۔ آج 5/مئی یعنی 12دن گزر جانے کے بعد یہ کھلا خط جاری کیا جا رہا ہے ۔ اگر آپ کی وضاحت بروقت مل جاتی تو یہ کھلا خط جاری نہ کیا جاتا۔
- رشید انصاری

حیدرآباد میں "اردو وراثت کارواں" کی تقاریب کا انتظام اردو اکیڈیمی آندھراپردیش کے سپرد تھا لیکن اس سلسلہ میں منعقدہ مشاعرہ اور سمینار کا انتظام اکیڈیمی نے مایوس کن انداز میں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ اردو اکیڈیمی (جس کا کوئی صدر عرصہ سے نامزد نہیں ہوا ہے اور اکیڈیمی کے سکریٹری ایس اے شکور مختار کل ہیں موصوف نے اردو وراثت میلہ کا سار ا انتظام زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کے ذمہ کر کے تمام تقاریب کو گروپ بندی کا شکار بنایا۔ اس سلسلہ میں شکو ر صاحب نے راقم الحروف کے سوالات کا جواب نہیں دیا اور مندرجہ ذیل امور کی وضاحت انہوں نے نہیں کی۔

1) کیا وجہ ہے کہ ہر تقریب سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ یہ سارا انتظام ادارہ سیاست نے کیا ہے ؟
2) ان تقاریب میں شہر کے دیگر چار بڑے اخبار ات کے ایڈیٹر، دوارکان پارلیمان اور تمام ارکان کونسل و اسمبلی کیوں دور رکھے گئے ؟ کیا انہیں مدعو نہیں کیا گیا تھا یا کیا مدعوکرنے کے باوجو د وہ لوگ نہیں آئے ؟ اطلاعات کے بموجب ادارہ سیاست سے ہٹ کر دوسرے اصحاب کو مدعو نہیں کیا گیا یا صحیح طریقہ سے مدعو نہیں کیا گیا۔
3) مشاعرہ میں تمام شاعر سیاست گروپ کے تھے ۔ مضطر مجاز جیسے شاعر کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اگر شعرا اور دیگر شرکا اور مدعوئین کی فہرست فروغ اردو کونسل نے مرتب کی تھی تو کیا حیدرآباد کے اہم شعرأ و شخصیات کا حق ہے یہ استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟باور کیا جاتا ہے کہ وہی لوگ مدعو کئے گئے جن کو ادارہ سیاست نے چاہا۔
4) اس نیم سرکاری تقریب میں جس میں وزیر اعلیٰ بھی شریک تھے ان کے ساتھ برسراقتدار جماعت کے نمائندے کی جگہ تلگودیشم سے وابستہ مخالف مجلس اتحادالمسلمین زاہد علی خاں کی اسٹیج پر موجودگی کیا صرف اس وجہ سے تھی کہ وزیر اعلیٰ کرن کماریڈی جواب مجلس اتحادالمسلمین کے بدترین مخالف ہیں ان کو خوش کرنے کے لئے یہ سیاسی کھیل کھیلا گیا۔ اتفاق ہے کہ شہر کے ایک ایم پی دو ایم ایل سی اور سات ارکان اسمبلی کا تعلق مجلس سے ہے ۔ اسی لئے ان کو نظر انداز کیا گیا۔

اگر شکور صاحب ادارہ سیاست اردو کے صدر زاہد علی خاں کے دوست ہیں تو دوستی کو نبھانے، سرکاری اداروں کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہے ۔
اردو وراثت کارواں کی تقاریب زاہد علی خاں کی مجلس دشمنی اور گرو بندی اور شکور صاحب کی زاہد علی خاں نوازی کی بھینٹ چڑھ گئیں ۔ شکورصاحب کی خاموشی ثبوت ہے کہ وہ جواب دینے سے قاصر ہیں ۔ تاہم ان کا محاسبہ ضروری ہے کیونکہ سرکاری رقم کا غلط استعمال بھی جرم ہے ۔

Andhra Pradesh Urdu Academy controversial issues needed clarification

4 comments:

  1. اردو وراثت کارواب تقاریب میں جو کچھ ڈرامے بازی ہویئ وہ سب پر عیاں ہے شکور صاحب نے وقت کی کمی کے باعث اپنے رفقا سیاست کو استعمال کیا اور تقریب منعقد کردی اب سوال کے جوابات پوچھنے سے کیا حاصل- ارباب اقتدار کے ساتھ تو یہ سب کچھ ہوتا ہے جن کو نہیں بلایا گیا وہ شائد ارباب کی مصلحتیں تھیں یا مجبوریاں-

    ReplyDelete
    Replies
    1. ڈاکٹر اسلم فاروقی صاحب
      سوالات تو یقیناً اٹھائے جانے چاہیے۔ ممکن ہے اس سے کچھ لوگ یا ادارے اپنے احتساب کی جانب راغب ہوں۔

      Delete
  2. اردو وراثت کارواں میں اضلاع کے نمائندوں کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔ ایسسا محسوس ہوتا ہیکہ پروگرام گورنمنٹ کا نہی بلکہ سیاست والوں کا تھا۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. مگر ادارہ سیاست بھی تو معیاری اجلاسوں کے انعقاد کے لیے مشہور ہے۔ پھر اس مرتبہ انہیں آخر کیا ہوا؟

      Delete