پرنٹ مر نہیں رہا ہے بلکہ اپنی صورت بدل رہا ہے
ہندوستانی اخبارات کے تازہ اعداد و شمار اور اردو اشاعت کے لیے ایک سبق
چند روز پہلے "کتابوں کی آخری ہچکی؟" کے عنوان سے وسعت اللہ خاں کے ایک کالم پر گفتگو کرتے ہوئے عرض کیا گیا تھا کہ کتاب کے استعمال، ترسیل اور حصول کے طریقوں میں تبدیلی کو خود کتاب کی موت سمجھ لینا درست نہیں۔ ابھی اس بحث کی بازگشت باقی تھی کہ ہندوستانی اخبارات کے تازہ مالی اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں۔ اتفاق سے یہ اعداد بھی اسی عمومی مفروضے کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں جس کے تحت گذشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے وقفے وقفے سے اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ:
"پرنٹ مر رہا ہے"۔
انڈین پرنٹر اینڈ پبلشر میں شائع شدہ اِپ-اسٹار [IppStar] کے تازہ تجزیے (31/اگست 2026ء) میں ہندوستان کے 47 اخباری گروپوں کے نو مسلسل مالی برسوں کے دستیاب اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ نے ان 47 میں سے دس سب سے بڑے گروپوں کے نام بھی جاری کیے ہیں۔
ہرچند کہ نتیجہ نہ پرنٹ کی فتح کا اعلان ہے، نہ ڈیجیٹل دنیا کی شکست کا۔ بلکہ ایک زیادہ پیچیدہ اور شاید زیادہ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں مطبوعہ (پرنٹیڈ) اخبار، کووڈ کے غیر معمولی صدمے سے نکل کر ایک نئے کاروباری اور ابلاغی ماحول میں اپنے لیے جگہ بنا رہا ہے۔
ان اعداد کو غور سے ملاحظہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ مالی سال 2018-19 میں ان 47 اخباری گروپوں کی مجموعی آمدنی تقریباً 27 ہزار کروڑ روپے تھی۔ وبا کے بدترین مرحلے میں یہ آمدنی اس سطح سے تقریباً 41 فی صد نیچے چلی گئی۔ پھر مالی سال 2021-22 میں تقریباً 21 فی صد اضافہ اور اگلے سال تقریباً 20 فی صد اضافہ ہوا۔ 2023-24 میں ترقی کی رفتار چھ فی صد رہ گئی اور 2024-25 میں تقریباً تین فی صد کمی بھی آئی۔ تازہ ترین دستیاب مکمل سال میں ان گروپوں کی مجموعی آمدنی تقریباً 24 ہزار کروڑ روپے ہے، یعنی 2018-19 کی چوٹی سے اب بھی 11.6 فی صد کم۔ مزید یہ کہ 47 میں صرف 15 گروپ ایسے ہیں جو وبا سے پہلے والی اپنی آمدنی کی سطح سے آگے نکل سکے ہیں۔ اس لیے ان اعداد سے یہ نتیجہ نکالنا کہ "پرنٹ نے ڈیجیٹل کو شکست دے دی" ویسا ہی غیر محتاط دعویٰ ہوگا جتنا ایسا کہنا کہ "پرنٹ ختم ہو گیا"۔
دونوں جذباتی نعروں کے بیچ ہی حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے۔ یعنی: پرنٹ کاروبار سکڑا ضرور، مگر ختم نہیں ہوا۔ اور وبا کے بعد اس نے خاصی بڑی زمین دوبارہ حاصل بھی کی ہے۔
اس تصویر کی تصدیق ایک دوسرے اور نسبتاً وسیع ماخذ سے بھی ہوتی ہے۔ ہندوستانی میڈیا و تفریحی صنعت سے متعلق، مارچ 2026 میں جاری ہندوستان کی معروف صنعتی و تجارتی تنظیم فِکّی (FICCI) اور عالمی مشاورتی ادارے ای-وائی (EY) کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں ہندوستان کا مجموعی میڈیا و تفریحی کاروبار نو (9) فی صد بڑھ کر 2.78 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ یعنی ڈیجیٹل میڈیا سب سے طاقت ور شعبہ بنا ہے اور ڈیجیٹل اشتہارات میں 26 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ علاوہ ازیں، اسی رپورٹ میں پرنٹ کے اشتہاری محاصل میں بھی دو فی صد اضافے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ البتہ سرکولیشن سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک فی صد کم ہوئی۔ یہ دو اعداد ساتھ رکھنا ضروری ہے، یعنی: اشتہار بڑھا، سرکولیشن گھٹا۔ گویا مطبوعہ اخبار کا مسئلہ محض یہ نہیں کہ لوگ اسے پڑھتے ہیں یا نہیں؟ اس کا کاروباری ڈھانچا تبدیل ہو رہا ہے۔ اشتہار دینے والا اب بھی پرنٹ میں بعض مخصوص قارئین، علاقوں اور زبانوں تک رسائی کی قدر دیکھ رہا ہے، جبکہ روزانہ اخبار خریدنے والے قاری کی عادت آہستہ آہستہ بدل رہی ہے۔
اس رجحان کو اخبار "ہندوستان" شائع کرنے والے ادارے ہندوستان میڈیا وینچرز لمیٹیڈ (Hindustan Media Ventures Limited) کے تازہ مالی نتائج سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کو اشتہارات سے 504 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 466 کروڑ روپے تھی۔ دوسری طرف اخبار کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی تقریباً 155 کروڑ روپے پر مستحکم رہی۔ یوں کمپنی کی مجموعی کاروباری آمدنی 673 کروڑ روپے سے بڑھ کر 740 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ کمپنی کی چیئرپرسن شوبھنا بھارتیہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس برس پرنٹ شعبہ ایک بار پھر سنبھلتا دکھائی دیا، جس میں اشتہاری سرگرمیوں کی بحالی نے اہم کردار ادا کیا۔ بالخصوص ہندوستانی زبانوں کے اخبارات کی اس طاقت کی طرف کمپنی چیئرپرسن شوبھنا توجہ دلاتے ہوئے کہتی ہیں کہ: قارئین کے ساتھ برسوں کے اعتماد، ثقافتی وابستگی اور مقامی سطح کی صحافت سے ایسا استحکام پیدا ہوتا ہے۔
اردو صحافت کے لیے اس مشاہدے میں ایک اہم اشارہ پوشیدہ ہے۔ کسی زبان کا اخبار محض خبریں پہنچانے کا وسیلہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک مخصوص لسانی، تہذیبی اور مقامی حلقے تک رسائی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ علاقائی زبانوں کے اخبارات کی یہی خصوصیت اشتہاری منڈی میں ان کی ایک الگ قدر قائم رکھتی ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل ذرائع کے تیز رفتار پھیلاؤ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ زبانوں کے مطبوعہ (پرنٹیڈ) اخبارات اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ ان کی قوت اب محض تعدادِ اشاعت میں نہیں، بلکہ اپنے مخصوص قارئین کے ساتھ قائم اعتماد اور تعلق میں بھی مضمر ہے۔
مگر بہتر ہے کہ خوش فہمی کا ایک دوسرا دروازہ بھی بند کر دیا جائے۔ ہندوستان میں ڈیجیٹل ذریعہ محض پرنٹ کا معاون نہیں رہا، وہ اب میڈیا کی سب سے بڑی معاشی قوت ہے۔ متذکرہ تجارتی رپورٹ فِکّی-ای۔وائی(FICCI-EY) کے مطابق 2025 میں ڈیجیٹل میڈیا کی آمدنی ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئی اور مجموعی اشتہاری اخراجات کا تقریباً 63 فی صد ڈیجیٹل اشتہارات کے حصے میں آیا۔ دوسری طرف بڑے اخباری ادارے خود بھی محض اخبار چھاپنے والی کمپنیاں نہیں رہے۔ کریسل ریٹنگس (CRISIL Ratings) کے اگست 2026 کے ایک مطالعے کے مطابق ہندوستان کے بڑے اخباری اداروں کی آمدنی میں غیر مطبوعہ کاروبار کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم، آؤٹ آف ہوم اشتہارات اور تقریبات جیسے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی موجودہ مالی سال میں ان اداروں کی مجموعی آمدنی کے تقریباً ایک چوتھائی تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ مالی سال 2018-19 میں یہ حصہ تقریباً 13 فیصد تھا۔ لہٰذا مستقبل کا کامیاب اخبار غالباً وہ نہیں ہوگا جو ڈیجیٹل دنیا سے مقابلہ کرکے اسے شکست دینے کی کوشش کرے، بلکہ وہ ہوگا جو اپنی مطبوعہ شناخت، ادارتی اعتبار اور مقامی رسائی کو ڈیجیٹل تقسیم، تلاش، محفوظات، ویڈیو، تقریبات اور دوسرے ذرائع کے ساتھ خود کو جوڑ سکے۔ ہندوستان دراصل "پرنٹ یا ڈیجیٹل" کی منڈی سے زیادہ "پرنٹ اور ڈیجیٹل" کی منڈی بنتا دکھائی دیتا ہے۔
یہیں سے مکالمے کا رخ اردو صحافت اور اردو رسائل تک پہنچتا نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں کسی رسالے کے بند ہونے، کسی اخبار کی اشاعت گھٹنے یا نوجوانوں کے فیس بک اور یوٹیوب کی طرف منتقل ہونے سے فوراً ایک کلیہ بنا لیا جاتا ہے کہ "اردو رسائل کا زمانہ ختم ہو گیا" یا "اب کون اخبار پڑھتا ہے؟" ایسی باتیں کسی محفل میں تاثرات کے طور پر تو کہی جا سکتی ہیں، تحقیقی نتائج کے طور پر نہیں۔ خود اِپ-اسٹار [IppStar] کے سابقہ جائزوں میں شامل اخباری نمونے میں اردو سمیت ہندوستان کی متعدد زبانوں کے اخبارات موجود رہے ہیں۔ البتہ یہ بھی دیانت داری نہیں ہوگی کہ ہندوستان کی مجموعی پرنٹ صنعت کے اعداد براہ راست اردو پر منطبق کر دیے جائیں۔ اردو کی اپنی مشکلات ہیں: محدود اشتہاری منڈی، کمزور تقسیم، چھوٹے اشاعتی ادارے، سرکولیشن کے قابل اعتماد اعداد کی کمی، نئی نسل تک رسائی کا مسئلہ اور بیشتر اداروں میں ڈیجیٹل حکمت عملی کا فقدان۔ لیکن ان مسائل سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ذریعۂ اشاعت اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ زیادہ درست نتیجہ یہ ہے کہ اردو کا پرانا اشاعتی کاروباری نمونہ اپنی موجودہ شکل میں ناکافی ہو گیا ہے۔
یہ فرق اردو کتاب اور رسالے کے مستقبل کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
آج ایک ادبی رسالہ پانچ سو یا ایک ہزار نسخے چھاپتا ہے تو اس کی اصل پہنچ صرف انہی نسخوں تک محدود کیوں رہے؟ اس کا مطبوعہ شمارہ اپنی مادی اور ادبی شناخت برقرار رکھ سکتا ہے، اسی شمارے کے منتخب مضامین ویب پر قابلِ تلاش ہو سکتے ہیں، پرانے شماروں کا باقاعدہ ڈیجیٹل اشاریہ بن سکتا ہے۔ مصنف، موضوع، سن اشاعت اور شمارے کے اعتبار سے مواد تلاش کیا جا سکتا ہے اور کتاب یا رسالے کا مستقل کتابیاتی ریکارڈ قائم ہو سکتا ہے۔ یہی اصول کتاب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کتاب چھپے، اس کی فروخت ہو، ناشر کی ویب سائٹ پر اس کا مستند تعارف اور کتابیاتی کوائف موجود ہوں، کتاب خانوں اور مختلف قسم کے ڈیٹابیس میں اس کا اندراج ہو، اور جہاں حقوق اجازت دیں وہاں اس کے منتخب صفحات یا مکمل ڈیجیٹل نسخے تک رسائی بھی ممکن ہو۔ یوں کاغذ اور اسکرین حریف نہیں رہتے بلکہ ایک ہی علمی مواد کی دو مختلف زندگیاں بن جاتی ہیں۔
شاید اس پوری بحث کا حاصل یہی ہے کہ ذرائع ابلاغ کی تاریخ میں نئے ذریعے عموماً پرانے ذریعے کو ایک ہی وار میں ختم نہیں کرتے۔ وہ اس کے کام، معاشیات اور استعمال کی نوعیت بدل دیتے ہیں۔ ریڈیو کے آنے سے اخبار ختم نہیں ہوا، ٹیلی وژن کے آنے سے ریڈیو ختم نہیں ہوا، انٹرنیٹ نے کتاب کو مٹا نہیں دیا اور اب مصنوعی ذہانت بھی لازماً ان سب کے لیے کوئی آخری گھنٹی نہیں ہے۔ البتہ جو ادارہ اپنے قاری کی نئی عادت، نئی تقسیم اور نئی دریافت پذیری کو نظرانداز کرے گا، اس کے لیے حقیقی خطرہ ہے۔
ہندوستانی اخبارات کے تازہ اعداد اسی لیے اہم ہیں کہ یہ ہمیں "پرنٹ مر چکا ہے" کے آسان اور سنسنی خیز فقرے سے آگے دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اردو کے ناشر اور مدیر کے سامنے بھی انتخاب "کتاب یا ویب"، "رسالہ یا فیس بک" اور "پرنٹ یا ڈیجیٹل" کا نہیں ہونا چاہیے۔
زیادہ بامعنی فارمولا شاید یہ کہلایا جا سکتا ہے:
کتاب + رسالہ + ویب + قابلِ تلاش ڈیجیٹل محفوظات۔
یاد رکھنا چاہیے کہ مستقبل کسی ایک ذریعے کا نہیں، اس مواد کا ہے جو معتبر بھی ہو، محفوظ بھی، قابلِ دریافت بھی۔۔۔ اور قاری جس ذریعے سے چاہے، اس تک پہنچ سکے!!
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
![]() |
| Syed Mukarram Niyaz سید مکرم نیاز |
India's Newspaper Revenue Recovery Challenges the 'Print Is Dead' Narrative


گفتگو میں شامل ہوں