کتابوں کی آخری ہچکی؟ وسعت اللہ خاں کے کالم کا تنقیدی جائزہ
وسعت اللہ خاں کا حالیہ کالم "کتابوں کی آخری ہچکی" بلاشبہ ایک اہم موضوع پر لکھا گیا ہے، مگر اس میں پیش کیے گئے بعض دعوے اور ان سے نکالے گئے نتائج حقائق کی روشنی میں پورے طور پر استوار نہیں ہوتے۔ ایک ذمہ دار قاری کا فرض ہے کہ وہ محض جذباتی بیانیے پر یقین کرنے کے بجائے اعداد و شمار، زمینی صورتحال اور منطقی دلائل کی بنیاد پر رائے قائم کرے۔ اسی تناظر میں اس کالم کے بعض مفروضوں اور نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے، تاکہ بحث سطحی تاثرات سے نکل کر ٹھوس تحقیق کی سمت گامزن ہو سکے۔
پہلی بات تو یہ کہ، ہر بڑی خریداری (بَلک پرچیزنگ) کو کسی اے۔آئی کمپنی سے جوڑنا ابھی ثابت شدہ وقوعہ نہیں ہے۔ آئی۔ایس۔بی۔این-ڈی۔بی نے بھی بعض الزامات یا قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے۔
ڈیڑھ بلین رقم والا واقعہ سچا سہی، مگر رقم دراصل قانونی طور پر خریدی ہوئی فزیکل کتابوں کو کاٹنے کا جرمانہ نہیں تھی بلکہ مقدمے کا بنیادی مسئلہ لاکھوں کاپی رائیٹیڈ کتابوں کی پائریٹیڈ ڈیجیٹل کاپیاں حاصل کرنا تھا۔
کالم کا بنیادی مبالغہ یہ ہے کہ : دنیا سے فزیکل کتابوں کا وجود ختم ہو جائے گا۔
جبکہ اس تصور کے ٹھوس شواہد کا موجود ہونا تو دور کی بات، بڑی پبلشنگ مارکٹ کے تازہ اعداد و شمار اس مفروضے کی الٹ تصویر دکھاتے ہیں۔ مثلاً:
یو۔کے پبلشرز اسوسی ایشن کے جون 2026 میں جاری کردہ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق برطانوی طباعتی صنعت کی آمدنی 7.4 بلین پونڈز کی ریکارڈ سطح پر پہنچی۔ جس میں:
پرنٹ کتب آمدنی : 3.8 بلین
ڈیجیٹل کتب آمدنی : 3.6 بلین
یعنی جس سال اے۔آئی اپنی تاریخ کے سب سے بڑے پھیلاؤ میں ہے، اسی زمانے میں ایک بڑے عالمی طباعتی بازار میں آمدنی، پرنٹیڈ کتب سے ہی بڑھ رہی ہے۔
تو ذرا سوچیے کہ کیا یہ زمینی حقائق "کتابوں کی آخری ہچکی" والی تصویر سے میل کھاتے ہیں؟
اگر کتابیں واقعی معدوم ہونے جارہی ہیں تو دنیا کی جامعاتی، قومی، ریسرچ اور عوامی لائبریریاں ہر سال نئی کتابوں اور مجموعوں کے لیے بجٹ کیوں مختص رکھتی ہیں؟ دراصل لائبریریوں نے جدید زمانے کے تقاضے اپنائے ہیں، انہوں نے پرنٹیڈ کتابوں کو خریدنا ختم نہیں کیا بلکہ "کتاب کے حصول" کے مفہوم میں وسعت پیدا کر دی ہے یعنی: پرنٹ کتب، ڈیجیٹل کلکشن، آڈیو/ویژول مواد، ڈیٹابیسز، جرنلز، ای-بکس وغیرہ۔ جیسا کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی یو۔سی ڈیوس لائبریری کے بجٹ کا تیس فیصد حصہ کتب، جرنلز، ڈیٹابیسز اور میڈیا کے لیے مختص ہوتا ہے۔
یاد رہے، لائبریری بجٹ، پرنٹ سے ڈیجیٹل کی طرف جزوی طور منتقل ہوا ہے، پرنٹ کو مکمل طور ختم نہیں کیا گیا ہے۔ سو درست اصطلاحی ترکیب یوں ہونا چاہیے:
کتاب ختم نہیں ہو رہی بلکہ کتاب کا معلوماتی ماحولیاتی نظام تبدیل ہو رہا ہے!
ہاں کالم نگار کا یہ موقف بڑی حد تک مانا جا سکتا ہے کہ نایاب اور آؤٹ آف پرنٹ کتابوں کا ختم ہونا سنجیدہ مسئلہ ہے۔ نایاب کتب کے بچے ہوئے آخری چند نسخوں کو تباہ کرنا، بےشک ثقافتی ورثے کے تحفظ پر سنگین حملہ متصور ہوگا۔
ایک اہم بات یہ بھی یاد رہے ۔۔۔ "نایاب کتب" اور "نایاب متن" مترادف اصطلاحات نہیں ہیں۔
اگر 1750ء کی کتاب کی ایک نقل عکس بند کرنے کے بعد تلف کر دی گئی، مگر دنیا کی مختلف لائبریریوں میں اس کی تیس نقلیں موجود ہیں، تو ایک تاریخی مادی چیز ضرور ضائع ہوئی، مگر متن ختم نہیں ہوا۔ دوسری طرف اگر کسی کتاب کی دنیا میں صرف ایک یا دو نقلیں محفوظ ہیں، تو اسے عکس بند کرنے کے بعد تلف کر دینا تحفظ کے اعتبار سے بالکل الگ مسئلہ ہے۔
اس لیے کتابوں کی تعداد دیکھنے کے بجائے ہمیں تین باتیں الگ الگ طور سمجھنا چاہیے:
کام، نسخہ، اور مادی نقل : ایک کام کے کئی نسخے ہو سکتے ہیں، اور ایک نسخے کی ہزاروں مادی نقلیں ہو سکتی ہیں۔
وسعت اللہ خان کا کالم "کتابوں کی آخری ہچکی" ان تینوں کو بعض جگہ ایک ہی چیز سمجھ لیتا ہے، اور یہی اس کالم کی تحقیقی کمزوری ہے۔
کیا اے۔آئی ایجنٹس مستقبل میں "علم پر قبضہ" کر سکتے ہیں؟ ہمیں تو یہ بہت بعید صورتحال لگتی ہے کیونکہ دنیا بھر کا علمی ذخیرہ کسی ایک اے۔آئی کمپنی کے سرور پر منحصر نہیں ہے۔ اور کسی اے۔آئی کمپنی کا اصل کتابیں ختم کر کے انسانی علم کا واحد فراہم کنندہ بن جانا، عملاً ناقابلِ تصور حد تک مشکل مشن ہے۔
لیکن موجودہ صورت حال میں ایک حقیقی خطرہ ضرور پوشیدہ ہے، جس کی ایک جھلک سوشل میڈیا کی تحریروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
کتاب موجود ہے، مگر قاری یا قلمکار نے اس تک پہنچنا چھوڑ دیا ہے۔ لوگ اصل ماخذ پڑھنے کے بجائے اب مشینی خلاصوں پر زیادہ بھروسہ کرنے لگے ہیں۔
راقم الحروف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ: علم کے لیے اصل خطرہ کتابوں کا ختم ہونا نہیں، بلکہ اصل ماخذ سے دوری ہے۔ اور شاید یہی فرق پورے مسئلے کی کنجی بھی ہے۔
آج اگر کوئی طالب علم ابن خلدون، غالب، میر، مارکس، ڈارون یا کسی تاریخی واقعے کے بارے میں جاننا چاہے تو وہ اصل کتاب کھولنے کے بجائے مصنوعی ذہانت سے پوچھنے لگا ہے۔ وجہ یہ کہ: مصنوعی ذہانت اسے دس سیکنڈ میں صاف ستھرا جواب دے رہی ہے۔
لہذا اب تین درجے کچھ یوں بن چکے ہیں:
اصل ماخذ، مصنوعی ذہانت کی تشریح، اور قاری۔
مسئلہ سراسر یہ ہے کہ : قاری اور ماخذ کے درمیان کمپیوٹری نظام آ گیا ہے۔
اور اسی باعث کسی کا یہ نتیجہ اخذ کرنا کچھ اتنا بھی غلط نہیں کہ ۔۔۔ اے۔آئی کے جبری تسلط کے باعث۔۔۔ غلط بیانی، پوشیدگی، غلط معلومات، نظریاتی جھکاؤ اور تجارتی چھانٹ کے مسائل پیدا ہونے لگے ہیں۔
لیکن اس خطرے کا علاج یہ نہیں کہ کتابوں کو مصنوعی ذہانت سے بچایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ: اصل ماخذ کو محفوظ، آسانی سے قابل دریافت، حوالہ دینے کے قابل اور آزادانہ طور پر دستیاب رکھا جائے۔
کتاب ختم نہیں ہو رہی ہے۔ کتاب کا استعمال بدل رہا ہے۔ کتاب کی تقسیم کا طریقہ بدل رہا ہے۔ تعلیمی اشاعت کا بڑا حصہ ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ حوالہ جاتی کتابوں کا بڑا حصہ آن لائن منتقل ہو چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کا ایک نیا درمیانی ذریعہ بنا دیا ہے۔
مگر پھر بھی مادی کتاب کی مانگ اب بھی اربوں روپے کی صنعت ہے۔ برطانیہ میں صارفین کی اشاعت کی آمدنی میں 2025ء میں پرنٹ کا حصہ 79 فیصد تھا۔
کالم نگار نے حقیقی واقعہ بیان کیا، حقیقی اخلاقی سماجی مسائل اٹھائے ۔۔۔ مگر انہوں نے اپنے ذہن سے جو نتیجہ اخذ کیا وہ علمی و تحقیقی اعتبار سے کمزور ہے!!
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
![]() |
| Syed Mukarram Niyaz سید مکرم نیاز |
Debunking the 'Last Hiccup of the Book' Claim: A Fact-Based Analysis of Publishing Trends and AI


گفتگو میں شامل ہوں