ایک خنجر پانی میں: پولانسکی کی ڈوبتی کشتی اور خالد جاوید کی غوطہ خوری

خالد جاوید کا تیسرا ناول "ایک خنجر پانی میں" فنکاری کی وہ انتہا ہے جہاں صرف عنوان بلکہ پورے 'سنیمائی رفتار' کو اغوا کرکے اردو نثر کے قالب میں ڈھال لیا
khalid-javid-novel-khanjar-pani

خالد جاوید کے فن کا جادو دراصل ان کی 'یادداشت کی جادوگری' ہے۔ ان کے گذشتہ ناولوں کے پوسٹ مارٹم سے یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ وہ عالمی آئیڈیاز کی اسمگلنگ میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، مگر ان کا تیسرا ناول "ایک خنجر پانی میں" اس فنکاری کی وہ انتہا ہے جہاں انھوں نے نہ صرف عنوان بلکہ پورے 'سنیمائی رفتار' (Cinematic Tempo) کو اغوا کر کے اردو نثر کے قالب میں ڈھال لیا ہے۔ رومان پولانسکی (Roman Polanski) کی 1962 کی شہرہ آفاق فلم "نائف ان دی واٹر" (Knife in the Water) سے عنوان کی یہ مماثلت محض اتفاق نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ اس فکری رہزنی کی تمہید ہے جو پورے ناول میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ اس ٹائٹل کی مماثلت پر برسوں پہلے پاکستان کے فیصل اقبال اعوان صاحب نے پوری شدت سے سوال اٹھایا تھا ، ان کا اس پر طویل مضمون "تجزیات آن لائن" (پاکستان) میں شائع ہوا تھا جس کی گونج ہندوستان میں بھی سنائی دی تھی۔ اسے تخلیقی معجزہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ پولانسکی نے 1962 میں جس عنوان پر فلم بنائی، خالد جاوید صاحب کے 'اوریجنل' تخیل نے دہائیوں بعد بعینہٖ وہی عنوان اردو فکشن کے لیے 'دریافت' کر لیا۔ کیا معلوم کہ پولانسکی نے مستقبل میں جھانک کر خالد صاحب کے اس اچھوتے عنوان پر 'شب خون' ماردیا ہو؟
لیکن خیر، میں عنوان کو اس قدر اہمیت نہیں دیتا کہ اس سے کسی فن پارے کے معیار کو ماپا جاسکے۔خود میرا پہلا ناول "اس نے کہا تھا" بھی ہندی کے ایک معروف ادیب پنڈت چندر دھر شرما گلیری کی کافی پرانی کہانی کا نام تھا جو غالباً 1915میں شائع ہوئی تھی۔ میں اس سے واقف نہ تھا ، اور جب کچھ احباب کے توسط سے علم ہوا تب تک چڑیا کھیت چُگ چکی تھی ، یعنی ناول شائع ہوچکا تھا۔ اب میں نے اس کے ہندی ترجمہ کا نام بدل کر "موت میں نیا کیا ہے" رکھ دیا ہے۔ عنوان کی مماثلت کے ضمن میں ہندوستان کے نامور اور قد آور نقاد فضیل جعفری صاحب کے ایک تنقیدی مجموعے "کمان اور زخم" پر بھی کبھی سوال قائم کیا گیا تھا کہ یہ ایڈمنڈ ولسن کی کتاب “The Wound and the Bow”کاسرقہ ہے، جب کہ عنوان کی اس مماثلت کے باوجود الزام سر تا سر غلط تھا، اندر کا مال بہت مختلف تھا۔ لیکن کیا رومان پولانسکی کی فلم اور خالد جاوید کے ناول "ایک خنجر پانی میں"کے درمیان صرف عنوان کی مماثلت ہے؟
پولانسکی کی فلم ایک محدود جگہ (Space) میں انسانی جبلتوں، حسد اور تشدد کے تصادم کی کہانی تھی۔ خالد جاوید نے اسی 'نفسیاتی حبس' (Claustrophobia) کو اٹھایا اور اسے ایک ایسے اپارٹمنٹ اور شہر کے پس منظر میں بونا شروع کیا جہاں پانی زندگی نہیں بلکہ 'موت اور سڑاند' کا استعارہ ہے۔ واللہ! یہ کیسا تخلیقی معجزہ ہے کہ خالد صاحب جہاں 'پانی' کی بات کرتے ہیں، وہاں وہ غیر محسوس طریقے سے گیسٹن بیچلارڈ (Gaston Bachelard) کی مظہریاتی (Phenomenological) بصیرت کو اپنا لباس پہنا دیتے ہیں۔ بیچلارڈ نے اپنی کتاب "Water and Dreams" میں پانی کو 'لاشعور کی تاریکی اور زوال' سے تعبیر کیا تھا، اور خالد جاوید نے بعینہٖ اسی فلسفے کو اردو کے 'تعفن زدہ اسلوب' میں رنگ کر پیش کر دیا۔
ناول کی منظر نگاری پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ روسی ہدایت کار آندرے تارکوفسکی (Andrei Tarkovsky) کی فلموں، بالخصوص "اسٹالکر" (Stalker) اور "نوسٹالجیا" (Nostalghia) کے بصری فریموں کا نثری ترجمہ معلوم ہوتی ہے۔ تارکوفسکی کے ہاں پانی، بارش اور گرتی ہوئی دیواریں وقت کے زوال کی علامت ہیں۔ خالد جاوید کے ناول کے صفحہ نمبر 90 پر دیکھیے: (ایڈیشن: 'عرشیہ پبلی کیشنز، نئی دہلی ، 2020)
"پانی کوئی مستقل مقام یا مکان نہیں گھیرتا۔ وہ بہتا ہے ہر مقام سے وہ وقت، کال، زمانہ اور موت کو اپنے سیال کندھوں پر لیے ہوئے گھومتا رہتا ہے۔ وہ پراسرار حد تک پاکیزہ اور خطرناک حد تک تباہ کن ہے۔"
یہ بیانیہ براہِ راست تارکوفسکی کے 'زون' (Zone) کی بازگشت ہے۔ خالد صاحب نے ان بصری استعاروں کو چرا کر قاری کو یہ تاثر دیا کہ یہ ان کے اپنے تخیل کی اختراع ہے، حالانکہ یہ عالمی سینما کی ایک ایسی 'لُوٹ' ہے جس پر کسٹم ڈیوٹی تک ادا نہیں کی گئی۔
خالد جاوید کی 'علمی دھونس' کا ایک اور رخ دیکھیے کہ وہ کس طرح بڑے ناموں کا حوالہ دے کر اپنے 'فکری سرقے' کو 'استفادہ' کا رنگ دیتے ہیں۔ ناول کے صفحہ نمبر 67 پر وہ سوزن سوٹانگ (Susan Sontag) کی کتاب "Illness as Metaphor" کا ذکر کرتے ہیں، اور صفحہ نمبر 68 پر سدھارتھ مکھرجی کی "The Emperor of All Maladies" کا۔ یہ حوالے دراصل اس لیے دیے گئے ہیں تاکہ قاری یہ سمجھے کہ مصنف ان موضوعات پر 'تحقیق' کر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کتابوں کے پورے ڈھانچے کو ناول کی نفسیاتی بنت میں اس طرح پیوست کر دیا گیا ہے کہ وہ تخلیق سے زیادہ 'ترجمہ شدہ معلومات' کا پلندہ معلوم ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بیماری کو ایک استعارہ بنانا اور کینسر یا دیگر امراض کو وجودی صدمے کے طور پر پیش کرنا سوزن سوٹانگ کے انوکھے وژن کا وہ چربہ ہے جسے خالد جاوید نے 'اپنا' بنا کر پیش کیا ہے۔
ناول میں تشدد اور قتل کا جو منظر نامہ ہے (دیکھیے صفحہ نمبر 47 اور 48)، جہاں ایک عورت غصے میں اپنے ہی شوہر پر وار کرتی ہے، وہ اپنی سرد مہری اور کلینیکل بیانیے میں البیئر کامیو کے "دی اسٹرینجر" کے مورسو (Meursault) کی یاد دلاتا ہے۔ کامیو کے ہاں جرم ایک 'غیر جذباتی فعل' ہے، اور خالد جاوید نے اسی 'سرد بیانیے' (Cold Narrative) کو اٹھایا اور اس میں کچھ اردو کی لفاظی شامل کر کے اسے ایک 'انوکھا اسلوب' بنا دیا۔ صفحہ نمبر 48 پر اس کی موت اور غسل خانے کی فضا کو یوں بیان کیا گیا ہے:
"پھر بے جان ہو جاتا ہے۔ غسل خانے میں اب ایک بو اور بھی آ کر شامل ہو جاتی ہے، یہ موت کی بو ہے۔"
خوش ہوجائیے رضوان الحق صاحب،البیئر کامیو نے ایک بار پھر خالد جاوید کا ہاتھ چوم لیا۔
ناول کے آخر میں (دیکھیے صفحہ نمبر 146 اور 147)جب راوی پانی کی اس لامتناہی ندی اور دھند میں گم ہونے کی بات کرتا ہے، تو وہ ہو بہو جارج سمنون (Georges Simenon) کے 'سائیکالوجیکل تھرلرز' کی اس فضا کی نقل ہے جہاں ماحول، کردار کی نفسیات کو نگل لیتا ہے۔
"یہ خدا کی بنائی ہوئی اصل دنیا نہیں معلوم ہوتی۔ یہ اصل دنیا کی پیروڈی ہے۔ شیطان کی لکھی ہوئی پیروڈی۔ مجھے خدا کے پاس جانا ہے۔۔۔ اب ایک خنجر کو پانی کے اندر چلانے جیسا ہے۔ اور یہ سب میرے جسم کی نابودگی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔"
سمنون کے ہاں 'نوآر' (Noir) فکشن کا جو پراسرار پہلو ہے، خالد جاوید نے اسے اٹھا کر اردو میں 'وجودی کرب' کا نام دے دیا ہے۔ یہ امتیاز نہیں بلکہ ایک ایسی 'فنی درآمد' ہے جس تک اردو کے عام نقاد کی رسائی نہ ہونے کے باعث اسے 'شاہکار' مان لیا گیا۔
مختصر یہ کہ "ایک خنجر پانی میں" اردو ادب کا وہ 'سنیمائی ناول' ہے جس کا اسکرپٹ پولانسکی اور تارکوفسکی کے درمیان تقسیم ہے، جس کی روح کامیو سے مستعار ہے، اور جس کا مابعد الطبیعیاتی بوجھ سوزن سوٹانگ کے کندھوں پر ہے۔ خالد جاوید نے اپنی 'آرکی ٹیکچرل مہارت' کو استعمال کرتے ہوئے ان تمام عالمی مآخذ کو ایک ایسی عمارت میں بند کر دیا ہے جس کی کھڑکیاں تو کھلی ہیں، مگر ان سے آنے والی ہوا اردو کی نہیں بلکہ ترجمہ شدہ 'مغربی بیزاری' کی ہے۔ ان کے مداحوں کے لیے یہ 'توارُد' ہو سکتا ہے، لیکن مجھ جیسے ایک 'دماغی نکسل' کے لیے یہ اس فکری قزاقی کا تازہ ترین ثبوت ہے جس نے اردو فکشن کو ایک 'ری سائیکلنگ پلانٹ' بنا کر رکھ دیا ہے۔

فیس بک پوسٹ پر کیے جانے والے تبصرے ۔۔۔

Mukarram Niyaz

اشعر بھائی، اس مرتبہ آپ کا مقدمہ کمزور ہے!!

Esbaat Quarterly

وضاحت کیجیے۔ تاکہ کمنٹ باکس میں ہی اس کمی کو پوری کرسکوں۔

Mukarram Niyaz

پہلو :: نتیجہ
کہانی / Plot :: ماخوذ ہونے کی کوئی نمایاں شہادت نہیں
مرکزی موضوع / Theme :: بنیادی طور پر مختلف
کردار :: واضح مماثلت نہیں
فضا و ساخت :: خاصی مختلف
پانی بطور علامت :: دونوں میں اہم، مگر معنی مختلف
خنجر/Knife بطور علامت :: دونوں میں اہم، مگر function مختلف
عنوان :: غیرمعمولی طور پر قریب
پولنسکی سے ممکنہ ادبی/فنی نسبت :: ممکن، مگر فی الحال ثابت نہیں
پولنسکی سے فنی نسبت اس لیے ثابت نہیں ہے کہ درج ذیل سوالات کی وضاحت نہیں کی گئی:
پولنسکی کا کون سا کردار خالد جاوید کے کس کردار میں منتقل ہوا؟
کشتی اور تین کرداروں کا بنیادی dramatic situation کہاں آیا؟
میاں، بیوی اور نوجوان کی sexual/psychological triangle کہاں منتقل ہوئی؟
طبقاتی اور مردانہ طاقت کی کشمکش کا corresponding structure کہاں ہے؟
نائف کے واقعاتی کردار کو ناول نے کس طرح اختیار کیا؟
یا فلم کے plot progression کی کوئی مخصوص ترتیب ناول میں کہاں دہرائی گئی ہے؟
ادبی تاریخ میں Kafka، Dostoevsky، Camus، Borges، García Márquez، Beckett، Tarkovsky وغیرہ سے اثر لینا بذاتِ خود عیب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مصنف نے borrowed material کو transform کیا یا reproduce؟
یہی اصل امتحان ہوگا۔
دعویٰ :: موجودہ شواہد کی قوت
پولنسکی سے عنوانی نسبت :: بہت مضبوط امکان
پولنسکی سے plot اخذ کیا :: بہت کمزور
بیچلارڈ سے فکری/تصوری اثر :: قابلِ تحقیق اور معقول
تارکوسکی سے aesthetic influence :: معقول hypothesis
سنٹاگ/مکھرجی سے واقفیت :: ثابت،کیونکہ ناول خود حوالہ دیتا ہے
سوسن سنٹاگ سے "سرقہ" :: موجودہ دلیل ناکافی
کاموس سے stylistic influence :: ممکن، مگر غیر ثابت
جارج سمنون سے نقل :: کمزور
مجموعی طور پر "فکری قزاقی" :: ابھی ثابت نہیں

Esbaat Quarterly

مکرم نیاز صاحب، آپ کا جواب ریپلائی آپشن کے بجائے یہاں حاضر ہے تاکہ دوسرے قارئین بھی اس سے استفادہ کرسکیں۔
آپ کا تبصرہ دراصل ایک ایسے قاری کی الجھن ہے جو 'فکشن' کو بھی 'سنیما کے اسکرپٹ' کی طرح محض پلاٹ، کردار اور مکانی مماثلت کے فریم میں دیکھتا ہے۔ آپ کا یہ سوال کہ "پولانسکی کا کون سا کردار کس میں منتقل ہوا؟" یا "کشتی کہاں ہے؟"— بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ اگر کسی نے تاج محل کا نقشہ چرا کر اسے کنکریٹ کے بجائے لکڑی سے بنا دیا ہے، تو چونکہ لکڑی اور سنگِ مرمر کی 'فضا و ساخت' مختلف ہے، اس لیے یہ چوری نہیں ہے۔
مکرم نیاز صاحب، آپ کی دلچسپی اور اس فنی باریک بینی کا شکریہ، لیکن آپ چونکہ ادب کے مقابلے میں سنیما کے آدمی زیادہ ہیں، اس لیے آپ نے خالد جاوید کے ناول کو پولانسکی کی فلم کے 'اسکرپٹ' کے تقابلی تناظر میں دیکھا، مگر ادب—خاص طور پر مابعد جدید فکشن—میں معاملہ محض پلاٹ کی ترتیب (Plot Progression) یا کرداروں کی جسمانی منتقلی کا نہیں ہوتا۔ یہاں معاملہ 'فکری جینیات' (Conceptual DNA) کا ہے۔ چلیے، میں نکتہ در نکتہ آپ کی بات کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں جہاں 'اثر' ختم ہوتا ہے اور 'تصرف' شروع ہوتا ہے:
۱۔آپ نے پوچھا کہ پولانسکی کی کشتی اور تین کرداروں کی نفسیاتی تکون (Triangle) کہاں ہے؟ نیاز صاحب! خالد جاوید اتنے اناڑی فنکار نہیں ہیں کہ وہ کسی فلم کا 'اردو ریمیک' تیار کریں۔ ایک ذہین 'فکری درآمد کار' کبھی کھلی چوری نہیں کرتا، وہ Architectural Appropriation کرتا ہے۔ پولانسکی کی فلم کا جوہر (Core) کیا تھا؟ ایک محدود جگہ (Closed Space) میں پانی کے درمیان گھٹی ہوئی انسانی جبلتوں کا تصادم اور ایک ان دیکھا خوف۔ خالد جاوید نے اسی 'نفسیاتی کلوسٹروفوبیا' کو اٹھایا، کشتی کو اپارٹمنٹ سے بدل دیا اور تین کرداروں کی جگہ ایک وجودی تنہائی بھر دی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی کرسٹوفر نولن کی 'انسیپشن' سے خواب در خواب کا پورا اسٹرکچر اٹھا لے، مگر اس میں کردار اور مشن بدل دے۔ کیا آپ اسے اوریجنل کہیں گے؟
۲۔آپ نے تسلیم کیا کہ عنوان کی نسبت بہت مضبوط ہے۔ لیکن کیا یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے کہ عنوان بھی وہی ہو، مرکزی علامتیں (خنجر اور پانی) بھی وہی ہوں، اور ان علامتوں کا مابعد الطبیعیاتی پس منظر بھی وہی 'زوال اور موت' ہو جو پولانسکی اور تارکوفسکی کا خاصہ ہے؟ جب آپ کسی عالمی شاہکار کا عنوان مستعار لیتے ہیں اور اسی کے علامتی دائرے میں سفر کرتے ہیں، تو آپ دراصل اس کے 'تخیلی ہالے' (Imaginative Aura) کو یرغمال بنا رہے ہوتے ہیں تاکہ اپنے بیانیے کو ایک مصنوعی 'عالمی قد' عطا کر سکیں۔
۳۔آپ کا سب سے اہم نکتہ یہی ہے کہ مصنف نے مٹیریل کو ٹرانسفارم کیا یا ری پروڈیوس؟ خالد جاوید کی 'ٹرانسفارمیشن' دراصل ان کا وہ مخصوص 'تعفن زدہ اسلوب' ہے، جسے وہ ہر درآمد شدہ آئیڈیا پر ایک فلٹر کی طرح لگا دیتے ہیں۔ اگر میں شیکسپیئر کا 'ہیملٹ' اٹھاؤں اور اسے ممبئی کی کسی جھونپڑ پٹی کے بدبودار نالے کے کنارے کھڑا کر دوں اور اس کے ہاتھ میں کھوپڑی کے بجائے کوئی غلیظ شے تھما دوں، تو کیا یہ ٹرانسفارمیشن ہوگی؟ یہ ٹرانسفارمیشن نہیں بلکہ 'اسلوبیاتی ملمع کاری' ہے۔ خالد جاوید نے بیچلارڈ کے 'پانی کے فلسفے' اور تارکوفسکی کے 'بصری استعاروں' کو صرف اردو نثر کا لبادہ پہنا کر دوبارہ پیش کیا ہے۔
۴۔آپ کہتے ہیں کہ سوزن سوٹانگ سے سرقہ ثابت نہیں کیونکہ ناول خود حوالہ دیتا ہے۔ نیاز صاحب! یہی تو وہ 'چالاکی' ہے جسے میں نے اپنے مضمون میں بے نقاب کیا ہے۔ بڑے ناموں کا حوالہ دینا اکثر اوقات ایک 'دفاعی ڈھال' (Defensive Shield) کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ ناقد یہ سمجھے کہ مصنف کتنا باخبر ہے، جبکہ درحقیقت وہ ان کتابوں کے پورے فکری ڈھانچے کو اپنے فکشن میں ری سائیکل کر رہا ہوتا ہے۔ 'بیماری کو بطور استعارہ' برتنا سوزن سوٹانگ کی وہ اوریجنل فکر ہے جس پر پورا ناول کھڑا ہے۔ محض نام لکھ دینے سے اس 'فکری قبضے' کا گناہ نہیں دھل جاتا۔
۵۔آپ نے نتیجہ نکالا کہ "فکری قزاقی ابھی ثابت نہیں"۔ عرض ہے کہ قزاقی کے لیے جہاز کا ہو بہو ہونا ضروری نہیں، ارادے اور لوٹ کے مال کا اصل ہونا ضروری ہے۔ جب کسی مصنف کے پانچ کے پانچ ناولوں کا 'مرکزی خیال'، 'زمانی ڈھانچہ' اور 'نفسیاتی پیٹرن' یکے بعد دیگرے نیل گیمن، ایمیل زولا، برن ہارڈ، اور پولانسکی سے برآمد ہو، تو اسے 'اتفاق' کہنا عقل و دانش کا ماتم کرنے کے مترادف ہے۔
نیاز صاحب، ادب میں دو جمع دو چار نہیں ہوتے۔ یہاں جب آپ کسی کے 'خواب' (نیل گیمن) یا کسی کے 'پانی' (بیچلارڈ) پر قبضہ کرتے ہیں، تو آپ اس کے 'تخلیقی منصب' پر شب خون مارتے ہیں۔ خالد جاوید کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک بہت بڑے عالم اور مترجم تو ہو سکتے ہیں، مگر ان کے ناولوں کی 'اوریجنلٹی' اب عالمی شاہکاروں کے اس کٹہرے میں کھڑی ہے جہاں خاموشی ہی ان کا واحد دفاع رہ گیا ہے۔
امید ہے کہ سیریز کی اگلی اقساط میں آپ کو ان سوالات کے مزید عملی جوابات مل جائیں گے جو آپ نے پلاٹ کی ترتیب کے حوالے سے اٹھائے ہیں۔

Mukarram Niyaz

آپ کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ادبی اخذ ثابت کرنے کے لیے پلاٹ، کردار اور واقعاتی ترتیب کا بعینہٖ نقل ہونا ضروری نہیں۔ لیکن اگر دعویٰ یہ ہے کہ پولنسکی کی فلم کا بنیادی فکری یا ساختی سانچا خالد جاوید کے ناول میں ایک بدلی ہوئی صورت میں منتقل ہوا ہے، تو پھر اس داخلی ساخت کی واضح نشان دہی بھی ضروری ہے۔ یہ بھی بتانا/جتانا ہوگا کہ دونوں تخلیقات کے درمیان مماثلت محض پانی، خنجر، خوف، تنہائی یا زوال جیسی عمومی اور مشترک علامتوں تک محدود نہیں، بلکہ اتنی مخصوص، مربوط اور نمایاں ہے کہ اسے محض اتفاق یا عمومی فنی اشتراک کے بجائے اخذ و استفادے سے تعبیر کرنا زیادہ قرینِ قیاس ہو۔
آپ کے موجودہ جواب میں، میری نظر میں، اس نوع کی متنی یا ساختی شہادت ابھی پوری طرح سامنے نہیں آتی۔
اس کے علاوہ ۔۔۔ سوزن سنٹاگ کے حوالے سے آپ کے استدلال میں ایک بنیادی فکری غلطی موجود ہے۔
بیماری کو بطور استعارہ برتنا سنٹاگ کی "اوریجنل فکر" نہیں ہے۔ کتاب کے آغاز ہی میں سنٹاگ صاف لکھتی ہیں:
"My point is that illness is not a metaphor…"
بیماری کو استعاراتی معنوں میں استعمال کرنے کی روایت سنٹاگ سے صدیوں پہلے موجود تھی، جس کی تاریخی مثالیں خود انہوں نے پیش کی ہیں۔ متذکرہ مرکزی مقدمہ بھی بیماری کو استعارہ بنانے کی ترغیب نہیں بلکہ اس کے برعکس بیماری پر مسلط کیے جانے والے استعاراتی، اخلاقی اور نفسیاتی مفاہیم کی تنقید ہے۔ سنٹاگ، بیماری کو سمجھنے کے زیادہ صحت مند رویے کو استعاراتی طرزِ فکر کے خلاف مزاحمت سے تعبیر کرتی ہیں۔ لہٰذا خالد جاوید کے ہاں "بیماری بطور استعارہ" کی موجودگی کو محض اسی بنیاد پر سنٹاگ کی فکر کا چربہ قرار دینا، خود سنٹاگ کے بنیادی مقدمے کو الٹ کر پڑھنے کے مترادف ہے۔
میرا سوال دراصل یہ تھا کہ جب اتنا سخت دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ناول کا "اسکرپٹ پولنسکی سے" آیا ہے، تو اس ساختی اخذ کی واضح اور مثبت شہادت کیا ہے؟ دوسرے لفظوں میں، سوال صرف اتنا تھا کہ آپ نے کن ٹھوس بنیادوں پر یہ اخذ ثابت کیا؟ لیکن جواب میں اس سوال کا مفہوم بدل کر یہ بنا دیا گیا کہ گویا میرا اصرار ہے کہ اخذ اسی وقت مانا جائے گا جب فلم کی کشتی، کردار اور واقعات بھی بعینہٖ ناول میں منتقل ہوئے ہوں۔ حالانکہ، میں نے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی تھی۔
اسی طرح یہ کہنا کہ۔۔۔ "آپ ادب کے مقابلے میں سنیما کے آدمی زیادہ ہیں" اصل سوال کا جواب نہیں، بلکہ گفتگو کو سائل کے ذاتی ادبی یا فنی رجحان کی طرف گھما دیتا ہے۔ سائل کی دلچسپی ادب میں زیادہ ہو یا سنیما میں یا تھیٹر میں، اس سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟ بنیادی سوال تو بہرحال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ:
پولنسکی کی فلم سے ناول کے ساختی یا فکری اخذ کی قابلِ شناخت متنی شہادت آخر کیا ہے؟

Esbaat Quarterly

میں نے ایک بارپھر یہاں اپنا جواب لگانا چاہا لیکن شاید فیس بک کی پالیسی کے مطابق ریپلائی سیکشن میں الفاظ کی ایک لمٹ مقرر ہے، خیر میں اپنا جواب یہاں دو حصوں میں لگانے کی کوشش کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں:
آپ کی تازہ جرح دیکھ کر خوشی ہوئی۔ آپ نے جس باریک بینی سے سوزن سونٹاگ کے متن اور پولانسکی کی ساختی ترتیب پر سوالات اٹھائے ہیں، وہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ اس بحث کو محض سطحی جذباتی سطح پر نہیں، بلکہ علمی بنیادوں پر پرکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہاں مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ آپ کا استدلال 'متن کی ظاہری لکیروں' میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ اس کے پیچھے چھپے ہوئے 'تخیلی ڈھانچے' کو دیکھنے سے قاصر رہا ہے۔
آئیے، آپ کے نکات کا علمی محاکمہ کرتے ہیں:
آپ نے سونٹاگ کا حوالہ دیا کہ وہ بیماری کو استعارہ بنانے کے خلاف لکھ رہی تھیں۔ نیاز صاحب، یہی تو وہ نکتہ ہے جہاں خالد جاوید کی 'فکری اسمگلنگ' پکڑی جاتی ہے۔ خالد جاوید نے سونٹاگ کی اس 'تنقید' (Criticism) کو اٹھایا اور اسے اپنے فکشن کا 'اثاثہ' (Asset) بنا لیا۔ سونٹاگ نے جن استعاروں، سماجی رویوں اور نفسیاتی پہلوؤں کا تجزیہ کر کے انھیں رد کیا تھا، خالد جاوید نے بعینہٖ وہی 'تجزیاتی مواد' اپنے کردار کی داخلی دنیا کی تعمیر کے لیے مستعار لے لیا۔
جب میں کہتا ہوں کہ یہ 'سرقہ' ہے، تو میرا مطلب یہ نہیں کہ خالد صاحب نے سونٹاگ کے نظریے کی تائید کی ہے، بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے سونٹاگ کے برسوں کے ریاض سے پیدا ہونے والے 'علمی ڈسکورس' کو اٹھا کر اپنے فکشن میں اس طرح ری سائیکل کیا کہ وہ ان کی اپنی 'وجودی دریافت' لگے۔ کسی نظریے کو 'اُلٹ کر' استعمال کرنا بھی اس نظریے سے واقفیت اور اس کے 'فکری ڈھانچے' پر قبضے ہی کی ایک صورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سونٹاگ کی کتاب کے مطالعے کے بغیر خالد جاوید 'بیماری کی سماجیات' پر اس قسم کا بیانیہ لکھ سکتے تھے؟ جواب نفی میں ہے، اور یہی Conceptual Appropriation ہے۔
آپ نے 'مثبت شہادت' (Positive Evidence) کا تقاضا کیا ہے۔ نیاز صاحب، فکشن میں ساختی شہادت 'کشتی' یا 'تکون' جیسے واقعاتی اجزاء میں نہیں، بلکہ 'تخیلی منطق' (Imaginative Logic) میں تلاش کی جاتی ہے۔ پولانسکی کی فلم "Knife in the Water" کا جوہر محض تین کرداروں کی تکون نہیں ہے، بلکہ اس کا جوہر ایک ایسی 'محدودیت' (Confinement) ہے جہاں 'پانی' اور 'خنجر' انسانی جبلتوں کے تشدد کو برہنہ کرتے ہیں۔
خالد جاوید کے ناول میں ساختی شہادت میں اپنے پہلے کمنٹ میں بھی بتا چکا ہوں کہ انھوں نے پولانسکی کے اسی 'نفسیاتی تناؤ' (Tension) کے نمونے کو اٹھایا اور اسے ایک نئے سماجی پس منظر میں پھیلا دیا۔ پولانسکی کی فلم کا جوہر (Core) کیا تھا؟ ایک محدود جگہ (Closed Space) میں پانی کے درمیان گھٹی ہوئی انسانی جبلتوں کا تصادم اور ایک ان دیکھا خوف۔ خالد جاوید نے اسی 'نفسیاتی کلوسٹروفوبیا' کو اٹھایا، کشتی کو اپارٹمنٹ سے بدل دیا اور تین کرداروں کی جگہ ایک وجودی تنہائی بھر دی۔ کیا آپ کو "تعمیری تصرف" کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑی شہادت چاہیے؟
(جاری ہے)

Esbaat Quarterly

دوسرا حصہ:
مزید برآں، جب آپ کسی شاہکار کا عنوان بھی وہی رکھتے ہیں، اس کی مرکزی علامتیں (خنجر اور پانی) بھی وہی رکھتے ہیں، اور اس کے بیانیے کا 'ٹیمبو' بھی وہی 'نوآر' (Noir) رکھتے ہیں، تو کیا اسے آپ محض اتفاق کہہ کر ردّ کر دیں گے؟ اگر میں کرسٹوفر نولن کی فلم 'ٹینیٹ' کا ڈھانچہ اٹھاؤں، وقت کی سمت بدلنے کا آئیڈیا لوں، اور اسے 'اینٹروپی' کا نام دے کر بریلی کے کسی اسپتال میں فٹ کر دوں، تو کیا آپ مجھ سے یہ پوچھیں گے کہ نولن کے کردار کس نام سے منتقل ہوئے؟ نہیں۔ آپ کہیں گے کہ یہ Architectural Hijacking ہے۔ اس لیے پھر دہراتا ہوں کہ خالد جاوید اناڑی نہیں ہیں، وہ لفظوں، پلاٹ، کردار، مکالمے اور زمان و مکان کا سرقہ کرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ خالد کی ذہانت اسی میں مضمر ہے کہ وہ سنگِ مرمر کے تاج محل کو لکڑی کا تاج محل بنا کر پیش کر دیتے ہیں، وہ دوسرے کا دل اپنے سینے میں منتقل کر لیتے ہیں جب کہ دونوں جسم علیحدہ ہیں۔ مختصر یہ کہ خالد جاوید نے پولانسکی کے اسکرپٹ سے اس کی 'روح' نکالی ہے، 'جسم' (واقعات) نہیں۔
آپ نے کافکا، مارکیز اور بیکٹ کی مثال دی کہ ان سے اثر لینا عیب نہیں۔ بالکل بجا! لیکن اثر (Influence) وہ ہوتا ہے جو فنکار کے اپنے تجربے کو صیقل کر دے۔ خالد جاوید کے ہاں معاملہ 'اثر' کا نہیں بلکہ 'متبادل' (Replacement) کا ہے، بالکل اسی طرح جیسے آپ بازار یا کسی اور کے باغیچے سے پھل لاتے ہیں اور اسے اپنی غذا بناتے ہیں، لیکن وہ پھل جیوں کا تیوں آپ کی آنتوں میں پڑا نہیں رہتا، بلکہ وہ خون بن کر آپ کے جسم میں دوڑتا ہے۔ جب کہ خالد جاوید کے ناولوں میں 'پھل' خون نہیں بن پاتا۔ وہ عالمی شاہکاروں کے مرکزی آئیڈیاز کو اردو قاری کے سامنے اپنی 'مذہبی و فلسفیانہ دریافت' بنا کر پیش کرتے ہیں۔ جب آپ پانچ ناولوں میں مسلسل یہی کرتے ہیں، تو یہ ٹرانسفارمیشن نہیں بلکہ ایک ایسی ری-پروڈکشن ہے جس پر آپ نے اپنا 'تعفن زدہ اسلوب' پینٹ کر دیا ہے۔
آپ نے میرے اس فقرے پر اعتراض کیا کہ آپ 'سنیما کے آدمی' ہیں۔ مکرم بھائی، یہ کوئی ذاتی حملہ نہیں تھا بلکہ آپ کے 'تنقیدی پیراڈائم' (Paradigm) کی نشاندہی تھی، جو محض واقعاتی مماثلتوں (کشتی، کرداروں کی تعداد وغیرہ) تک محدود ہے۔ ادب کا قاری ان ظاہری لکیروں کے نیچے چھپے ہوئے اس 'فکری نقشے' کو دیکھتا ہے جو مصنف نے کسی دوسرے کے ذہن سے چرایا ہوتا ہے۔
مکرم نیاز صاحب! پولانسکی سے ناول کا ساختی اخذ اس کے 'عنوان اور علامتی فضا' کے اس گہرے ملاپ میں چھپا ہے جسے خالد جاوید نے دیانت داری سے اعتراف کرنے کے بجائے 'تخلیقی معجزہ' بنا کر پیش کیا۔ جب کسی ناول کی بنیاد ہی 'ادھار لیے ہوئے ڈسکورس' (سونٹاگ، بیچلارڈ، تارکوفسکی) پر ہو، تو اسے 'اوریجنل فکشن' کہنا تنقید کے منصب کی توہین ہے۔

Javeed Rasool

مکرمی اشعر نجمی صاحب! آپ نے مکرم نیازی صاحب کے کمنٹ کے جواب میں چند ایسی باتیں لکھی ہیں کہ مجھے تو حیرانی ہوئی۔
آپ کا کہنا ہے کہ "کسی نظریے کو الٹ کر استعمال کرنا بھی اس نظریے سے واقفیت اور اس کے "فکری ڈھانچے " پر قبضے ہی ایک صورت ہے" اشعر نجمی صاحب کیا واقعی؟
پھر تو مارکس کی جدلیاتی مادیت ہیگل کے جدلیاتی نظریے پر قبضے کی بڑی مثال ہونی چاہیے، چھوٹی مثالوں کے لیے تو کمنٹ بکس کم پڑے گا۔۔۔یاد کیجیے آپ کی گذشتہ پوسٹ پر میں نے آپ کی اسی سوچ کو کاونٹر کیا تھا۔آپ جسے قبضہ یا سرقہ سمجھ رہے ہیں اس کا اطلاق دنیا کے ہر بڑے شاہکار پر ہوگا جو کسی نہ کسی نظریے کے الٹ پلٹ ہی کا نتیجہ ہے۔۔۔۔
آپ کا ماننا ہے کہ چونکہ سونٹاگ کی کتاب کے مطالعے کی بنا پر ہی خالد جاوید نے "بیماری کی سماجیات" پر اس قسم کا بیانیہ لکھا ہے لہذا یہ conceptual appropriation" ہے۔۔۔تعجب ہے کیا آپ کو واقعی ایسا لگتا ہے کہ کسی بیانیے، تھیوری، نظریے یا آئڈیا کے مطالعے کے بغیر بھی کوئی متن وجود پاسکتا ہے؟ مستزاد یہ کہ میں نے آپ کی گذشتہ پوسٹ پر بعینیہ یہی بات کہی تھی کہ آپ جسے فکری یا تصوراتی یا تخیلی سرقے کا نام دے کر خالد جاوید کی مٹی پلید کرنا چاہتے ہیں وہ اصل میں اس بین المتونی ڈسکورس کا حصہ ہے جس پر دریدا، بارتھ اور کرسٹیوا جیسے لوگ مغز خرچ کرچکے ہیں۔
بخدا آپ کا یہ کمنٹ پڑھ کر مجھے تو حیرانی ہوئی۔۔۔۔معاف کیجیے گا، آپ کا استدلال بڑا ہی کمزور لگا مجھے۔

Esbaat Quarterly

جاوید رسول صاحب، آپ کی 'حیرانی' دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی، کیونکہ سچائی جب پہلی بار سامنے آتی ہے تو وہ حیران ہی کرتی ہے۔ آپ نے مارکس، ہیگل اور بین المتونیت (Intertextuality) کے سہارے جس طرح خالد جاوید کی 'فکری اسمگلنگ' کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی ہے، وہ علمی سطح پر تو ایک اچھا 'کشمیر ی ورژن' ہو سکتا ہے، مگر تنقید کی عدالت میں یہ استدلال بیحد لرزاں ہے۔
آئیے، آپ کی الجھنوں کی گرہ کشائی کرتے ہیں:
آپ نے فرمایا کہ اگر کسی نظریے کو الٹنا 'فکری قبضہ' ہے تو مارکس نے ہیگل پر قبضہ کیا۔ پروفیسر صاحب! کیا آپ واقعی ایک 'فلسفیانہ ڈسکورس' کے ارتقاء اور ایک 'فکشنل اسٹرکچر' کے سرقے کے درمیان تمیز نہیں کر پا رہے؟ مارکس نے جب ہیگل کی جدلیات کو سر کے بل کھڑا کیا، تو اس نے پوری دنیا کے سامنے اس کا 'اعلان' کیا، اس نے ہیگل کے نام کو چھپایا نہیں بلکہ اسے اپنا 'نقطۂ آغاز' (Starting Point) قرار دیا۔
خالد جاوید کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کسی نظریے کا ارتقاء نہیں کر رہے، وہ کسی دوسرے کے برسوں کے ریاض سے پیدا ہونے والے 'انوکھے تخیلی پیٹرن' کو خاموشی سے اٹھا کر اپنی 'اوریجنل دریافت' کے طور پر بیچ رہے ہیں۔ مارکس 'فلسفی' تھا، وہ 'برانڈ اوریجنلٹی' کا دعویدار نہیں تھا؛ خالد جاوید 'ناول نگار' ہیں، جو اپنے اسلوب اور تخیل کو 'بے مثال اور انوکھا' (Unique) کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ جب آپ کسی کے گھر کا نقشہ چرا کر اسے اپنا بتاتے ہیں، تو اسے 'ہیگل مارکس ڈسکورس' نہیں بلکہ 'تخیلی رہزنی' کہا جاتا ہے۔
آپ نے دریدا، بارتھ اور کرسٹیوا کا حوالہ دیا۔ پروفیسر صاحب! بین المتونیت ایک 'تخلیقی مکالمہ' ہے، یہ کسی دوسرے کے 'تخلیقی نطفے' (نیل گیمن کا تصورِ حمل) یا 'زمانی نقشے' (نیٹ فلکس کا ڈارک) کو من و عن اغوا کرنے کا لائسنس نہیں ہے۔ جولیا کرسٹیوا نے جب یہ نظریہ پیش کیا تھا، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ آپ اپنی بنجر یادداشت کو دوسروں کے شاہکاروں سے بھر لیں اور اسے 'خالق کی موت' (Death of the Author) کے پردے میں چھپا لیں۔ خالد جاوید کے ہاں 'متن کا متن سے رشتہ' نہیں ہے، بلکہ 'قابض کا مالِ غنیمت سے رشتہ' ہے۔ اگر کسی مصنف کے پانچوں ناولوں کا 'آرکی ٹیکچرل پلان' عالمی شاہکاروں سے نکل رہا ہو، تو اسے بین المتونیت کہنا دراصل 'سرقہ' کی توہین ہے۔
آپ کا یہ سوال کہ "کیا مطالعے کے بغیر متن وجود پا سکتا ہے؟"—بیحد بچکانہ ہے۔ مطالعہ فنکار کے لیے 'خون' بنتا ہے، 'پرزہ' نہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ سونٹاگ کی کتاب کے مطالعے کے بنا خالد جاوید یہ نہیں لکھ سکتے تھے، تو ہمارا اشارہ اس مخصوص 'ڈسکورس کی لُوٹ' کی طرف ہے جسے خالد صاحب نے اپنی 'وجودی کیمیاگری' بنا کر پیش کیا۔ ترغیب (Inspiration) وہ ہے جو آپ کو اپنی مٹی کھودنے پر مجبور کرے، نہ کہ وہ جو آپ کو دوسرے کے باغ سے پھل چرا کر اپنی ٹوکری میں سجانے کا ہنر سکھائے۔
آپ کو میرا استدلال اس لیے 'کمزور' لگ رہا ہے کیونکہ آپ 'شخصیت پرستی' کے اس سحر میں مبتلا ہیں جہاں بڑے ناموں کے حوالے دلیل کا متبادل سمجھ لیے جاتے ہیں۔ میں نے شواہد (اقتباسات اور صفحات) کے ساتھ بات کی ہے، جبکہ آپ 'دریدا اور بارتھ' کے ناموں کی دھونس جما رہے ہیں۔ خالد جاوید کی مٹی میں پلید نہیں کر رہا، بلکہ ان کے فن پر چڑھے ہوئے اس 'عالمی نقاب' کو اتار رہا ہوں جس کے نیچے ان کی اپنی تخلیقی حقیقت بے حد بونی ہے۔
پروفیسر صاحب! میں پھر دہراتا ہوں، ایک 'اتفاق' توارد ہو سکتا ہے، دو 'مشابہتیں' اثر ہو سکتی ہیں، لیکن پانچ ناولوں کا متواتر 'عالمی چربہ' ہونا ایک باقاعدہ 'کاروباری اسمگلنگ' ہے۔ آپ چاہے جتنے فلسفیوں کی قبریں کھود لیں، خالد جاوید کی 'جعلی لافانیت' کا بت اب بچ نہیں پائے گا۔ امید ہے اگلی بار آپ 'ناموں' کے بجائے 'متن' اور 'منطق' کے ساتھ تشریف لائیں گے۔

Javeed Rasool

صاحب،
میں شخصیت پرست نہیں ہوں یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔خالد جاوید پر جس دن میرا مضمون آئے گا وہ مع اختلافات ہوگا۔مجھے جاننے والے اچھے سے جانتے ہیں کہ اس کشمیری کو جہاں اپنی رائے رکھنے کی اسپیس مل جاتی ہے وہاں یہ لکھنے سے گریز نہیں کرتا۔ رہی بات میرے آرگیومنٹ کی تو جو لوگ آپ کے کمنٹ پڑھ رہے ہیں ظاہر ہے وہ میرے بھی کمنٹ پڑھ رہے ہوں گے۔ ان سے بہتر کون بتا سکتا ہے کہ میرا کشمیری ورژن معروضی ہے کہ غیر معروضی۔۔۔۔آپ بات کو گھما پھرا کر عام قاری کے لیے illusion تو پیدا کرسکتے ہیں ہمارے لیے نہیں۔

Esbaat Quarterly

آپ کی 'صفائی' کے لیے شکریہ، اگرچہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مستقبل میں کیا ہوگا، کون کس کا اثر لے گا، یہ سب بچکانہ باتیں ہیں۔ اس وقت میں اور آپ دونوں گفتگو کررہے ہیں، بس اتنا کافی ہے، لوگوں کو ریفری بنانا پسپائی کا بہت پراناحربہ ہے۔ جہاں تک بات گھما پھرا کرکہنے کی ہے تو مجھے اب حیرت ہورہی ہے کہ آپ بڑے ناموں کی دھونس اور غیر متعلقہ باتیں اتنی کہنے کے باوجود اب تک مرکزی موضوع پر نہ آسکے۔ خیر، مجھے آپ کے مضمون کا انتظار رہے گا، سب لوگوں کو خالد پر لکھناچاہیے بلکہ لکھا جاتا رہا ہے، چونکہ اتنی پرانی بیماری ایک ہی خوراک میں جڑ سے تھوڑی ختم ہوگی۔

Mukarram Niyaz

آپ نے صحیح نکتہ اٹھایا کہ کسی نظریے کو الٹ دینے پر یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ "فکری ڈھانچے پر قبضہ" کر لیا گیا ہو۔ ادب اور فکر کی روایت ہی اس مکالمے، اختلاف، باز تعبیر، اخذ و استفادے اور تخلیقی تشکیلِ نو سے آگے بڑھتی ہے۔ کسی دوسرے مصنف یا مفکر کے فکری سرمائے پر "قبضے" جیسا سنگین الزام اسی وقت معتبر ہو سکتا ہے جب یہ دکھایا جائے کہ اس کے کسی مخصوص طرزِ اظہار، منفرد ساخت یا بنیادی فکری نظام کو اس قدر نمایاں اور قابلِ شناخت صورت میں اختیار کیا گیا ہے کہ اسے محض اثر پذیری، فکری مکالمے یا تخلیقی استفادے سے تعبیر کرنا ممکن نہ رہے۔

Esbaat Quarterly

آپ اپنی پرانی باتوں کو ہی دہرا رہے ہیں جن کے جواب ایک سے زیادہ بار دے چکاہوں، آپ صرف ظاہری ساخت ڈھونڈنے میں لگے ہیں اور خالد جاوید کو معاف کیجیے آپ اناڑی سرقے باز سمجھنے کی غلطی کررہے ہیں۔ پاکٹ ماری اور بینک کی ڈکیتی میں کچھ تو فرق ملحوظ رکھیے مکرم بھائی۔

Mukarram Niyaz

حضور خود آپ نے بھی کئی جگہ ڈنڈی ماری ہے۔ اور بار بار اپنے موقف کو الفاظ کی بازیگری سے تبدیل کرتے جا رہے ہیں، جبکہ جو اصل سوالات ہیں ، ان کا کوئی ٹھوس جواب آپ نے اب تک نہیں دیا۔
اور یہ تو میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ:
"اس مرتبہ آپ کا مقدمہ کمزور ہے"

Esbaat Quarterly

ہم لکھنے والوں کے پاس لفظوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس ناول پر میرا موقف وہی تھا جو اس سے پہلے موت کی کتاب اور نعمت خانے کے لیے تھا۔ لیکن آپ کو وہاں میرے یہی دلائل پسند آئے تھے جس کا آپ نے اظہار بھی کیا تھا جو اس ناول میں 'لفظی بازیگری' ہوگئی۔معاف کیجیے گا آپ جس ٹھوس کا مطالبہ مجھ سے کررہے ہیں، وہ صرف لفظی سرقوں' میں ہوتا ہے جب کہ گذشتہ چار قسطوں میں بتا چکا ہوں کہ یہاں ایسے سرقے زیر بحث ہیں جن سے اردو والے ابھی متعارف نہیں ہیں۔ بہرحال آپ نے مکالمہ کیا، یہی بہت ہے ورنہ دوسرےتواب بھی میرے اور خالد کے درمیان ذاتی دشمنی کو تلاش کرنے میں لگے ہیں۔

Mukarram Niyaz

اشعر بھائی سے مودبانہ عرض ہے کہ شخصیات کی ذاتیات پر گفتگو سے مکالمے کو کوئی جذباتی رنگ نہ دیں۔ پہلے تو مجھ ناچیز پر فلم کے حوالے سے کمنٹ کیا اور جاوید رسول پر کشمیر کے حوالے سے۔۔۔ کیا یہ شخصی نسبت کے ذریعے استدلال کو کمزور دکھانے کی کوشش نہیں کہلائی جا سکتی؟
پہلے اشعر بھائی کا اصول تھا: "کسی نظریے کو الٹ کر استعمال کرنا بھی ۔۔۔ اس کے فکری ڈھانچے پر قبضے کی صورت ہے۔"
جب جاوید رسول نے اسے مارکس/ہیگل پر آزمایا تو اشعر بھائی لکھتے ہیں: "مارکس نے ہیگل کا نام چھپایا نہیں"۔ یہ تو گویا اصل اصول سے ایک نیا معیار متعارف ہو گیا۔
کیونکہ ۔۔۔ پہلے آپ کا معیار تھا: کسی نظریے کو الٹ کر استعمال کرنا = فکری قبضہ
اب آپ کا نیا معیار ہے:
بغیر اعتراف کے کسی نظریے کو استعمال کرنا = فکری قبضہ
حضور یہی تو ہم کہنا چاہتے ہیں کہ یہ الفاظ کی بازیگری کے ذریعے اپنے موقف میں الٹ پھیر ہے۔
مزید آگے بڑھیے۔۔۔ سنٹاگ کے معاملے میں خالد جاوید نے اصل ماخذ کو چھپایا بھی نہیں ہے، ناول میں Illness as Metaphor کا نام موجود ہے۔
لہذا آپ کا مارکس/ہیگل والا نیا موقف (یا دفاع) خود سنٹاگ والے سابقہ الزام کو کمزور کر دیتا ہے۔

Esbaat Quarterly

لفظوں کی بازیگری؟ جب آپ گفتگو کرتے ہیں تو کس چیز سے اپنا اظہار کرتے ہیں؟ کیا الفاظ کے سوا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ اظہار ہوتا ہے؟اگر خالد جاوید نے واقعی اصل ماخذ کو نہیں چھپایا توپھر حجت کس بات کی، اپنے سبھی اوریجنل ناولوں کے بارے میں اسی طرح اعلان کردیں جس طرح انھوں نے اپنے ایک افسانے "تاش کے پتوں کا عجائب گھر" میں کیا تھا کہ یہ افسانہ برگمن کی فلم سے متاثر ہے۔ کیا اس افسانے میں خالد جاوید نے فلم کا پلاٹ، ساخت، مکالمہ مستعار لیا تھا یا مرکزی خیال؟ اور اگر ان کی متاثر سے مراد مرکزی خیال تھا تو پھر ان کے سبھی ناول بشمول 'ایک خنجر پانی میں' کا مرکزی خیال اور اس کا تعمیری ڈھانچہ بھی تصرف میں لایا گیا ہے، اور اگر بقول آپ دونوں صاحبان کے یہ جائز ہے، تو پھر خالد جاوید کو اپنے تمام ناولوں میں ماخذ کی فہرست لگادینی چاہیے اور انھیں اپنے ناولوں کو اوریجنل کہنا بند کردینا چاہیے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ کیا خالد اور ان کے مداح اس کے لیے تیار ہیں؟

Javeed Rasool

خالد جاوید صاحب کو آج یہ احساس ہونا ضروری ہے کہ ان کا کوئی نقاد نہیں، یا اگر کوئی نقاد تھا تو وہ مرچکا ہے۔ورنہ اشعر نجمی صاحب کے کمزور استدلال نے تو دفاعی صورت حال از خود پیدا کردی تھی۔۔۔خالد جاوید صاحب کو چاہیے کہ وہ ان اعتراضات پر لکھیں۔ایسا نہ ہو وہ اپنے کسی طالب علم یا شیدائی کا سہارا لیں بلکہ انہیں خود سامنے آکر لکھنا چاہیے اور مجھے امید ہے کہ وہ ضرور لکھیں گے۔خاموشی اور وہ بھی ایسے معاملے میں ایک غلط narrative کو جنم دے سکتی ہے جو ان کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ میں جانتا ہوں وہ یہ کمنٹ پڑھ رہے ہوں گے اور میری بات پر غور ضرور کریں گے۔

Esbaat Quarterly

مجھے خوشی ہوگی اگر خالد جاوید اپنے دلائل اور منطق سے میرا الزامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں، لیکن مجھے ڈر ہے کہ ان کا جواب ان کے لیے مزید مصیبت نہ لے آئے۔ اسی لیے شاید انھوں نے دفاعی حکمت عملی کے تحت خاموشی کو ترجیح دی ہے۔ البتہ جیسا کہ میں نے پہلے پیشکش رکھی تھی کہ وہ چاہیں تو خود لکھ کر اپنے کسی عزیز شاگرد کےنام سے چھپوادیں، بہرحال ان کا سگنیچر ٹیوں تو پکڑا ہی جائے گا جیسے پہلے بھی میں نے پکڑا تھا۔ بہتر ہوگا کہ وہ اپنے نام سے ہی لکھیں تو زیادہ مزہ آئے گا۔

Zulfiqar Ali Zulfi

چند سال قبل اقبال خورشید نے اس ناول کی اشاعت کی اطلاع دی ـ میں عنوان دیکھ کر چونک پڑا ـ میں نے کمنٹ کردیا کہ یہ تو رومن پولانسکی کی فلم کا نام ہے ـ اس کمنٹ کے ریپلائی میں خالد صاحب خاصے خفا نظر آئے ـ بہرحال انہوں نے وضاحت دی کہ ناول اور اس فلم کے درمیان تعلق نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے مزکورہ فلم دیکھی ہے ـ میں نے وضاحت قبول کرکے معذرت کی کہ میں صرف نام کی مماثلت پر چونکا تھا ـ بات آئی گئی ہوگئی ـــــ
آپ کی تنقید لیکن پھر بھی اسے سرقہ ثابت کرنے کی زبردستی کی کوشش لگ رہی ہے ـ جب آپ تخلیق کرتے ہیں تو اس میں آپ کا پڑھا ، دیکھا ، سنا اور سیاسی و سماجی شعور بھی شامل ہوتا ہے ـ یہ سرقہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ـ

Esbaat Quarterly

اس کی میں گذشتہ چار قسطوں میں خوب اچھی طرح وضاحت کرچکا ہوں، انھیں پڑھنےکی زحمت فرمائیں۔ دلائل، منطق، مثالیں، سب دے چکاہوں۔ اب میں ہر چلتی ٹرین میں سوار ہونے والے شخص کو باتھ روم کا راستہ بتانے سے رہا۔ پوری قسطیں پڑھیے اور اگر پھر بھی کوئی اور سوال ہو بلا تردد کہیں۔

Shakeel Rasheed

آپ کے دلائل ٹھوس ہیں، ان دلائل کو اپنے دلائل سے جاوید رسول رد نہیں کر پائے ہیں ۔ وہ تصوراتی سرقے کو شاید لفظی سرقہ سمجھ رہے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ خالد جاوید کے کسی پیراگراف کو فلم کے کسی منظر اور سونٹاگ کے کسی پیرا گراف سے ملا کر یہ بتائیں کہ دیکھیں یہ عین مطابق ہیں، اسی صورت میں انہیں تصوراتی سرقہ قبول ہوگا ۔مکرم نیاز بھائی بھی شاید یہی چاہتے ہیں ۔ میں تین فلموں کی مثال دے رہا ہوں؛ مقبول، اومکارا اور حیدر۔ یہ فلمیں وشال بھاردواج نے شیکسپیئر کے مشہور ڈراموں میکبیتھ، آتھیلو اور ہیملیٹ سے متاثر ہو کر بنائی تھیں اور باقاعدہ اعتراف کیا تھا ۔ اگر وہ اعتراف نہ بھی کرتے تو کیا ہوجاتا، عام فلم بینوں کو پتا تک نہ چلتا کہ تصور کہیں سے لیا گیا ہے، لیک. جنہوں نے شیکسپیئر کو خوب پڑھ رکھا ہے ان سے یہ بات چھپی نہ رہتی۔ حالانکہ بھاردواج نے سارا پس منظر اور سچویشن تک بدل دیا تھا ۔

Esbaat Quarterly

شکیل بھائی، آپ نے وشال بھاردواج کی فلموں (مقبول، اومکارا، حیدر) کی مثال دے کر اس بحث کو وہاں پہنچا دیا ہے جہاں سے آگے اب صرف 'اعتراف' کا راستہ بچتا ہے۔ آپ نے بالکل درست فرمایا کہ وشال بھاردواج نے اگر اعتراف نہ بھی کیا ہوتا، تو بھی وہ لوگ جو شیکسپیئر سے واقف ہیں، ان فلموں کے 'تخیلی ڈھانچے' کو فوراً پہچان لیتے۔ لیکن وشال بھاردواج نے اعتراف کر کے ثابت کیا کہ ایک جینوئن فنکار 'ماخذ' سے نہیں ڈرتا، بلکہ اسے اپنی تخلیق کی بنیاد بنا کر اس پر فخر کرتا ہے۔
اب آئیے مکرم نیاز اور جاوید رسول صاحب کی اس ضد کی طرف کہ جب تک لفظ سے لفظ نہ ملے، سرقہ ثابت نہیں ہوتا۔ صاحبو! آپ کی یہ منطق فکشن کے لیے ویسی ہی ہے جیسی کوئی کہے کہ "میں نے تاج محل کا نقشہ چوری نہیں کیا کیونکہ میں نے اسے سنگِ مرمر کے بجائے اینٹوں سے بنایا ہے اور اس کی لوکیشن آگرہ کے بجائے بریلی رکھ دی ہے۔"
وشال بھاردواج نے ہیملیٹ کو کشمیر کے پس منظر میں ڈھالا (حیدر)، آتھیلو کو یوپی کے باہوبلی کلچر میں (اومکارا)، اور میکبیتھ کو ممبئی کے انڈر ورلڈ میں (مقبول)۔ لیکن انھوں نے ان شاہکاروں کی 'تخیلی روح' (Conceptual Soul) پر قبضہ نہیں کیا بلکہ ان سے مکالمہ کیا۔ خالد جاوید کا المیہ یہ ہے کہ وہ 'اثر' (Influence) اور 'اغوا' (Hijacking) کے درمیان تمیز کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
شکیل رشید صاحب کی مثال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ فنکار کی عظمت 'ماخذ' کو چھپانے میں نہیں بلکہ اسے 'تسلیم' کر کے اسے نیا رنگ دینے میں ہے۔ خالد جاوید نے 'رنگ' تو اردو کا دیا، مگر 'نقشہ' غیر کا ہی رہا۔ اب آپ چاہے جتنی بحث کریں، یہ 'تخلیقی چوری' اب شواہد کی اس دھوپ میں ننگی ہو چکی ہے جہاں مروت کا سایہ بھی کام نہیں آئے گا۔


اشعر نجمی

Keywords: Khalid Javed, Aik Khanjar Pani Mein, Ek Khanjar Pani Mein, Urdu Novel, Urdu Literary Criticism, Conceptual Plagiarism, Literary Influence, Intertextuality, Architectural Appropriation, Roman Polanski, Knife in the Water, Susan Sontag, Illness as Metaphor, Gaston Bachelard, Water and Dreams, Andrei Tarkovsky, Stalker, Nostalghia, Ashar Najmi, Indian Urdu Literature, Contemporary Urdu Fiction, Literary Plagiarism Debate, Urdu Fiction Criticism
A Knife in Water: Influence or Plagiarism?
An Essay and discussion on Khalid Javed's novel 'Aik Khanjar Pani Mein', Critical Analysis by: Ashar Najmi.