ناول ایک خنجر پانی میں : ادبی اثر، اخذ اور تصوراتی سرقے کے دعوؤں کا جائزہ
اردو کے معروف فکشن نگار خالد جاوید کے ناول "ایک خنجر پانی میں" کے حوالے سے ناقد اشعر نجمی کی ایک مفصل تنقید اور اس کے بعد ہونے والا مکالمہ اب تعمیرنیوز پر یہاں یکجا محفوظ ہے۔ اس مکالمے میں اشعر نجمی کے علاوہ مکرم نیاز، پروفیسر جاوید رسول، شکیل رشید اور ذوالفقار علی زلفی سمیت متعدد اہلِ قلم نے حصہ لیا۔ اس طرح اب اصل تنقیدی مضمون، اس پر کیے گئے اعتراضات، ان کے جوابات اور بعد کی وضاحتیں ایک ہی مقام پر موجود ہیں اور قاری کسی فیس بک تبصرے کی تلاش میں گئے بغیر پوری بحث کا تسلسل دیکھ سکتا ہے۔
زیرِ نظر تحریر کا مقصد خالد جاوید کی مدافعت یا اشعر نجمی کی مخالفت نہیں، بلکہ اس محفوظ شدہ مکالمے میں اٹھنے والے چند اصولی سوالات کا جائزہ لینا ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ادبی اثر، اخذ و استفادہ، بین المتونی مکالمہ، تصوراتی مماثلت اور سرقہ کن مقامات پر ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں، اور کسی ادبی تخلیق پر "تصوراتی سرقہ" یا "تعمیری تصرف" جیسے سنگین الزامات عائد کرنے کے لیے کس درجے کی شہادت درکار ہوتی ہے۔
بحث کے تازہ مرحلے کی تمہید
اشعر نجمی نے اس بحث کی ایک بعد کی قسط (بعنوان: ارسلان اور بہزاد - نیل گیمن کے نطفے کا 'تخلیقی' جنم) کی تمہید میں مکرم نیاز اور جاوید رسول کی گفتگو کو ابتدا میں سنجیدہ قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ رائے بھی دی کہ بعد میں ان کے اپنے "منطقی جوابات" کے نتیجے میں دونوں اصحاب کے لہجے میں "جھنجھلاہٹ" آ گئی۔ انہوں نے اس ردعمل کو اس وجہ سے بھی فطری قرار دیا کہ ان کے بقول اردو ادبی معاشرہ "تصوراتی سرقے" اور "تعمیری تصرف" جیسے تصورات سے ابھی پوری طرح مانوس نہیں۔
اس بیان کو کسی شخصی شکایت سے الگ رکھ کر دیکھا جائے تو یہاں دو الگ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کسی مباحثے میں ایک فریق اپنے جوابات کو خود "منطقی" قرار دے تو اس وصف کی علمی حیثیت کیا ہوگی؟ دوسرا یہ کہ مخالف کے اختلاف یا لہجے کو "جھنجھلاہٹ" کہہ کر اس کی نفسیاتی وجہ بھی خود متعین کر دینا کیا اصل اعتراض کا جواب سمجھا جا سکتا ہے؟
اپنی دلیل کو خود "منطقی" قرار دینے کا مسئلہ
ہر لکھنے والا ظاہر ہے اپنا استدلال درست سمجھ کر ہی پیش کرتا ہے، لیکن کسی دلیل کو خود "منطقی" کہہ دینے سے وہ منطقی ثابت نہیں ہو جاتی۔ دلیل کی صحت اس کے مقدمات، شواہد، داخلی ربط، متبادل امکانات سے مقابلے اور اخذ کیے گئے نتیجے سے متعین ہوتی ہے۔ اس لیے زیادہ غیر جانب دار اسلوب یہ ہوتا، اگر یوں لکھا جاتا: "ہم نے ان اعتراضات کے جواب میں اپنے دلائل پیش کیے"۔ اس کے بعد قاری یا کوئی تیسرا ناقد ان دلائل کی قوت کا اندازہ کرتا۔
اسی طرح دوسرے فریق کے لہجے کو "جھنجھلاہٹ" سے تعبیر کرنا بذاتِ خود اس کے استدلال کی کمزوری ثابت نہیں کرتا۔ کوئی شخص جھنجھلایا ہوا ہو کر بھی درست سوال اٹھا سکتا ہے اور نہایت شائستہ و پرسکون انداز میں کوئی کمزور دلیل بھی دی جا سکتی ہے۔ علمی مباحث میں دلیل اور دلیل دینے والے کی وقتی نفسیاتی کیفیت کو حتی الامکان الگ رکھنا ضروری ہے۔
منطق اور مباحثے کی اصطلاح میں ایسی پیش بندی، جس کے ذریعے کسی مخالف کے اعتراضات کو جانچنے سے پہلے ہی اس کی ناسمجھی، تعصب یا جذباتی کیفیت سے وابستہ کر دیا جائے، "پائزننگ دی ویل" (Poisoning the Well) کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ ہر نفسیاتی تبصرہ لازماً اسی مغالطے میں نہیں آتا، لیکن اگر اختلاف کی توضیح پہلے ہی یہ بنا دی جائے کہ مخالف نئے تصور سے ناواقف ہے اور اسی لیے پریشان یا جھنجھلا رہا ہے، تو قاری کی توجہ دلیل سے ہٹ کر صاحبِ دلیل کی مبینہ ذہنی کیفیت کی طرف منتقل ہونے لگتی ہے۔
اختلاف کو عدمِ واقفیت سمجھنے کا مسئلہ
یہ ایک الگ اور خاصا وسیع دعویٰ ہے کہ اردو ادبی معاشرہ "تصوراتی سرقے" یا "تعمیری تصرف" سے ناواقف ہے۔ کسی تصور سے ناواقف ہونا اور کسی مخصوص متن پر اس تصور کے اطلاق سے اختلاف کرنا ایک ہی معاملہ نہیں ہو سکتا۔ کوئی قاری تصوراتی اخذ اور ساختی مماثلت کا مفہوم اچھی طرح سمجھتے ہوئے بھی یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ خالد جاوید کے اس مخصوص ناول پر اس اصطلاح کے اطلاق کے لیے پیش کردہ ثبوت کافی ہیں یا نہیں۔
اس بحث میں بنیادی اختلاف بھی کبھی یہ نہیں رہا کہ اخذ صرف اس وقت ثابت ہوگا جب کسی دوسری تخلیق کے کردار، مکالمے، مقام اور واقعات بعینہٖ نقل کیے گئے ہوں۔ اس کے برعکس یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ ایک فنکار کسی سابق تخلیق کا داخلی سانچا، مخصوص فکری ترتیب یا بنیادی تخیلاتی طریقۂ کار لے کر اسے نئے کرداروں اور نئے ماحول میں منتقل کر سکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ جس منفرد سانچے کی منتقلی کا دعویٰ کیا جائے، اسے قابلِ شناخت شواہد کے ساتھ دکھایا بھی جا سکے۔
پولانسکی اور خالد جاوید : عنوان سے ساخت تک
رومان پولانسکی (Roman Polanski) کی فلم "نائف اِن دی واٹر" (Knife in the Water) اور خالد جاوید کے ناول "ایک خنجر پانی میں" کے عنوانات میں غیر معمولی قربت ہے۔ اس مماثلت کو معمولی اتفاق سمجھ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ خنجر یا چاقو اور پانی کی یکجائی بھی دونوں تخلیقات میں علامتی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے عنوان کا اثر، شعوری اشارے، یادداشت یا بین المتونی نسبت کا سوال جائز طور پر اٹھتا ہے۔
لیکن عنوانی قربت اور پورے تخلیقی ڈھانچے کے اخذ کے درمیان ایک فاصلہ باقی رہتا ہے۔ پولانسکی کی فلم میں ایک شادی شدہ جوڑا، ایک نوجوان اجنبی، کشتی کا محدود ماحول، دو مردوں کی رقابت، عورت کی موجودگی سے پیدا ہونے والا نفسیاتی تناؤ، سماجی مرتبے اور مردانہ انا کا تصادم اور چاقو کا اس کشمکش میں عملی و علامتی کردار ایک مربوط ڈرامائی نظام بناتے ہیں۔
اشعر نجمی کے بعد کے جوابات میں اس واقعاتی سانچے کو اصل معیار ماننے کے بجائے فلم کے "نفسیاتی حبس"، محدود جگہ، پانی، خوف اور انسانی جبلتوں کے تصادم کو اس کا بنیادی جوہر قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق خالد جاوید نے کشتی کی جگہ اپارٹمنٹ اور تین کرداروں کی جگہ وجودی تنہائی رکھ کر اسی اندرونی فضا کو نئے سماجی پس منظر میں منتقل کر دیا۔
یہ ایک ممکنہ تنقیدی تعبیر ضرور ہے، مگر یہاں بھی اصل سوال باقی رہتا ہے: محدود جگہ، پانی، خوف، تنہائی اور انسانی جبلتیں اپنے آپ میں بہت وسیع ادبی و فلمی عناصر ہیں۔ پولانسکی سے مخصوص اخذ ثابت کرنے کے لیے یہ دکھانا ضروری ہوگا کہ ان عمومی عناصر کے نیچے ایسا کون سا منفرد تعلق یا داخلی ترتیب ہے جو دوسری متعدد ممکنہ تخلیقات کے بجائے بالخصوص "نائف اِن دی واٹر" کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
اگر کشتی کا اپارٹمنٹ ہو جانا اور تین کرداروں کی جگہ وجودی تنہائی لے لینا ہی "تعمیری تصرف" کی کافی شہادت ہے، تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ دونوں مختلف عناصر کے درمیان ساختی مطابقت کس اصول کے تحت قائم کی جا رہی ہے؟ دو چیزوں کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ دینا اور ان کے مابین تخلیقی انحصار ثابت کرنا دو الگ مراحل ہیں۔
"اسکرپٹ"، "روح" اور بدلتا ہوا معیار
اصل تنقیدی مضمون میں "ایک خنجر پانی میں" کے اسکرپٹ کو پولانسکی اور تارکوفسکی کے درمیان تقسیم شدہ قرار دیا گیا تھا۔ بعد کی گفتگو میں جب مخصوص ساختی مماثلت کی نشان دہی کا مطالبہ ہوا تو یہ تعبیر سامنے آئی کہ خالد جاوید نے پولانسکی کے اسکرپٹ کا "جسم"، یعنی واقعات، نہیں لیا بلکہ اس کی "روح" اخذ کی ہے۔
"روح" ایک موثر ادبی استعارہ ہے، مگر تحقیقی سطح پر اسے کسی قابلِ شناخت مفہوم میں متعین کرنا ضروری ہے۔ اگر اس سے مراد محدودیت، خوف، پانی اور نفسیاتی تناؤ ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ عناصر اتنے مخصوص کس طرح ہیں کہ ان کا سرچشمہ صرف پولانسکی ہی قرار پائے۔ اگر "روح" سے مراد کوئی زیادہ منفرد سبب کا یا فکری ترتیب ہے تو پھر وہ ترتیب واضح کی جا سکتی ہے۔
یہاں مسئلہ کسی لفظ کے استعمال کا نہیں بلکہ دعوے کی جانچ پذیری کا ہے۔ ایسا دعویٰ جس کی "روح" ہمیشہ ظاہری ساخت سے الگ اور غیرمرئی رہے، اسے قبول یا رد کرنے کا قابلِ اعتماد معیار بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اب تک جواب طلب بنیادی سوالات
اس پورے محفوظ شدہ مکالمے کو سامنے رکھنے کے بعد چند سوالات اب بھی اپنی جگہ قائم دکھائی دیتے ہیں۔
1۔ پولانسکی کی فلم کا وہ کون سا منفرد داخلی یا سبب والا ڈھانچا ہے جو خالد جاوید کے ناول میں تبدیل شدہ لیکن قابلِ شناخت صورت میں منتقل ہوا ہے؟
2۔ اگر فلم کی کشتی، تین کرداروں کی نفسیاتی تکون، مردانہ رقابت، جنسی تناؤ اور واقعاتی ترتیب بنیادی نہیں تو ان کے ہٹ جانے کے بعد باقی رہنے والی وہ کون سی مخصوص ساخت ہے جو محض پانی، خوف اور محدودیت جیسے عمومی عناصر سے زیادہ ہے؟
3۔ "نائف اِن دی واٹر" اور "ایک خنجر پانی میں" کی عنوانی مماثلت قابلِ توجہ ہے، مگر اس سے پورے ناول کا "اسکرپٹ" پولانسکی سے آنے کا نتیجہ کس اضافی شہادت سے قائم ہوتا ہے؟
4۔ گیسٹن بیچلارڈ (Gaston Bachelard) کی "واٹر اینڈ ڈریمز" (Water and Dreams) اور خالد جاوید کے تصورِ آب کے درمیان فکری قرابت کو سرقے کے درجے تک لے جانے والے مخصوص متوازی تصورات، ترتیب یا اظہار کون سے ہیں؟
5۔ آندرے تارکوفسکی (Andrei Tarkovsky) کی فلموں "اسٹالکر" (Stalker) اور "نوسٹالجیا" (Nostalghia) کی بصری فضا اور خالد جاوید کی منظرنگاری میں مماثلت ہو تو کون سے مخصوص مناظر اور کون سے نثری حصے ایسی انفرادی مطابقت دکھاتے ہیں جو محض پانی، نمی، شکستگی اور زوال کی مشترک جمالیات سے زیادہ ہو؟
6۔ البیئر کامیو (Albert Camus) کے "دی اسٹرینجر" (The Stranger) سے "سرد بیانیے" کی نسبت قائم کرتے ہوئے ایسی کون سی مخصوص اسلوبیاتی خصوصیت سامنے آتی ہے جو جدید فکشن میں وسیع طور پر پائے جانے والے غیر جذباتی بیان سے اسے ممتاز کرتی ہو؟
7۔ جارج سمنون (Georges Simenon) کے نفسیاتی ناولوں کی فضا سے مماثلت کا دعویٰ کرتے ہوئے کسی مخصوص ناول، منظر، ترتیب یا اقتباس کی عدم موجودگی میں نقل کا نتیجہ کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟
8۔ اور سب سے اہم: اثر، استفادہ، اخذ، تصرف اور سرقہ الگ الگ درجے ہیں۔ ایک درجے سے دوسرے، زیادہ سنگین درجے تک پہنچنے والی اضافی شہادت کیا ہے؟
سوزن سنٹاگ: اصل دعوے سے بعد کی وضاحت تک
اس بحث میں ایک اہم تبدیلی سوزن سنٹاگ (Susan Sontag) کے حوالے سے سامنے آئی۔ ابتدا میں یہ کہا گیا کہ بیماری کو بطور استعارہ برتنا سنٹاگ کی ایک انوکھی اور اصل فکر تھی اور خالد جاوید نے اسے اپنے ناول میں چربے کی صورت اختیار کر لیا۔
لیکن سنٹاگ کی معروف کتاب "اِلنیس ایز میٹافر" (Illness as Metaphor) کا بنیادی مقدمہ اس تعبیر سے مختلف ہے۔ سنٹاگ بیماری کو استعاراتی، اخلاقی اور نفسیاتی مفاہیم سے لادنے کے عمل کا تنقیدی جائزہ لیتی ہیں۔ بیماری کو بطور استعارہ استعمال کرنے کی روایت بھی ان سے بہت پہلے موجود تھی اور خود سنٹاگ اس کے تاریخی نمونے بیان کرتی ہیں۔ اس لیے "بیماری بطور استعارہ" کو سنٹاگ کی اصل ایجاد قرار دینا درست نہیں۔
اس تصحیح کے بعد اشعر نجمی کی دلیل نے دوسری صورت اختیار کی۔ اب کہا گیا کہ خالد جاوید نے سنٹاگ کے نظریے کی تائید نہیں بلکہ ان کی اسی تنقید، ان کے زیرِ بحث سماجی رویوں اور ان کے تجزیاتی مواد کو اپنے فکشن کا حصہ بنا لیا۔ یعنی: بقول اشعر نجمی کے، کسی نظریے کو الٹ کر استعمال کرنا بھی اس کے فکری ڈھانچے پر قبضے کی صورت ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک عمومی ادبی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کوئی ناول نگار فرائڈ کے کسی نظریے سے اختلاف کرے، مارکس کی کسی تعبیر کو الٹ کر دیکھے، نطشے کے کسی تصور کو نئے فکری و تہذیبی سیاق میں برتے یا کامیو کے تصورِ لایعنیت کے بالمقابل کوئی کردار تخلیق کرے، تو صرف اسی بنا پر اسے ان مفکرین کے فکری ڈھانچے پر قابض نہیں کہا جا سکتا۔ ادب اور فکر کی روایت مکالمے، اختلاف، بازتعبیر، اخذ و استفادے اور تخلیقی تشکیلِ نو ہی سے آگے بڑھتی ہے۔ "قبضہ" ثابت کرنے کے لیے اس سے زیادہ مخصوص شہادت درکار ہوگی۔
کیا سنٹاگ کا ماخذ چھپایا گیا تھا؟
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ خالد جاوید ناول میں خود "اِلنیس ایز میٹافر" اور سدھارتھ مکھرجی (Siddhartha Mukherjee) کی "دی ایمپرر آف آل میلیڈیز" (The Emperor of All Maladies) کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی ان دونوں کتابوں سے واقفیت قاری سے مکمل طور پر مخفی نہیں رکھی گئی۔
اس پر جواب یہ آیا کہ بڑے ناموں کا حوالہ دینا خود ایک "دفاعی ڈھال" ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وسیع تر فکری استفادے کو چھپایا جائے۔ اصولاً یہ امکان ناممکن نہیں۔ محض کسی ماخذ کا نام لکھ دینے سے اس ماخذ سے ہر قسم کا استعمال جائز نہیں ہو جاتا۔ لیکن پھر بھی اصل سوال وہی رہتا ہے کہ اس مخصوص کتاب سے کیا، کتنی مقدار میں اور کس داخلی ترتیب کے ساتھ منتقل کیا گیا؟ حوالہ موجود ہونے کو خود سرقے کا ثبوت بنا دینے سے یہ سوال حل نہیں ہوتا۔
ہیگل، مارکس اور "قبضے" کے معیار میں تبدیلی
پروفیسر جاوید رسول نے اسی مقام پر ایک اصولی سوال اٹھایا کہ اگر کسی نظریے کو الٹ کر استعمال کرنا بھی اس کے فکری ڈھانچے پر قبضہ ہے تو مارکس اور ہیگل کے فکری تعلق کو کس طرح سمجھا جائے گا؟ اس اعتراض کے جواب میں اشعر نجمی نے یہ امتیاز پیش کیا کہ مارکس نے ہیگل سے اپنے تعلق کو چھپایا نہیں بلکہ اسے اپنا نقطۂ آغاز تسلیم کیا تھا۔
یہ جواب ایک نیا معیار سامنے لاتا ہے۔ پہلے معاملہ نظریے کو الٹ کر برتنے سے "فکری قبضے" تک پہنچ رہا تھا۔ اب ماخذ کے اعتراف یا عدمِ اعتراف کو بھی فیصلہ کن فرق کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہاں سوزن سنٹاگ والا معاملہ دوبارہ اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ خالد جاوید وہاں ماخذ کا نام خود ناول میں درج کرتے ہیں۔ اگر اعترافِ ماخذ مارکس اور ہیگل کے معاملے میں جائز فکری ارتقا کے حق میں قرینہ ہے تو سنٹاگ کے معاملے میں وہی عمل کم از کم ماخذ چھپانے کے الزام کو کمزور کرتا ہے۔ اگر وہاں بھی حوالہ محض "دفاعی ڈھال" ہے تو پھر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ماخذ کے جائز اعتراف کی ایسی کون سی صورت ہوگی جو اس الزام سے محفوظ رہے۔
ایک ایسا مفروضہ جسے غلط ثابت کرنا مشکل ہو
یہاں ایک وسیع اصولی مسئلہ سامنے آتا ہے۔ فرض کیجیے واضح مماثلت ملے تو اسے سرقے کی شہادت کہا جائے۔ مماثلت کم ہو تو جواب آئے کہ ذہین فنکار کھلی نقل نہیں کرتا۔ ماخذ کا ذکر نہ ہو تو اسے چھپانا کہا جائے، اور ماخذ کا نام موجود ہو تو اسے "دفاعی ڈھال" قرار دیا جائے۔ واقعاتی ساخت ملے تو ساختی تصرف ہو، اور ساخت نہ ملے تو کہا جائے کہ "جسم" نہیں بلکہ "روح" منتقل ہوئی ہے۔
اس صورت میں مفروضہ تقریباً ہر ممکن نتیجے کو اپنی تصدیق میں استعمال کرنے لگتا ہے۔ علمی مفروضے کی قوت کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ یہ بتایا جا سکے کہ کون سی ممکنہ شہادت آنے پر اسے غلط، کمزور یا نامکمل تسلیم کیا جائے گا۔ اگر ہر ممکن صورت اسی الزام کی نئی توجیہ بن جائے تو مفروضے کی جانچ مشکل ہو جاتی ہے۔
فریقِ مخالف کی ذات یا ذہنی کیفیت کا ذکر
اس مکالمے میں بعض مقامات پر اصل دلیل کے ساتھ صاحبِ دلیل کی ذات، فنی دلچسپی، علاقائی نسبت یا نفسیاتی کیفیت بھی گفتگو میں آ گئی یا زبردستی لاد دی گئی ہے۔ اس کا اندراج یہاں کسی شخصی شکوے کی حیثیت سے نہیں بلکہ استدلالی اصول کی وضاحت کے لیے ضروری ہے۔
مکرم نیاز کے ساختی سوال کے جواب میں انہیں ادب کے مقابلے میں "سنیما کا آدمی" زیادہ قرار دیا گیا۔ لیکن سائل کی دلچسپی ادب، سنیما یا تھیٹر میں زیادہ ہونے سے سوال کی منطقی صحت تبدیل نہیں ہوتی۔ اصل سوال پھر بھی یہی رہتا ہے کہ مطلوبہ ساختی اخذ کی شہادت کیا ہے؟
پروفیسر جاوید رسول کے ایک اعتراض کو "کشمیری ورژن" سے تعبیر کیا گیا۔ اگر یہ ان کی علاقائی شناخت کی طرف اشارہ تھا تو اس نسبت کا ان کے ہیگل اور مارکس والے استدلال کی صحت سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ بعد میں ان کے سوال کو "بچکانہ" اور ان کے اعتراض کو "شخصیت پرستی" کے زیرِ اثر بھی قرار دیا گیا۔ کسی شخص کی ممکنہ پسند یا وابستگی اس کی دلیل کا متبادل تجزیہ نہیں ہو سکتی۔
اسی طرح دریدا، رولان بارتھ اور جولیا کرسٹیوا کے نام لینے کو "بڑے ناموں کی دھونس" قرار دیا گیا، جبکہ اصل تنقیدی مقدمہ خود پولانسکی، تارکوفسکی، بیچلارڈ، سنٹاگ، کامیو، سمنون، نیل گیمن اور دوسرے عالمی ناموں سے تقابل پر قائم ہے۔ دونوں فریقوں کے لیے ایک ہی معیار زیادہ مناسب ہوگا: بڑے نام کا ذکر بذاتِ خود نہ دلیل ہے نہ دھونس۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس نام سے منسوب نظریہ یا تخلیق زیرِ بحث متن سے کس طرح مربوط کی گئی ہے؟
ذوالفقار علی زلفی کا بیان: ایک قابلِ ذکر مگر محدود شہادت
اسی محفوظ مکالمے میں ذوالفقار علی زلفی نے ایک سابقہ واقعہ بیان کیا۔ ان کے مطابق ناول کی اشاعت کے زمانے میں انہوں نے عنوان دیکھ کر پولانسکی کی فلم کا ذکر کیا تھا، جس پر خالد جاوید نے وضاحت کی تھی کہ ناول اور فلم کے درمیان کوئی تعلق نہیں اور انہوں نے وہ فلم دیکھی بھی نہیں۔ زلفی کے بقول انہوں نے اس وضاحت کو قبول کر کے اپنی بات وہیں ختم کر دی تھی۔
یہ بیان موجودہ بحث میں قابلِ ذکر ہے، لیکن اسے اس سے زیادہ وزن دینا بھی مناسب نہیں جتنا وہ خود رکھتا ہے۔ یہ خالد جاوید کا اس مکالمے میں براہِ راست موجود تحریری بیان نہیں بلکہ ایک دوسرے شخص کی یادداشت کے ذریعے نقل ہونے والی سابقہ گفتگو ہے۔ اس لیے اسے نہ قطعی براءت کا ثبوت کہا جا سکتا ہے اور نہ نظرانداز کیا جانا چاہیے۔ زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہے کہ خالد جاوید سے ایک ایسی وضاحت منسوب کی گئی ہے جس میں انہوں نے فلم سے تعلق اور فلم دیکھنے، دونوں کی نفی کی تھی۔
اگر کبھی خالد جاوید کا اصل تحریری یا ریکارڈ شدہ بیان دستیاب ہو جائے تو اس کی شہادتی حیثیت ظاہر ہے زیادہ ہوگی۔ فی الحال زلفی کا بیان اس بحث میں ایک اضافی قرینہ ہے، فیصلہ کن ثبوت نہیں۔
خاموشی کو ثبوت سمجھنے کا سوال
بحث میں خالد جاوید کی خاموشی بھی زیرِ ذکر آئی۔ ایک طرف یہ خواہش ظاہر کی گئی کہ وہ خود ان اعتراضات کا جواب دیں، دوسری طرف ان کی خاموشی کو ممکنہ "دفاعی حکمت عملی" سے تعبیر کیا گیا۔
کسی مصنف کا جواب دینا یقیناً علمی بحث کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن جواب نہ دینا اپنے آپ میں الزام کی صداقت ثابت نہیں کرتا۔ خاموشی کی متعدد وجوہ ہو سکتی ہیں۔ اگر بعد میں مصنف کوئی بیان دے تو اسے شواہد کے ساتھ جانچا جا سکتا ہے، مگر عدمِ جواب سے اس کی نیت یا جرم اخذ کرنا احتیاط طلب ہے۔
شکیل رشید کی مداخلت اور "بحث فیصل" ہونے کا دعویٰ
مکالمے کے آخر میں صحافی و مدیر شکیل رشید نے اشعر نجمی کے دلائل کو ٹھوس قرار دیتے ہوئے یہ رائے دی کہ جاوید رسول اور مکرم نیاز غالباً تصوراتی سرقے کو لفظی سرقے کے معیار سے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے وشال بھاردواج (Vishal Bhardwaj) کی فلموں "مقبول" (Maqbool)، "اومکارا" (Omkara) اور "حیدر" (Haider) کا ذکر کیا، جو شیکسپیئر (William Shakespeare) کے "میکبیتھ" (Macbeth)، "آتھیلو" (Othello) اور "ہیملٹ" (Hamlet) سے ماخوذ ہیں۔
اس کے جواب میں اشعر نجمی نے شکیل رشید کی مثال کو بحث کو فیصلہ کن مقام تک پہنچانے والی قرار دیا اور اس فرق پر زور دیا کہ وشال بھاردواج نے اپنے مآخذ کا اعتراف کیا جبکہ خالد جاوید نے، ان کے نزدیک، اپنے مآخذ کو اپنی اصل تخلیقی ملکیت کے طور پر پیش کیا۔
یہاں سب سے پہلے ایک اصولی بات ضروری ہے۔ کسی معتبر شخص کا کسی ایک فریق کے دلائل کو "ٹھوس" کہنا اس بحث کا فیصلہ بذاتِ خود نہیں بن سکتا۔ علمی مباحث میں تیسرے شخص کی تائید اہم رائے ہو سکتی ہے، لیکن فیصلہ اس نئی دلیل یا شہادت سے ہوگا جو وہ بحث میں شامل کرتا ہے۔
کیا مکرم نیاز اور جاوید رسول لفظ بہ لفظ مماثلت چاہتے تھے؟
شکیل رشید کی گفتگو میں یہ مفروضہ سامنے آیا کہ شاید دونوں معترضین اسی وقت تصوراتی سرقہ مانیں گے جب خالد جاوید کے کسی پیراگراف کو سنٹاگ کے کسی پیراگراف یا فلم کے کسی منظر سے بعینہٖ ملا دیا جائے۔ لیکن محفوظ مکالمہ اس تعبیر کی پوری تائید نہیں کرتا۔
اس سے پہلے واضح طور پر یہ تسلیم کیا جا چکا تھا کہ ادبی اخذ کے لیے پلاٹ، کردار یا واقعات کی بعینہٖ نقل ضروری نہیں۔ مطالبہ یہ تھا کہ اگر دعویٰ ایک گہری ساختی یا فکری منتقلی کا ہے تو اس منفرد داخلی سانچے کو قابلِ شناخت شکل میں سامنے رکھا جائے۔ لہٰذا "لفظ سے لفظ" یا "منظر سے منظر" کی مطابقت بنیادی شرط نہیں تھی۔
یہ فرق معمولی نہیں۔ لفظی سرقہ نہ مانگنا اور ساختی شہادت مانگنا ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دو الگ معیار ہیں۔
وشال بھاردواج کی مثال دراصل کیا دکھاتی ہے؟
شکیل رشید کی مثال اس بحث میں بہت مفید ہے، مگر شاید اس کے ایک سے زیادہ نتائج نکلتے ہیں۔ "حیدر" کا "ہیملٹ" سے تعلق محض انتقام، موت یا تاریک فضا کی عمومی مشابہت نہیں۔ باپ کی موت، ماں، چچا، بیٹے کی داخلی کشمکش، انتقام اور المیہ انجام کا ایک قابلِ شناخت قصص و ساختی نقشہ نئے کشمیری پس منظر میں منتقل ہوتا ہے۔
اسی طرح "اومکارا" میں "آتھیلو" کی حسد، بدگمانی، رشتوں اور المیے کی بنیادی ساخت، اور "مقبول" میں "میکبیتھ" کی اقتدار، قتل، خواہش اور تباہی کی ڈرامائی ترتیب نئے ہندوستانی ماحول کے باوجود پہچانی جا سکتی ہے۔
اس اعتبار سے وشال بھاردواج کی مثال تصوراتی یا ساختی اخذ کے لیے ایک عمدہ عملی نمونہ فراہم کرتی ہے: ماحول، نام اور کئی واقعات تبدیل ہونے کے باوجود ماخذ کا منفرد داخلی نقشہ قابلِ شناخت رہتا ہے۔
یہی مثال الٹا وہ سوال بھی مضبوط کرتی ہے جو "ایک خنجر پانی میں" کے سلسلے میں اٹھایا جا رہا ہے: اگر پولانسکی اور خالد جاوید کا تعلق بھی "ہیملٹ" اور "حیدر" جیسی ساختی نوعیت کا ہے تو وہ قابلِ شناخت داخلی نقشہ کہاں ہے؟ اگر جواب صرف پانی، خنجر، محدودیت اور خوف ہے تو ان عمومی عناصر کو شیکسپیئرین ساخت کی مذکورہ مثالوں کے برابر قرار دینے کے لیے مزید وضاحت درکار ہوگی۔
اعترافِ ماخذ اور تخلیقی اخذ دو الگ سوال ہیں
وشال بھاردواج کی مثال سے ایک اور فرق بھی سامنے آتا ہے۔ ماخذ کا اعتراف اخلاقی اور ادبی شفافیت کا مسئلہ ہے، جبکہ کسی تخلیق کا واقعی ماخوذ ہونا اس کے داخلی تقابل کا سوال ہے۔ وشال بھاردواج اگر شیکسپیئر کا نام نہ بھی لیتے تو "حیدر" اور "ہیملٹ" کے درمیان ساختی رشتہ اپنی جگہ موجود رہتا۔ اعتراف اس رشتے کو پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے واضح کرتا ہے۔
اسی لیے کسی ادبی مقدمے میں دو الگ سوال پوچھنے چاہیے: کیا نئی تخلیق کسی سابق تخلیق سے قابلِ شناخت طور پر ماخوذ ہے؟ اور اگر ہے تو کیا مصنف نے اس ماخذ کا مناسب اعتراف کیا؟ پہلے سوال کا جواب ساخت اور متن سے آئے گا۔ دوسرے کا جواب مصنف کے رویے اور حوالہ دینے سے۔ دونوں کو ایک ہی سوال بنا دینا مسئلے کو غیر ضروری طور پر الجھا سکتا ہے۔
اثر، بین المتونیت اور سرقہ: دونوں انتہاؤں سے احتراز
یہ بھی مناسب نہیں کہ ہر خارجی مماثلت کو صرف "بین المتونیت" کہہ کر بری کر دیا جائے۔ اگر کسی مصنف نے واقعی کسی سابق تخلیق کا نہایت منفرد فکری یا ساختی نظام اس طرح منتقل کیا ہو کہ ماخذ واضح طور پر شناخت کیا جا سکے، تو اس اخذ کی نوعیت پر سوال ضرور اٹھے گا۔ پروفیسر جاوید رسول کا بین المتونیت کا حوالہ بھی بذاتِ خود خالد جاوید کے ہر ممکن اخذ کو جائز ثابت نہیں کر دیتا۔
لیکن دوسری انتہا یہ ہے کہ پانی، خواب، بیماری، موت، تنہائی، زوال، محدودیت یا غیر جذباتی تشدد جیسے وسیع انسانی و ادبی موضوعات کی موجودگی ہی کو مخصوص عالمی مصنفین کی ملکیت سمجھ کر ان کے استعمال کو سرقے کی دلیل بنا دیا جائے۔
اصل امتیاز اس بات میں ہوگا کہ مشترک چیز ایک عمومی خیال یا علامت ہے، یا واقعی کوئی نہایت مخصوص تخلیقی ترتیب، اظہار، سبب والا نظام اور فکری تعمیر ہے؟
"ایک اتفاق، دو مشابہتیں، پانچ ناول": تعداد خود معیار نہیں
مکالمے میں یہ استدلال بھی سامنے آیا کہ ایک اتفاق توارد ہو سکتا ہے، دو مشابہتیں اثر ہو سکتی ہیں، لیکن پانچ ناولوں میں یہی صورت ہو تو معاملہ سرقے یا باقاعدہ فکری اسمگلنگ تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ ایک موثر خطیبانہ فقرہ ہے، مگر ادبی تحقیق کا قطعی پیمانہ نہیں۔ ایک نہایت منفرد اور پیچیدہ ساختی مماثلت کبھی بیس عمومی مشابہتوں سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس پانی، موت، خواب، بیماری، خوف اور تنہائی جیسی کئی مشترک علامتیں بھی کسی ایک مخصوص ماخذ پر انحصار ثابت نہ کر سکیں۔
اس لیے تعداد سے زیادہ اہم مماثلت کا اختصاص، ترتیب، وسعت اور تخلیقی انفرادیت ہے۔
تنقید کا اصل حق اور قاری کا حق
اشعر نجمی کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ خالد جاوید جیسے معروف اور انعام یافتہ فکشن نگار کی تخلیقی انفرادیت پر سخت ترین سوال اٹھائیں، ان کے ممکنہ عالمی مآخذ تلاش کریں، ان کی نثر اور اسلوب کا تجزیہ کریں اور جہاں انہیں اخذ یا تصرف محسوس ہو وہاں اسے نشان زد کریں۔ اردو تنقید کے لیے ایسے سوالات مفید ہو سکتے ہیں، خصوصاً جب وہ عالمی ادب، فلسفے اور سینما سے تقابلی مطالعے کے دروازے کھولتے ہوں۔
اسی کے ساتھ قاری اور دوسرے ناقد کا یہ حق بھی برقرار رہتا ہے کہ وہ سخت ترین الزام کے لیے سخت ترین شہادت طلب کرے۔ "اثر" اور "سرقہ" ایک ہی لفظ نہیں؛ "استفادہ" اور "اغوا" بھی مترادف نہیں۔ اگر نتیجہ زیادہ سنگین ہے تو اس تک پہنچانے والے درمیانی استدلالی مراحل زیادہ واضح ہونے چاہیے۔
حاصلِ بحث
اس تحریر کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ خالد جاوید ہر عالمی اثر سے پاک اور سراسر منفرد ناول نگار ہیں۔ "ایک خنجر پانی میں" کے عنوان اور پولانسکی کی "نائف اِن دی واٹر" کے درمیان مماثلت واقعی غیر معمولی ہے اور تحقیق کا مطالبہ کرتی ہے۔ بیچلارڈ، تارکوفسکی، کامیو اور سمنون سے فکری یا جمالیاتی قرابتیں بھی سنجیدہ تنقیدی مطالعے کا موضوع بن سکتی ہیں۔ سنٹاگ اور سدھارتھ مکھرجی سے خالد جاوید کی واقفیت تو ناول کے اندر موجود حوالوں سے خود ظاہر ہوتی ہے۔
لیکن ان تمام قرابتوں کے بعد بھی ایک الگ سوال باقی رہتا ہے: وہ کون سی اضافی شہادت ہے جو "اثر" کو "سرقہ"، "فکری قزاقی"، "اسمگلنگ" یا "اغوا" میں تبدیل کرتی ہے؟
یہی سوال اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔ نہ ہر مماثلت سرقہ ہے، نہ ہر مماثلت کو بین المتونیت کہہ کر ختم کیا جا سکتا ہے۔ فیصلہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ مماثلت کتنی منفرد، کتنی مربوط، کتنی ساختی اور کتنی قابلِ شناخت ہے، اور آیا دستیاب شواہد کسی مخصوص ماخذ سے اخذ کو دوسرے ممکنہ امکانات کے مقابلے میں زیادہ قرینِ قیاس بناتے ہیں یا نہیں۔
ادب میں دو جمع دو ہمیشہ چار نہیں ہوتے، یہ بات درست ہے۔ لیکن جب نتیجہ "اثر" سے آگے بڑھ کر "سرقے" کا ہو تو دو اور چار کے درمیان موجود استدلالی فاصلہ دکھانا پھر بھی ضروری رہتا ہے۔ کسی ناقد کے حقِ سوال اور کسی قاری کے حقِ استفسار، دونوں کا احترام بھی اسی طرح ضروری ہے۔
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
![]() |
| Syed Mukarram Niyaz سید مکرم نیاز |
A Knife in Water: Examining Literary Influence, Adaptation and Conceptual Plagiarism Claims Around Khalid Javed’s Urdu Novel


گفتگو میں شامل ہوں