ارسلان اور بہزاد : تصوراتی سرقے کے مقدمے کا تنقیدی محاسبہ

Arsalan Aur Bahzad and The Sandman: A Critical Audit of the Conceptual Plagiarism Claim
arsalan-aur-bahzad-sandman-conceptual-plagiarism-critical-audit

تمہید

اردو کے معروف فکشن نگار خالد جاوید کے ناول "ارسلان اور بہزاد" کے حوالے سے ناقد اشعر نجمی کی ایک مفصل تنقید اور اس کے بعد ہونے والا مکالمہ اب تعمیرنیوز پر یہاں یکجا محفوظ ہے۔
ادبی اثر، بین المتنیت، اخذ، تطبیق اور سرقے کے درمیان حدیں ہمیشہ سیدھی اور قطعی نہیں ہوتیں۔ دو تخلیقات میں کسی تصور، علامت، کردار یا بیانیہ صورتِ حال کی مماثلت تنقیدی تحقیق کا نقطۂ آغاز ضرور بن سکتی ہے، لیکن مماثلت بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ موقر مصنف نے سابق متن ہی سے وہ تصور لیا ہے۔ اور جب الزام محض "اثر" کا نہ ہو بلکہ "تخیلی رہزنی"، "نثری اغوا"، "تصوراتی چوری" اور "خاموش اسمگلنگ" جیسے قطعی الفاظ میں عائد کیا جائے تو ثبوت کی ذمہ داری بھی اسی نسبت سے بڑھ جاتی ہے۔
اشعر نجمی نے خالد جاوید کے ناول "ارسلان اور بہزاد" کے بارے میں ایسا ہی مقدمہ قائم کیا ہے۔ ان کے نزدیک ناول کی بنیادی تخیلاتی عمارت - خواب میں جنسی تعلق، اس کے نتیجے میں بیداری کی دنیا میں حقیقی حمل، اور بعد میں اس بچے کا باپ یا تخلیق کار کے انجام سے تعلق - نیل گیمن (Neil Gaiman) کے "دی سینڈ مین" (The Sandman) سے ماخوذ ہے۔ زیرِ نظر تحریر خالد جاوید کا دفاع نہیں، بلکہ اس مقدمے کا تنقیدی محاسبہ ہے۔
یعنی: دعویٰ کیا ہے، اس کے حق میں پیش کردہ ماخذ کیا کہتے ہیں، زمانی ترتیب کیا بنتی ہے، اور نتیجہ شواہد سے کس حد تک نکلتا ہے؟

خواب، حمل اور معجزاتی ولادت: نیل گیمن سے کہیں قدیم تخیلاتی روایت

خالد جاوید نے اس بحث کے دوران (ایک ذاتی مکالمے میں) یہ موقف اختیار کیا کہ خواب کے ذریعے حمل یا غیر معمولی طریقۂ تولید کا تصور نیل گیمن کی ایجاد نہیں، بلکہ دنیا کی قدیم دیومالائی اور مذہبی روایتوں میں مختلف صورتوں میں موجود رہا ہے۔ اس دعوے کی کم از کم ایک نہایت قدیم اور مستند مثال بدھ مت کی روایت میں واضح طور پر ملتی ہے۔ گوتم بدھ کی والدہ ملکہ مایا کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے خواب میں ایک سفید ہاتھی کو دیکھا جو ان کے دائیں پہلو سے ان کے رحم میں داخل ہوا اور اسی واقعے کو سدھارتھ گوتم کے معجزاتی استقرارِ حمل سے منسوب کیا گیا۔ اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس کے محفوظ جاتک بیان میں نہ صرف یہ واقعہ درج ہے بلکہ یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ اس رات ملکہ مایا کا اپنے شوہر سے جسمانی تعلق نہیں ہوا تھا۔ نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں موجود دوسری صدی عیسوی کے گندھارا مجسمے کی توضیح بھی اسی منظر کو بدھ کے استقرارِ حمل سے تعبیر کرتی ہے: سوئی ہوئی مایا خواب میں چھ دانتوں والے سفید ہاتھی کو اپنے پہلو سے رحم میں داخل ہوتے دیکھتی ہیں اور اسے بدھ کے دنیا میں جسمانی ورود کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ ایشین آرٹ میوزیم کے پاس اسی موضوع کا تقریباً 100–300 عیسوی کا گندھارا سنگی نقش بھی محفوظ ہے۔ لہٰذا "خواب -- غیر جسمانی استقرارِ حمل -- حقیقی بچے کی ولادت" کا بنیادی تخیلاتی رشتہ نیل گیمن سے کم از کم ڈیڑھ دو ہزار برس پہلے ثقافتی حافظے اور فن میں موجود تھا۔ اس تاریخی حقیقت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خالد جاوید نے بدھ روایت ہی سے اپنا تصور لیا۔۔۔ البتہ اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ "خواب میں حمل" کو نیل گیمن کا ایسا منفرد اور اچھوتا تصور قرار نہیں دیا جا سکتا جس کی کسی بعد کی تخلیق میں موجودگی بذاتِ خود دی سینڈ مین (The Sandman) سے اخذ کی دلیل بن جائے۔

اشعر نجمی کے مقدمے کے سات بنیادی دعوے

اشعر نجمی کے مضمون اور اس کے بعد ہونے والے مکالمے کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو "دی سینڈ مین" کے حوالے سے ان کا مقدمہ سات بنیادی دعووں پر قائم نظر آتا ہے:

1۔ "ارسلان اور بہزاد" کی پوری عمارت خواب میں جنسی تعلق اور اس کے نتیجے میں حقیقی حمل پر قائم ہے، اور یہی تصور "دی سینڈ مین" میں پہلے سے موجود تھا۔
2۔ لائٹا ہال (Lyta Hall) خوابوں کی دنیا میں حاملہ ہوتی ہے۔
3۔ خالد جاوید نے اسی تصور کو منتقل کرکے ارسلان کے "خوابیدہ نطفے" کو جارجیا کی ایک عورت کے بطن میں حقیقت بنا دیا۔
4۔ دونوں تخلیقات میں پیدا ہونے والا بچہ بالآخر باپ/تخلیق کار کے انجام سے مربوط ہوتا ہے، اس لیے مماثلت محض موضوعاتی نہیں بلکہ ساختی ہے۔
5۔ اس مماثلت کو توارد نہیں بلکہ "بصری بیانیے کا نثری اغوا" سمجھنا چاہیے۔
6۔ "خواب میں حمل" نیل گیمن کا ایسا مخصوص اور اچھوتا تصور ہے جسے خالد جاوید نے اپنی تخیلاتی عمارت کی بنیاد بنایا۔
7۔ چونکہ خالد جاوید نے نیل گیمن یا "دی سینڈ مین" کا اعتراف نہیں کیا، اس لیے یہ خاموشی بھی "تصوراتی سرقے" کے قرینے کے طور پر دیکھی جانی چاہیے۔

ان سات دعووں میں دوسرا دعویٰ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اصل "دی سینڈ مین" میں لائٹا ہال خواب کے اندر جنسی تعلق کے نتیجے میں حاملہ ہی نہیں ہوتی، تو باقی استدلال کی وہ زنجیر جسے اسی واقعے سے جوڑا گیا ہے، ازسرِ نو جانچنا پڑے گی۔

اصل "دی سینڈ مین" میں لائٹا خواب میں حاملہ نہیں ہوتی

اصل کامکس کے متعلق یہاں تعبیر نہیں بلکہ ایک قابلِ تصدیق واقعاتی تفصیل زیرِ بحث ہے۔ "دی سینڈ مین"، جلد دوم، شمارہ 12، "پلیئنگ ہاؤس" (Playing House) کے خلاصے کی ابتدا اس جملے سے ہوتی ہے:

"Six months pregnant, Lyta Hall wakes up in the Dream Dome."

یعنی: "چھ ماہ کی حاملہ لائٹا ہال ڈریم ڈوم میں بیدار ہوتی ہے۔"
اسی خلاصے میں آگے واضح ہے کہ جب وہ دو برس پہلے ڈریم ڈوم میں آئی تھی تب بھی حاملہ تھی اور اس دوران حمل آگے نہیں بڑھا تھا۔
اس سے بھی زیادہ مضبوط شہادت ڈی سی (DC) کی اپنی سرکاری ویب سائٹ فراہم کرتی ہے۔ ہیکٹر اور لائٹا کے ڈریم ڈائمینشن میں داخل ہونے کے بارے میں وہاں صاف لکھا ہے:

"At the time they entered the Dream Dimension, Lyta was pregnant with Hector’s child."

ترجمہ: "جب وہ ڈریم ڈائمینشن میں داخل ہوئے، اس وقت لائٹا ہیکٹر کے بچے سے حاملہ تھی۔"
لہٰذا اصل قصے کی زمانی و سببی ترتیب یہ ہے: پہلے حمل، پھر خوابوں کی دنیا میں داخلہ۔ یہ ترتیب اس دعوے سے بنیادی طور پر مختلف ہے کہ خواب میں جنسی تعلق ہوا اور اسی کے نتیجے میں حقیقی حمل وجود میں آیا۔ اصل کامکس میں خواب حمل پیدا نہیں کرتا؛ خوابوں کی دنیا پہلے سے موجود حمل کی غیر معمولی مدت اور بعد کے مابعد الطبیعیاتی نتائج سے متعلق ہے۔
حوالہ:
DC Database، Sandman Vol. 2 #12
سرکاری حوالہ:
DC - Universe of Dreams

پھر خواب میں حمل والا واقعہ کہاں ملتا ہے؟

یہ صورت 2022ء کی نیٹ فلکس (Netflix) موافقت میں سامنے آتی ہے۔ نیٹ فلکس کی اپنی وضاحت کے مطابق لائٹا اپنے مردہ شوہر ہیکٹر کے بچے سے ایک ایسے خواب میں حاملہ ہوتی ہے جو روز واکر کی قربت اور اس کی خواب گرداب والی قوت کے سبب حقیقت بن جاتا ہے۔ نیٹ فلکس کی 2025ء کی سرکاری توضیح اسے مزید دو ٹوک انداز میں بیان کرتی ہے کہ ڈینیئل "ڈریم ریلم" میں conceived ہونے والا انسانی بچہ ہے۔
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ خود نیٹ فلکس نے سیریز کے اجرا سے پہلے بتایا تھا کہ اگرچہ کہانی کا بڑا حصہ کامکس سے لیا گیا ہے، تخلیق کاروں نے نیل گیمن کی منظوری سے "significant narrative changes" یعنی "نمایاں بیانیہ تبدیلیاں" بھی کی ہیں۔ اس عمومی بیان کو لائٹا کے حمل کی مخصوص تبدیلی کا براہِ راست اعتراف کہنا درست نہیں ہوگا؛ لیکن اصل کامکس، ڈی سی کے سرکاری خلاصے اور نیٹ فلکس کے اپنے بیان کو ساتھ رکھنے سے دونوں نسخوں کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔
حوالہ:
Netflix Tudum
Netflix Tudum

یہ فرق اشعر نجمی کے مقدمے کو کہاں متاثر کرتا ہے؟

اشعر نجمی نے بحث کے دوران یہ بھی کہا کہ نیٹ فلکس کی ویب سیریز "بعینہ وہی" مشہور گرافک ناول ہے۔ یہی مقام ان کے استدلال کی بنیادی واقعاتی لغزش ہے۔ موافقت یقیناً اسی تخلیق پر مبنی ہے، مصنف بھی نیل گیمن ہیں اور بڑے کردار و واقعات بھی مشترک ہیں؛ لیکن "مبنی ہونا" اور "بعینہ وہی ہونا" ایک بات نہیں۔ خود نیٹ فلکس نمایاں بیانیہ تبدیلیوں کی تصدیق کرتا ہے۔
اس لیے "خواب میں جنسی تعلق -- حمل -- بیداری کی دنیا میں حمل کا برقرار رہنا" کو 1989-90ء کے اصل کامکس کا مخصوص تخیلاتی نقشہ قرار دینا درست نہیں۔ جس شکل کو اشعر نجمی نے اپنے مقدمے کا مرکزی "پلاٹ انجن" بنایا، وہ کم از کم دستیاب اصل ماخذ کے مطابق کامکس میں اس صورت میں موجود نہیں۔

تحقیق کا اگلا مرحلہ: مصنف اور ناشر سے براہِ راست سوال

کسی زندہ مصنف پر نسبتاً حالیہ تخلیق سے مرکزی تصور اخذ کرنے کا الزام ہو تو متن کے تقابل کے ساتھ زمانی تحقیق بھی ضروری ہے۔ مصنف سے پوچھا جا سکتا ہے کہ تحریر کب شروع ہوئی، مسودہ کب مکمل ہوا، ناشر کو کب بھیجا گیا، اور کیا اس کی کوئی قابلِ جانچ دستاویزی شہادت موجود ہے۔ مصنف کا بیان بذاتِ خود آخری ثبوت نہیں، مگر اسے سرے سے طلب نہ کرنا بھی تحقیقی خلا ہے۔
راقم الحروف نے اسی غرض سے خالد جاوید سے براہِ راست رابطہ کیا۔ ان کے مطابق "ارسلان اور بہزاد" 2021ء میں لکھنا شروع کیا گیا اور اس کا دوسرا مکمل مسودہ جنوری 2022ء میں عرشیہ پبلی کیشنز کو برقی ڈاک سے بھیج دیا گیا تھا۔ خالد جاوید کے مطابق: "یہ ناول کا دوسرا فائنل ڈرافٹ ہے، جس وقت ناول مکمل ہوچکا تھا، تاہم نام فائنل نہیں ہوا تھا۔ پہلے اسکرین شاٹ میں میل کی تاریخ اور پی ڈی ایف فائل کا نام دیکھا جاسکتا ہے اور دوسرے اسکرین شاٹ میں اس فائل کا ابتدائی صفحہ دیکھا جاسکتا ہے جس میں ناول کے ابواب کی فہرست وغیرہ موجود ہے۔ اگر کوئی دیکھنا چاہے تو یہ پوری پی ڈی ایف بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔"
فراہم کردہ عکس میں 12 جنوری 2022ء کی برقی ڈاک اور "novel new inpage file.pdf" نامی منسلکہ دکھائی دیتا ہے۔ علمی احتیاط کا تقاضا ہے کہ اسے فی الحال "خالد جاوید کی فراہم کردہ دستاویزی شہادت" کہا جائے، نہ کہ ناقابلِ تردید ثبوت۔ مزید مضبوط تصدیق کے لیے اصل برقی ڈاک کے مکمل سرنامے، اصل منسلکہ، اور ناشر کی آزادانہ تصدیق مفید ہوگی۔

دوسری زمانی شہادت اور 5 اگست 2022ء کی حدِ فاصل

خالد جاوید کی فراہم کردہ دوسری تصویر میں 7 اگست 2022ء کی برقی ڈاک عرشیہ پبلی کیشنز کو "Arsalan aur Bahzad Proofed" کے عنوان سے بھیجی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جسے بعد میں 24 اگست کو آگے بھیجا گیا۔ اس سے کم از کم یہ قرینہ ملتا ہے کہ جنوری کے عمومی نام والے مسودے کے بعد اگست تک "ارسلان اور بہزاد" کا عنوان استعمال ہو رہا تھا۔
یہاں تاریخیں غیر معمولی اہمیت اختیار کرتی ہیں۔ نیٹ فلکس نے "دی سینڈ مین" کے پہلے دس اقساط 5 اگست 2022ء کو جاری کیے۔ اگر 12 جنوری 2022ء کا فراہم کردہ مسودہ واقعی اسی ناول کا مکمل دوسرا مسودہ ہے، تو وہ نیٹ فلکس سیریز کے اجرا سے تقریباً سات ماہ پہلے موجود تھا۔ ایسی صورت میں 2022ء کی نیٹ فلکس موافقت کو ناول کے بنیادی تصور کا ماخذ قرار دینے کے لیے کوئی الگ، اس سے پہلے کی قابلِ تصدیق رسائی دکھانا ہوگی؛ محض بعد میں سامنے آنے والی مماثلت کافی نہیں۔
حوالہ:
Netflix Tudum، اجرا کی تاریخ

ایک ضروری حد: اس سے کیا ثابت نہیں ہوتا؟

یہ زمانی اور متنی تصحیح ایک خاص دعوے کو کمزور کرتی ہے؛ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خالد جاوید نے نیل گیمن کو کبھی پڑھا ہی نہیں، یا "دی سینڈ مین" سے کسی دوسرے درجے پر کوئی اثر ممکن نہیں۔ ایسا منفی دعویٰ بھی ثبوت چاہتا ہے۔ درست نتیجہ اس سے زیادہ محدود ہے: اشعر نجمی نے جس مخصوص مماثلت - خواب میں جنسی تعلق سے حقیقی حمل - کو اصل کامکس کا منفرد تخیلاتی ڈھانچہ بتایا، وہ اصل کامکس میں اس صورت میں نہیں؛ اور جس نیٹ فلکس نسخے میں یہ صورت صاف موجود ہے، اس کے اجرا سے پہلے خالد جاوید کے مطابق ناول کا مکمل مسودہ موجود تھا۔

کافکا کا "دی ٹرائل": مماثلت ہے، مگر "چربہ" کہاں ثابت ہوتا ہے؟

اشعر نجمی کا اگلا دعویٰ یہ ہے کہ ناول کے آغاز میں ارسلان کو ملنے والا سمن اور ایک ایسے معاملے میں صفائی دینے کی صورتِ حال جسے وہ شعوری طور پر انجام دینے سے انکار کرتا ہے، فرانز کافکا کے "دی ٹرائل" (The Trial) کا اردو چربہ ہے۔ یہاں مماثلت سے انکار کی ضرورت نہیں: فرد کا ایک ناقابلِ فہم قانونی یا انتظامی نظام کے سامنے بے بس ہونا واقعی کافکائی روایت کی پہچان بن چکا ہے۔
لیکن یہی بات الزام کو کمزور بھی کرتی ہے۔ "کافکائی" اب صرف ایک ناول کے پلاٹ کا نام نہیں بلکہ جدید ادب میں ایک وسیع وصف ہے: غیر شخصی نظام، بے معنی ضابطہ، غیر واضح الزام، بیوروکریسی اور وجودی بے بسی۔ "دی ٹرائل" میں جوزف کے. کو گرفتار کیا جاتا ہے مگر جرم واضح نہیں؛ "ارسلان اور بہزاد" میں تنازع حمل، باپ ہونے کے دعوے اور اس سے پیدا ہونے والی قانونی و وجودی الجھن سے متعلق ہے۔ صرف سمن، قانونی الجھن اور لایعنیت سے "چربہ" ثابت کرنے کے لیے واقعاتی ترتیب، کرداروں کے افعال، مخصوص مناظر یا اظہار کی کہیں زیادہ ٹھوس مطابقت دکھانا ضروری ہے۔
یہاں اشعر نجمی کا مشاہدہ بطور "کافکائی اثر یا فضا" قابلِ بحث ہے؛ مگر ان کے اپنے پیش کردہ شواہد اسے "چربہ" تک نہیں پہنچاتے۔

جارجیا: تنقید یا مصنف کی نیت کا قیاس؟

اشعر نجمی لکھتے ہیں کہ خالد جاوید نے جارجیا کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ "خوابوں کی اسمگلنگ" پر بین الاقوامی لبادہ چڑھ سکے اور اردو قاری اسے عالمی ناول سمجھے۔ یہ دعویٰ متن کی تشریح سے آگے بڑھ کر مصنف کی نیت متعین کرتا ہے۔ اس کے لیے نہ مصنف کا بیان پیش کیا گیا ہے، نہ مسوداتی شہادت، نہ کوئی ایسا بین المتنی ربط جس سے ثابت ہو کہ جارجیا کا انتخاب کسی مخصوص خارجی تخلیق کی نقل کے لیے کیا گیا۔
جارجیائی سنیما میں تاریک، تمثیلی یا سیاسی فلموں کی روایت کا وجود اپنی جگہ؛ مگر کسی خطے کو "ہارر زون" کہہ دینا اور پھر ناول نگار کے جغرافیائی انتخاب کو اسی بنیاد پر تخیلاتی اسمگلنگ کی حکمتِ عملی قرار دینا دلیل نہیں، قیاس ہے۔ یہاں تنقیدی زبان اپنے ثبوت سے آگے نکل جاتی ہے۔

بیکٹ کا "مولوئے": اسلوبی قرابت اور سرقے میں فرق

ارسلان کی خود کلامی، جسم، بو، اخراج اور وجودی کراہت کو سیمیول بیکٹ کے "مولوئے" (Molloy) سے جوڑنا تقابلی مطالعے کا جائز سوال ہے۔ بیکٹ کے یہاں بدن کی شکستگی، تکرار، بے سمتی اور شعور کی منتشر حرکت واقعی اہم ہیں۔ خالد جاوید کی نثر میں بھی جسمانی مادیت، تعفن، بیماری اور وجودی بے آرامی بار بار آتی ہے۔
مگر یہاں دو الگ دعوے خلط ہو جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ دونوں مصنفوں کے ہاں کچھ اسلوبی و موضوعاتی قرابتیں ہیں؛ دوسرا یہ کہ خالد جاوید نے بیکٹ کا "تعفن اٹھایا" اور اسے اپنی نثر کا دستخط بنا لیا۔ دوسرے دعوے کے لیے محض مشترک فضا کافی نہیں۔ اگر مخصوص نحوی ترکیب، منظر بندی، مسلسل واقعاتی ترتیب یا قابلِ شناخت تحویلی نمونہ دکھایا جائے تو اخذ کا مقدمہ مضبوط ہو سکتا ہے۔ موجودہ مضمون میں ایسا تقابلی متنی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

باپ اور بیٹے کا تصادم: قدیم نمونہ خود سرقے کی دلیل نہیں

اشعر نجمی خود تسلیم کرتے ہیں کہ باپ اور بیٹے کا تصادم "ایڈیپس ریکس" (Oedipus Rex) سے "رستم و سہراب" تک ایک قدیم نمونہ ہے۔ یہ اعتراف اہم ہے۔ جو ساخت صدیوں سے مختلف تہذیبوں اور متون میں موجود ہو، اس کی محض موجودگی کسی ایک جدید مصنف سے اخذ ثابت نہیں کر سکتی۔
مزید یہ کہ "دی سینڈ مین" میں ڈینیئل کا مورفیئس کی موت سے تعلق بھی سادہ معنوں میں "بیٹے کے ہاتھوں باپ کا قتل" نہیں۔ مورفیئس ڈینیئل کا حیاتیاتی باپ نہیں؛ ہیکٹر ہال ہے۔ ڈینیئل کا وجود خوابوں کی دنیا سے خاص تعلق ضرور پیدا کرتا ہے اور بعد میں وہ نئے ڈریم کی حیثیت اختیار کرتا ہے، مگر اسے "اپنے باپ کی موت کا سبب" کہنا رشتوں اور واقعات کو اختصار میں اس حد تک بدل دیتا ہے کہ مماثلت زیادہ گہری دکھائی دینے لگتی ہے۔

"فرینکنسٹائن" کا استعارہ: مؤثر نثر، مگر نتیجہ پہلے سے طے شدہ

مضمون کے اختتام پر "سر نیل گیمن کے ہاں، دھڑ کافکا کے دفتر میں، پاؤں یونانی المیوں کی خاک میں اور زبان بیکٹ کے سائے میں" والا استعارہ نثری اعتبار سے یاد رہ جانے والا ہے، مگر تنقیدی نتیجے کے طور پر مسئلہ رکھتا ہے۔ اگر کسی ناول میں خواب، قانونی لایعنیت، جسمانی کراہت اور باپ بیٹے کے تصادم جیسے مختلف ادبی عناصر ملیں تو اس سے یہ بھی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ متن متعدد روایات سے مکالمہ کرتا ہے۔ اسے "فرینکنسٹائن" یا سرقے کی مرکب لاش قرار دینے کے لیے ہر جز کے اخذ کا الگ ثبوت درکار ہے۔
بین المتنیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مماثلت معاف کر دی جائے؛ لیکن سرقے کا الزام بھی یہ اجازت نہیں دیتا کہ ہر مماثلت کو ثبوت سمجھ لیا جائے۔ اصل سوال ہمیشہ یہی رہتا ہے: کیا مماثلت اتنی مخصوص، مسلسل اور غیر اتفاقی ہے کہ ماخذی تعلق کا معقول استنباط کیا جا سکے؟

ابرار مجیب کا موقف: درست اصول، مگر مثالوں میں سنگین لغزشیں

اس بحث میں ابرار مجیب نے ایک مفید اصولی اعتراض اٹھایا: خواب، لاشعور، باپ بیٹے کا تصادم اور اساطیری نمونے کسی ایک جدید مصنف کی ایجاد نہیں۔ اس حد تک ان کا اعتراض قابلِ توجہ ہے۔ لیکن ان کی دی ہوئی بعض مثالیں واقعاتی جانچ میں قائم نہیں رہتیں، اس لیے انہیں اشعر نجمی کے مقدمے کے رد میں بلا تحقیق استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مثلاً ہاروکی موراکامی کے "کافکا آن دی شور" (Kafka on the Shore) میں کافکا تامورا اور مس سائےکی کے درمیان خواب/مابعد الطبیعیاتی جنسی واقعہ ضرور ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مس سائےکی کے حقیقی حمل اور بچے کی پیدائش کا واقعہ ناول میں نہیں۔ اسی طرح ٹونی موریسن کے "بیلووڈ" (Beloved) میں بیلووڈ اور پال ڈی کے درمیان جنسی تعلق ہے، مگر اس کے نتیجے میں بیلووڈ کے حاملہ ہونے اور بچے کی پیدائش کا دعویٰ متن کی درست روداد نہیں۔ لہٰذا ابرار مجیب نے عمومی اصول کی حمایت میں دو ایسی مثالیں پیش کردیں جو اپنی مخصوص تفصیل میں غلط ہیں۔
یہ نکتہ اس مضمون کے طریقۂ کار کے لیے اہم ہے: اشعر نجمی کی غلطی درست کرنے کے لیے ابرار مجیب کی غلط مثال کو درست نہیں مانا جا سکتا۔ تنقیدی محاسبہ فریق نہیں چنتا؛ دعویٰ چنتا ہے اور اسے ماخذ پر پرکھتا ہے۔

بورخیس کا "پیئر مینار": دونوں طرف کچھ مبالغہ

ابرار مجیب نے بورخیس کی "پیئر مینار، مصنفِ ڈان کیخوتے" (Pierre Menard, Author of the Quixote) سے یہ نکتہ اخذ کیا کہ یکساں الفاظ بھی مختلف تاریخی و ثقافتی سیاق میں مختلف معنی پیدا کرسکتے ہیں۔ جدید بورخیس تحقیق واقعی اس کہانی کو مصنفیت، قرأت، سیاق، ترجمے اور بین المتنیت کے پیچیدہ سوالات سے جوڑتی ہے۔
البتہ اسے سرقے کے ہر الزام کا عمومی دفاع بنانا درست نہیں۔ دوسری طرف اشعر نجمی کا اسے صرف ان نقادوں پر طنز قرار دینا جو سیاق سے معنی اخذ کرتے ہیں، کہانی کی تنقیدی وسعت کو ضرورت سے زیادہ محدود کرتا ہے۔ علمی مطالعات میں "پیئر مینار" کو مصنف، قاری، تاریخی سیاق، ترجمہ اور متن کی شناخت کے باہمی رشتے پر ایک کثیر المعنی تجربہ سمجھا گیا ہے۔ چنانچہ اس مثال سے نہ خالد جاوید خود بخود بری ہوتے ہیں، نہ اسے محض "تکنیکی وکالت" کہہ کر خارج کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ:

"تصوراتی سرقہ" اور "تعمیری تصرف": اصطلاح سے پہلے معیار درکار ہے

اشعر نجمی کی بحث کا ایک بڑا حصہ "تصوراتی سرقہ" اور "تعمیری تصرف" جیسی اصطلاحات پر قائم ہے۔ اصطلاح وضع کرنا یا کسی تنقیدی تصور کے لیے نئی اردو ترکیب اختیار کرنا بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اصطلاح کا عملی معیار واضح نہ ہو۔ کتنی مماثلت پر اثر، کتنی پر اخذ، کتنی پر بین المتنیت، اور کتنی پر سرقہ کہا جائے گا؟
اگر معیار یہ ہو کہ ایک مخصوص "تخیلاتی نقشہ" بعینہ منتقل ہوا ہے تو پہلے اس نقشے کے اجزا اصل ماخذ میں ثابت کرنے ہوں گے۔ "ارسلان اور بہزاد" کے معاملے میں مرکزی جز - خواب میں جنسی تعلق سے حقیقی حمل - اصل "دی سینڈ مین" کامکس میں اسی صورت میں موجود نہ ہونے سے وہ نقشہ ابتدا ہی میں بدل جاتا ہے۔ پھر کافکائی قانونی فضا، بیکٹی جسمانیت اور قدیم باپ بیٹے کے نمونے کو جوڑ کر ایک مجموعی سرقے کا نتیجہ نکالنا الگ الگ مماثلتوں کو ایک واحد ماخذی زنجیر سمجھ لینے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔

خاموشی کیا جرم کا اشتہار ہے؟

اشعر نجمی کے مقدمے میں خالد جاوید کا نیل گیمن کا حوالہ نہ دینا بھی ثبوت کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے: اگر اثر تھا تو اعتراف کیوں نہیں کیا؟ یہ سوال تب مضبوط ہوتا جب اثر پہلے آزاد شواہد سے ثابت ہو چکا ہو۔ عدمِ حوالہ خود اثر کا ثبوت نہیں بن سکتا، ورنہ استدلال دائرے میں گھومنے لگتا ہے: سرقہ اس لیے ہوا کہ حوالہ نہیں؛ اور حوالہ نہ ہونا اس لیے مشتبہ ہے کہ سرقہ ہوا۔
خالد جاوید نے کسی دوسری تحریر میں برگمین سے اثر کا اعتراف کیا ہو تو یہ ان کی ایک ادبی روش کی مثال ضرور ہے، مگر اس سے یہ منطقی نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہر ایسی تخلیق جس میں کسی قاری کو مماثلت ملے، وہاں عدمِ اعتراف لازماً ماخذ چھپانے کی شعوری کوشش ہے۔ پہلے ماخذی تعلق ثابت کرنا ہوگا، پھر عدمِ اعتراف کی اخلاقی معنویت زیرِ بحث آئے گی۔

حاصلِ بحث

اشعر نجمی کا مضمون ایک مفید سوال اٹھاتا ہے: معاصر اردو فکشن کو عالمی ادب، سنیما اور مقبول ثقافت کے ساتھ زیادہ سخت تقابلی مطالعے کی ضرورت ہے۔
اس سوال کو رد کرنا دانش مندی نہیں۔ خالد جاوید سمیت کسی بھی معروف ادیب کو تنقیدی استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ مماثلتیں نشان زد ہونی چاہئیں، ماخذ کھنگالے جانے چاہئیں اور جہاں اخذ ہو وہاں اسے نام دیا جانا چاہیے۔
لیکن سخت تنقید کا پہلا تقاضا سخت تحقیق ہے۔
"ارسلان اور بہزاد" کے خلاف پیش کیے گئے مقدمے میں سب سے اہم شہادت ہی واقعاتی تصحیح چاہتی ہے: اصل "دی سینڈ مین" میں لائٹا خواب میں جنسی تعلق کے نتیجے میں حاملہ نہیں ہوتی۔ وہ خوابوں کی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے حاملہ ہے۔ خواب میں conception والی صورت نیٹ فلکس موافقت میں صاف ملتی ہے، جس کا اجرا 5/ اگست 2022ء کو ہوا۔ دوسری طرف خالد جاوید کی فراہم کردہ دستاویز کے مطابق ناول کا مکمل دوسرا مسودہ 12 جنوری 2022ء کو ناشر کو بھیجا جا چکا تھا۔ اس دستاویز کی آزادانہ تصدیق ابھی مطلوب ہے، مگر اسے نظر انداز کرکے زمانی مقدمہ مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
اسی طرح کافکا، بیکٹ، جارجیا، ایڈیپس اور رستم و سہراب سے متعلق مماثلتیں تقابلی تنقید کے دروازے کھولتی ہیں، مگر موجودہ شواہد انہیں خود بخود "تصوراتی چوری" میں تبدیل نہیں کرتے۔ ابرار مجیب کا عمومی اعتراض بعض جگہ مفید ہے، مگر موراکامی اور موریسن سے متعلق ان کی مخصوص مثالیں بھی درست نہیں۔
اس لیے اس مرحلے پر زیادہ محتاط اور قابلِ دفاع نتیجہ یہی ہے:
اشعر نجمی نے چند حقیقی ادبی مماثلتوں کی نشان دہی کی ہے، لیکن ان مماثلتوں سے "تصوراتی سرقے" تک پہنچنے کے لیے جو ماخذی، زمانی اور متنی زنجیر درکار تھی، وہ پیش کردہ صورت میں مکمل نہیں ہوتی۔ بلکہ مرکزی "خواب میں حمل" والے دعوے کی اصل ماخذ سے جانچ اس زنجیر کی سب سے اہم کڑی کو کمزور کر دیتی ہے۔
ادبی تنقید کا مقصد کسی ادیب کو بری یا مجرم قرار دینا نہیں۔ اس کا کام دعوے، متن اور ثبوت کے درمیان فاصلہ ناپنا ہے۔ یہاں بھی فیصلہ شہرت، پسند، ناپسند یا خطیبانہ قوت سے نہیں، قابلِ جانچ شواہد سے ہونا چاہیے۔

دستاویزی ضمیمہ

ذیل میں خالد جاوید کی جانب سے فراہم کردہ دو تصویری شواہد شامل کیے گئے ہیں:

(1) 12 جنوری 2022ء کی برقی ڈاک/پی ڈی ایف، جسے ناول کا دوسرا مکمل مسودہ بتایا گیا ہے۔

Arsalan aur Bahzad Proofed, 12th Jan 2022 email

(2) 7 اگست 2022ء کی "Arsalan aur Bahzad Proofed" برقی ڈاک، جسے 24 اگست کو آگے بھیجا گیا۔

Arsalan aur Bahzad Proofed, 7th Aug 2022 email

نوٹ: ان تصاویر کو زمانی قرینے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ مزید آزادانہ توثیق کے لیے ناشر کی تصدیق، اصل پیغام کے مکمل سرنامے اور اصل خط و کتابت کے اسکرین شاٹس کو محفوظ کیا جانا بہتر ہوگا۔

متذکرہ زمانی ترتیب کی ایک آزاد ادارہ جاتی شہادت بھی موجود ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے 6 ستمبر 2022ء کو جاری اپنے سرکاری پریس نوٹ میں خالد جاوید کی تصانیف کا ذکر کرتے ہوئے واضح طور پر لکھا تھا کہ:
his fourth novel Arsalan Aur Behzad is going to be released very soon
یعنی: "ان کا چوتھا ناول ارسلان اور بہزاد بہت جلد منظرِ عام پر آنے والا ہے۔" یہ حوالہ جنوری 2022ء میں ناول کی تکمیل کو ثابت نہیں کرتا، البتہ اتنا ضرور آزادانہ طور پر ثابت کرتا ہے کہ ستمبر 2022ء تک "ارسلان اور بہزاد" ایک نام زد اور قریب الاشاعت ناول کی حیثیت سے جامعہ کے سرکاری ریکارڈ میں موجود تھا۔
Keywords: Khalid Javed, Arsalan Aur Bahzad, Ashar Najmi, The Sandman, Neil Gaiman, Conceptual Plagiarism, Literary Influence, Urdu Literary Criticism, Indian Urdu Literature, Contemporary Urdu Fiction, Intertextuality, Literary Plagiarism Debate, Netflix The Sandman, Lyta Hall, Daniel Hall, Urdu Fiction Criticism
***
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
syed mukarram niyaz
Syed Mukarram Niyaz
سید مکرم نیاز

Arsalan Aur Bahzad: Plagiarism Claim Reassessed
Arsalan Aur Bahzad and The Sandman: A Critical Audit of the Conceptual Plagiarism Claim