ارسلان اور بہزاد : نیل گیمن کے نطفے کا تخلیقی جنم

An Essay and discussion on Khalid Javed's novel 'Arsalan Aur Bahzad', Critical Analysis by: Ashar Najmi

خالد جاوید کا چوتھا ناول "ارسلان اور بہزاد" فنی اعتبار سے ان کے پچھلے ناولوں سے زیادہ گنجلک اور 'مابعد الطبیعیاتی' نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ان کی 'تخیلی رہزنی' کا سب سے بڑا شاہکار ہے۔ نیل گیمن (Neil Gaiman) کے شاہکار گرافک ناول "دی سینڈ مین" (The Sandman) سے جس بے رحمی کے ساتھ مرکزی تصور کو 'اغوا' کیا گیا ہے، وہ اردو فکشن کی تاریخ میں ایک انوکھی مثال ہے۔
اردو فکشن کی دنیا میں جب شہرت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے، تو ناقدین کی بصارت اکثر اوقات 'مرعوبیت' کی دھند میں گم ہو جاتی ہے۔ ہم خود اس گناہ کے مرتکب رہے ہیں۔ خالد جاوید کے ناول "ارسلان اور بہزاد" کو پڑھتے وقت ہم نے بھی اسے 'مابعد الطبیعیاتی معجزہ' قرار دیا تھا، لیکن جب اس 'خواب نگر' کے پردے اٹھے اور ہم نے عالمی فینٹاسی لٹریچر کی سیر کی، تو پتہ چلا کہ یہ معجزہ دراصل نیل گیمن کے تخلیقی نطفے کا وہ 'اردو ایڈیشن' ہے جسے خالد جاوید نے بڑی مہارت سے اُڑا لیا ہے۔
آئیے، اس 'تخلیقی قزاقی' کی تہوں تک پہنچتے ہیں:

اس ناول کی پوری عمارت جس بنیاد پر کھڑی ہے—یعنی خواب میں ایک اجنبی عورت کے ساتھ جنسی عمل اور اس کے نتیجے میں بیداری کی دنیا میں ایک حقیقی حمل کا ہونا—وہ بعینہٖ نیل گیمن کے گرافک ناول "دی سینڈ مین" (The Sandman) کے اسکرپٹ سے مستعار لیا گیا ہے جو نوّے کی دہائی میں ہی کلاسیک کا درجہ حاصل کرچکا تھا۔ گیمن کے ہاں 'لائٹا ہال' (Lyta Hall) خوابوں کی دنیا (The Dreaming) میں حاملہ ہوتی ہے، اور خوابوں کا شہنشاہ مورفیئس (Morpheus) اسے بتاتا ہے کہ یہ بچہ (Daniel) اس کا اپنا نہیں بلکہ 'خواب' کی ملکیت ہے۔
خالد جاوید نے اسی تصور کو اٹھایا اور ارسلان کو ایک ایسی قانونی اور وجودی جنگ میں جھونک دیا جہاں اس کا 'خوابیدہ نطفہ' جارجیا کی ایک لڑکی کے بطن میں حقیقت بن کر نمودار ہوتا ہے۔ سبحان اللہ! مماثلت کی انتہا دیکھیے کہ گیمن کے ہاں بھی وہ بچہ (دانیال) اپنے 'تخلیق کار' کی موت کا سبب بنتا ہے، اور خالد جاوید کے ہاں بھی ارسلان کا وہی بیٹا اس کے انجام کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ توارد نہیں ہے صاحب، یہ نیل گیمن کے اس 'بصری نیریٹو' کا نثری اغوا ہے جس تک اردو کے عام نقاد کی رسائی نیٹ فلکس کی سیریز آنے سے پہلے ممکن نہیں تھی۔ (ہم نے اس مماثلت کی طرف خالد جاوید کو بہت پہلے متوجہ کیا تھا، مگر وہ 'تجاہلِ عارفانہ' کے پردے میں چھپ گئے)۔
کل "ایک خنجر پانی میں" پر مکرم نیاز اور جاوید رسول صاحب نے مکالمے میں بڑی سنجیدگی سے اپنے اپنے موقف رکھے جس کے لیے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں ان کے ترددات پر ہمارے منطقی جوابات سے ہر دو اصحاب کا لہجہ"جھنجھلاہٹ" میں بدل گیا۔ یہ کچھ غیر متوقع بھی نہیں تھا چونکہ Conceptual Plagiarism" (تصوراتی سرقہ) یا "Architectural Appropriation "(تعمیری تصرف)سے اردو کاادبی معاشرہ انجان ہے۔ یہ دونوں اصطلاحات اس کے لیے اجنبی ہیں ۔ حالاں کہ ہم نے پیش لفظ اور گذشتہ چار قسطوں میں جستہ جستہ ان پر کافی کچھ بحوالہ کہہ چکے ہیں، اس کے باجودخوب اچھی طرح واقف ہیں کہ ہر نئی چیز حیران بھی کرتی ہے اور جھنجھلاتی بھی ہے۔اس لیے جاوید رسول اور مکرم نیاز دونوں کا ردعمل فطری تھا، اس میں کچھ غلط نہ تھا۔ شکیل رشید صاحب نے اس بحث کے آخر میں انٹری ماری اور صرف ایک کمنٹ سے اس بحث کو فیصل کردیا۔ شکیل رشید صاحب نے جس طرح "لفظی سرقے" اور "تصوراتی سرقے" اور "تعمیری تصرف" کو سمجھا، وہ ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔ آپ ہی دیکھیے کہ وہ کس طرح مارکس، ہیگل، دریدا اورجولیاکرسٹیوا کے بھاری بھرکم ناموں کے بغیر اپنی بات سادگی سے رکھ جاتے ہیں:
" آپ کے دلائل ٹھوس ہیں، ان دلائل کو اپنے دلائل سے جاوید رسول رد نہیں کر پائے ہیں ۔ وہ تصوراتی سرقے کو شاید لفظی سرقہ سمجھ رہے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ خالد جاوید کے کسی پیراگراف کو فلم کے کسی منظر اور سونٹاگ کے کسی پیرا گراف سے ملا کر یہ بتائیں کہ دیکھیں یہ عین مطابق ہیں، اسی صورت میں انھیں تصوراتی سرقہ قبول ہوگا ۔مکرم نیاز بھائی بھی شاید یہی چاہتے ہیں ۔ میں تین فلموں کی مثال دے رہا ہوں؛ مقبول، اومکارا اور حیدر۔ یہ فلمیں وشال بھاردواج نے شیکسپیئر کے مشہور ڈراموں میکبیتھ، آتھیلو اور ہیملیٹ سے متاثر ہو کر بنائی تھیں اور باقاعدہ اعتراف کیا تھا ۔ اگر وہ اعتراف نہ بھی کرتے تو کیا ہوجاتا، عام فلم بینوں کو پتا تک نہ چلتا کہ تصور کہیں سے لیا گیا ہے، لیکن جنھوں نے شیکسپیئر کو خوب پڑھ رکھا ہے ان سے یہ بات چھپی نہ رہتی۔ حالانکہ بھاردواج نے سارا پس منظر اور سچویشن تک بدل دیا تھا ۔"
وشال بھاردواج نے ہیملیٹ کو کشمیر کے پس منظر میں ڈھالا (حیدر)، آتھیلو کو یوپی کے باہوبلی کلچر میں (اومکارا)، اور میکبیتھ کو ممبئی کے انڈر ورلڈ میں (مقبول)۔ لیکن انھوں نے ان شاہکاروں کی 'تخیلی روح' (Conceptual Soul) پر قبضہ نہیں کیا بلکہ ان سے مکالمہ کیا۔ اب ذرا خالد جاوید کے پانچوں ناولوں کا اس سے مقابلہ کیجیے۔ انھوں نے بھی تمام ناولوں کے پس منظر اورصورت حال(سچویشن ) بدلے، لیکن انھوں نے وشال بھاردواج کے برعکس انھیں اپنی 'ملکیت' بنا کر پیش کیا۔ یہی خالد جاوید کا المیہ ہے کہ وہ 'اثر' (Influence) اور 'اغوا' (Hijacking) کے درمیان تمیز کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ہم ان تمام لوگوں سے ایک بار پھر پوچھنا چاہتے ہیں، جو تصوراتی سرقے کو 'بین المتنیت' کے ریشمی پردے میں چھپانے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں، کہ خالد جاوید کی وہ 'ادبی اخلاقیات' اس ناول کے وقت کہاں روپوش ہو گئی تھیں جو ان کے افسانے "تاش کے پتوں کا عجائب گھر" کے عنوان کے نیچے بریکٹ میں شرما رہی تھیں؟ مذکورہ افسانے میں تو انھوں نے دیانت داری کا بھرم رکھنے کے لیے اعتراف کیا کہ وہ "برگمین کی فلم 'سیونتھ سیل' سے متاثر" ہے، تو پھر یہاں نیل گیمن کے نام کا 'کتبہ' لگانے سے انھیں کس نے روکا تھا؟ کیا 'جے سی بی' کے ہالے اور 'بین الاقوامی ' اور 'انوکھا' کہلانے کی لالچ نے ان کے قلم سے وہ بنیادی سچائی چھین لی تھی؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ 'خاموشی' ہی ان کے جرم کا سب سے بڑا اشتہار ہے، جسے توڑنے کے لیے انھیں جاوید رسول اُکسا رہے ہیں لیکن مجھے پورایقین ہے کہ خالد جاوید اتنے بڑے احمق نہیں ہیں کہ وہ یہ جوکھم مولیں، ورنہ ڈر ہے کہ ان کے چار افسانوی مجموعے بھی زد میں نہ آجائیں۔

ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ مابعد جدیدیت میں اوریجنلٹی 'لفظوں' میں نہیں بلکہ اس 'تخیلی آرکی ٹیکچر' میں ہوتی ہے جسے خالد جاوید نے عالمی شاہکاروں کے کھنڈرات سے اٹھا کر اردو کی مٹی میں لتھیڑ دیا ہے۔
جب خالد جاوید نیل گیمن کے 'سینڈ مین' کا وہ اچھوتا تصور (خواب میں حمل) اٹھاتے ہیں جس پر گیمن کی پوری فینٹاسی کھڑی ہے، تو وہ صرف آئیڈیا نہیں چرا رہے ہوتے بلکہ وہ گیمن کی برسوں کی 'تخیلی جراحی' پر شب خون مار رہے ہوتے ہیں۔ اگر خالد صاحب وشال بھاردواج کی طرح لکھ دیتے کہ یہ ناول 'نیل گیمن سے متاثر' ہے، تو ہم ان کی وسعتِ مطالعہ کو سلام کرتے۔ مگر یہاں تو معاملہ 'خاموش اسمگلنگ' کا ہے تاکہ اردو کا وہ قاری جو نیل گیمن سے ناواقف ہے، انھیں 'اردو کا سب سے بڑا اوریجنل ادیب' مان کر سجدہ ریز رہے۔
شکیل رشید صاحب کی مثال نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ فنکار کی عظمت 'ماخذ' کو چھپانے میں نہیں بلکہ اسے 'تسلیم' کر کے اسے نیا رنگ دینے میں ہے۔ خالد جاوید نے 'رنگ' تو اردو کا دیا، مگر 'نقشہ' غیر کا ہی رہا۔ اب آپ چاہے جتنی بحث کریں، یہ 'تخلیقی اور تصوراتی چوری' اب شواہد کی اس دھوپ میں برہنہ ہو چکی ہے جہاں مروت کا سایہ بھی اسے چھپانے کے کام نہیں آئے گا۔
نیل گیمن کے "سینڈ مین" کو اب ہم یہیں چھوڑتے ہیں ، اور اگلے پڑاؤ پر قیام کرتے ہیں۔

ناول کے آغاز میں ارسلان کو جو 'سمّن' ملتا ہے ، وہ ہمیں براہِ راست فرانز کافکا کے "دی ٹرائل" (The Trial) کی یاد دلاتا ہے۔ ارسلان کو ایک ایسے جرم (یا حمل) کی صفائی دینی پڑتی ہے جو اس نے ہوش و حواس میں کبھی کیا ہی نہیں۔ مکالمے اور عدالت کی وہ بیزاری جہاں منطق دم توڑ دیتی ہے، دراصل کافکا کے 'جوزف کے' کی اس لایعنیت (Absurdity) کا اردو چربہ ہے جسے خالد جاوید نے 'جسمانی غلاظت' کے تڑکے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ کافکا کے ہاں 'خوف' ایک نظام سے پیدا ہوتا ہے، خالد جاوید کے ہاں یہ خوف 'نطفے اور گوشت' کی سڑاند سے پیدا ہوتا ہے، مگر نقشہ وہی کافکائی ہے۔
خالد جاوید نے جارجیا (Georgia) کے پس منظر کا انتخاب بھی محض اتفاقاً نہیں کیا۔ مشرقی یورپ کا یہ خطہ عالمی سنیما (بالخصوص پراسرار اور ڈارک فلموں، مثلاً تِینگِز ابولادزے کی فلمیں) کے لیے ایک 'ہارر زون' کی حیثیت رکھتا ہے۔ خالد صاحب نے جارجیا کے نقشے کو صرف اس لیے منتخب کیا تاکہ ان کے 'خوابوں کی اسمگلنگ' پر ایک بین الاقوامی لبادہ نظر آ سکے اور اردو قاری اسے ایک 'گلوبل ناول' سمجھ کر سر دھنتا رہے۔
ناول میں ارسلان کی طویل خود کلامیاں، جہاں وہ اپنے بدن کی بُو اور وجود کے بوجھ پر صفحات سیاہ کرتا ہے ، وہ سیمیول بیکٹ کے ناول "مولوئے" (Molloy) کی اس 'شعور کی رو' کا بھونڈا استعمال ہے جہاں جملے دائروں میں گھومتے ہیں۔ بیکٹ کے ہاں یہ فلسفیانہ ضرورت تھی، مگر خالد صاحب کے ہاں یہ 'صفحات بھرنے' کی ایک مشق بن چکی ہے۔ بیکٹ کا 'مولوئے' اپنے پیروں کی تکلیف اور بدن کے اخراج پر جو لایعنی گفتگو کرتا ہے، خالد جاوید نے وہی 'تعفن' اٹھایا اور اسے اپنی نثر کا 'سگنیچر ٹیون' بنا لیا۔
ناول کا کلائمکس جہاں باپ اور بیٹے کا تصادم دکھایا گیا ہے، وہ یونانی المیوں (Oedipus Rex) سے لے کر فردوسی کے "شاہنامے" (رستم و سہراب) تک ایک قدیم ارکی ٹائپ (Archetype) ہے۔ خالد جاوید نے اس قدیم ڈھانچے کو نیل گیمن کی جدید فینٹاسی کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسی 'ادبی کھچڑی' تیار کی ہے جس کا ہر جزو کہیں نہ کہیں سے مستعار لیا گیا ہے۔ کیا ہم اب بھی اسے 'تخلیقی اچھوتا پن' کہیں گے؟
مختصراً یہ کہ "ارسلان اور بہزاد" اردو ادب کا وہ 'فرینکنسٹائن' ہے جس کا سر نیل گیمن کے ہاں ہے، دھڑ کافکا کے دفتر میں، پاؤں یونانی المیوں کی خاک میں، اور زبان بیکٹ کے سائے میں۔ خالد جاوید کا 'تخلیقی جادو' دراصل ان کی 'یادداشت کا میجک رئیلزم' ہے۔ وہ جس آئیڈیا کو ہاتھ لگاتے ہیں، پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلے ہی ہالی ووڈ یا یورپی ادب کے کسی میوزیم میں سجا ہوا ہے۔ اردو نقادوں کی 'صبر آمیز معصومیت' پر رشک آتا ہے جو اس 'خاموش درآمد' کو 'تخلیقِ نو' کا خطاب دے کر اپنی کم علمی کا اشتہار دیتے رہتے ہیں۔

فیس بک پوسٹ پر کیے جانے والے تبصرے ۔۔۔

Abrar Mojeeb

نیل گیمن اور خالد جاوید دونوں نے فرائڈ ین Oedipus complex کا استعمال کیا ہے جس کے ڈانڈے یونانی اساطیر سے ملتے ہیں۔ اسی طرح شعور کی رو اور خوابوں کا حقیقت میں بدل جانا بھی Interpretation of dreams اور psychoanalysis سے برآمد شدہ نفسیاتی علامت سازی ہے جیسے غالب کہتے ہیں :
ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

Esbaat Quarterly

تمھارا فرائڈ، یونانی اساطیر اور غالب کے حوالے دے کر بحث کو ایک ایسی 'آفاقیت' عطا کرنے کی کوشش کی ہے جہاں ہر چوری 'تخلیقی توارد' نظر آنے لگتی ہے۔
جیسا کہ تم نے کہا، نیل گیمن اور خالد جاوید دونوں نے 'ایڈیپس کمپلیکس' کا استعمال کیا ہے۔ لیکن باپ اور بیٹے کا تصادم بلاشبہ ایک قدیم یونانی ارکی ٹائپ ہے، لیکن نیل گیمن کے 'دی سینڈ مین' کا کمال صرف ایڈیپس نہیں ہے، بلکہ اس کا وہ مخصوص 'پلاٹ انجن' ہے جس میں ایک عورت 'خوابوں کی وادی' میں حاملہ ہوتی ہے اور وہ بچہ بیداری کی دنیا میں اپنے 'خالق' (مورفیئس) کی موت کا سبب بنتا ہے۔ یہ ایک نہایت منفرد اور مخصوص 'سائنسی-فینٹاسی' (Sci-fi Fantasy) ڈھانچہ ہے جو نیل گیمن کے ذہن کی اختراع ہے۔ خالد جاوید نے اسی مخصوص ڈھانچے کو (نہ کہ صرف عمومی ایڈیپس کو) اٹھا کر اپنے ناول کی بنیاد بنایا ہے۔ اگر میں ممبئی کے انڈر ورلڈ پر فلم بناؤں تو میں 'مقبول' (شیکسپیئر) سے متاثر ہو سکتا ہوں، لیکن اگر میں وہی 'خواب در خواب' کا اسٹرکچر اٹھا لوں جو نولن کی 'انسیپشن' میں ہے، تو اسے 'آفاقی نفسیات' نہیں بلکہ 'تخیلی رہزنی' کہا جائے گا۔
تم نے فرائڈ کی "Interpretation of Dreams" کا حوالہ دیا۔ فرائڈ نے خوابوں کی نفسیاتی تعبیر بتائی تھی، اس نے فکشن کا وہ 'ٹیکنیکل ماڈل' تیار نہیں کیا تھا جس میں خواب کا نطفہ حقیقت بن کر عدالتوں کے چکر کاٹتا پھرے۔ نیل گیمن نے فرائڈ کے نظریات کو ایک 'فنکارانہ پیکر' عطا کیا، اور خالد جاوید نے اسی بنے بنائے پیکر کو اغوا کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا خالد جاوید نیل گیمن کے مطالعے کے بغیر یہ 'مخصوص صورتِ حال' (Situation) پیدا کر سکتے تھے؟ جواب نفی میں ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں 'اثر' ختم ہوتا ہے اور 'تصرف' شروع ہوتا ہے۔

Abrar Mojeeb

بھائی خواب میں جنسی عمل کا وقوع پذیر ہونا اور اس کے نتیجہ میں حقیقی بچہ کی پیدائس کوئی نیل گیمن کا منفرد تخئیل نہیں ہے۔ ہاروکی موراکامی کے ناول کافکا آن دا شور میں مرکزی کردار 15 سالہ کافکا نامورا خواب میں ہزاروں میل دور مس Saeki کے ساتھ جنسی عمل سے گزرتا ہے اور حقیقی طور پر حمل اور بچہ کی پیدائش عمل میں آتی ہے۔
اسی طرح ٹونی موریسن کے ناول Beloved میں Sethe نامی عورت کا بچپن میں کاٹ کر دفنایا گیا سایا پال ڈی کے ساتھ جنسی عمل میں شریک ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ مادی طور پر حاملہ ہوجاتی ہے۔ لاشعور کا یہ عمل ایک بچہ کی پیدائش کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔
ہندوستانی ، یونانی، اور لاطینی امریکن اساطیر میں ایسی بے شمار کہانیاں ہیں جہاں ایک دوشیزہ سوئی ہوئی ہوتی ہے اور خواب میں کسی غیر مرئی طاقت، جن، یا لاشعوری پیکر کے ساتھ جنسی ملاپ کا تجربہ کرتی ہے اور نتیجہ میں حقیقی حمل اور بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔

Esbaat Quarterly

تمھارے دوسرے کمنٹ کاجواب یہاں ہے:
تم نے ہاروکی موراکامی، ٹونی موریسن اور قدیم اساطیر کے حوالے دے کر اس بحث کو بے حد دلچسپ بنا دیا ہے۔ تمھاری یہ بات درست ہے کہ 'خواب میں حمل' کا تصور قدیم لوک کہانیوں اور اساطیر میں ملتا ہے، لیکن ادب میں مقدمہ صرف 'تصور' (Idea) پر نہیں بلکہ اس تصور کی 'تعمیری ترتیب' (Architectural Sequence) اور 'فنی برتاؤ' پر قائم ہوتا ہے۔ اور یہیں سے تعمیر تصرف کا مقدمہ شروع ہوتا ہے۔
موراکامی کے ہاں کافکا نامورا اور مس سیکی (Miss Saeki) کا معاملہ مابعد الطبیعیاتی اور علامتی ہے۔ وہاں 'حمل' کا تصور ایک مابعد الطبیعیاتی جادوئی حقیقت پسندی (Magical Realism) کا حصہ ہے جس کا مقصد وقت اور یادداشت کے رشتوں کو تلاش کرنا ہے۔ میرا سوال ہے کہ کیا موراکامی کے ہاں بھی وہی مخصوص صورتحال ہے جو خالد جاوید نے نیل گیمن کے ہاں سے اٹھائی ہے؟ یعنی: ایک خوابیدہ عمل، اس کے نتیجے میں ایک حقیقی بچہ، اس بچے کی بنیاد پر ایک 'قانونی جنگ' (Legal Battle) اور عدالت کا وہ مخصوص کافکائی ڈرامہ؟ ہرگز نہیں! موراکامی کے ہاں 'خواب' ایک روحانی کیفیت ہے، جبکہ نیل گیمن اور خالد جاوید کے ہاں وہ ایک 'تکنیکی پلاٹ انجن' ہے۔
ٹونی موریسن کا ناول 'بیلووڈ' (Beloved) تو ایک خالص 'گوتھک ہارر' اور غلامی کے صدمے (Trauma) کی کہانی ہے۔ وہاں 'سایہ' کا عمل ماضی کے خوف کی تجسیم ہے۔ وہاں 'حمل' کا مقصد وہ نہیں ہے جو نیل گیمن کے 'دی سینڈ مین' یا خالد جاوید کے 'ارسلان اور بہزاد' کا ہے۔ دراصل تم صرف 'حمل' کا لفظ پکڑ کر دو مختلف دنیاؤں کو کیسے جوڑ سکتے ہو؟ خالد جاوید نے ٹونی موریسن کا 'صدمہ' نہیں چرایا، بلکہ نیل گیمن کا وہ 'ساختیاتی بلیو پرنٹ' ضرورچرایا ہے جہاں ایک غیر ارادی باپ (ارسلان/مورفیئس) اپنے ہی 'خوابیدہ نطفے' کے ہاتھوں تباہ ہوتا ہے۔
یونانی اور ہندوستانی اساطیر میں دیوتاؤں کا کنواریوں کو خواب میں حاملہ کرنا 'مقدس معجزہ' کہلاتا ہے۔ اساطیر کسی کی انفرادی ملکیت نہیں ہوتیں۔ لیکن جب کوئی جدید ادیب (نیل گیمن) ان قدیم اساطیر کو ایک مخصوص 'ماڈرن نیریٹو' اور 'سسپنس اسٹرکچر' میں ڈھالتا ہے، تو وہ اسٹرکچر اس کی 'تخلیقی جائیداد' بن جاتا ہے۔ خالد جاوید نے 'وشوامتر' یا 'زیوس' سے رجوع نہیں کیا، بلکہ انھوں نے نیل گیمن کی اس 'تخیلی انجینئرنگ' کو اغوا کیا ہے جس نے ان اساطیر کو ایک 'وجودی تھرلر' بنا دیا تھا۔
تمھارے تمام حوالوں کا شکریہ، لیکن معاف کرناوہ حوالے اس 'ایٹمی سچائی' سے نظریں چرا رہے ہیں کہ خالد جاوید کے ناول کا 'کلائمکس' (بیٹے کے ہاتھوں باپ کا انجام) اور 'آغاز' (عدالتی سمن) نیل گیمن کے اسکرپٹ کا کاربن کاپی کیوں ہے؟ اگر یہ محض 'آفاقی تھیم' ہے، تو خالد صاحب نے برگمین کے حوالے سے تو دیانت دکھائی، مگر نیل گیمن کے معاملے میں 'ریاکارانہ خاموشی' کیوں اختیار کی؟
سچی بات تو یہ ہے کہ تم جن ناولوں کا حوالہ دے رہے ہو، وہ خالد جاوید کی 'فکری اسمگلنگ' کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسے مزید نمایاں کر رہے ہیں۔ موراکامی اور موریسن نے آئیڈیاز کو 'ٹرانسفارم' (Transform) کیا، جبکہ خالد جاوید نے گیمن کے ڈھانچے کو صرف 'اردوائز' (Urdu-ize) کیا ہے۔اور اس اضافی کمک کے لیے میں تمھارا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ تمھارے حوالے میرے موقف کو مزید تقویت دے گئے۔شکریہ۔

Abrar Mojeeb

دوست ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں ۔
بورخیس کی ایک کہانی ہے Author of the Quixote جس میں ایک فرضی فرانسیسی مصنف پئیر مینار یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ سروینٹی کے ناول ڈان کہوٹے کا کچھ باب دوبارہ لکھے گا مینار کا مقصد سروینٹی کی کاپی کرنا نہیں تھا نہ ہی سترہویں صدی کی ہسپانوی زندگی گزار کر لکھنا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ بیسویں صدی کے فرانسیسی کی زندگی جیتے ہوئے اپنی زندگی، تجربے اور تخئیل سے وہی جملے اور الفاظ تخلیق کرے جو سروینٹی نے صدیوں پہلے کیے تھے۔ نتیجہ میں جو تخلیق وجود میں آئی اس میں اور سروینٹی کے ڈان کہوٹے میں سرمو برابر فرق نہیں تھا۔لیکن اس کے باوجود بورخیس کے نکتہ نظر کے مطابق، مینار کا لکھا متن سروینٹی کے متن سے لاکھوں گنا زیادہ گہرا اور پیچیدہ تھا۔ بورخیس اسے متن کا توارد یا سرقہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ متن کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ اس کے سیاق و سباق (Context) اور پڑھنے والے کے دور میں ہوتی ہے۔
اگرچہ یہ واقعہ ایک ادبی افسانہ (Literary Fiction) ہے، لیکن عالمی ادب کی تاریخ میں اسے ایک حقیقی واقعے سے زیادہ شہرت حاصل ہے اور اس نے متن، مصنف اور قارئین کے رشتے کو سمجھنے کے لیے جدید تنقید کو ایک نیا زاویہ دیا۔

Esbaat Quarterly

ابرار مجیب ، تھوڑی بہت تو عالمی ادب کی سیاحی اس غریب نے بھی کی ہے۔ تم نے بورخیس کی شاہکار کہانی "پئیر مینار" کا حوالہ دے کر بحث کو جس نہج پر پہنچایا ہے، وہ تمھارے کثیر المطالعہ ہونے کا ثبوت تو ہو سکتا ہے، مگر معاف کرنا اس کا ذکر خالد جاوید کے معاملے میں لانا ایک ایسی 'تکنیکی وکالت' ہے جو اصل حقائق کو دھندلانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ چلو، تمھارے بہانے میں بھی اپنا مطالعہ صیقل کرلیتا ہوں۔
بورخیس کی کہانی "پئیر مینار" دراصل انیسویں اور بیسویں صدی کے ان لکیر کے فقیر نقادوں پر ایک 'بہترین طنز' (Satire) تھی جو متن کے بجائے 'سیاق و سباق' کی بنیاد پر معانی گھڑتے تھے۔ بورخیس یہ نہیں کہہ رہا تھا کہ آپ دوسروں کی کتابیں دوبارہ لکھنا شروع کر دیں، بلکہ وہ اس 'ناقدانہ حماقت' کا مضحکہ اڑا رہا تھا جہاں دو ہو بہو متن صرف اس لیے مختلف قرار دیے جاتے ہیں کیونکہ ان کے لکھنے والے الگ ہیں۔ خالد جاوید کی 'اسمگلنگ' پر بورخیس کی اس طنزیہ تمثیل کا اطلاق کرنا دراصل اس کہانی کی روح کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔
'پئیر مینار' کا پورا منصوبہ یہ تھا کہ وہ 'اعلان' کر کے سروینٹی کا ناول لکھ رہا تھا۔ اس کا مقصد 'نقل' کرنا نہیں بلکہ ایک ناممکن 'تخلیقی عمل' سے گزرنا تھا۔ خالد جاوید کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ انھوں نے کہیں یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ نیل گیمن کے 'سینڈ مین' کا 'اردو ورژن' لکھ رہے ہیں یا نیٹ فلکس کی سیریز 'ڈارک' کا 'بریلوی ایڈیشن' تیار کر رہے ہیں۔ خالد صاحب تو ان تمام مآخذ کو ہضم کر کے ڈکار تک نہیں لے رہے اور اس پر غضب یہ کہ ان ماخذ پر اپنی 'اوریجنلٹی' کی مہر لگا کر اردو دنیا کو مرعوب بھی کر رہے ہیں۔ پئیر مینار 'دیانت دار' تھا، وہ سروینٹی کا نام مٹانا نہیں چاہتا تھا؛ خالد جاوید کے ہاں 'خاموش ڈیلیشن' (Silent Deletion) کا عمل کارفرما ہے جہاں اصل تخلیق کار کا نشان تک مٹانے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے۔
تم کہتے ہو کہ سیاق بدل جانے سے متن کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ بھائی! اگر یہی اصول مان لیا جائے تو کل کو کوئی 'ہیملیٹ' کا پورا اسٹرکچر اٹھا کر اسے 'کشمیر' کے پس منظر میں لکھ دے اور اپنا نام چھاپ دے، تو کیا آپ اسے پئیر مینار کی 'تخلیقی گہرائی' کہیں گے؟ ہرگز نہیں، اسے 'کاپی رائٹ' کی خلاف ورزی اور ادبی بددیانتی کہا جائے گا۔ وشال بھاردواج نے جب شیکسپیئر کو ہندوستانی سیاق دیا، تو اس نے اس کا 'اعتراف' کیا (جیسا کہ شکیل رشید صاحب نے نشاندہی کی)۔ خالد جاوید نے سیاق تو بدلا، مگر اس 'تخیلی ڈھانچے' کا اعتراف کیوں نہیں کیا جو ان کی اپنی مٹی کی پیداوار نہیں تھا؟ خود خالد جاوید نے برگمن کی فلم کا سیاق بدلا اور اپنا افسانہ "تاش کے پتوں کا عجائب گھر" لکھا، تو پھر عنوان کے نیچے کیوں اعتراف کیا؟ اسی طرح نہ کرتے جس طرح انھوں نے اپنے ناولوں کے ماخذ کا نہیں کیا؟تم نے دیکھا ، خواہ جتنی دلیل دی جائے ، بات گھوم پھر کر وہیں پہنچ جاتی ہے۔
یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ تم اسی بورخیس کی مثال سے خالد جاوید کا دفاع کر رہے ہو جس کے 'زمانی لوپس' (Circular Time) کو خالد صاحب نے اپنے تازہ ترین ناول "اکیس ایک سو بائیس" میں بغیر کسی حوالے کے برتا ہے جس کا ذکرکل کرنے والا ہوں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ مقتول کے ہتھیار ہی کو قاتل کے دفاع میں پیش کر دیا جائے، ہے ناں دلچسپ بات!

Abrar Mojeeb

خالد جاوید کے تعلق سے ہماری یہ بحث شاید بورخیس کے Labyrinths میں داخل ہوچکی ہے جس کا استعمال Mark Z Danielewiski نے اپنے ناول House Of Leaves اور خود بورخیس نے ہیگل کے کائناتی فلسفہ کو اپنے فکشن کا حصہ بنایا۔ ہیگل کےفلسفہ کے علاوہ فکشن میں بھول بھلیاں کو فلسفیانہ فکر کی سطح پر دانتے کی ڈوائین کامیڈی اور ملٹن کی پیرا ڈائز لاسٹ میں دیکھا جاسکتا ہے۔کافکا کے دا کیسل اور دا ٹرائل میں بھول بھلیاں موجود ہے۔ شرلی جیکشن کے ناول The Haunting Of Hill House میں بھی مکان ایک فلسفیانہ اور نفسیاتی خوف کی بھول بھلیاں ہے جس کا کوئی انت نہیں ۔ بہرحال تمہارے اگلے مضمون کا دل جمعی سے منتظر ہوں۔

Esbaat Quarterly

تم نے دانتے، ملٹن، کافکا اور شرلی جیکسن کی جن 'بھول بھلیوں' (Labyrinths) کا ذکر کیا ہے، وہ بلاشبہ عالمی ادب کا مشترکہ ورثہ اور 'آفاقی علامتیں' ہیں۔ لیکن تم ایک بنیادی فنی فرق کو دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کر رہے ہیں: 'علامت' (Motif) اور 'مخصوص ساختی ڈھانچے' (Specific Structure) کا فرق۔
دانتے اور ملٹن نے اپنی بھول بھلیاں اپنے عہد کے تخیل سے 'تخلیق' کیں، جبکہ خالد جاوید نے نیل گیمن اور نیٹ فلکس کے بنے بنائے 'تخیلی نقشوں' کو اغوا کر کے ان میں صرف اردو نثر کا 'گارا' بھرا ہے۔ بحث یہ نہیں ہے کہ 'بھول بھلیاں' کس کس کے ہاں ہیں، بحث یہ ہے کہ خالد جاوید کی بھول بھلیوں کا 'بلیو پرنٹ' (Blue-print) نیل گیمن کے 'دی سینڈ مین' اور نیٹ فلکس کی 'ڈارک' سے ہو بہو کیوں ملتا ہے؟
ہم ناموں کے اس گورکھ دھندے میں جتنا چاہیں بھٹک لیں، مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 'خاموش اسمگلنگ' کو 'کائناتی فلسفے' کا لبادہ پہنا دینے سے وہ اوریجنل نہیں ہو جاتی۔ تم میرے اگلے مضمون کا انتظار کر رہے ہیں، تو بتادوں کہ کل کی قسط (اکیس ایک سو بائیس) میں 'وقت کے دائروں' کا وہ پوسٹ مارٹم ہوگا کہ بورخیس کی روح بھی تڑپ اٹھے گی۔

Mukarram Niyaz

اشعر بھائی، ایک بار پھر ڈرتے ڈرتے کہنا چاہوں گا کہ۔۔۔
"ایک خنجر پانی میں" کی طرح، "ارسلان اور بہزاد" والا آپ کا یہ مقدمہ بھی کمزور ہے!
ڈرتے ڈرتے کی ترکیب اس لیے استعمال کی کہ، آپ کی ٹائم لائن پر سنجیدہ مکالمہ کرنے والے کو ڈر لگتا ہے۔ اس لیے یہاں صرف آپ کے مزاج کے واقفکار ہی جرات مول لیتے ہیں۔
آپ مکالمہ کرنے والے کا شکریہ ادا بھی کرتے ہیں تو دوسرے ہی لمحہ اس کی پیٹھ پر "جھنجھلاہٹ" والا گھونسہ بھی رسید کر دیتے ہیں۔ حالانکہ سادہ الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے:
"ہم نے ان اعتراضات کے جواب میں اپنے دلائل پیش کیے"
اور اس کے بعد قاری پر چھوڑ دیا جاتا کہ وہ ان دلائل کی منطقی قوت کا خود اندازہ کرے۔
کسی مباحثے میں ہر فریق ظاہر ہے اپنے دلائل کو درست سمجھ کر ہی پیش کرتا ہے، لیکن اپنے جوابات کو خود "منطقی" قرار دینا ان کے منطقی ہونے کا ثبوت نہیں بن جاتا۔ کسی دلیل کی صحت کا فیصلہ اس کے مقدمات، شواہد، داخلی ربط اور اخذ کیے گئے نتائج سے کیا جاتا ہے۔
جب ہم فریقِ مخالف کے لہجے کو "جھنجھلاہٹ" سے تعبیر کر کے اس مبینہ کیفیت کا سبب بھی متعین کر دیں گے تو یہ مکالمے کی علمی کمزوری قرار پائے گی۔ کیونکہ۔۔۔ علمی مباحث میں کسی شخص کے استدلال اور اس کی ذہنی یا جذباتی کیفیت دو الگ امور ہیں۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ کوئی شخص واقعی کسی مرحلے پر ناراض یا جھنجھلایا ہوا تھا، تب بھی اس کے پیش کردہ سوالات یا اعتراضات صرف اسی بنا پر غلط قرار نہیں پاتے۔ اسی طرح نہایت پرسکون لہجے میں دی جانے والی دلیل بھی لازماً درست نہیں ہوتی۔

Esbaat Quarterly

یہ مجھ پر بہت پرانا الزام ہے۔
بے شک ان لوگوں کو ضرور مجھ سے ڈرنا چاہیے جواپنے دلائل کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔آپ نے میرے دلائل کے جواب میں دلائل دیے تو کیا میں خاموش ہوجاؤں؟ تبھی آپ نہیں ڈریں گے؟ بھائی میری پوسٹ ہے، میں اپنے دلائل کا دفاع تو کروں گا ہی۔ علمی اور اکیڈمک دنیا میں صرف کمزور کہہ دینے سے مقدمہ کمزور نہیں ہوجاتا، اسے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ آپ ثابت کر نہیں پا رہے تو ظاہر ہے آپ جھنجھلائیں گے۔ جھنجھلاہٹ ایک انسانی فطرت ہے۔ لیکن جیسا کہ آپ مودی جی والا "وکٹم کارڈ" کھیلیں گے تو معاف کیجیے گا، اس سے متن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔میرا جھنجھلانا بھی کہنا ایشو بن جائے گا لیکن جاوید رسول کی صریح بدتمیزی جو انھوں نے اپنے آخری کمنٹ میں کی، وہ آپ کو نظر نہیں آ رہی؟ کیوں؟ اور یہ "ڈرتے ڈرتے" والا فقرہ وکٹم کارڈ ہے جسے دلائل سے عاجز انسان پیش کرتاہے۔ آپ لفظوں کی بازیگری کا طعنہ مار سکتے ہیں لیکن میں جھنجھلاہٹ بھی نہیں بول سکتا چونکہ اس سے آپ ڈر جاتے ہیں؟

Mukarram Niyaz

"The burden of proof lies on the person who makes the claim, not on the person who denies it."
اشعر بھائی، اصل نکتہ شاید اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ "تصوراتی سرقے" کا دعویٰ آپ نے کیا ہے، اس لیے اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی بنیادی طور پر آپ ہی پر ہے۔ معترض پر یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ سرقہ نہ ہونے کو ثابت کرے۔ میں نے آپ کے دلائل کو محض "کمزور" نہیں کہا، بلکہ ان میں موجود مخصوص خلا کی نشان دہی کی ہے۔ اس کا جواب میرے "جھنجھلانے"، "ڈرنے" یا "دلائل سے عاجز" ہونے کا نفسیاتی تجزیہ نہیں، بلکہ وہ مثبت اور قابلِ جانچ شہادت ہے جو اثر، مماثلت یا بین المتونی تعلق سے آگے بڑھ کر "تصوراتی سرقہ" ثابت کرے۔
اور بالکل، آپ کو اپنے دلائل کے دفاع کا پورا حق ہے۔ اعتراض دفاع کرنے پر نہیں، بلکہ۔۔۔ مخالف کی ذہنی کیفیت کو اس کے استدلال کا جواب بنانے پر ہے۔ باقی فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے ہیں۔

Esbaat Quarterly

شکریہ،، اس لیے ادا کیا جاتا ہے کہ آپ نے مکالمے میں حصہ لیا اور مجھے اپنے دلائل کو ہر گوشے سے دفاع کرنے اور اسے مزید مضبوط کرنے کا موقع دیا۔ شکریہ ادا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے ہر دلیل پرآمنا صدقنا کہوں۔ جس طرح آپ لفظوں کی بازیگری اور "ڈرتے ڈرتے" کا فقرہ اچھالیں گے یا اس بوڑھے کو مکالمہ کرنے کے آداب سکھائیں گے، اسی طرح میرے جواب سننے کا حوصلہ رکھیں۔ جاوید رسول نے اپنا کمنٹ کل رات کو کرنے کے بعد اس لیے ڈیلیٹ کردیا چونکہ وہ اپنی حد سے باہر جا رہے تھے اور میرا تفسیاتی تجزیہ کرنے بیٹھ گئے۔ ارے بھائی، یہاں مناظرہ نہیں ہو رہا ہے، مکالمہ ہورہا ہے۔لیکن شاید تصوراتی سرقہ اور تعمیری تصرف سے پہلے اردو والوں کو مناظرہ اور مکالمہ کے درمیان فرق کرنا سیکھنا ہوگا ورنہ وہ اسی طرح اپنی ہر دلیل کو نیوکلیئر بم کا درجہ دیتے رہیں گے۔ رہی بات قاری کا فیصلہ، اب تو یہ سن کر ہنسی بھی اس لیے نہیں آتی کہ ہر ڈبیٹ میں سیاسی نیتا دلائل ختم ہوجانے کے بعد یہی جملہ اچھالتا ہے کہ فیصلہ جنتا کرے گی۔

Mukarram Niyaz

اشعر بھائی، آپ نے اپنے حقِ جواب اور حقِ دفاع کے بارے میں بےشک درست بات کہی ہے، لیکن ایک مرتبہ پھر اپنے ادبی مقدمے کے شواہد پر گفتگو کرنے کے بجائے آپ نے مخالفین کے لہجے، حوصلے، رویّے اور علمی معاشرے کی استعداد کو موضوع بنا لیا ہے۔
ادبی مباحثے میں "قاری فیصلہ کرے" کا مطلب انتخابی سیاست والا "عوام فیصلہ کریں گے" بھلا کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
کیونکہ ادبی مکالمے کا مطلب تو بہت سادہ ہوتا ہے: دونوں طرف کے شواہد سامنے ہیں، اب کسی فریق کو خود اپنے استدلال کا منصف مقرر نہ کیا جائے۔
ایک طرف آپ کہیں کہ: "یہاں مناظرہ نہیں، مکالمہ ہو رہا ہے۔"
تو یہ بات درست اور قابلِ قدر ہے۔ لیکن مکالمے میں نتیجہ کسی ایک شریک کی ملکیت بھی نہیں ہوتا!!
اگر ایک فریق اپنے جواب کو "منطقی"، دوسرے کو "جھنجھلایا ہوا"، تیسرے شخص کے تبصرے کو بحث کا "فیصلہ" اور اختلاف کرنے والوں کو تصور سے ناواقف قرار دے، تو مکالمے اور مناظرے کے درمیان جس فرق پر زور دیا جا رہا ہے، وہ خود دھندلا ہونے لگتا ہے۔

Esbaat Quarterly

ہم جھنجھلاہٹ کہیں تو آسمان ٹوٹ پڑا؟ آپ لفظوں کی بازیگری کہیں تو کچھ نہیں؟ اب تک آپ نے اپنی اصطلاح پر کچھ نہیں فرمایا؟ ناواقف اگر ہیں تو بھائی یہی کہا جائے گا، اس سے آپ اتنے جزبز ہونے کے بجائے اپنی واقفیت کا اظہار کیجیے۔میرے لیے اگر آپ کسی بارے میں کہیں گے کہ فلاں چیز سے آپ ناواقف ہیں تومیں برا ماننے کے بجائے اور اخلاقیات کا درس نظامی پڑھانے کے میں اس پر اپنی واقفیت کی ڈھیروں دلیلیں دے دوں گا۔ اور اگر پھر بھی آپ کو میرا 'بولنا' برداشت نہیں ہوتا تو میری اٹھائی گئی کسی بحث میں شریک ہونے کا رِسک نہ لیں چونکہ میرا رویہ یہی رہے گا، بدلے گا نہیں۔

Shakeel Rasheed

نیل گیمن کی فنتاسی سے مماثلت حیرت انگیز ہے، حالانکہ خالد جاوید نے اپنے ناول کے پس منطر کو تبدیل کیا ہے، مگر مطابقت واضح ہے ۔ سینڈ مین نیٹ فلیکس پر دیکھنے کی کوشش کروں گا ۔

Esbaat Quarterly

ضرور دیکھیے شکیل بھائی۔ہندی میں بھی ڈب کیا گیا ہے۔ دو سیزن ہیں، اگرچہ اس کا پہلا سیزن زیادہ بہتر ہے لیکن دوسرا سیزن کم از کم خالد جاوید کے ناول کے کلائمکس کے لیے ضرور دیکھیے کہ خواب سے جنما لڑکا دانیال (خالدکے ناول میں اس کا نام غالباً جیک ہے) اپنے باپ کی موت کا سبب بنتا ہے۔

Mukarram Niyaz

سینڈ مین کا پہلا کنسپٹ ڈی.سی کامکس سے ہے، جس کے برسوں بعد نیٹ فلیکس کے سیزن سے.
اشعر بھائی، آپ کی نقد، کامکس کے حوالے سے ہے یا نیٹ فلیکس سیریز سے؟

Esbaat Quarterly

آپ شاید میرا مضمون پڑھتے نہیں ہیں۔ وہاں تو میں درج کرچکا ہوں کہ یہ بہت ہی مشہور گرافک ناول ہے جو نوے کی دہائی میں کلاسک کا درجہ حاصل کرچکا تھا۔ نیٹ فلکس میں جو ویب سیریز ہے، وہ بعینہ وہی ہے بھائی۔ دونوں میں دیکھیے رائٹر کا نام نیل گیمن ہی ہے۔

Mukarram Niyaz

میرا سوال تو بہت چھوٹا سا تھا، جس کا براہ راست جواب یا تو "کامکس" ہو سکتا تھا یا پھر "نیٹ فلیکس"
آپ جانتے ہیں کہ میں فلم کے ساتھ ساتھ کامکس کا بھی آدمی ہوں۔ انٹرنیٹ پر اردو میں کارٹون/کامکس کی پہلی ویب سائٹ کا آغاز میں نے ہی کیا تھا۔ میں نے زمانہ طالب علمی کے دوران اور بعد سینڈ مین کا کامکس ورژن پڑھا ہے (میری یادداشت کے مطابق یہ شاید 1989-90ء کی بات ہے)۔ اور نیٹ فلیکس کی وضاحت تو آپ کے مضمون میں بھی ہے اور اس دوست نے بھی بتایا ہے جس نے نیٹ فلیکس کی یہ سیریز دیکھ رکھی ہے۔
لہذا میں اب بھی آپ کے دو ٹوک جواب کا منتظر ہوں۔
دوسری بات ، جو کہ زیادہ اہم ہے ۔۔۔
آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ:
نیٹ فلکس میں جو ویب سیریز ہے، وہ بعینہ وہی (مشہور گرافک ناول) ہے
جبکہ نیٹ فلکس کی آن لائن وضاحت میں صاف درج ہے کہ ۔۔۔

The Sandman show presents much of the same story as the comics... ....the creators have made significant narrative changes, with Gaiman's approval
Ref.: https://www.netflix.com/tudum/articles/the-sandman-based-on-comic-books-show

یاد رہے نیٹ فلکس کا یہ بیان سیریز کے اجرا سے چار دن پہلے جاری کیا گیا تھا۔


اشعر نجمی

Keywords: Khalid Javed, Arsalan Aur Bahzad, Urdu Novel, Urdu Literary Criticism, Conceptual Plagiarism, Literary Influence, Indian Urdu Literature, Contemporary Urdu Fiction, Literary Plagiarism Debate, Urdu Fiction Criticism
Arsalan Aur Bahzad: Influence or Plagiarism?
An Essay and discussion on Khalid Javed's novel 'Arsalan Aur Bahzad', Critical Analysis by: Ashar Najmi.